Wardag 1122

Wardag 1122 وردگ قبیلہ کی تاریخ اور وردگ کی خدمت

17/05/2026

گھوڑے پر سوار شہسوار ہاتھ میں وردگ جھنڈا تھامے تصویر کس کس کو پسند ایا۔۔۔؟؟؟

اپنا تصویر کمنٹ کرو اپکے لئے بھی ایسا تصویر بناو۔۔۔ایڈمن

---*ماشاءاللہ تبارک اللہ!* 🌸جامعہ مفتاح الفلاح صاحب آباد کے طالب علم  *حافظ اسداللہ وردگ ولد قدرخان وردگ صاحب*  ساکن باٹ...
17/05/2026

---

*ماشاءاللہ تبارک اللہ!* 🌸

جامعہ مفتاح الفلاح صاحب آباد کے طالب علم
*حافظ اسداللہ وردگ ولد قدرخان وردگ صاحب*
ساکن باٹلئ بالا دیر اپر

کو حفظِ قرآن پاک مکمل کرنے کی عظیم سعادت حاصل کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اسے قرآن کا عامل و حافظ بنائے، اس کے والدین کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور اس علم کو ان کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ آمین 🤲

#مبارکباد

---

شادی مبارکدیر اپر ویلج کونسل شاو محلہ چینار چم میں سجاد خان وردگ کے شادی میں شرکت کے انکو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا ...
17/05/2026

شادی مبارک
دیر اپر ویلج کونسل شاو محلہ چینار چم میں سجاد خان وردگ کے شادی میں شرکت کے انکو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا
. اظہار کیا
17. 05. 2026

زہ سالار د ہر لخکر یمہوردگ یمہ
17/05/2026

زہ سالار د ہر لخکر یمہ
وردگ یمہ

زہ سالار د ہر لخکر یمہ
16/05/2026

زہ سالار د ہر لخکر یمہ

15/05/2026

وردگ مشرانو / شملہ ورو

تصویران راتہ کمنٹ کی۔۔۔چی کشران خپل مشران وپیجنی۔۔۔

15/05/2026

“وردگ” نام کی تاریخ بہت قدیم سمجھی جاتی ہے، اور مؤرخین کے مطابق یہ نام کم از کم دو ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

قدیم تاریخی حوالوں میں:

- ویدوں میں “وردیگا”
- اوستا میں “ویکرته”
- اور یونانی مؤرخ بطلیموس کے ہاں “اوراتیکا / ورتیکا”

جیسے نام ملتے ہیں، جنہیں بعض محققین موجودہ “وردگ” سے جوڑتے ہیں۔

یعنی:
وردگ نام غالباً قبل از اسلام زمانے سے اس خطے کے ساتھ وابستہ ہے۔

- قبیلہ
- علاقہ
- اور تاریخی شناخت

صدیوں سے معروف رہا ہے۔

اسی لئے وردگ کو افغانستان کے قدیم ترین قبائلی و جغرافیائی ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کرلان بابا کی اولاد کی تاریخوردگ کی تاریخ کی روشنی میں!کچھ دوستوں کی درخواست پر وردگ قوم کی مختصر تاریخ، علمی شخصیات اور...
14/05/2026

کرلان بابا کی اولاد کی تاریخ
وردگ کی تاریخ کی روشنی میں!

کچھ دوستوں کی درخواست پر وردگ قوم کی مختصر تاریخ، علمی شخصیات اور جغرافیائی تقسیم دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔

اکیڈمیسین عبدالشکور رشاد کے مطابق، افغانستان کے معروف مورخ مرحوم احمد علی کہزاد اپنی کتاب ’’افغانستان کا قدیم تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وردیگا اور برسایا (وردگ، بړیڅی) کا ذکر ویدوں میں آیا ہے۔‘‘

ویدوں کا زمانہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت سے تقریباً دو یا ڈھائی ہزار سال پہلے کا ہے، اور غالب امکان یہی ہے کہ تاریخی اسناد میں وردگ نام کا یہ سب سے قدیم ذکر ہے۔

اوستا کی کتاب میں آریاناویجہ کی سولہ ریاستوں کا ذکر ہے، جن میں ساتویں علاقے کو ’’ویکرته‘‘ کہا گیا ہے، جو آج بھی وردگ قوم کے علاقے سے مشابہت رکھتا ہے۔

یونانی مورخ کلاڈیس بطلیموس نے دوسری صدی عیسوی میں ہندوکش کے اطراف میں ’’اوراتیکا‘‘ نامی علاقے کا ذکر کیا، جو لفظی طور پر ’’وردگ‘‘ سے بہت قریب ہے۔ اس نے کابل رود کے چشموں کے قریب ’’ورتیکا‘‘ نامی شہر کا بھی ذکر کیا، جو وردگ کے نام اور جغرافیے سے ملتا جلتا ہے۔

چینی سیاح ہیوان سانگ نے اپنی سفرنامے میں لکھا ہے کہ وہ 644ء میں ہندوستان سے کابل آیا، پھر کاپیسا سے جنوب کی طرف 15 دن سفر کیا اور بعد میں شمال مغرب کی جانب روانہ ہو کر ’’درگی ستانه‘‘ نامی علاقے تک پہنچا۔ مؤرخین کے مطابق اس نام کی اصل شاید ’’Varidelgi Sthana‘‘ تھی۔

انگریز محقق ہنری والٹر بیلو کے مطابق ’’وردگ‘‘ لفظ ’’وردوج‘‘ سے نکلا ہے۔ وردوج ایک آریائی قبیلہ تھا جو بدخشاں کے علاقے میں آباد تھا۔ ان کے مطابق یہ قبیلہ کئی صدیوں پہلے موجودہ وردگ علاقے میں منتقل ہوا اور وقت کے ساتھ ’’وردوج‘‘ سے ’’وردگ‘‘ بن گیا۔

بعض مورخین کے مطابق وردگ، کرلان بابا کی اولاد میں سے ہیں۔
مرحوم پروفیسر عبدالحی حبیبی اپنی کتاب ’’افغانستان کی مختصر تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’پشتون نسب ناموں میں کرلان یا کړلانۍ کے نام سے ایک شاخ موجود ہے، جو غرغښت، بیٹنی اور سربنی قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور خالص پشتون شمار ہوتی ہے۔‘‘

کرلانی قبائل میں درج ذیل اقوام شامل ہیں:
منگل، ځدران، ځاځی، گوربز، تڼی، مقبل، وردگ، خٹک، دلازاک، اورکزئی، اتمان خیل، خوگیانی، وزیر، محسود، بنوچی، بنگش، صبری، مندوزی، اسماعیل خیل، زموخت وغیرہ۔

وردگ قبیلے کا اصل مسکن کوہِ سلیمان کا سلسلہ بتایا جاتا ہے، جو موجودہ وردگ علاقے کے قریب واقع ہے۔

مغلیہ دور میں بعض متعصب تاریخی کتابوں میں پشتونوں کو آریائی نسل سے خارج کر کے بنی اسرائیل کے مہاجر قبائل قرار دیا گیا۔ اسی تناظر میں کچھ لوگوں نے وردگ قوم کو بھی عرب النسل ثابت کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وردگ، سید محمد گیسو دراز کی اولاد ہیں۔

لیکن یہ روایت تاریخی طور پر کمزور ہے کیونکہ:

- پشتون معاشرے میں اپنی بیٹی غیر قوم کو دینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
- سید محمد گیسو دراز ہندوستان میں وفات پا گئے اور وہیں دفن ہیں۔
- ان کی اولاد بھی آج تک ہندوستان میں آباد ہے۔

لہٰذا یہ دعویٰ کہ وردگ عرب نسل سے ہیں، محض ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔

وردگ قوم نہ صرف میدان وردگ میں آباد ہے بلکہ افغانستان کے دیگر علاقوں جیسے کابل، بلخ، شبرغان، کندز، بغلان، ہلمند، سمنگان، غور، کنڑ، ہرات اور غزنی میں بھی آباد ہے، جبکہ کچھ خاندان بیرونِ ملک بھی مقیم ہیں۔

وردگ قوم کی مشہور علمی شخصیات:

- ڈاکٹر علی وردگ – برطانیہ کے گلمورگن یونیورسٹی کے استاد
- انجینئر زرجان بها – امریکہ کی پردیو یونیورسٹی میں انجینئرنگ فیکلٹی کے سربراہ
- انجینئر بهاوالدین بها – برائٹن یونیورسٹی میں الیکٹرانکس کے پروفیسر
- ڈاکٹر سید نصیر احمد لمر – جرمنی میں معروف سرجن
- پروفیسر ڈاکٹر محمد اکبر وردگ – فرانس میں طب کے استاد
- ننگیالی اتل – اقوام متحدہ کی بہادری ایوارڈ کے حامل

جغرافیائی تقسیم:
میدان وردگ افغانستان کے مرکزی صوبوں میں سے ایک ہے، جو 1343 ہجری شمسی میں قائم ہوا۔ یہ کابل شہر کے مغرب میں تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حدود:

- مشرق: لوگر
- مغرب: بامیان اور غزنی
- جنوب: غزنی اور لوگر
- شمال: بامیان اور پروان

انتظامی اضلاع:
میدان شہر، نرخ، جلریز، چک، دایمرداد، سیدآباد، جغتو، بہسود اول اور بہسود مرکز۔

ڈاکٹر سعیدالرحمن وردگ
بٹخیلہ، مالاکنڈ
خیبر پختونخوا، پاکستان

ھم مفتی واحد خان وردگ صاحب کو phD مقالہ کا کامیاب دفاع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔۔۔بہت بہت مبارک ہومفتی ڈاکٹر واحد خان صا...
14/05/2026

ھم مفتی واحد خان وردگ صاحب کو phD مقالہ کا کامیاب دفاع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔۔۔

بہت بہت مبارک ہو
مفتی ڈاکٹر واحد خان صاحب

پشاور میں ذاتی پسندیدہ نمبر پلیٹس کی نیلامی، وزیر 1 سب سے مہنگی فروخت💪*نشتر ہال پشاور میں منعقدہ پرسنلائزڈ مارکس چوائس ن...
27/01/2026

پشاور میں ذاتی پسندیدہ نمبر پلیٹس کی نیلامی، وزیر 1 سب سے مہنگی فروخت💪
*نشتر ہال پشاور میں منعقدہ پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی شاندار نیلامی کی اپڈیٹس*

نیلامی میں عوام کی زبردست دلچسپی رہی، کئی چوائس نمبر پلیٹس بڑے داموں فروخت

نیلامی میں وزیر 1 نمبر پلیٹ ،سب سے زیادہ 1کروڑ 50 لاکھ روپے میں سر فہرست رہا

آفریدی 1،نمبر پلیٹ کو بھی زیادہ بولی پر خریدا گیا

آفریدی 1، پر 1 کروڑ،40 لاکھ اور 50 ہزار روپے بولی لگی

آفریدی 1، کو پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے خرید لیا

نیلام شدہ نمبر پلیٹس میں خان 1، پر بھی زیادہ بولی آئی

خان 1، نمبر پلیٹ کو 1 کروڑ اور11 لاکھ روپے میں نیلام کیا گیا

خان 1 نمبر پلیٹ ایم پی اے نیک محمد خان نے خرید لیا

پشاور 1،نمبر پلیٹ،1 کروڑ روپے میں نیلام ہوا

ہری پور 1 نمبر پلیٹ 80 لاکھ روپے میں فروخت ہوا

یوسفزئی1، 49 لاکھ،20ہزار اور درانی 1، 16 لاکھ 60 ہزار روپے میں فروخت ہوا

ملاکنڈ 1، ساڑھے 12 لاکھ اور صوابی 1، بھی 12 لاکھ میں نیلام ہوا

چوائس نمبر پلیٹس کی مزید نیلامی آئندہ ای بڈنگ کے تحت کی جائے گی

دیکھتے ہیں wardag 1 کس خوش نصیب کو مل جاتا ہے

10 لاکھ ابتدائی قیمت مقرر ہے
بولی میں قیمت بڑھنے کی چانس ہے

Address

Peshawar

Telephone

+923421985651

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wardag 1122 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Wardag 1122:

Share