Human Resource Development Organization - HRDO

Human Resource Development Organization - HRDO vision“A healthy & educated society where openness is encouraged, diversity is cherished, innovation is expected, and growth & development is interpreted”.

Human Resource Development Organization (HRDO) is a Non-Government Organization (NGO) established in Khyber Pakhtoonkhawa in 2006, governed by an autonomous Board of Directors (BoD).The board members are highly motivated and committed to work for extremely vulnerable communities. HRDO has taken many initiatives to support the community organizations and Volunteers in Khyber Pakhtoonkhawa. The orga

nization was informally established in 2005 with a non-profit and non-governmental organization. After 01 year of commitment and hard work the organization was convinced to develop systematic and formal setup, in this regard the organization was formally registered with Directorate of Social Welfare Department of Khyber Pakhtoonkhawa in 2006 under Registration and Control ordinance 1961 (XLVI of 1961). HRDO also got recognition Certificate from social welfare, women empowerment, Zakat and Ushr Department FATA secretariat Peshawar in 2012.We are also registered with income Tax Department Govt; of Pakistan.

ہمارے پاس اب مزیذ وقت نہیں رہاتحریر ۔انجنئیر ظفراقبال وٹوشہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے  والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ...
02/01/2024

ہمارے پاس اب مزیذ وقت نہیں رہا

تحریر ۔انجنئیر ظفراقبال وٹو

شہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی صرف ایک خواب بننے والی ہیں۔ ان کا ذکر کہانیوں میں ملے گا۔

بلوچستان کے ایک تھکا دینے والے فیلڈ وزٹ کے دوران ویرانے میں موجود ایک کلی (چند گھروں والی آبادی) میں ایک مہربان نے چائے کے لئے روک لیا۔ ہم سرد موسم میں اس کی جھونپڑی میں لگی فرشی نشتوں پر کچھ دیر سکون لینے کے لئے دراز ہوگئے جب کہ وہ مہربان ہمارے لئے چائے کا انتظام کرنے لگ گیا۔کچھ دیر بعد چائے اور ساتھ دیگر لوازمات آنے پر ہمارے ایک ساتھی نے ہاتھ دھونے کی خواہش ظاہر کی تو میزبان پہلے کچھ سوچ میں پڑا پھر ہمارے ساتھی سے کہا کہ آپ بیٹھو میں پانی لاتا ہوں۔

چند منٹ کے بعد ہمارا میزبان ایک چھوٹے سے برتن میں پانی لے کر دوبارہ اندر آیا۔ اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جس نے ایک چھوٹا پرات نما برتن پکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے ادھر نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی ہمارے ساتھی کے ہاتھ اس طرح دھلوائے کہ سارا استعمال شدہ پانی نیچے پرات میں اکٹھا کر لیا اور اس کا ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرنے دیا۔ میں یہ ساراعمل انتہائی غور سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے میزبان سے پوچھا کہ وہ اس پرات والے گندے پانی کا کیا کرے گا۔ اس نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ گندا تھوڑی ہے، یہ تو اللہ کی رحمت ہے اسے جانوروں کو پلائیں گے۔یہ بات سن کر مجھے پنجاب کے ہوٹلوں کے واش بیسنوں اور پبلک باتھ روموں پر ہر وقت لیک کرتی یا کھلی ہوئی ٹوٹیاں بہت یاد آئیں۔

اسی طرح جب مغربی دارفور کے فیلڈ وزٹ میں ریاستی دارلحکومت الجنینہ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے تو وہاں ہر بندے کے لئے پانی کی راشننگ تھی ۔ پانی ایک ڈرم میں اسٹور ہوتا جس سے ہر ایک کو روزانہ ایک بالٹی پانی ملتا جس سے آپ نے پورا دن گزارنا ہوتا۔ وہاں ہم آدھا بالٹی پانی سے نہاتے تھے اور باقی آدھی بالٹی وضو اور دن کے دیگر لوازمات کے لئے استعمال کرتے۔ وہاں یہ پتہ چلا کہ آدھی بالٹی سے بھی غسل ممکن ہے اور شاور کھول کر غسل کرنا کتنی بڑی عیاشی ہے۔

کوئٹہ شہر میں چند سال پہلے اپنی ٹیم کے لئے ہاسٹل بنایا تو چند دن بعد ہی مالک مکان نے عمارت خالی کرنے کی دھمکی اس بات پر لگائی کہ آپ کے لوگ پانی بہت ضائع کرتے ہیں۔ اس نے آکر باقاعدہ ہمارے آفس مینیجر کے ساتھ لڑائی کی کہ آپ کے لڑکے روز ایک ٹینکر پانی گٹر میں بہا دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ ٹینکر ہم خود خرید رہے تھے لیکن وہ رحمانی بندہ پانی کے ضائع ہونے کو برداشت نہیں کرپایا تھا کیونکہ وہ پانی کی کمی کے اثرات کو بھگت رہا تھا۔

ہمارے لڑکے نئے تھے اور لاہور سے گئے ہوئے تھے لہذا یہاں والی پانی کے استعمال کی عیاشیاں وہاں بھی جاری تھیں۔ اگرچہ ہم خود پانی کی بچت کے لئے کام کر رہے تھے لیکن اس مالک مکان نے ہماری توجہ مائیکرو مینیجمنٹ کی طرف کروائی جس کے بعد لڑکوں کا پانی کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا۔ مالک مکان کی طرف سے ہمارے لڑکوں پر لگائی گئی فرد جرم ملاحظہ فرمائیں۔

ا1- یہ لوگ چھوٹی بالٹی میں پانی بھر کر مگ سے نہانے کی بجائے لمبے شاور لیتے ہیں

2- دن میں ایک سے زیادہ دفعہ نہاتے ہیں۔

3۔ باتھ روموں کے کا فلش ٹینک بار بار استعمال کرتے ہیں ۔ حتی کہ چھوٹی کاروائی کے بعد بھی۔

4۔ واش بیسن پر وضو کرنے کی بجائے ٹونٹی سے وضو کیوں نہیں کرتے تاکہ نیچے بالٹی رکھ لیں اور یہ استعمال شدہ پانی فلش کرنے کے لئے استعمال کریں۔

5۔ ایک وضو سے دو یا اس سے زیادہ نماز یوں پڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔

6۔ کچن میں سبزی اور چاول دھونے والا پانی بھی بچا کر فلش یا فرش دھونے میں استعمال کیوں نہیں کرتے۔

پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں عام سے عام جگہ پریا ہوٹل میں چلے جایئں۔ گلاس صاف بھی ہوگا تو کہیں گے کہ یار اسے پانی مار کر لاؤ۔اور آدھا گلاس پانی اسی میں ضائع ہوجائے گا۔

لان میں بچے پانی کے پائپ سے کھیلتے کھیلتے ٹینکی گٹر میں بہا دیں گے۔ ہاوسنگ سوسائیٹیوں میں صبح سویرے ڈرائیور حضرات موٹر چلا کر پائپ سے گاڑیاں دھونے میں مشغول ہوں گے اور اندر صاحب شاور کھول بالٹیوں کے حساب سے پانی ضائع کر رہے ہوں گے۔

کام والی ماسیاں موٹر چلا کر پائپ سے فرش دھو رہی ہوں گی جس سے گھر کے باہر ساری سڑک پر پانی کھڑا ہوگا۔ سردیوں میں ہم ٹونٹی کھول کر گیزر کے گرم پانی کے انتظار میں کئی لٹر صاف پانی واش بیسن کے ذریعے گٹر میں منتقل کر رہے ہوں۔

ان باتوں پر سوچنے کی ضرورت ہےہمارے پاس ااب مزیذ وقت نہیں رہا ۔ اگر ہم اسی طرح پانی ضائع کرتے رہے تو شہری علاقوں میں بہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی ایک خواب بننے والی ہیں۔

01/01/2024

*چکوال__کسان_نے_گاؤں_کی_ضروریات_پوری_کرنے_کے_لیے__منی_ڈیم__کیسے_بنایا*

‏(پاکستان کے موجودہ اور آئندہ کے ارباب اختیار اس پوسٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں)پاکستان زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر (Aquifer)...
01/01/2024

‏(پاکستان کے موجودہ اور آئندہ کے ارباب اختیار اس پوسٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں)
پاکستان زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر (Aquifer) کے لحاظ سے دُنیا کی سپر پاور ہے- دنیا کے 193 ممالک میں سے صرف تین ممالک چین، انڈیا اور امریکہ پاکستان سے بڑی ایکوئفر رکھتے ہیں- دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاؤں کے میدانی علاقوں کے نیچے یہ ایکوئفر 5 کروڑ ایکڑ رقبے سے زیادہ علاقے پر پنجاب اور سندھ میں پھیلا ہوا ہے-
پاکستان اس وقت دُنیا میں زمینی پانی کو زراعت کیلئے استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے- ہماری زراعت میں آدھے سے زیادہ پانی (50 ملین ایکڑ فٹ) اس ایکوئفر سے کھینچا جارہا ہے-
آبادی کے دباؤ کیوجہ سے زرعی اور صنعتی مقاصد کے کیلئے تحاشا پانی ٹیوب ویلوں سے کھینچنے کی وجہ سے یہ ایکوئفر نیچے جانا شروع ہوچکا ہے- ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق پاکستان تقریباً 500 کیوبک میٹر پانی فی بندہ کے حساب سے زمین سے کھینچ رہا ہے جو کہ پورے ایشیا میں بہت زیادہ ہے-
اس ایکوئفر کے اوپر سندھ اور پنجاب کے علاقے میں صرف مون سون کے تین مہینوں میں 100 ملئین ایکڑ فٹ تک پانی برس جاتا ہے- یہ ایکوئفر ہزاروں سال سے قدرتی طور پر ریچارج ہورہی تھی لیکن ہم نے کنکریٹ کے گھر اور اسفالٹ کی سڑکیں بناکر پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ کم سے کم کردیا ہے-
بارش کا پانی سب سے صاف پانی ہوتا ہے لیکن یہ ری چارج ہونے کی بجائے فوری طور پر سڑکوں، سیوریج لائنوں اور گندے نالوں کے ذریعے گٹر والے پانی میں بدل جاتا ہے جس سے نہ صرف اس کی کوالٹی بدتر ہوجاتی ہے بلکہ یہ سیلابی پانی بن کر شہروں کے انفراسٹرکچر اور دیہاتوں کو فلش فلڈنگ سے نقصان پہنچاتا ہے-
تاہم اگر اس پانی کو اکٹھا کرکے زیرزمین پانی کوری چارج کرنے کا بندوبست کیا جائے تو نہ صرف اربن فلڈنگ اور فلش فلڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ بڑے بڑے ڈیم بنائے بغیر بہت زیادہ پانی بھی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے-
لہٰذا فوری طور پر آبادی والے علاقوں میں ری چارج کنویں، ڈونگی گراونڈز، ری چارج خندقیں، تالاب، جوہڑ بنانے پر زور دیا جائے, جب کہ نالوں اور دریاؤں میں ربڑ ڈیم اور زیرزمین ڈیم بنا کر مون سون کے دوران بارش اور سیلاب کے پانی کو زیرِزمین ری چارج کیا جائے- اس مقصد کے لئے دریا راوی اور ستلج کے سارا سال خشک رہنے والے حصے، پرانے دریائے بیاس کے سارے راستے اور نہروں اور دوآبوں کے زیریں علاقے انتہائی موزوں جگہیں ہیں-
(منقول- تحریر از انجنیئر ظفر وٹو)

15/07/2023

دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلجنس کے حوالے سے بہت کچھ ہو رہا ہے، پاکستان کو آئی اے کے حوالے سے کیا حکمت عملی بنانی چاہیئے؟

۱۔ پاکستان کے تُمام سکولوں سے کاپی پینسل، تختی قلم دوات ، سلیٹ اور سلیٹی کو ختم کر کے ٹیبلٹ لاگو کر دینے چاہییں ، انٹرنیٹ فری اور لازمی قرار دیا جائے

۲۔ حروف تہجی میں بنیادی تبدیلیاں کر کے
الف سے انٹرنیٹ
ب سے براوزر اور بزنس
ک سے کمپیوٹر
ٹ سے ٹیکس
ت سے تجارت
پ سے پیسہ
ڈ سے ڈالر
م سے معیشت کر دینا چاہیے کیونکہ الف انار ، ب بکری سے ہم اے آئی کے قریب بھی نہیں جا سکتے

۳۔ اساتذہ ، پروفیسرز کو فوری طور پر اے آئی سے متعلقہ کورسز اور پروگرامز کا حصہ بنایا جائے ، پچاس فیصد نئے ٹیچرز آئی ٹی سے متعلقہ اور اے آئی سے روشناس ہوں ، ایک سال میں یہ تبدیلیاں ایمرجنسی لگا کر کی جانی چاہئیں

۴۔ غیر مُلکی آئی ٹی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت اس شرط پر دی جائے کہ یونیورسٹیوں میں اے آئی کے ڈپارٹمنٹ قائم کریں گے اور بدلے میں ٹیکس میں چھوٹ جیسی مراعات حاصل کریں۔

۵۔ فوری طور پر سائبر کرائم قوانین میں تبدیلیاں ، قوانین پر عملدرآمد ، اور عملدرآمد کے لیے اے آئی کا سہارا لیا جانا چاہیے ، غیر ضروری طوالت اور فارمیلیٹیز سے اجتناب کیا جائے۔

۶۔ آئی ٹی ماہرین ، آئی ٹی کمپنی نمائیندگان ، غیر مُلکی سرمایایہ کاروں کے لئے ویزا آن ارائیول ، ائیر ٹریولنگ اخراجات میں پچیس فیصد کمی ، اور کمائی پر ٹیکس کم کرنے جیسے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کئے جانے چاہئیں

۷۔ آئی ٹی سے متعلقہ لوگوں کو سپیشل آئی ڈی کارڈز ، قانونی معاملات میں ون ڈے ون ونڈو آپریشن کا آغاز کیا جائے

۸۔ آئی ٹی کمپنیوں کے ڈالرز اکاونٹ آن لائن کھولنے کی سہولت کے ساتھ ساتھ سرمایہ باہر منتقل نہ کرنے اور ان ڈالرز کو ریزروز کے ساتھ منسلک کرنے والی کمپنیوں کو انٹرسٹ دیا جائے

۹- ہر وہ کمپنی یا ادارہ جو اپنے تمام معاملات کو پیپر لیس کر کے ٹیکنالوجی کے استعمال پر شفٹ کر دے اُسے پچیس فیصد ٹیکس چھوٹ دی جائے

۱۰۔ آئی ٹی بیس پائلٹ پراجیکٹس شروع کئے جائیں جس میں افرادی قوت پرائیویٹ کمپنیوں ، یونیورسٹیوں ، آئی ٹی اداروں ، غیر مُلکی سرمایہ کاروں سے لی جائے ، کامیاب ماڈلز کی مُفت ترویج و اشاعت کی جائے

22/02/2023

Address

Deans Trade Centre
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 12:30
14:00 - 16:00

Telephone

+923005822862

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human Resource Development Organization - HRDO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Human Resource Development Organization - HRDO:

Share