19/09/2026
کل پولیس لائن مسجد دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور لواحقین کے ساتھ غم کے اس گھڑی میں شریک ہیں لیکن اس دھماکے کے اڑ میں کل سے سوشل میڈیا پر اورکزئی کو بدنام کیا جارہا ہے
1. علاقے میں واپسی کا عمل: 2013ء میں آپریشن کے خاتمے کے بعد جب مقامی لوگوں نے اپنے علاقوں میں واپسی شروع کی تو غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر سخت پابندیاں تھیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کس طرح علاقے میں رہائش پذیر تھا؟
2. پتے کے اندراج میں فرق: زیرِ گردش کارڈ پر گلی نمبر، سٹریٹ نمبر اور مکان نمبر کے انداز میں پتہ درج ہے، جبکہ ضلع اورکزئی کے مقامی علاقوں میں عموماً شناختی دستاویزات پر قوم، تپہ اور گاؤں کے نام سے پتہ لکھا جاتا ہے۔ اس فرق کی بھی متعلقہ اداروں سے تصدیق ہونی چاہیے۔
3. کارڈ کے اجرا کا سال: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کارڈ پر 2022ء کا سال میں بنے ہوئے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ کارڈ کی اصلیت، اجرا کی تاریخ اور اس پر درج پتے کی سرکاری سطح پر تصدیق کی جائے۔
ہم متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کارڈ کی حقیقت سامنے لائی جائے اور تصدیق کے بغیر ضلع اورکزئی کو اس واقعے سے منسلک نہ کیا جائے.
ضلع اورکزئی کے عوام امن پسند ہیں۔ کسی ایک غیر مصدقہ دستاویز کی بنیاد پر پورے علاقے اور اس کے عوام کو بدنام کرنا مناسب نہیں۔ حقائق کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اورکزئی کی عزت، امن اور عوامی وقار کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
او۔ار۔ایم میڈیا سیل