08/08/2026
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز کی جانب سے اپر چترال میں ایک مذہبی شخصیت کی جانب سے تقریر کے دوران نازیبا اور نامناسب الفاظ کے استعمال پر شدید افسوس اور مذمت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں کسی بھی شخص، خصوصاً مذہبی رہنما، کو گفتگو اور تقریر کے دوران اپنی زبان اور الفاظ پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، لیکن کسی فرد یا طبقے کی تضحیک، توہین یا نازیبا الفاظ کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
بیرونِ ملک مقیم چترالی ہمارے معاشرے اور علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ محنت مزدوری اور کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ چترال میں خدمتِ انسانیت کے مختلف کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ بہت سے اوورسیز چترالی مختلف فلاحی سرگرمیوں اور مستحق افراد کی مدد کے لیے چندہ اور مالی تعاون بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی محنت، قربانی اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ ان کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی جائے۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز اپنے اوورسیز بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور محبت کا اظہار کرتی ہے اور ان کے خلاف استعمال کیے گئے نامناسب الفاظ کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔
ہم متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مذکورہ بیان قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ معاشرے میں کسی کو بھی جذبات میں آکر دوسروں کی عزت و وقار مجروح کرنے کی اجازت نہ ہو۔
ہم تمام اہلِ چترال سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اختلافات کو شائستگی، دلیل اور باہمی احترام کے ساتھ حل کریں۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن، باوقار اور متحد معاشرہ قائم کریں۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز
سوشل میڈیا ٹیم