تحریک تحفظ چترالی پاکستان

تحریک تحفظ چترالی پاکستان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تحریک تحفظ چترالی پاکستان, Youth Organization, Peshawar.

08/08/2026

تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز کی جانب سے اپر چترال میں ایک مذہبی شخصیت کی جانب سے تقریر کے دوران نازیبا اور نامناسب الفاظ کے استعمال پر شدید افسوس اور مذمت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں کسی بھی شخص، خصوصاً مذہبی رہنما، کو گفتگو اور تقریر کے دوران اپنی زبان اور الفاظ پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، لیکن کسی فرد یا طبقے کی تضحیک، توہین یا نازیبا الفاظ کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
بیرونِ ملک مقیم چترالی ہمارے معاشرے اور علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ محنت مزدوری اور کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ چترال میں خدمتِ انسانیت کے مختلف کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ بہت سے اوورسیز چترالی مختلف فلاحی سرگرمیوں اور مستحق افراد کی مدد کے لیے چندہ اور مالی تعاون بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی محنت، قربانی اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ ان کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی جائے۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز اپنے اوورسیز بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور محبت کا اظہار کرتی ہے اور ان کے خلاف استعمال کیے گئے نامناسب الفاظ کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔
ہم متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مذکورہ بیان قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ معاشرے میں کسی کو بھی جذبات میں آکر دوسروں کی عزت و وقار مجروح کرنے کی اجازت نہ ہو۔
ہم تمام اہلِ چترال سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اختلافات کو شائستگی، دلیل اور باہمی احترام کے ساتھ حل کریں۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن، باوقار اور متحد معاشرہ قائم کریں۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز
سوشل میڈیا ٹیم

تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز کی جانب سے حلقہ دبئی اور سابق صدر امام ظہیر صاحب کو خراجِ تحسینتحریک تحفظ چترالی آل...
06/08/2026

تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز کی جانب سے حلقہ دبئی اور سابق صدر امام ظہیر صاحب کو خراجِ تحسین
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز کی مرکزی قیادت کی جانب سے حلقہ دبئی کے سابق صدر امام ظہیر صاحب کو ان کی مخلصانہ خدمات، دیانت داری، امانت داری اور خدمتِ انسانیت کے جذبے پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
امام ظہیر صاحب آغاز ہی سے تحریک تحفظ چترالی سے وابستہ رہے ہیں اور اخلاص، دیانت اور محنت کے ساتھ تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے آئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ موجودہ قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر خدمتِ انسانیت کے مشن کو آگے بڑھایا، جس پر پوری تنظیم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔
حال ہی میں امام ظہیر صاحب کی پشاور آمد کے موقع پر تحریک تحفظ چترالی حلقہ پشاور کے ذمہ داران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ امام ظہیر صاحب نے حلقہ پشاور اور چیئرمین مولانا سعید اللہ شاہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ چترالی میں ایسے مخلص افراد موجود ہیں جو کسی ذاتی مفاد یا جھوٹے کریڈٹ کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً خدمتِ انسانیت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں۔ حلقہ دبئی کے تمام ذمہ داران اور اراکین باہمی اتحاد، اخوت اور قربانی کے جذبے کے ساتھ چترال اور چترالی عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز حلقہ دبئی کے تمام ساتھیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی جانی، مالی اور اخلاقی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنے علاقے، اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کی خدمت کرنا قابلِ تحسین عمل ہے۔
مرکزی قیادت کو یقین ہے کہ حلقہ دبئی آئندہ بھی اتحاد، نظم و ضبط اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا۔ اختلافات پھیلانے والوں کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے خدمت کے سفر کو جاری رکھنا ہی تحریک تحفظ چترالی کا نصب العین ہے۔
اللہ تعالیٰ امام ظہیر صاحب، حلقہ دبئی کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کو صحت، سلامتی، عمر، مال اور زندگی میں برکت عطا فرمائے اور انہیں خدمتِ انسانیت کی مزید توفیق دے۔ آمین۔

منجانب سوشل میڈیا ٹیم تحریک تحفظ چترالی پاکستان

05/08/2026

محترم بھائیو اور بہنو!
آج کل بعض لوگ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، پر یہ کہتے ہیں: "میرا جسم، میری مرضی۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟" لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور ہمیں اپنی زندگی اس کے احکام کے مطابق گزارنی ہے، نہ کہ اپنی خواہشات کے مطابق۔
اسلام ہمیں حیا، پاکدامنی اور اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص غیر اخلاقی یا بے حیائی پر مبنی مواد پھیلاتا ہے تو ہمیں اس کی اصلاح حکمت، خیرخواہی اور اچھے انداز میں کرنی چاہیے۔ ہم والدین سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں، انہیں دینی اور اخلاقی تعلیم دیں اور سوشل میڈیا کے درست استعمال کی رہنمائی کریں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات سوشل میڈیا پر نامناسب سرگرمیوں کی وجہ سے لوگ سنگین مشکلات، بدنامی یا دیگر نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسے کاموں سے بچے جو دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے گناہوں یا نیکیوں کا حقیقی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ ہمیں کسی کے انجام کا فیصلہ خود نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسا مواد چھوڑ جائے جو اس کے انتقال کے بعد بھی پھیلتا رہے اور لوگ اس سے گناہ کرتے رہیں، تو یہ اس کے لیے باعثِ مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نیکی کا کام چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں، تو اس کا اجر بھی جاری رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حیا، تقویٰ اور شریعتِ محمدیہ ﷺ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۔
منجانب چیئرمین سعیداللہ شاہ

03/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائیو اور دوستو!
آپ سب جانتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ جذبات میں آکر یا نادانی سے ایسی ویڈیوز یا مواد سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں جن سے کسی کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ اگر ایسا شخص اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے کھلے دل سے معافی مانگ لے، اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور متاثرہ افراد و پوری عوام سے اپنی غلطی کا اعتراف کر لے، تو ہمیں بھی اخلاق، شریعت اور انسانیت کا تقاضا پورا کرتے ہوئے اسے معاف کر دینا چاہیے۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز حضرات، جو دیانت داری اور عزت کے ساتھ مختلف ہسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے ذمہ دار افراد سے رابطہ کیا، انہیں سمجھایا کہ کسی کی عزت اچھالنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
الحمدللہ، متعلقہ شخص نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے تمام عوام، خصوصاً ان افراد سے جنہیں اس ویڈیو سے دکھ پہنچا، معذرت کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔ اس کا معذرتی پیغام بھی لوگوں تک پہنچا دیا گیا۔
اب اگر معافی کے بعد بھی کوئی شخص انتقام، نفرت یا مزید بدنامی کا راستہ اختیار کرے، تو یہ مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اسلام ہمیں معاف کرنے، اصلاح کرنے اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
لہٰذا ہماری تمام بھائیوں سے اپیل ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سچے دل سے معافی مانگ لے، تو اس معاملے کو مزید ہوا نہ دیں بلکہ معاشرے میں امن، محبت اور احترام کو فروغ دیں۔ نفرت اور انتشار کے بجائے اصلاح اور درگزر کا عص راستہ اختیار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق بات کہنے، دوسروں کی عزت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
منجانب:
سوشل میڈیا ، تحریک تحفظ چترالی پاکستان

02/08/2026

تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اورسیز کی جانب سے چترال پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کو خراجِ تحسین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں بحیثیت ذمہ دار، تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اورسیز، مولانا سعید اللہ شاہ مرکزی شورٰی اور تنظیم کے تمام ذمہ داران کی جانب سے چترال میں حالیہ سیلاب اور قدرتی آفت کے دوران خدمات انجام دینے والے چترال پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
قدرتی آفات آزمائش ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ، استغفار اور دعا کا اہتمام کریں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت پورے چترال کو ہر قسم کی آفات، مصیبتوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے اور سب کی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔
حالیہ واقعے میں ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا، جس پر وہ مبارکباد اور شاباش کے مستحق ہیں۔ اسی طرح چترال پولیس نے بھی خدمتِ انسانیت کے جذبے کے تحت جس ذمہ داری، محنت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔
تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان ورکرز کی جانب سے ہم چترال پولیس، ریسکیو اور تمام متعلقہ اداروں کے افسران و اہلکاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ خدمتِ انسانیت انجام دینے والے تمام اداروں اور اہلکاروں کو مزید ہمت، استقامت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔
آخر میں ہم سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے اپنے فضل و کرم سے مزید بڑے نقصان سے محفوظ رکھا، اور پھر تمام خدمت گزار اداروں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
منجانب:
تحریک تحفظ چترالی پاکستان

02/08/2026

آج کے اس اہم موضوع پر ہم حقوقِ چترال کے وائس چیئرمین شمس النبی معاویہ صاحب کے مؤقف کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں جن معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی ہے، وہ قابلِ توجہ ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا، بالخصوص ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز، ایک مؤثر ذریعہ ہیں، لیکن ان کا استعمال ذمہ داری، اخلاق اور شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ایسا مواد جو چترالی قوم، ہماری تہذیب، ثقافت یا علاقے کی بدنامی کا سبب بنے، قابلِ افسوس ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
ہم شمس النبی معاویہ صاحب کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ہمیں حیا، اخلاق اور ذمہ داری کا درس دیتی ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزاریں اور معاشرے میں خیر، اصلاح اور اچھے اخلاق کو فروغ دیں۔

ہم تمام نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے مواد سے گریز کریں جو معاشرے میں بے حیائی، نفرت یا بدنامی کا باعث بنے، اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت، تعمیری اور اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق بات کہنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے معاشرے کی اصلاح میں مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
منجانب چیئرمین سعید اللہ شاہ تحریک تحفظ چترالی پاکستان

اپیل برائے اصلاحِ معاشرہ اور رجوع الی اللہ تمام احباب!میں بحیثیت چیئرمین تحریک تحفظ چترال آل پاکستان اوورسیز آپ سب سے نہ...
02/08/2026

اپیل برائے اصلاحِ معاشرہ اور رجوع الی اللہ تمام احباب!
میں بحیثیت چیئرمین تحریک تحفظ چترال آل پاکستان اوورسیز آپ سب سے نہایت اخلاص کے ساتھ گزارش کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بے حیائی، بدزبانی، نفرت اور اختلافات کو فروغ مل رہا ہے، جو ہمارے معاشرے کے اخلاقی اور دینی اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
چترال ہمیشہ سے شرافت، حیا، باہمی احترام اور اعلیٰ اخلاق کا گہوارہ رہا ہے۔ ہماری پہچان ہمارے کردار، تہذیب اور اسلامی اقدار سے رہی ہے۔ ہمیں اس عظیم روایت کو برقرار رکھنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو ہماری اجتماعی عزت اور وقار کو نقصان پہنچائے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نمازوں کی پابندی کریں، زکوٰۃ اور دیگر دینی فرائض ادا کریں، توبہ و استغفار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں۔ کسی پر ظلم، بہتان، نفرت یا بدزبانی سے اجتناب کریں، کیونکہ یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہمارے معاشرے کا وقار ہیں۔ اسلام نے حیا، پردے اور باوقار طرزِ زندگی کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح مردوں پر بھی لازم ہے کہ اپنے کردار، لباس اور گفتار میں اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھیں۔ حلال روزی کمائیں، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں اور اپنی زندگی کو دینِ اسلام کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
یہ دنیا عارضی ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی ایسے اعمال کے ساتھ گزارنی چاہیے جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، توبہ و استغفار اختیار کریں اور اپنی اصلاح کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت ہمارے شاملِ حال ہوگی۔
میں تمام اہلِ چترال اور بالخصوص نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے کردار، زبان، لباس اور سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور اپنی تہذیبی و اسلامی شناخت کو برقرار رکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے، اپنے معاشرے کی اصلاح کرنے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
منجانب چیئرمین سعید اللہ شاہ تحریک تحفظ چترالی پاکستان

تحریر: محمد صالح چترالیسابق انفارمیشن سیکرٹری، تحریک تحفظ چترالی، حلقہ پشاورچترالی عوام کی خدمت کرنے والی معروف اور مخلص...
02/08/2026

تحریر: محمد صالح چترالی
سابق انفارمیشن سیکرٹری، تحریک تحفظ چترالی، حلقہ پشاور
چترالی عوام کی خدمت کرنے والی معروف اور مخلص شخصیت، چیئرمین تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز اور سی ای او شندور پراپرٹی ڈیلر، مولانا سعید اللہ شاہ صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کا تعلق اپر چترال کی خوبصورت وادی موڑکہو، برومکاغ، کوشٹ سے ہے۔
مولانا سعید اللہ شاہ صاحب ایک علمی اور دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والدِ محترم، مولانا محمد گلاب شاہ صاحب، پشاور کے مینا بازار میں محکمہ اوقاف کی مسجد کے امام تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی چترالی برادری کی خدمت میں گزاری۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ جب قدیم دور میں روزگار کی تلاش میں چترالی نوجوان پشاور آتے تھے تو مولانا محمد گلاب شاہ صاحب نہ صرف ان کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرتے بلکہ سردیوں میں آنے والے مسافروں کی خلوصِ دل سے مہمان نوازی بھی فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے مولانا سعید اللہ شاہ صاحب کو بھی اپنے والدِ محترم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، وہ آج بھی اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ چترالی عوام کی فلاح و بہبود میں مصروفِ عمل ہیں۔ بطور چیئرمین تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز، انہوں نے گزشتہ کئی برسوں میں بے شمار لوگوں کی خدمت کی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
جب بھی کسی چترالی بھائی یا بہن کو کوئی مشکل پیش آتی ہے، مولانا صاحب اپنی مصروفیات کے باوجود خود پہنچ کر مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی قیادت میں تحریک تحفظ چترالی نے گزشتہ پانچ چھ برسوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جن سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے ہیں۔ وہ یہ تمام خدمات کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دیتے ہیں۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ رات گئے، حتیٰ کہ دو بجے تک بھی عوامی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کرنا، ضرورت مندوں کی مالی مدد کرنا، اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنا، بیماروں کی تیمارداری کرنا اور پریشان حال لوگوں کی دلجوئی کرنا ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
خصوصاً خاندانی اور ازدواجی تنازعات میں وہ جرگے کے ذریعے مصالحت کرانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ جہاں قانونی رہنمائی کی ضرورت ہو وہاں ماہر وکلاء کے تعاون سے مسئلے کا مناسب اور قانونی حل تلاش کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ متعدد اہم معاملات ان کی کوششوں سے خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں۔ چترالی عوام کے مسائل حل کرنا وہ اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔
اخلاق، کردار، انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبے کے اعتبار سے بھی مولانا سعید اللہ شاہ صاحب ایک قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی زندگی، صحت اور رزق میں برکت عطا فرمائے اور انہیں مزید اخلاص کے ساتھ عوام کی خدمت کی توفیق دے۔
میں اپنی طرف سے مولانا سعید اللہ شاہ صاحب کو ان کی بے لوث خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
::

01/08/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میرے معزز چترالی بھائیو، بہنو، بزرگو اور نوجوانو!
آج میں بحیثیت چیئرمین تحریک تحفظ چترالی آل پاکستان اوورسیز آپ سب سے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں، اور وہ ہے ہمارے معاشرے کی اصلاح۔
آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ معاشرہ مختلف اخلاقی اور سماجی مسائل کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل ایک باکردار، تعلیم یافتہ اور مہذب نسل بنے، تو ہمیں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے کرنا ہوگا۔
میری سب سے پہلی گزارش والدین سے ہے۔ اپنے بچوں کی بہترین دینی، اخلاقی اور اسلامی تربیت کریں۔ انہیں سچ بولنا، بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے محبت کرنا، اور دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں دیکھتے ہیں۔
اس کے بعد میری گزارش تمام اساتذۂ کرام سے ہے۔ استاد صرف کتابیں پڑھانے والا نہیں بلکہ قوم کا معمار ہوتا ہے۔ اس لیے طلبہ کو علم کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق، نظم و ضبط، برداشت اور معاشرتی ذمہ داری کا بھی درس دیں۔
کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی نوجوانوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کے مفید شہری بن سکیں۔
اسی طرح جو نوجوان کسی ہنر یا کاروبار سے وابستہ ہیں، انہیں ایسے لوگوں کے ساتھ رکھا جائے جو دیانت دار، بااخلاق اور اچھے کردار کے مالک ہوں، کیونکہ انسان اپنے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔
میرے معزز بھائیو اور بہنو!
آج ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں تعلیم، صحت، نرسنگ، پولیس اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہمیں ان کی عزت، حفاظت اور احترام کرنا چاہیے۔ ہر خاتون کسی کی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی ہوتی ہے، اس لیے ان کی عزت کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا پر بعض لوگ دوسروں کی عزت اچھالتے ہیں، جھوٹے الزامات لگاتے ہیں اور خواتین کی کردار کشی کرتے ہیں۔ یہ نہ اسلام کی تعلیم ہے اور نہ ہماری چترالی روایات کا حصہ۔
میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا کو نفرت، گالی گلوچ اور کردار کشی کے لیے نہیں بلکہ علم، شعور، اتحاد اور خدمتِ انسانیت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔
چترالی قوم اپنی شرافت، دیانت، تعلیم، مہمان نوازی اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ ہمیں اپنی اس پہچان کو برقرار رکھنا ہے اور اپنے کردار سے پوری دنیا میں اپنی قوم کا نام روشن کرنا ہے۔
آئیں! آج ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں، محلوں، دیہات اور شہروں میں محبت، بھائی چارہ، احترام اور خدمتِ انسانیت کو فروغ دیں گے، کسی کی عزت پر حملہ نہیں کریں گے، اور اختلاف کو بھی مہذب انداز میں بیان کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے معاشرے کی اصلاح کرنے، اپنی نسلوں کی بہترین تربیت کرنے اور دین و دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

منجانب: چیرمین سعید اللہ شاہ

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحریک تحفظ چترالی پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share