The Hero's

The Hero's Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Hero's, Youth Organization, Peshawar.

دوسو کے قریب لوگوں نے کھانسی کی ایک دواءاستعمال کی اور ان میں سے 40 لوگ ہلاک ہو گئے‘ حکومت نے تحقیقات کیں‘ پتہ چلا یہ دو...
23/11/2025

دوسو کے قریب لوگوں نے کھانسی کی ایک دواءاستعمال کی اور ان میں سے 40 لوگ ہلاک ہو گئے‘ حکومت نے تحقیقات کیں‘ پتہ چلا یہ دواءچین سے درآمد ہوئی تھی اور یہ مضر صحت تھی‘ حکومت نے چین کے سفیر کو طلب کر لیا‘ سفیر نے اپنی حکومت کو ای میل کر دی‘ چینی حکومت نے تفتیش شروع کی‘ ایک ہفتے میں صورتحال کھل کر سامنے آ گئی‘ معلوم ہوا چین کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی میں ژینگ ژیانو نام کا ایک ڈائریکٹر تھا‘ یہ شخص کرپٹ تھا‘ اس نے 8 ادویات ساز کمپنیوں سے ساڑھے آٹھ لاکھ ڈالر رشوت لی اور دو درجن ادویات کی منظوری دے دی‘ یہ دواءبھی ان ادویات میں شامل تھی‘ژینگ ژیانو اس وقت تک ریٹائر ہو چکا تھا‘پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا‘ مزید تحقیقات ہوئیں تو مزید انکشاف ہوا کاﺅ زین زونگ نام کا ایک اور ڈائریکٹر بھی اس مکروہ دھندے میں شامل تھا‘ وہ بھی غیر معیاری ادویات کی منظوری دیتا رہا‘ حکومت نے اسے بھی گرفتار کر لیا‘ یہ ملزمان دو ہفتوں میں مجرم ثابت ہو گئے‘ حکومت نے کیس عدالت میں پیش کر دیا‘ عدالت نے ژینگ اور کاﺅ کو سزاموت دے دی‘ ژینگ نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی‘ ژینگ کا کہنا تھا ”میں اپنا جرم تسلیم کرتا ہوں لیکن میری وجہ سے کوئی چینی شہری ہلاک نہیں ہوا‘ میرے خلاف کوئی چینی مدعی بھی موجود نہیں لہٰذا میرے جرم کے مقابلے میں میری سزا زیادہ ہے‘ میرے ساتھ رعایت کی جائے“ عدالت نے دو ہفتے میں اس کی اپیل نبٹا دی‘ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ”یہ شخص نہ صرف انسانی جانوں کا ق ہے بلکہ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں چین کی بدنامی بھی ہوئی چنانچہ یہ درندہ صفت انسان رعایت کے قابل نہیں“ حکومت نے اپیل مسترد ہونے کے بعد ژینگ کو ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے ملزم کاﺅ کو بھی چند ہفتے بعد دوسری دنیا بھجوا دیا گیا‘ یہ کیس جتنا عرصہ چلتا رہا چینی میڈیا روز ادویات اور فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹرز کی خبریں شائع کرتا رہا یوں چین میں خاصا مقبول ہو گیا‘ آپ اس کیس کا کمال دیکھئے‘ یہ دونوں حضرات اگر کسی اور ملک کے شہری ہوتے تو انہیں وہاں سزاموت نہ ہوتی‘ یہ زیادہ سے زیادہ دس برس کےلئے جیل بھجوا دیئے جاتے یا پھر ان کی جائیداد ضبط کر لی جاتی لیکن چین نے دس ہزار کلو میٹر دور ایک دوسرے ملک میں ادویات کے استعمال سے مرنے والے لوگوں کے بدلے اپنے دو ریٹائر افسروں کو سزاموت دے دی‘ کیوں؟ کیونکہ چین سمجھتا تھا یہ لوگ ملک کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔
آپ اب پاکستان کی مثال لیجئے۔
لاہور ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے‘ میو ہاسپٹل اس شہر کا قدیم ترین ہسپتال ہے‘ انکشاف ہوا میو ہسپتال میں دل کے مریضوں کو جعلی سٹنٹ ڈالے جاتے ہیں‘ یہ انکشاف ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے کیا‘ ایف آئی اے کا ایک صحت مند اسسٹنٹ ڈائریکٹر مریض بن کر ہسپتال گیا‘ امراض قلب کے شعبے نے معائنہ کیا اور اسے دل کا مریض ڈکلیئر کر دیا۔ ”مریض“ کو سٹنٹ ڈلوانے کا مشورہ دیا گیا‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر میو ہاسپٹل سے پرائیویٹ کلینک گیا‘ کلینک کی مشینوں نے اسے مکمل صحت مند قرار دے دیا‘ ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کر دیں‘ پتہ چلا ہسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کا ایک گینگ کام کررہا ہے‘ گینگ میں پروفیسر بھی شامل ہیں‘ یہ لوگ مریضوں کو جعلی سٹنٹ لگاتے ہیں‘ ہسپتال کو ایک کمپنی جعلی اور غیر معیاری سٹنٹ فراہم کرتی ہے‘ یہ سٹنٹ چھ ہزار روپے مالیت کے ہوتے ہیں لیکن مریض سے دو لاکھ روپے وصول کئے جاتے ہیں‘ پروفیسروں نے سٹنٹ فراہم کرنے والی کمپنی کو ہسپتال میں باقاعدہ کمرہ دے رکھا ہے‘ ایف آئی اے نے اس کمرے پر چھاپہ مارا اور چار کروڑ روپے مالیت کے سٹنٹ برآمد کر لئے‘ ان سٹنٹس پر کسی کمپنی کا نام چھپا تھا اور نہ ہی ایکسپائری ڈیٹ درج تھی‘ یہ دھندہ برسوں سے جاری تھا ‘ یہ لوگ ہزاروں مریضوں کو جعلی اور غیر معیاری سٹنٹ لگا چکے تھے‘ ایف آئی اے کو معلوم ہوا یہ جعل ساز صحت مند لوگوں کو بھی مریض ڈکلیئر کر کے انہیں سٹنٹ لگا دیتے ہیں اور وہ بے چارہ صحت مند شخص پوری زندگی دل کی ادویات استعمال کرتا رہتا ہے‘ پتہ چلا یہ سلسلہ صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ ملک میں ایسے درجنوں ہسپتال موجود ہیں جہاں برسوں سے یہ دھندہ جاری ہے‘ یہ ایک مثال تھی‘ آپ اگر تھوڑی سی گہرائی میں جا کر دیکھیں تو آپ کو پاکستان کے اکثر ہسپتال سلاٹر ہاﺅس اور ڈاکٹر قصائی نظر آئیں گے‘ آپ کسی دن دوبئی چلے جائیں‘ آپ وہاں اپنا میڈیکل ٹیسٹ کرائیں اور اس کے بعد پاکستانی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں چلے جائیں‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے آپ کو دل کا ڈاکٹر دل‘ آنکھ کا ڈاکٹر آنکھ‘ گردے کا ڈاکٹر گردے‘ جگر کا ڈاکٹر جگر اور دماغ کا ڈاکٹر دماغی مریض قرار دے دے گا‘ یہ لوگ آپ کو لاکھ دو لاکھ روپے کا نسخہ بھی لکھ دیں گے‘ آپ کسی دن پاکستانی لیبارٹریز کی رپورٹس کا تجزیہ بھی کر لیں‘ آپ اگر مریض ہیں تو یہ لیبارٹریاں آپ کو صحت مند اور آپ اگر صحت مند ہیں تو یہ آپ کو مریض قرار دے دیں گی‘ آپ کو یہ فرق ادویات کے معیار میں بھی ملے گا‘ آپ کو یہ فرق ڈسپرین میں بھی ملے گا‘ آپ امپورٹڈ ڈسپرین استعمال کریں اور اس کے بعد پاکستانی ڈسپرین کھائیں آپ کو فرق جاننے میں چند منٹ لگیں گے‘ آپ کو یہ فرق خوراک میں بھی ملے گا‘ پاکستان میں بچوں کو اب ماں کا دودھ بھی خالص نہیں ملتا‘ صابن بنانے والی فیکٹریاں یورپ سے استعمال شدہ گھی اور کوکنگ آئل منگواتی ہیں‘ یہ آئل استعمال کے قابل نہیں ہوتا لیکن یہ لوگ یہ آئل پکوڑے سموسے تلنے‘ بسکٹ کیک بنانے اور مٹھائیاں تیار کرنے والوں کو فروخت کر دیتے ہیں اور یہ لوگ یہ آئل ہمارے معدوں میں انڈیل دیتے ہیں‘ دودھ میں کیا کیا ملاوٹ ہوتی ہے اور چائے کی پتی اور پانی میں کیا کیا ہو رہا ہے‘ یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی‘ ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں‘ ہم خوراک کے درندوں سے بچ جاتے ہیں تو ہم ڈاکٹروں کے قابو آ جاتے ہیں اور یہ ظالم چھ ہزار روپے کا سٹنٹ دو لاکھ روپے میں ہماری نسوں میں ٹھونک دیتے ہیں لیکن حکومت نوٹس لینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی‘ ان کی دوڑ ”ہم مجرموں کو قرار واقعی سزا دیں گے“ تک محدود رہتی ہے۔
آپ یقین کیجئے چین نے اب تک ژینگ ژیانو اور کاﺅ زین زونگ جیسے صرف دس لوگوں کو سزاموت دی‘ چین میں اس کے بعد کسی نے دواءاور خوراک میں ملاوٹ کی جرا¿ت نہیں کی‘ چین میں اب تک کسی اہلکار نے غلط دواءبھی رجسٹر نہیں کی‘ ہم بھی اگر اپنے لوگوں کو صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی کبھی نہ کبھی یہ کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں لوگ خوراک سے مرتے رہیں گے یا پھر ڈاکٹروں کے ہاتھوں ذبح ہوتے رہیں گے۔














12/08/2025


کینیڈا سے حسن نثار کو بھیجی گئی پڑھنے لائق ایک ای میل۔ ۔ اپ بھی ضرور پڑھیں ۔ پورے غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ پاکستان کیلئے۔ مظبوط۔ سماجی جمہوری یا سوشل ڈیموکریٹک نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں۔ کینیڈا سے

جناب بلوندر چائولہ کی ای میل ہے:
’’حسن نثار صاحب! میں نے زندگی امرتسر میں گزاری، جہاں میں خالصہ کالج یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھایا کرتا تھا۔ سولہ سال پہلے میں البرٹا، کینیڈا شفٹ ہو گیا تاکہ میں اور میری بیوی، بچوں کے ساتھ رہ سکیں، جو پہلے ہی وہاں سیٹل ہو چکے تھے۔
آپ کو لکھنے کا مقصد صرف ایک معمولی سا موازنہ پیش کرنا ہے کہ ہم جیسوں کے ساتھ اپنے ملکوں میں کیا ہوتا ہے اور کینیڈا جیسے ملک ہم جیسے غریب الوطن لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔

سینئر سٹیزنز کے ساتھ ہونے والے سلوک کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
ہم میاں بیوی کو سینئر سٹیزن ہونے کے ناطے 2400 ڈالر ماہانہ کیش پینشن بغیر دھکے کھائے گھر بیٹھے ملتی ہے۔ ورلڈ کلاس میڈیکل سہولتیں مع فیملی فزیشن، سپیشلسٹ ڈاکٹرز، تشخیصِ امراض کا اعلیٰ ترین بندوبست بھی فری۔

5 سال میں 5000 ڈالر کے برابر بنیادی ڈینٹل کیئر دونوں میاں بیوی کے لیے علیحدہ علیحدہ، یعنی کل 10 ہزار ڈالر۔
دونوں کے لیے ہر پانچ سال میں 2400 ڈالرز (کل 4800) آلۂ سماعت کے لیے، اگر ضرورت محسوس ہو۔
دواؤں میں 70 فیصد سبسڈی، جس کی آخری حد 25 ڈالر فی نسخہ سے کسی صورت زیادہ نہیں۔ یعنی دوا اگر 250 ڈالر کی بھی ہو تو میں یا میری بیوی زیادہ سے زیادہ 25 ڈالر دیں گے، اس سے زیادہ نہیں۔

ہم دونوں کو ہر 3 سال میں نظر کی عینک کے لیے علیحدہ علیحدہ 230 ڈالرز، یعنی کل 460 ڈالرز ملتے ہیں۔ آنکھوں کے ٹیسٹ اور دیگر ٹریٹمنٹس اس رقم کے علاوہ ہیں۔

لوکل پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ہمیں 95 فیصد سبسڈی کے ساتھ پاسز مہیا کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ بس اور لوکل میٹرو ٹرین پر سفر ہم جیسے ’’مہان‘‘ دیسوں میں کار پر سفر سے بھی کہیں زیادہ آرام دہ ہے۔

موسموں میں تبدیلی کی مناسبت سے Immunization انجیکشنز کی مفت سہولت اور سروس۔
میں چونکہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتا ہوں، سو ایک بار مفت فرج، ٹی وی اور بیڈ لینے کا حق بھی حاصل ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی کے لیے ایک ایک آٹو وہیل چیئر اور مساج چیئر اس کے علاوہ ہے۔

اگر کوئی اتنا بوڑھا، کمزور ہو جائے کہ نہ خود ڈرائیو کر سکے نہ بس اسٹاپ تک پہنچ سکے، تو سواری بھیجنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ ڈاکٹر کے پاس یا شاپنگ کے لیے جا سکے۔

مختلف امراض کے حوالہ سے مخصوص انرجی فوڈ، جو ظاہر ہے ملاوٹ اور غلاظت سے پاک ہوتی ہے۔

حسن نثار صاحب! یہ ہوتی ہے اصل جمہوریت، اور یہ ہوتی ہے ویلفیئر سٹیٹ، اور یہ ہوتی ہے انسانوں کے لیے انسان کے بچوں کی حکومت، نہیں... خدمت، خدمت اور خدمت۔
اور یہ ہے زمین پر سورگ، اور اسے کہتے ہیں بھوک، ننگ، غربت، جہالت اور ہر قسم کی توہین سے مکمل آزادی۔
اور یہ ہوتا ہے انسانوں کا معاشرہ، جس میں نہ گندگی، نہ ملاوٹ، نہ رشوت۔

لاء اینڈ آرڈر ایسا جس کا ہمارے مہان دیسوں میں تصور بھی ممکن نہیں۔
کوئی کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کا سوچتا بھی نہیں۔
آپ کو اپنے دیس کا بہتر علم ہوگا، میں تو یہاں کا موازنہ ’’شائننگ انڈیا‘‘ اور ’’میرا بھارت مہان‘‘ سے کرتا ہوں تو اپنی نظروں میں گر جاتا ہوں۔
ایسی جنم بھومی کو میں نے چاٹنا ہے، جو ایک بار جنم دے کر انسان کو دن میں سو سو بار قتل کرے۔

ہمارے ہاں ڈیموکریسیاں نہیں، ڈاکو راج ہیں۔
نہ میرٹ، نہ انصاف، لیکن اپنی شان میں پروپیگنڈے ایسے جیسے ایسا کوئی ہے ہی نہیں۔
آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں بھارت میں پینشنرز کو بڑھاپے میں پینشن لینے کے لیے بھی کتنا ذلیل ہونا پڑتا ہے۔

آپ کا پروگرام کبھی مس نہیں کرتے، کیونکہ اس میں اپنا درد محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ کو میرا یہ خط مل جائے اور آپ کو دلچسپی ہو، تو میں آپ کو یہاں کے سسٹم بارے بہت کچھ بھیج سکتا ہوں کیونکہ، جیسا شروع میں لکھا، میں پولیٹیکل سائنس کا پروفیسر ہوں اور بخوبی جانتا ہوں کہ رب نے ہم کو بھی سب کچھ دے رکھا ہے۔
صرف نظام ناقص، گھٹیا اور فرسودہ ہے، اور اسے چلانے والے نظام سے بھی کہیں زیادہ ناقص، گھٹیا، فرسودہ اور بدنیت ہیں۔

آپ کا مخلص
بلوندر چائولہ
ایڈمنٹن (کینیڈا)

24/07/2025

دا هغه ځنګلي هاتھی دی چې قابو پرې کول او نیول ډېر سخت او خطرناک کار وي، نو ښکار کوونکي د هغه د قابو کولو لپاره یوه خاصه چل ول کاروي.

هغوی د هاتھی تګ راتګ په لاره کې د يو هاتھی په اندازه ژور کندې کوي، او د ونو له شاخو سره يې پټوي.
کله چې هاتھی په دې کندې کې غورځي، نو که څه هم ډېر زور او طاقت لري، خو له دې کندې وتل يې ناشوني وي.
په دې وخت کې ښکار کوونکي دومره زړور نه وي چې غوصه شوی هاتھی سمدستي راوباسي او د هغه د قهر سره مخ شي.

د هاتھی د ارامولو او مکمل قابو کولو لپاره، د لومړي پړاو نه وروسته، ښکار کوونکي نورې چالونه هم کاروي:

ښکار کوونکي خپل ځان دوه ډلو ته وېشي:
يوه ډله سور لباس اغوندي،
او بله ډله شين لباس.
دا کار د دې لپاره کوي چې هاتھی وکولای شي دواړو رنګونو تر منځ توپير وکړي.

اول هغه ښکار کوونکي راځي چې سور کالي يې اغوستي وي او هاتھی په بې رحمانه ډول له ډنډو وهي.
کله چې هاتھی له سخت درد سره مخ شي، خو لا هم د خفګان او غوصې له امله هېڅ حرکت نشي کولی،
نو بيا د شنو جامو والا ښکار کوونکي راځي، او د سرې ډلې ښکار کوونکي باندې غصه کوي او له دې ځایه يې شړي.
هغوی هاتھی ته خواخوږي ښکاره کوي، دا يې لاس کوي، خواړه ورکوي، اوبه ورکوي – خو لا هم له کندې نه نه راباسي – او بیا ځي.

دا عمل څو څو ځله تکرارېږي.
هر ځل، د سرې ډلې له خوا د تشدد موده زياتېږي، او شنه ډله ناڅاپي راځي، د هاتھی خواخوږي کوي، او له “ظالمانه ښکار کوونکو” نه يې ژغوري.

په دې رواني لوبه کې، هاتھی دا زده کوي چې سره خلک ظالم دي، او شنه خلک مهربان دي.

کله چې ښکار کوونکي وګوري چې هاتھی دواړو ډلو ته عادت شوی، او د هر ځل وهلو پر مهال، د ځان دفاع پر ځای د شنو کسانو راتګ ته سترګې پر لار وي،
نو بیا يوه ورځ هماغه شنه ډله، چې اوس د هاتھی دوستانه اعتماد ګټلي وي، راځي او هغه له کندې راباسي.

هاتھی، د بشپړې وفادارۍ، اطاعت، او دوستانه احساساتو سره، د دغې "ښه" ډلې سره پاتې کېږي.

خو هاتھی هېڅکله دا سوچ نه کوي:
که شنه ډله دومره ښه او ځواکمنه وه، نو ولې یې له لومړۍ ورځې نه دا درد او عذاب نه و ختم کړی؟
ولې یې لومړی د ظالمو ښکار کوونکو مخه ونه نیوله؟
ولې یې هر ځل صرف دومره وکړه چې لږ وخت لپاره ظالم خلک وشړي؟
که شنه ډله دومره زوروره وه، نو سره ډله ولې بیا بیا راځي؟

دا ټول سوالونه د غټ، قوي، او هوښیار هاتھی له ذهنه وتلي وي.

څنګه چې هاتھی قابو کړل شو، همداسې خلک قابو کېږي.
وهونکي او ژغورونکي یو ډول خلک وي – خو لباس بدل کړي وي.
او خلک د همدغو ژغورونکو شکريه ادا کوي، چې اصلاً د همدوی د بدبختۍ اصلي لامل وي.

نن چې موږ کوم درد، غم، او ذلت سره مخ یو – دا د هغو خلکو له لاسه دی چې زموږ خواخوږي، دوستان، او مشفق ښکاري.
او ته ښه پوهېږې چې هغوی څوک دي.

Address

Peshawar
4356

Telephone

+923075886862

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Hero's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to The Hero's:

Share