Women and Children Development Organization Khyber Pakhtunkhwa

Women and Children Development Organization Khyber Pakhtunkhwa "Empowering Women, Nurturing Futures: Together We Build a Brighter Tomorrow."

13/09/2026
04/09/2026

مرکزی حکومت کا گورنیس تو صفر ھے لیکن صوبائی حکومت خیبر پختونخوا بھی کمزور ھے خاص کر صوبائی حکومت کے زیر اثر مخکمے میں چارسدہ انتظامیہ بھی جوابدہ نہیں خاص کر عشر و زاکواتھ کیمٹی ضلع چارسدہ کی کاردگی زیرو ھے کیونکہ یہ ادارہ معزورں بیواوں یتیموں اور انتھائی کمزور طبقات کی مدد کی بجائۓ کچھ لو اور کچھ دو پر چل رھی ھے میرٹ کا ستیاس کرچکا ھے اس سے ایک بات واضح ھوتی ھے کہ انکے سپورٹرز بھی نااھل اور کرپٹ ھے اور اقرباپرور ھے جسکے جتنی مزمت کی جائیں کم ھے۔ انعام اللہ سابقہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی ائی ضلع چارسدہ۔

اپکے معمولی تعاون معاشرہ میں مثبت تبدیلی لاسکتی ھے ۔
26/08/2026

اپکے معمولی تعاون معاشرہ میں مثبت تبدیلی لاسکتی ھے ۔

26/08/2026

سانح پمز اسپتال جسمیں 14 نومولود بچوں کو اگ میں راکھ کرچکی ھے حکومت نے انکوئری کمیٹی تشکیل دیا پاکستان میں جس چیز پر مٹی ڈالنا مقصود ھو اس پر انکوئری کمیٹی بیٹھا دیتی ھے۔۔۔ دوسرے بات چیف جسٹس اف سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہ کرنے پر توہیں عدالت کیس کو 16 ستمبر مقرر کردیا یہ ھے پاکستانی انصاف فراہم کرنے والا سب سے بڑا منصف کا فیصلہ ۔

26/08/2026

DONATION APPEAL
Orchard Primary Public School Nisatta campus for Vulnerable Children.
Managed by Women & Children Development Organization (WCDO-R), Charsadda
Request for Support and Donation
Orchard Public School for Vulnerable Children, managed by WCDO (Regd.), Charsadda, is committed to providing quality education and a safe, supportive learning environment for children from vulnerable and deserving communities.
To improve the school facilities and create a better learning environment for our students, we respectfully request generous donors, philanthropists, organizations, and community members to support the following urgent needs:
Required Facilities
Solar Energy System
Installation of a solar system to provide reliable and affordable electricity for the school.
Ceiling Fans – 6 Nos.
Installation of six ceiling fans to improve classroom ventilation and comfort, particularly during the summer season.
Educational & Stationery Materials
Purchase of essential learning materials, including:
Books
Notebooks
Flip charts
Colour play cards
Pencils
Sharpeners
Erasers
Classroom Chairs – 20 Nos.
Provision of 20 classroom chairs for students.
Your Support Can Make a Difference
Your contribution, whether large or small, will directly help us provide a safer, more comfortable, and better-equipped educational environment for vulnerable children.
“Education for All — A Guarantee of a Brighter Future.”
We sincerely appeal to generous individuals, philanthropists, welfare organizations, and donors to come forward and support this important cause.
With gratitude,
Chairperson, WCDO / Managing Director, Orchard Public School
Women & Children Development Organization (WCDO-R), Charsadda
Address: Tauheed Abad, Village Nisatta, District Charsadda, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan
Email: [email protected]
WhatsApp: +92 333 9354813

25/08/2026

ایک فوجی کپٹین پر ایک خاتون ڈاکٹر نے ریپ کا الزام لگایا تھا وہ خاتون رپورٹ کرنے گئی پر اس کے رپورٹ درج نہیں یہ واقع جس پر بگٹی نے اواز اٹھایا جواب میں بگٹی پر ایف سولہ سے بمباری کرکے قتل کیا اس واقعہ نے بلوچستان کو ہلاکے رکھ دیا اج ایک کرنل نے ھوائی فائرنگ کی تو کیاھوا کچھ نہیں ھونے والا۔

19/08/2026

اگست 1919 برطانیہ اور افغان جنگ کی محتصر جائزہ۔
جی۔ 1919ء کی تیسری افغان-برطانوی جنگ کو سمجھنے کے لیے صرف کابل اور برطانوی ہندوستان کی جنگ دیکھنا کافی نہیں؛ اس میں امان اللہ خان، پشاور، خیبر، وزیرستان اور سرحد کے پشتون قبائل سب کا اہم کردار تھا۔
1. جنگ سے پہلے افغانستان کی حیثیت کیا تھی؟
دوسری افغان-برطانوی جنگ (1878–80) کے بعد برطانیہ نے افغانستان کے خارجہ معاملات پر بہت مضبوط کنٹرول قائم کر لیا تھا۔ 1879ء کے معاہدۂ گندمک کے نتیجے میں افغانستان اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر نہیں چلا سکتا تھا۔ �
National Army Museum +1
لیکن افغانستان مکمل طور پر برطانوی ہندوستان کا حصہ نہیں تھا۔ اندرونی حکومت افغان امیر کے پاس تھی، جبکہ برطانیہ بنیادی طور پر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ افغانستان روس یا کسی دوسری طاقت کے ساتھ اپنی مرضی سے سفارتی تعلقات نہ قائم کرے۔
یہی معاملہ بعد میں امان اللہ خان کے لیے بنیادی مسئلہ بن گیا۔
2. امان اللہ خان اقتدار میں کیسے آئے؟
فروری 1919ء میں امیر حبیب اللہ خان پراسرار حالات میں قتل ہوئے۔ ان کے بعد اقتدار کی کشمکش پیدا ہوئی اور ان کے بیٹے امان اللہ خان کابل میں اقتدار پر قابض ہوئے۔
امان اللہ صرف تقریباً 26 سال کے نوجوان حکمران تھے۔ انہوں نے فوراً اعلان کیا کہ افغانستان کو اپنے خارجی معاملات میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ �
AHA +1
یہاں ایک اہم بات ہے:
امان اللہ کا اصل مقصد صرف برطانوی ہندوستان پر قبضہ کرنا نہیں تھا؛ بنیادی مقصد افغانستان کی مکمل خودمختاری، خصوصاً خارجہ پالیسی کی آزادی، حاصل کرنا تھا۔
3. برطانوی ہندوستان کی صورتحال بھی کمزور تھی
1919ء میں برطانوی سلطنت پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد کے بحران سے گزر رہی تھی۔
برطانوی ہندوستان میں:
جنگِ عظیم اول کے بعد فوجی دباؤ موجود تھا؛
سیاسی بے چینی بڑھ رہی تھی؛
مختلف علاقوں میں برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے؛
ہندوستانی فوج کے بڑے حصے کو پہلی عالمی جنگ کے بعد دوبارہ منظم کیا جا رہا تھا۔
امان اللہ خان نے محسوس کیا کہ یہ افغانستان کے لیے ایک مناسب موقع ہوسکتا ہے۔ بعض تاریخی مطالعات کے مطابق سرحد کے پشتون علاقوں میں بھی برطانوی حکومت کے خلاف بے چینی موجود تھی اور پشاور کو ایک ممکنہ مرکز سمجھا جا رہا تھا۔ �
Iranica Online +1
4. 3 مئی 1919ء — جنگ کا آغاز
3 مئی 1919ء کو افغان فوج نے خیبر کے علاقے میں سرحد عبور کی اور باغ (Bagh) کے مقام پر قبضہ کیا۔
باغ کی اہمیت اس لیے تھی کہ وہاں سے لنڈی کوتل کے پانی کی فراہمی متاثر کی جا سکتی تھی۔ لنڈی کوتل خیبر پاس کا انتہائی اہم برطانوی فوجی مرکز تھا۔ �
Wikipedia +1
یہی واقعہ تیسری افغان-برطانوی جنگ کا عملی آغاز بنا۔
برطانوی حکومت نے 6 مئی کو افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ �
Wikipedia
5. خیبر پاس کیوں اتنا اہم تھا؟
اس وقت بھی اور آج بھی خیبر پاس افغانستان اور پشاور کے درمیان تاریخی دروازہ تھا۔
اگر افغان فوج خیبر کے ذریعے کامیاب ہو جاتی تو:
افغانستان → خیبر پاس → لنڈی کوتل → جمرود → پشاور
کا راستہ کھل سکتا تھا۔
اسی لیے برطانوی حکومت کے لیے خیبر کا دفاع انتہائی اہم تھا۔
برطانوی فوج نے فوری طور پر خیبر میں کمک بھیجی۔ 7 مئی کو برطانوی ہندوستانی فوج نے مزید فوجی دستے خیبر کے راستے لنڈی کوتل پہنچائے۔ �
Wikipedia
6. پشاور کا کردار — شاید سب سے دلچسپ حصہ
یہاں جنگ صرف افغان فوج اور برطانوی فوج کے درمیان نہیں تھی۔
امان اللہ خان کے منصوبے میں یہ امید بھی شامل تھی کہ پشاور اور سرحدی علاقوں کے پشتون برطانوی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
پشاور میں ایک ممکنہ بغاوت کی منصوبہ بندی کی اطلاعات برطانوی حکام تک پہنچ چکی تھیں۔ برطانوی سرحدی انتظامیہ نے پشاور کو سخت نگرانی میں لے لیا۔
8 مئی کے قریب پشاور میں بغاوت کا خطرہ پیدا ہوا، لیکن برطانوی حکام نے شہر کو گھیر لیا اور ممکنہ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی۔ یوں وہ بغاوت بڑے پیمانے پر کامیاب نہ ہوسکی۔ �
Wikipedia
یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے:
اگر پشاور میں ایک بڑی منظم بغاوت افغان حملے کے ساتھ ہی کامیاب ہوجاتی تو برطانوی فوج کو دو محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
7. قبائلی علاقوں کا کردار
یہاں معاملہ بہت پیچیدہ تھا۔
خیبر، وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں کے پشتون قبائل برطانوی حکومت کے براہِ راست کنٹرول میں نہیں تھے جس طرح پشاور یا دوسرے آباد اضلاع تھے۔
برطانوی حکومت کا قبائلی علاقوں میں نظام مختلف تھا:
قبائل کو خاصی اندرونی خودمختاری حاصل تھی؛
برطانوی حکومت قبائلی ملکوں/عمائدین سے معاہدے کرتی تھی؛
قبائل کو بعض اوقات مالی الاؤنس دیے جاتے تھے؛
لیکن برطانوی فوجی چوکیاں اور سڑکیں بھی موجود تھیں۔
اس لیے 1919ء میں قبائل کا رویہ انتہائی اہم ہوگیا۔ �
Iranica Online
8. کیا تمام پشتون قبائل امان اللہ کے ساتھ ہوگئے تھے؟
نہیں۔
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ 1919ء میں تمام قبائل متحد ہوکر افغانستان کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔
حقیقت زیادہ پیچیدہ تھی۔
بعض قبائل نے افغان حکومت کا ساتھ دیا، بعض نے برطانوی چوکیوں پر حملے کیے، جبکہ بعض قبائل نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے بعد میں فیصلہ کیا۔
ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ قبائلی سیاست میں:
قبیلہ، مقامی دشمنی، جرگہ، مالی مفاد اور مقامی خودمختاری
سب اہم عوامل تھے۔
افغان حکومت کے لیے قبائلی جنگجو ایک طاقت بھی تھے اور ایک مسئلہ بھی۔ وہ انتہائی متحرک اور جنگجو تھے، مگر انہیں دور کے محاذ پر منظم فوج کی طرح استعمال کرنا مشکل تھا۔ �
Afghanistan Analysts Network - English
9. وزیرستان میں کیا ہوا؟
1919ء کی جنگ کے بعد وزیرستان میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی۔
خصوصاً محسود اور دوسرے قبائل میں برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت بڑھی۔
برطانوی فوجی چوکیوں اور راستوں پر حملے شروع ہوئے اور بعض مقامات پر برطانوی حمایت یافتہ مقامی ملیشیا کے افراد نے بھی بغاوت یا دستبرداری کی۔
یہاں جنگ 1919ء کی افغان حکومت اور برطانوی ہندوستان کے درمیان جنگ سے نکل کر ایک وسیع قبائلی مزاحمت کی شکل اختیار کرنے لگی۔ �
National Army Museum +1
اسی لیے 1919ء کے بعد وزیرستان میں برطانوی فوج کو کئی سال تک شدید فوجی مشکلات کا سامنا رہا۔
10. افغانستان نے ابتدائی طور پر کامیابی حاصل کی
جنگ کے ابتدائی دنوں میں افغان فوج اور قبائلی جنگجوؤں نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں۔
خصوصاً تھل (Thal) کے علاقے میں افغان حملہ اہم تھا۔
افغان فوج نے برطانوی دفاع کو ابتدائی طور پر دباؤ میں ڈال دیا، اور سرحد کے دونوں طرف قبائلی سرگرمیوں نے برطانوی فوج کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کردی۔ �
Iranica Online +1
لیکن افغان فوج برطانوی ہندوستان کی بڑی منظم فوج کو شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
11. برطانوی فضائی طاقت — ایک نیا ہتھیار
1919ء کی جنگ میں ایک تاریخی چیز ہوئی:
برطانوی فضائیہ (RAF) نے افغانستان کے خلاف فضائی بمباری استعمال کی۔
برطانوی طیاروں نے جلال آباد اور کابل سمیت اہداف پر بمباری کی۔ �
Iranica Online +1
یہ افغانستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ افغان فوج کے پاس برطانوی فضائی طاقت کا مؤثر جواب نہیں تھا۔
یہ بھی ان عوامل میں شامل تھا جنہوں نے امان اللہ خان کو جنگ بندی کی طرف جانے پر مجبور کیا۔
12. 3 جون 1919ء — جنگ بندی
امان اللہ خان نے جنگ بندی قبول کی اور 3 جون 1919ء کو لڑائی رک گئی۔ �
National Army Museum +1
لیکن اصل مذاکرات ابھی باقی تھے۔
13. راولپنڈی معاہدہ — 8 اگست 1919ء
امن مذاکرات راولپنڈی میں ہوئے۔
آخرکار 8 اگست 1919ء کو معاہدۂ راولپنڈی ہوا۔
اس کا سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ افغانستان کو اپنے خارجہ معاملات خود چلانے کا حق مل گیا۔
برطانوی حکومت نے افغانستان کے ساتھ وہ پرانا نظام ختم کردیا جس کے تحت وہ افغان خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوتی تھی۔ �
Iranica Online +1
اسی وجہ سے افغان تاریخ میں 1919ء کو آزادی کا سال سمجھا جاتا ہے۔
14. لیکن کیا افغانستان نے جنگ جیتی؟
یہاں تاریخ کو تھوڑا متوازن انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔
افغانستان نے برطانوی فوج کو مکمل فوجی شکست نہیں دی تھی۔
دوسری طرف:
برطانیہ بھی افغانستان کو دوبارہ فتح نہیں کرسکا۔
اصل کامیابی سیاسی تھی۔
امان اللہ خان نے جنگ کے ذریعے وہ چیز حاصل کرلی جس کا وہ مطالبہ کر رہے تھے:
افغانستان اپنی خارجہ پالیسی خود چلائے گا۔
برطانیہ نے اپنی طرف سے کچھ اہم شرائط بھی منوائیں، جن میں سرحدی انتظامات اور ڈیورنڈ لائن سے متعلق سابقہ انتظامات کی توثیق شامل تھی، جبکہ افغانستان کو برطانوی مالی امداد بھی ختم ہوگئی۔ �
Iranica Online +1
15. ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ
یہ حصہ آج کے پاکستان-افغانستان تعلقات کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
1893ء میں افغانستان اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ڈیورنڈ معاہدہ ہوا تھا۔
1919ء کے معاہدے میں افغان حکومت نے سابقہ سرحدی انتظامات کو قبول کیا، اور خیبر کے علاقے میں سرحدی حد بندی کو دوبارہ تسلیم کیا گیا۔ �
Iranica Online +1
لیکن اس کے باوجود افغانستان میں بعد کے ادوار میں ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔
یعنی:
1919ء نے افغانستان کو خارجہ آزادی تو دی، لیکن افغان-برطانوی سرحد کا مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔
16. پشاور افغانستان کے قبضے میں کیوں نہیں آیا؟
امان اللہ خان کے لیے پشاور ایک تاریخی اور سیاسی لحاظ سے بہت اہم شہر تھا۔
افغان حکومت اور سرحد کے بعض حلقوں میں یہ تصور موجود تھا کہ برطانوی ہندوستان کے زیر انتظام پشتون علاقے افغانستان کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔
لیکن عملی طور پر:
پشاور میں بڑی بغاوت کامیاب نہیں ہوئی؛
برطانوی فوج نے خیبر کا دفاع برقرار رکھا؛
افغان فوج طویل جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی؛
برطانوی فضائی طاقت نے افغانستان پر دباؤ بڑھایا؛
برطانوی فوج نے دوبارہ محاذ سنبھال لیا۔
چنانچہ پشاور افغان قبضے میں نہیں آیا۔
17. قبائل کی سب سے بڑی اہمیت کیا تھی؟
قبائلی جنگجوؤں کی اہمیت صرف ان کی تعداد نہیں تھی۔
ان کی اصل طاقت تھی:
مقامی جغرافیہ + تیز نقل و حرکت + پہاڑی جنگ کا تجربہ + برطانوی مواصلاتی راستوں پر حملے
وہ برطانوی فوج کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتے تھے۔
اسی وجہ سے 1919ء کی جنگ ختم ہونے کے باوجود وزیرستان اور سرحدی علاقوں میں برطانوی فوجی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ �
National Army Museum +1
18. پوری جنگ کو ایک نقشے کی طرح سمجھیں
سادہ انداز میں صورتِ حال کچھ یوں تھی:
افغانستان
⬇️
جلال آباد
⬇️
خیبر پاس
⬇️
لنڈی کوتل
⬇️
جمرود
⬇️
پشاور
اور دوسری طرف:
افغانستان
⬇️
وزیرستان
⬇️
تھل / بنوں کا علاقہ
⬇️
برطانوی ہندوستان
یعنی جنگ کا اصل میدان آج کے خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے، خیبر، وزیرستان اور افغانستان کے مشرقی حصے تھے۔
19. 1919ء کی جنگ کا اصل تاریخی نتیجہ
فریق
حاصل کیا؟
🇦🇫 افغانستان
خارجہ پالیسی میں آزادی
👑 امان اللہ خان
قومی ہیرو اور مضبوط حکمران بنے
🇬🇧 برطانوی ہندوستان
افغانستان پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش سے گریز، مگر سرحدی انتظامات برقرار
🏔️ قبائل
برطانوی کنٹرول کو شدید چیلنج کیا
📍 پشاور
برطانوی قبضے میں برقرار رہا
📍 خیبر
برطانوی دفاع میں رہا
📍 وزیرستان
طویل قبائلی مزاحمت کا مرکز بن گیا
📜 راولپنڈی معاہدہ
جنگ کا اختتام اور افغانستان کی خارجی خودمختاری
مختصراً: 1919ء کی جنگ کو صرف "افغانستان نے برطانیہ کو شکست دی" کہنا مکمل تاریخی تصویر نہیں ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ امان اللہ خان نے ایک مختصر جنگ شروع کرکے برطانیہ کو افغانستان کی آزاد خارجہ پالیسی تسلیم کرنے پر مجبور کیا، جبکہ برطانیہ نے اپنی فوجی برتری برقرار رکھتے ہوئے سرحدی معاملات میں اہم رعایتیں حاصل کیں۔ �
National Army Museum +1
اور اس جنگ کا پشاور، خیبر اور قبائلی علاقوں پر اثر بہت گہرا تھا—یہی وجہ ہے کہ 1919ء کو صرف افغان تاریخ نہیں بلکہ موجودہ خیبر پختونخوا اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ میں بھی ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ انعام اللہ ایم اے پولیٹیل سائنس نستہ چارسدہ۔

04/07/2026

مفادِ عامہ کے لیے اپیل
حکومتِ خیبر پختونخوا کے پاس بجلی کی پیداوار کا مکمل اختیار نہیں، لیکن اگر صوبائی حکومت تقریباً 500 کروڑ روپے کا انتظام کرے، خواہ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے، تو غریب اور محنت کش خاندانوں کے گھروں میں 6 بڑے سولر پینل اور 1 لیتھیم بیٹری نصب کی جا سکتی ہے۔
اس سے نہ صرف عوام کو چھ ماہ کی شدید گرمی میں ریلیف ملے گا بلکہ بجلی پر انحصار کرنے والے ہزاروں چھوٹے کاروبار بھی مستحکم ہوں گے۔
اگر صوبائی حکومت واقعی عوام دوست اور غریب پرور ہے تو اس منصوبے کو فوری ترجیح دے۔ ضرورت پڑنے پر ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز کو ملنے والی مراعات میں کمی کرکے بھی اس عوامی فلاحی منصوبے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔
شکریہ۔
یہ خیبر پختونخوا کے 95٪ عوام کی آواز ہے۔

اہلیان نستہ کےلیے خوشحبری۔۔ سکول ہزا نے نرسری تا مڈل کلاسیز میں داخلے شروع کرنے کا اعلان کردیاگیا اپنے بچوں کو  اعلی ترب...
21/01/2026

اہلیان نستہ کےلیے خوشحبری۔۔
سکول ہزا نے نرسری تا مڈل کلاسیز میں داخلے شروع کرنے کا اعلان کردیاگیا اپنے بچوں کو اعلی تربیت کساتھ ساتھ جدید سائنسی انگریزی تعلیم کےلیے اج داخل کرو دے۔

Address

Near Motorway Noshehra Road Charsadda
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Women and Children Development Organization Khyber Pakhtunkhwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Women and Children Development Organization Khyber Pakhtunkhwa:

Shortcuts

Share