Zamung Warsak Peshawar

Zamung Warsak Peshawar خدمت کُمک اګاھی
(1)

11/10/2026
پشاور رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ چوراہے پر لیول ٹو فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ پشاور کی ٹریفک کے لیے اہم پیش رفت ہے پشاور ڈ...
10/10/2026

پشاور رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ چوراہے پر لیول ٹو فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ پشاور کی ٹریفک کے لیے اہم پیش رفت ہے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پشاور ری ویٹالائزیشن پلان کے تحت اس منصوبے سے امید ہے کہ چوراہے پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا شہریوں کا وقت اور ایندھن بچے گا اور آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ منصوبے کو معیاری تعمیرات کے ساتھ بروقت مکمل کیا جائے تاکہ شہری اس کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں

متھرا بازار میں ایک ٹرالی بیوٹفکشن کے غرض سے بناے گیے غٹا موڑا کی تاب نا لاتے ہوے گرگیا
10/10/2026

متھرا بازار میں ایک ٹرالی بیوٹفکشن کے غرض سے بناے گیے غٹا موڑا کی تاب نا لاتے ہوے گرگیا

اپ کا موبایئل ھیک ہو رہا ہے 😵‍💫ڈیجیٹل فراڈ اگلا ھدف اپ یاد رکھیے کہ آپ کے موبائل میں چاہے کتنے ہی جدید سیکیورٹی فیچرز او...
10/10/2026

اپ کا موبایئل ھیک ہو رہا ہے 😵‍💫

ڈیجیٹل فراڈ اگلا ھدف اپ

یاد رکھیے کہ آپ کے موبائل میں چاہے کتنے ہی جدید سیکیورٹی فیچرز اور لاکس موجود ہوں لیکن آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی آپ کے واٹس ایپ اور دیگر اکاؤنٹس کو خطرے میں ڈال سکتی ہے

آج کل آن لائن فراڈ کرنے والے مختلف طریقوں سے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں کبھی مفت عمرے کے ٹکٹ یا انعام کا لالچ دیا جاتا ہے کبھی کسی نامعلوم شخص کی طرف سے دوستی بڑھائی جاتی ہے اور کبھی بینک اکاؤنٹ میں مسئلے یا فوری تصدیق کا بہانہ بنایا جاتا ہے

فراڈ کرنے والے اکثر آپ کو مشکوک لنک بھیجتے ہیں یا کسی انعام کے نام پر QR کوڈ اسکین کرنے کو کہتے ہیں اس لیے کسی بھی نامعلوم لنک پر کلک کرنے یا غیر معروف QR کوڈ اسکین کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں کیونکہ بعض لنکس آپ کی ذاتی معلومات چرانے یا آپ کو جعلی ویب سائٹ پر لے جانے کے لیے بنائے جاتے ہیں

واٹس ایپ اکاؤنٹ پر قبضہ کرنے کا ایک عام طریقہ تصدیقی کوڈ حاصل کرنا ہے فراڈ کرنے والا آپ کے نمبر پر اپنے موبائل میں واٹس ایپ رجسٹر کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے بعد آپ کے نمبر پر چھ ہندسوں کا تصدیقی کوڈ آتا ہے پھر وہ کسی بہانے سے آپ سے یہ کوڈ مانگتا ہے اگر آپ نے کوڈ اسے بتا دیا تو وہ آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر قبضہ کر سکتا ہے

اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد فراڈ کرنے والے آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کو آپ کے نام سے پیغامات بھیج کر پیسوں کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں ذاتی معلومات یا تصاویر کو غلط استعمال کرکے بلیک میل کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے

اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں کہ واٹس ایپ یا کسی دوسرے اکاؤنٹ کا تصدیقی کوڈ کسی بھی شخص کو نہ بتائیں چاہے وہ خود کو بینک کا نمائندہ واٹس ایپ کا اہلکار یا آپ کا جاننے والا ہی کیوں نہ ظاہر کرے

اپنے واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر Account کے اندر Two-Step Verification فعال کریں اور اپنا پن محفوظ رکھیں اس کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ میں Linked Devices کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر کوئی نامعلوم ڈیوائس نظر آئے تو اسے فوراً لاگ آؤٹ کر دیں

نامعلوم نمبروں سے آنے والے مشکوک پیغامات سے محتاط رہیں انعامی اسکیموں کے لالچ میں اپنی ذاتی معلومات نہ دیں اور اگر کوئی آپ کے نام سے دوستوں یا رشتہ داروں سے پیسے مانگے تو رقم بھیجنے سے پہلے فون کرکے تصدیق ضرور کریں

یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف کسی لنک پر کلک کرنے یا QR کوڈ اسکین کرنے سے ہر صورت موبائل ہیک نہیں ہوتا لیکن اس کے ذریعے آپ کو جعلی ویب سائٹ پر لے جایا جا سکتا ہے یا کسی نقصان دہ کارروائی کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے

آگاہی ہی تحفظ ہے اپنی اور اپنے خاندان کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو سنجیدگی سے لیں اور یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکیں

افغان مہاجرین کی کہانی صرف ہجرت کی نہیں، انسانیت، مہمان نوازی اور بدلتے وقت کی کہانی بھی ہےذرا ان تصویروں کو غور سے دیکھ...
09/10/2026

افغان مہاجرین کی کہانی صرف ہجرت کی نہیں، انسانیت، مہمان نوازی اور بدلتے وقت کی کہانی بھی ہے

ذرا ان تصویروں کو غور سے دیکھیے۔ ایک وقت تھا جب افغانستان میں جنگ کے باعث ہزاروں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے۔ کسی کے پاس چند کپڑے تھے، کسی کے ساتھ چھوٹے بچے، اور کسی نے اپنے پیچھے اپنا پورا ماضی چھوڑ دیا تھا۔ پشاور، نوشہرہ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خیموں، کچے گھروں اور مہاجر کیمپوں میں زندگی کا آغاز ہوا۔ پانی کی تلاش، محدود خوراک، روزگار کی فکر اور بچوں کے مستقبل کی پریشانی ان خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی۔

مقامی لوگوں نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟

پاکستان کے عوام، خصوصاً خیبر پختونخوا کے بہت سے خاندانوں نے افغان مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی، کھانا کھلایا، روزگار کے مواقع فراہم کیے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پشتو زبان، مشترکہ ثقافت، قبائلی رشتوں اور مذہبی و انسانی اقدار نے بہت سے مقامات پر قربت پیدا کی۔ کئی خاندانوں نے افغان بچوں کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے، پڑھتے اور جوان ہوتے دیکھا۔ تاہم ہر جگہ تجربہ ایک جیسا نہیں تھا۔ بعض مہاجرین کو امتیازی سلوک، معاشی مشکلات اور مقامی آبادی کے ساتھ وسائل پر دباؤ جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

کیا 2026 میں ان کی زندگی بدل گئی ہے؟

جی ہاں، فرق ضرور پڑا ہے۔ جو بچے کبھی کیمپوں میں پیدا ہوئے تھے، ان میں سے بہت سے آج بالغ ہو چکے ہیں۔ کئی خاندان خیموں سے نکل کر شہروں اور بستیوں میں آباد ہوئے، کاروبار کیا، ہنر سیکھے اور اپنی نئی نسل کو تعلیم دلائی۔ مگر سب کی کہانی کامیابی کی نہیں۔ غربت، دستاویزات کی مشکلات، تعلیم و علاج تک محدود رسائی اور قانونی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال آج بھی بہت سے خاندانوں کے لیے سنگین مسائل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNHCR کے مطابق 31 اگست 2026 تک پاکستان میں تقریباً 7 لاکھ 36 ہزار رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود تھے، جن میں تقریباً 3 لاکھ 77 ہزار خیبر پختونخوا میں رہتے تھے۔ اسی مدت تک 2026 میں تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار افغان مہاجرین کی واپسی میں مدد فراہم کی جا چکی تھی۔
اب بہت سے خاندان ایک نئے سوال کے سامنے کھڑے ہیں کہ پاکستان میں رہیں، واپس افغانستان جائیں یا کسی تیسرے ملک میں بہتر مستقبل تلاش کریں۔ جو لوگ کئی دہائیوں سے پاکستان میں ہیں، ان کے لیے واپسی صرف سرحد پار کرنے کا نام نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، گھر اور اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا کئی دہائیوں بعد ان لوگوں کی زندگی واقعی محفوظ، باعزت اور مستحکم ہو گئی ہے؟

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مہمان نوازی اپنی جگہ، لیکن پاکستان کے اپنے عوام کی معاشی مشکلات اور وسائل پر دباؤ بھی حقیقی مسائل ہیں۔ ایک ذمہ دارانہ راستہ وہی ہے جس میں ملک کے قوانین کا احترام ہو، مقامی آبادی کے حقوق محفوظ رہیں، اور جن لوگوں کو تحفظ کی ضرورت ہے ان کے ساتھ انسانی وقار اور انصاف کا معاملہ کیا جائے۔

کیونکہ سرحدیں ملکوں کو تقسیم کرتی ہیں، مگر دکھ، امید اور انسانیت کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہوتے۔

🎓 مستقبل کے ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے بہترین موقع!اگر آپ یا آپ کے بچے میڈیکل فیلڈ میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں تو Prime ...
07/10/2026

🎓 مستقبل کے ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے بہترین موقع!

اگر آپ یا آپ کے بچے میڈیکل فیلڈ میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں تو Prime College of Allied Health Sciences میں Fall 2026-27 Admissions Open ہیں۔

یہاں BS Allied Health Sciences کے تحت BS Radiology، BS Anaesthesia، BS Optometry، BS Dental اور BS Medical Lab Technology جبکہ 2 سالہ ڈپلومہ پروگرامز میں Radiology، Dental، Cardiac، Physiotherapy، Gastroenterology، Surgical، Pathology، Dialysis، Pharmacy، Pulmonology اور Health Technology شامل ہیں۔

طلبہ کو عملی تربیت کے لیے اپنے تدریسی ہسپتالوں کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

📍 Garhi Sherdad, Warsak Road, Peshawar
📞 0313-9666044 | 0311-9954784
🌐 www.pcahs.edu.pk

محدود نشستیں دستیاب ہیں، داخلے کے لیے ابھی رابطہ کریں۔

06/10/2026

وہ راز جو گوگل پر نہیں ملتے۔۔۔۔
ہمارے اردگرد ایسی بے شمار جگہیں موجود ہیں جن کی اصل کہانی کسی کتاب یا انٹرنیٹ پر نہیں ملتی بلکہ ان کہانیوں کو ہمارے بزرگ اپنے سینوں میں محفوظ کیے بیٹھے ہیں وہ پرانے راستے جہاں کبھی پیدل سفر ہوتا تھاوہ نہر کنارے
وہ گرمیوں میں بڑے درخت کے نیچے وہ مزرات وہ چشمے جہاں لوگ پانی پیا کرتے تھے وہ کنویں جن سے پورے محلے کی ضرورت پوری ہوتی تھی وہ باغات جہاں شامیں گزرتی تھیں وہ کھیت جو آج آبادی بن چکے ہیں اور وہ نالے جن کا پانی کبھی صاف اور رواں ہوا کرتا تھا وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا لیکن ان تبدیلیوں کے ساتھ ہماری بہت سی مقامی تاریخ بھی خاموشی سے ختم ہوتی جا رہی ہے Zamung Warsak ایسی ہی بھولی بسری جگہوں اور ان سے جڑی کہانیوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے تاکہ جو کچھ ہمارے بڑوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ ہماری نئی نسل صرف سنے نہیں بلکہ اسے محفوظ بھی کرے اگر آپ کے علاقے میں کوئی ایسی جگہ ہے جس کی کوئی دلچسپ پرانی کہانی ہے تو ہمیں اس کا نام بتائیں اور جو کچھ آپ جانتے ہیں وہ کمنٹ میں ضرور لکھیں ممکن ہے آپ کے ایک کمنٹ سے اپ کے گاوں محلے یا شہر کی تاریخ کا ایک ایسا باب محفوظ ہوجائے جو کل شاید ہمیشہ کے لیے گم ہوجاتا

06/10/2026

بدھنی نالے میں نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ معمول سے بڑھ گیا ہے۔ صورتحال قابو میں ہے، تاہم مقامی آبادی احتیاط کرے اور نالے سے دور رہے۔

سیلاب الرٹ اپڈیٹابھی تک کسی بھی متعلقہ ادارے، بشمول ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے (PDMA)، کی جانب سے سیلاب کے حوالے سے کو...
06/10/2026

سیلاب الرٹ اپڈیٹ

ابھی تک کسی بھی متعلقہ ادارے، بشمول ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے (PDMA)، کی جانب سے سیلاب کے حوالے سے کوئی باقاعدہ الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔ عوام سے گزارش ہے کہ فیس بک پر پھیلائی جانے والی جھوٹی افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے ہوشیار رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔



Address

Peshawar
80937

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zamung Warsak Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zamung Warsak Peshawar:

Shortcuts

Share