Zamung Warsak Peshawar

Zamung Warsak Peshawar خدمت کُمک اګاھی
(1)

22/08/2026

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں 20 اگست 2026 کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں چھ سالہ طالب علم تمنّا پرنائے تیج نے ہوم ورک مکمل نہیں کیا تھا جس پر اسکول کی ٹیچر نے اسے ڈانٹا اور تھپڑ مارا سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ تھپڑ کے چند سیکنڈ بعد بچہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا
بچے کی موت کی حتمی وجہ ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہونا باقی ہے تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیچر کے تشدد کے بعد بچہ شدید خوف اور صدمے کا شکار ہوا جبکہ بعض ابتدائی اطلاعات میں ممکنہ دل کا دورہ پڑنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے
والدین کی شکایت پر پولیس نے اسکول کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں سی سی ٹی وی قبضے میں لے لی گئی ہے اور ٹیچر کو پولیس نے حراست میں لیا ہے تاہم عدالت کی جانب سے سزا یا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا آندھرا پردیش حکومت نے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے

یہ واقعہ ہمارے اسکولوں کے اساتذہ کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے بچے کا ہوم ورک مکمل نہ کرنا یا کوئی اور غلطی کرنا مار پیٹ کا جواز نہیں بن سکتا استاد کا کام بچے کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ محبت سمجھ اور تربیت کے ذریعے اس کی اصلاح کرنا ہے ایک معمولی سی سزا بھی کبھی ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے

زما سوالونا مولا رد کړ‎و سرکار ھم
22/08/2026

زما سوالونا مولا رد کړ‎و سرکار ھم

Ali Baba Khan Records Presenting "SARKAR""Sarkar...

ورسک روڈ پرائم ہسپتال کے قریب ڈمپر جیک ٹوٹنے کی وجہ سے ڈاٹسن پر گرگیا ہے ۔ ڈاٹسن ڈرائیور علیمان شاہ آف ملاگوری شدید زخمی...
22/08/2026

ورسک روڈ پرائم ہسپتال کے قریب ڈمپر جیک ٹوٹنے کی وجہ سے ڈاٹسن پر گرگیا ہے ۔ ڈاٹسن ڈرائیور علیمان شاہ آف ملاگوری شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل😥

22/08/2026
اگست کے یادگارکوچیاں متھرا سے تعلق رکھنے والے ایک مرد مجاھدخیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں جن کا ذکر ...
21/08/2026

اگست کے یادگار
کوچیاں متھرا سے تعلق رکھنے والے ایک مرد مجاھد

خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں جن کا ذکر بڑے واقعات کے ساتھ تو ملتا ہے مگر ان کی اپنی زندگی اور جدوجہد تاریخ کے صفحات میں کہیں پیچھے رہ جاتی ہے سالار امین جان خان بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے کوچیان پشاور سے تعلق رکھنے والے امین جان خان خدائی خدمتگار تحریک کے اہم ترین تنظیمی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصے تک پوری صوبائی تنظیم کے سالار اعظم رہے
انیس سو تینتالیس میں سردریاب کے خدائی خدمتگار مرکز میں منعقدہ اجلاس کے دوران امین جان خان کو صوبے کا سالار منتخب کیا گیا برطانوی خفیہ پولیس کی دستاویزات میں بھی ان کے انتخاب اور سردریاب کیمپ میں ان کے لیے رہائش کا انتظام کیے جانے کا ذکر ملتا ہے
انیس سو چھیالیس تک ان کی حیثیت اس قدر اہم ہوچکی تھی کہ برطانوی ہندوستان کے سرکاری ریکارڈ میں انہیں خدائی خدمتگاروں کا سالار اعظم قرار دیا گیا دسمبر انیس سو چھیالیس میں انہوں نے دہلی میں موجود باچا خان کو ٹیلی گرام بھیج کر قبائلی علاقوں میں خدائی خدمتگاروں کے داخلے پر پابندی کے بارے میں ہدایات طلب کیں یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ باچا خان کی تحریک کے مرکزی نظم و نسق میں براہ راست کردار ادا کر رہے تھے
اسی زمانے میں امین جان خان سیاسی میدان میں بھی فعال تھے مقامی تاریخی روایت کے مطابق وہ انیس سو چھیالیس کے انتخابات میں خلیلو کے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن ہوئے بعد کے اسمبلی ریکارڈ میں بھی ان کا نام اسمبلی رکن کے طور پر سامنے آتا ہے
سالار امین جان خان کی زندگی کا سب سے حیرت انگیز واقعہ شاید ان کی سیاسی جدوجہد سے زیادہ ان کی ذاتی زندگی سے جڑا ہوا ہے
روایت کے مطابق پچیس جون انیس سو اڑتالیس کو باچا خان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد خدائی خدمتگار قیادت نے آئندہ کے حالات پر غور کے لیے ایک اجلاس طلب کیا اتفاق کی بات یہ تھی کہ اسی دن سالار امین جان خان کی شادی بھی تھی جب بارات چارسدہ پہنچی تو حالات نے انہیں ذاتی خوشی اور قومی سیاسی ذمہ داری میں سے ایک انتخاب کرنے پر مجبور کردیا
کہا جاتا ہے کہ سالار امین جان خان نے بارات سے کہا کہ آپ دلہن کو لے جائیں اور میرا انتظار نہ کریں کیونکہ خدائی خدمتگاروں کی گرفتاری کے بعد ہمیں آئندہ کا فیصلہ کرنا ہے یوں دلہن اپنے گھر چلی گئی اور سالار امین جان خان اپنی شادی کے لباس ہی میں سیاسی اجلاس کی طرف روانہ ہوگئے
اور پھر وہ اپنی شادی کے لباس میں ہی جیل چلے گئے
یہ واقعہ اگرچہ ڈاکٹر سہیل خان سے منسوب ایک تاریخی روایت کے ذریعے سامنے آتا ہے لیکن اس کی علامتی اہمیت بہت گہری ہے ایک طرف ایک نوجوان کی زندگی کا انتہائی اہم ذاتی دن تھا اور دوسری طرف اس تحریک کا نازک ترین سیاسی مرحلہ سالار امین جان خان نے اپنی ذاتی خوشی کو پیچھے چھوڑ کر اپنی سیاسی اور تنظیمی ذمہ داری کو ترجیح دی
اگست انیس سو اڑتالیس تک حالات مزید سنگین ہوچکے تھے خدائی خدمتگار تحریک اور نئی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی چارسدہ کے بابڑہ میں ایک بڑے اجتماع کی تیاری شروع ہوئی تحقیقی ریکارڈ کے مطابق امین جان خان نے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ مل کر بابڑہ کے اجتماع کو منظم کیا جبکہ عبدالولی خان کے بیان کے مطابق اس اجتماع کے مرکزی منتظم سالار اعظم امین جان خان تھے
بارہ اگست انیس سو اڑتالیس کو ہزاروں خدائی خدمتگار بابڑہ کی طرف روانہ ہوئے ان کے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے تھے اور وہ مختلف نعرے لگا رہے تھے سرکاری مؤقف کے مطابق علاقے میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ تھی جبکہ خدائی خدمتگار ذرائع نے اس دعوے سے اختلاف کیا
جلوس جب بابڑہ میں پہنچا تو پولیس اور ملیشیا نے فائرنگ شروع کردی فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی ذرائع میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ واقعہ خدائی خدمتگار تحریک کی تاریخ کا ایک انتہائی خونریز باب بن گیا
اس واقعے کے وقت سالار امین جان خان محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ پورے صوبے کے خدائی خدمتگاروں کے سالار اعظم اور بابڑہ کے اجتماع کے مرکزی منتظم تھے ان سے منسوب بیانات بعد میں بابڑہ کے واقعات کی تفصیلات محفوظ کرنے کے لیے اہم تاریخی شہادت بنے
بابڑہ کے بعد ریاستی کارروائی مزید سخت ہوگئی خدائی خدمتگاروں کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا سالار امین جان خان بھی گرفتار ہوئے اور بعد کے تاریخی ریکارڈ میں ان کا نام ان سیاسی رہنماؤں میں شامل ہے جنہیں حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے باعث قید کیا گیا
سالار امین جان خان کی زندگی کا المیہ یہی نہیں تھا کہ وہ جیل گئے یا بابڑہ جیسے خونریز واقعے کے عینی شاہد بنے اصل المیہ یہ ہے کہ اتنے بڑے سیاسی اور تنظیمی کردار کے باوجود آج ان کا نام خیبرپختونخوا کی عام سیاسی تاریخ میں بہت کم سنائی دیتا ہے
وہ ایک ایسے دور کے آدمی تھے جب سیاست صرف تقریروں انتخابات اور اسمبلی کی نشستوں کا نام نہیں تھی سیاست کے ساتھ جیل پابندی تشدد قربانی اور ذاتی زندگی کی قربانی بھی جڑی ہوئی تھی
ایک طرف وہ صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن تھے دوسری طرف خدائی خدمتگاروں کے سالار اعظم ایک طرف ان کی زندگی میں شادی کا دن تھا دوسری طرف اسی دن سیاسی گرفتاریوں کے خلاف اجلاس اور چند ہی ہفتوں بعد وہ بابڑہ کے اس تاریخی جلوس کی قیادت کر رہے تھے جس نے صوبے کی سیاسی تاریخ پر ایک گہرا نشان چھوڑ دیا
سالار امین جان خان کی داستان دراصل ایک ایسے عہد کی داستان ہے جس میں ذاتی خوشی سے بڑھ کر سیاسی وفاداری عہد اور اجتماعی مقصد کو اہم سمجھا جاتا تھا
ان کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تاریخ صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی تاریخ ان لوگوں کے کردار سے بھی بنتی ہے جو بڑے واقعات کے بیچ کھڑے ہوتے ہیں فیصلے کرتے ہیں قربانیاں دیتے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ خود پس منظر میں چلے جاتے ہیں
سالار امین جان خان بھی ایسے ہی ایک کردار تھے

کوچیان کے سالار سے بابڑہ کے جلوس کے قائد تک اور شادی کے لباس سے جیل کی کوٹھڑی تک ان کی زندگی خدائی خدمتگار تحریک کی جدوجہد قربانی اور سیاسی عزم کی ایک غیر معمولی داستان ہے





📚 علم اور استعداد کی قدردانی میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز اور یتیم طلباء میں لیپ ٹاپ تقسیمیہ پروقار تقریب مفتی محمود مرکز پشاو...
21/08/2026

📚 علم اور استعداد کی قدردانی میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز اور یتیم طلباء میں لیپ ٹاپ تقسیم

یہ پروقار تقریب مفتی محمود مرکز پشاور میں منعقد ہوئی جس میں تعلیم کے میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کرنے والے ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی کی گئی اس شاندار پروگرام میں ناظم نعمت اللہ خان کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی رہا
تحصیل متھرا کے کامیاب طلباء میں میٹرک کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے تقریباً 14 سے 15 ٹاپ پوزیشن ہولڈرز شامل تھے جبکہ اجتماعی طور پر چالیس سے زیادہ لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے
تعلیمی اداروں میں پشاور تحصیل متھرا تحصیل شاہ عالم کے مختلف اسکولوں اور فرنٹیئر ماڈل اسکولز اور کالجز کے طلباء شامل تھے
وزیرستان کے کیڈٹ کالج کے 5 یتیم طلباء کو بھی اس پروگرام کے تحت لیپ ٹاپ سے نوازا گیا
اس پروقار تقریب میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن سابق گورنر حاجی غلام علی سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش ضلعی امیر مولانا امان اللہ حقانی جیسی اہم شخصیات بھی موجود تھیں جن کے ہاتھوں طلباء میں لیپ ٹاپ اور تحائف تقسیم کیے گئے
یہ تمام کامیاب اور بابرکت کاوشیں نعمت اللہ خان کی خصوصی توجہ اور کوششوں کی بدولت پایہ تکمیل تک پہنچیں 🌟

21/08/2026

مچنی کیمپ میں ایک پیٹرول پمپ میں آگ لگ گئی ہے ریسکو مدد بھی پونچھی نقصان بھی ہوا یہ اگ ختم ہونے کے بعد کے حالات ہے
بے شک پمپ جھوٹے ہو یا بڑے ہونے چاہے مگر حفاظی اصول سب کے لیے ایک جیسے اور ضروری ہو

آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ ورسک روڈ سمیت پورے شہر میں تقریباً ہر گلی اور محلے میں چھوٹے چھوٹے فلنگ اسٹیشن قائم ہیں، جن میں اکثر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، بلکہ بعض جگہوں پر سیفٹی کا معیار صفر سے بھی نیچے نظر آتا ہے۔
دنیا بھر میں پیٹرول پمپ قائم کرنے کی اجازت دینے سے پہلے سخت حفاظتی اصول اور ایس او پیز مقرر کیے جاتے ہیں، اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پمپ انتظامیہ ان حفاظتی تقاضوں پر سو فیصد عمل درآمد کرنے کی صلاحیت اور انتظامات ثابت کرے۔ ہمارے ہاں بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

21/08/2026

تحصیل متھرا کے لوگ دربدر
احتجاجی مظاھرین کا بیان

ایسے قوم کا بجلی گیس تو کیا اکسیجن بھی بند ہونا چاہےعلاقے میں گیس کی بندش رمضان سے جاری ہے بار بار عوام کو احتجاج کے لیے...
21/08/2026

ایسے قوم کا بجلی گیس تو کیا اکسیجن بھی بند ہونا چاہے

علاقے میں گیس کی بندش رمضان سے جاری ہے بار بار عوام کو احتجاج کے لیے کہا جا رہا تھا اور آج صرف اتنی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہوئے
آپ خود اپنے گریبان میں جھانکیں کیا ایسے سوے ہوے عوام کا بجلی اور گیس کی طرح اکسیجن بھی بند نہیں کر دینا چاہیے؟

20/08/2026

اعلان فوتگی

متھرا کے شہباز خان، جاوید ڈاکخانہ والا اور عطاء اللہ ڈاکخانہ والا کی والدہ محترمہ انتقال کر گئی ہیں۔

مرحومہ کی نمازِ جنازہ کل بروز جمعہ صبح 10:00 بجے کمالی گھڑی میں ادا کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین 🤲

Address

Peshawar
80937

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zamung Warsak Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zamung Warsak Peshawar:

Shortcuts

Share