Khyber Psychological Association -KPA

Khyber Psychological Association -KPA Khyber Psychological Association is a representative body of psychologists in Khyber Pakhtunkhwa and the neighbouring territories.

پاگل خانے کی نفسیاتان دنوں میرا زیادہ وقت پاگل خانے میں گزرتا تھا‘ لاہور میں پاگلوں کے دو بڑے ڈاکٹر میرے دوست تھے‘ میں ج...
23/09/2026

پاگل خانے کی نفسیات
ان دنوں میرا زیادہ وقت پاگل خانے میں گزرتا تھا‘ لاہور میں پاگلوں کے دو بڑے ڈاکٹر میرے دوست تھے‘ میں جب بھی فارغ ہوتا تھا میں ان کے پاس چلا جاتا تھا اور وہ بڑے بڑے شاندار پاگلوں کے ساتھ میری ملاقات کرواتے تھے‘ ڈاکٹر رشید چودھری ایلیٹ فیملیز اور پڑھے لکھے پاگلوں کے ڈاکٹر تھے‘ ان کے پاس آکسفورڈ‘ کیمبرج اور ہارورڈ یونیورسٹی کے کوالیفائیڈ پاگل آتے تھے‘ میں ایک دن ان کے دفتر گیا تو وہاں ایک نہایت پڑھا لکھا اور

رئیس پاگل بیٹھا تھا‘ پاگل نے قیمتی اطالوی سوٹ پہن رکھا تھا‘مہنگی خوشبو لگا رکھی تھی اور انگلیوں میں کیوبا کا سگاردبا رکھا تھا‘ کمرے سے سگار کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی اور پڑھا لکھا پاگل نہایت انہماک کے ساتھ ڈاکٹر

صاحب کو پنجابی‘ اردو اور انگریزی تین زبانوں میں ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا ‘ ڈاکٹر صاحب بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ گالیاں سن رہے تھے‘ جب پاگل تھک گیا تو ڈاکٹر صاحب نے اشارہ کیا اور عملہ پاگل کو کرسی سمیت اٹھا کر لے گیا‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا ”سر آپ کو یہ غلیظ گالیاں سن کر غصہ کیوں نہیں آ رہا تھا“ ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ”کیونکہ میں جانتا ہوں یہ پاگل ہے اور اگر آپ کو پاگلوں کی بات پر غصہ آ جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے آپ ان سے بڑے پاگل ہیں“ میں نے اس دن یہ بات پلے باندھ لی‘ ہم اگر نارمل ہیں تو پھر ہمیں پاگلوں کی باتوں پر جذباتی نہیں ہونا چاہیے‘ ہمیں پاگلوں کی گالیاں بھی اطمینان سے سن لینی چاہئیں چنانچہ میں جب بھی کسی مشکل صورت حال کا شکار ہوتا ہوں‘ مجھے جب کوئی پاگل ٹکر جاتا ہے تو مجھے ڈاکٹر رشید چودھری یاد آ جاتے ہیں‘ میں پاگل سے معافی مانگتا ہوں‘ اپنا جرم‘ گناہ اور غلطی تسلیم کرتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ میں پاگل کے ساتھ ڈائیلاگ یا آرگومنٹ کی غلطی نہیں کرتا‘ میں جس دن یہ غلطی کر بیٹھوں میں اس دن نیند کی گولی کے بغیر سو نہیں پاتا‘ دوسرے ڈاکٹرصاحب غریب پاگلوں کے معالج تھے‘ وہ لاہور کے سرکاری پاگل خانے میں کام کرتے تھے‘ میں ہفتے میں دو دن گپ شپ کےلئے ان کے پاس چلا جاتا تھا‘ ان کے

پاس بڑے بڑے معرکة الآراءپاگل ہوتے تھے‘ مثلاً مجھے ایک دن وہاں ایک ایسا پاگل ملا جس کا خیال تھا وہ (نعوذ باللہ) خدا ہے اور اس نے قیامت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ وہ اس وقت تک بات نہیں کرتا تھا جب تک مخاطب اسے ”باری تعالیٰ“ نہیں کہتا تھا‘ میں نے ایک دن اس سے قیامت لانے کی وجہ پوچھ لی‘ اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور چلا کر بولا ”وہ دنیا جس میں پیاز اسی روپے کلو ہو جائیں کیا اسے تباہ نہیں ہو جانا چاہیے“ میں نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا‘

وہ خوش ہو گیا اور بولا ”مجھے دس برسوں میں صرف تم ایک عقل مند آدمی ملے ہو ورنہ اس ملک میں ہر شخص پاگل‘ ہر شخص نالائق ہے“ اس کا فرمان تھا ”تم مجھے ملتے رہا کرو‘ میں تمہیں بہت جلد اپنا ڈپٹی لگا دوں گا“ میں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کر لیا لیکن اس کا کہنا تھا ”میں جب بھی آؤں میں اس کےلئے گولڈ لیف سگریٹ کی دو ڈبیاں لے کر آؤں“ میں نے یہ وعدہ بھی کر لیا اور میں اس وقت تک اسے سگریٹ فراہم کرتا رہا جب تک پیاز سستے نہیں ہوئے اور اس نے قیامت برپا کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لے لیا‘

مجھے اس پاگل خانے میں میری وہاں بنی اسرائیل کے ایک ایسے ”عالم“ کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی جو حضرت موسیٰ ؑکے ساتھ مصر سے فلسطین ”تشریف“ لایا تھا‘

وہ بحر احمر کی تقسیم کا آنکھوں دیکھا واقعہ بھی بیان کرتا تھا اور یہ بھی کہتا تھا میں خود حضرت موسیٰ ؑکو کوہ طور تک چھوڑ کر آتا تھا‘ وہ دعویٰ کرتا تھا

ہمیں بعض اوقات اس کی باتوں پر یقین آنے لگتا تھا‘ بس وہ ایک چیز سے پکڑا جاتا تھا‘ وہ ہمیشہ کہتا تھا‘ میں حضرت موسیٰ ؑ کو سائیکل پر بٹھا کر کوہ طور پہنچاتا تھا ‘ اگر اس دوران بدقسمتی سے کسی کے منہ سے یہ نکل جاتا ”جناب سائیکل تو اس وقت تھی ہی نہیں“ اور بس اس کے بعد ہو‘ ہو‘ ہو‘ وہ سائیکل کی ایسی زبردست تاریخ بیان کرتا تھا کہ اللہ دے اور بندہ لے‘ اس کا دعویٰ تھا سائیکل ایجاد نہیں ہوئی تھی‘ یہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی‘وہ سائیکل کے نزول کا ایسا روح پرور واقعہ بیان کرتا تھا کہ توبہ توبہ۔

میری وہاں ایک ایسے حاذق طبیب سے بھی ملا جس کا دعویٰ تھا وہ چیونٹیوں کے ذریعے گردے کی پتھری نکال سکتا ہے‘ میں نے پوچھا ”کیسے“ وہ بولا ”گردے کی پتھری میٹھی ہوتی ہے‘ آپ مریض کو آدھی چھٹانک زندہ چیونٹیاں کھلا دیں‘

یہ چیونٹیاں گردے میں پہنچ کر پتھری توڑ دیں گی“ اس کا دعویٰ تھا یہ علاج کیونکہ مفت ہے چنانچہ فرنگی فارما سوٹیکل کمپنیوں نے حکومت کے ساتھ مل کر اسے پاگل خانے میں بند کرا دیا ہے‘ یہ جس دن باہر آ گیا یہ پوری میڈیکل سائنس بدل کر رکھ دے گا‘ مجھے وہاں بے شمار سیاستدان بھی ملے‘ وہ سب قوم کی نبض کو بھی سمجھتے تھے اور ان کے پاس ہر ملکی مسئلے کا حل بھی تھا‘ مثلاً ایک ”لیڈر“ کا دعویٰ تھا وہ ایک مہینے میں بے روزگاری کا مسئلہ جڑ سے ختم کر دے گا‘

میں نے پوچھا ”کیسے“ وہ بولا ”حکومت اٹھارہ سال سے اوپر ملک کی ساری آبادی بھرتی کر لے‘ بے روزگاری ختم ہو جائے گی“ میں نے پوچھا ”لیکن تنخواہوں کےلئے پیسے کہاں سے آئیں گے“ اس نے اس کا ایک ایسا شاندار حل بتایا کہ میں فرش پر لیٹ گیا‘ اس کا کہنا تھا‘ آپ سعودی عرب کو اپنے گلیشیئر بیچ دیں‘ سعودی عرب ٹھنڈا ہو جائے گا‘ عمرے کا سیزن بڑا ہو جائے گا‘ آپ ان سے عمرے کی رائلٹی لیں اور لوگوں کو تنخواہیں دیتے رہیں‘

وہاں موجود ایک سائنس دان کے پاس لوڈ شیڈنگ کا حل بھی موجود تھا‘اس کا کہنا تھا حکومت دس کروڑ چھوٹی چھوٹی ٹربائنیں بنائے‘ ان کے آگے آوارہ کتے جوت دے‘ یہ کتے روزانہ دس کروڑ یونٹ بجلی پیدا کر دیں گے یوں بجلی کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘ میں نے پوچھا ”لیکن جناب کتوں کےلئے خوراک کہاں سے آئے گی“ مسکرا کر بولا ”جو کتا بجلی پیدا کرنے کے عمل کے دوران مر جائے وہ کاٹ کر دوسرے کتوں کو کھلا دیا جائے“۔میں دو سال لاہور کے ان دونوں پاگل خانوں میں جاتا رہا‘ وہ میری زندگی کے دلچسپ ترین سال تھے کیونکہ میں نے ان دو سالوں میں سیکھا‘

دنیا کے ہر پاگل میں چھ خوبیاں ہوتی ہیں‘ پاگل بے تحاشہ بولتا ہے‘ یہ بولے گا اور پھر بولتا چلا جائے گا‘ یہ کبھی آپ کی باری نہیں آنے دے گا‘ دو‘ یہ غیر فطری حد تک سنجیدہ ہو گا‘ آپ کبھی کسی پاگل کو ہنستا ہوا نہیں دیکھیں گے‘ وہ قہقہہ بھی لگائے گا تو آپ کو اس کی آنکھوں میں سنجیدگی نظر آئے گی‘ تین‘ دنیا کے 90 فیصد پاگلوں کے پاس بے تحاشہ مذہبی اور روحانی معلومات ہوتی ہیں‘ یہ آپ کو اپنی معلومات سے حیران کر دیں گے‘ چار‘ آپ جتنے بڑے پاگل ہوتے ہیں‘ آپ کے لہجے میں اتنا ہی زیادہ یقین ہوتا ہے‘

آپ کسی پاگل سے مل لیں آپ کو اس کا یقین حیران کر دے گا‘ وہ قسم کھا جائے گا سورج مغرب سے نکلتا ہے اور فرنگیوں نے دنیا کو گمراہ کرنے کےلئے مغرب کا نام مشرق رکھ دیا تھا‘ پانچ‘ دنیا کا ہر پاگل دن میں خواب دیکھتا ہے اور یہ اس خواب کو حقیقت سمجھتا رہتا ہے اور چھ‘ دنیا کا ہر پاگل بحث کا استاد ہوتا ہے‘ آپ اسے بحث میں نہیں ہرا سکتے لہٰذا آپ کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ آپ کو اگر میری آبزرویشن پر یقین نہ آئے تو آپ کسی پاگل خانے کو وزٹ کر لیں‘

آپ میری”پاگل شناسی“ کے قائل ہو جائیں گے اور اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو پاگل خانے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ یہ پورا ملک پاگل خانہ بن چکا ہے‘آپ کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک کروڑوں عالم‘ سائنس دان‘ سیاستدان‘ دانشور‘ طبیب اور پیر مل جائیں گے‘ آپ کو ان سب میں یہ چھ کی چھ خوبیاں بھی مل جائیں گی

جاوید چوہدری کی خوشہ چینی

New requirements for Facebook and Instagram align with several recommendations in APA’s Health Advisory on Social Media ...
14/09/2026

New requirements for Facebook and Instagram align with several recommendations in APA’s Health Advisory on Social Media Use in Adolescence.

Creating healthier online experiences for teens is a shared responsibility among platforms, policymakers, families, and young people.

Learn more: https://at.apa.org/lo6

09/09/2026

Dr. Ijaz Hassan, on philosophy and its relevance to psychology and science.

The Khyber Psychological Association (KPA) recently requested Dr. Ijaz Hassan to share his knowledge and experience on philosophy and its relevance to psychology and science.
Dr. Ijaz Hassan has long been fascinated by life’s deepest questions and the mysteries of existence. His academic journey in psychology led him to complete an M.Phil. on the meaning of life and a Ph.D. on consciousness—two subjects that lie at the intersection of psychology, philosophy, and human understanding. As a clinical psychologist, his professional experience has further enriched his insight into the complexities of the human mind, behavior, and psychological well-being.
An avid reader and writer, Dr. Hassan continues to explore philosophy and science as pathways to understanding the ultimate nature of reality. He has been associated with KPA for many years and remains one of its most senior and respected management members.
In a recent voice note shared with KPA members, Dr. Hassan beautifully elaborated on the significance of philosophy and its enduring relevance to psychology and scientific inquiry. His reflections served as an intellectual refresher, highlighting why philosophical thinking is not only essential for M.Phil. and Ph.D. scholars but is equally valuable for all of us in developing critical thinking, self-reflection, and a deeper understanding of human existence.
Plese visit KPA whatsapp grup for the voice notes,

Psycholgy jobs in the town
07/09/2026

Psycholgy jobs in the town

How brain construct reality. We often think of the mind as something that passively perceives an objective world. But, i...
31/08/2026

How brain construct reality.

We often think of the mind as something that passively perceives an objective world.

But, in this interview, neuroscientist Karl Friston argues that the brain is not a mirror of reality but a prediction machine, constantly constructing the world it experiences.

Drawing on the Free Energy Principle, he explains how perception, action, and consciousness emerge from the same underlying imperative: minimising surprise.

Because of prediction, embodied action, and hierarchical inference, reality itself turns out to be something we actively build rather than simply observe.

Click here to watch the full interview

We tend to think of the mind as something that passively perceives an objective world. But perception is active, inferential, and deeply shaped by uncertainty. In this interview with the Institute of Art and Ideas, Karl Friston argues that the brain is not a mirror of reality but a prediction machin...

A new study has shown that a five-week training intervention can teach college students to better regulate their emotion...
26/08/2026

A new study has shown that a five-week training intervention can teach college students to better regulate their emotions in response to negative events.
Learn about the research

Emotion-regulation training helped students respond to negative experiences with less distress and altered communication between brain networks.

Daniel Kahneman: The first ever  Psychologist who win the Noble prize.In 2002, Daniel Kahneman received the prize in eco...
26/08/2026

Daniel Kahneman: The first ever Psychologist who win the Noble prize.

In 2002, Daniel Kahneman received the prize in economic sciences – not as an economist, but as a psychologist.

His groundbreaking work brought psychological insight into economics, challenging the idea that humans are purely rational decision-makers.

In his bestselling book 'Thinking, Fast and Slow', Kahneman breaks down how we think using two systems:

System 1 – fast, intuitive, emotional
System 2 – slow, deliberate, logical

He revealed how systematic cognitive biases – not just emotions – shape our everyday decisions. From money and risk to leadership and policy, his research changed how we understand human behaviour.

This book didn’t just explain the mind – it reshaped economics, finance, healthcare, and public policy.

Read more: nobelprize.org/prizes/economi…

Khyber Psychological Association orgnized a one-day Seminar on “Our Inner Conflicts and the Idealized Self-Image”.Presid...
08/08/2026

Khyber Psychological Association orgnized a one-day Seminar on “Our Inner Conflicts and the Idealized Self-Image”.

President of the Khyber Psychological Association (KPA) and renowned researcher, Dr. Sharif Jan, delivered the keynote address emphasized that inner conflicts often emerge from the gap between an individual's real self and the idealized image they create of themselves.

He explained that while the idealized self-image may initially serve as a coping mechanism against feelings of inadequacy and anxiety, excessive dependence on it can result in emotional instability, heightened sensitivity to criticism, and psychological distresshe seminar examined how individuals often attempt to resolve internal conflicts by constructing an idealized self-image—a psychological structure characterized by the exaggeration of personal qualities, competencies, and achievements.

The discussion further explored how perceived or actual criticism, rejection, and interpersonal slights can evoke intense emotions such as shame, humiliation, anger, and anxiety.

Individuals whose self-worth is anchored in an idealized self-image often experience greater psychological distress when confronted with experiences that challenge their inflated self-perceptions. In contrast, a stable and realistic sense of self is associated with greater resilience, emotional regulation, and psychological well-being.

Dr. Jan urged students to cultivate an authentic sense of self rather than pursuing unrealistic standards and expectations.

The interactive session highlighted the importance of self-awareness, self-acceptance, and the integration of conflicting aspects of the personality in fostering psychological growth and mental health.


📸 Glimpses from the seminar at Frontier Homeopathic Medical College, Hayatabad, Peshawar.
📸 Appreciation to the student leadership for presenting a bouquet and certificate as tokens of recognition, and for their enthusiastic participation throughout the event.

Neuropsychologist Mark Solms, the man entrusted with editing Freud's complete scientific works, argues that a century of...
03/08/2026

Neuropsychologist Mark Solms, the man entrusted with editing Freud's complete scientific works, argues that a century of neuroscience has been unknowingly proving psychoanalysis right.

In this interview, he traces our current theories of the unconscious, memory systems, and drive theory to their Freudian predecessors, and makes the case that following Freud back to the brainstem may hold the key to understanding consciousness itself.

Tap the link to read the full interview. https://iai.tv/articles/the-latest-neuroscience-may-be-proving-freud-right-auid-3646

Mark Solms will be appearing at the HowTheLightGetsIn festival this September, alongside other leading figures including Roger Penrose, Sabine Hossenfelder, Mariana Mazzucato, John Gray, and many many more. https://howthelightgetsin.org/

یادِ احبابِ رفتہ !!مقصدے زندگی کو بھول گیا، جو غم عاشقی کو بھول گیا۔تو نے یہ کیا غضب کیا اے دل،جس کو چاہا اسی کو بھول گی...
15/07/2026

یادِ احبابِ رفتہ !!
مقصدے زندگی کو بھول گیا،
جو غم عاشقی کو بھول گیا۔
تو نے یہ کیا غضب کیا اے دل،
جس کو چاہا اسی کو بھول گیا۔
چاند تاروں کی جستجو ہے ہے سہل،
ادمی آدمی کو بھول گیا۔ (سہیل امام)
ڈاکٹر سید سہیل امام کی یاد میں
ڈاکٹر سید سہیل امام پاکستان کے ممتاز ماہرِ نفسیات، ماہرِ تعلیم، محقق اور شاعر تھے۔سہیل امام صاحب کی علمی و تحقیقی خدمات نے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر نفسیات کے شعبے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاھور، یونیورسٹی اف گجرات اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا (IIUM) کے شعبۂ نفسیات میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے تدریس، تحقیق اور طلبہ کی رہنمائی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اپنے علمی سفر کے دوران ڈاکٹر سہیل امام نے متعدد ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کی نگرانی کی اور پاکستان سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن(PPA) میں قائدانہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ نفسیاتی علوم کے فروغ اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے لیے ان کی خدمات نے انہیں اساتذہ، محققین اور طلبہ میں بے حد عزت و احترام دلایا۔
جامعاتی ذمہ داریوں کے علاوہ ڈاکٹر سہیل امام باقاعدگی سے ملک کے دوسرے حصوں جسے اسلام آباد، پشاور آتے اور تحقیقاتی طریقۂ کار، ریسرچ پروپوزل نویسی، سائیکومیٹرکس، اور دوسرے موضوعات پر تربیتی پروگرام منعقد کرتے تھے، جو علمی گہرائی، عملی افادیت اور سائنسی معیار کے باعث طلبہ اور اساتذہ میں یکساں مقبول تھیں۔ انہوں نے بے شمار نوجوان محققین کو تحقیق کے اصولوں اور سائنسی طرزِ فکر سے روشناس کرایا۔
ان کی سب سے بڑی خدمات میں نوجوان ماہرینِ نفسیات اور محققین کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کی نشوونما شامل ہے۔ پاکستان بھر کے متعدد اساتذہ، محققین اور پیشہ ور ماہرینِ نفسیات نے ان کی رہنمائی، شفقت اور علمی بصیرت سے استفادہ کیا۔ تنقیدی سوچ، سائنسی تحقیق اور تحقیقی دیانت داری پر ان کا اصرار ایک پوری نسل کی فکری تشکیل میں معاون ثابت ہوا۔
اگرچہ ڈاکٹر سید سہیل امام 2015ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی علمی میراث آج بھی ان کے شاگردوں، ساتھیوں، تحقیقی کاموں اور ان گنت افراد کے ذریعے زندہ ہے جنہیں انہوں نے متاثر کیا۔ وہ صرف ایک ممتاز ماہرِ نفسیات اور محقق ہی نہیں بلکہ ایک نہایت منکسر المزاج استاد اور بہترین شاعر بھی تھے، جن کی علم دوستی، تحقیق سے وابستگی اور تعلیمی وقار کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی
سنہ 2000 کو ڈاکٹر سید سہیل امام شاید آخری بار پشاور یونیورسٹی زبانی امتحان لینے شعبہ نفسئات تشریف لایں تھے، ہم دونوں ہر شام پشاور کے مختلف مقامات پر جاتے اور رات گے تھےاکٹھے گھومتے، اگلے دن لاھور روانگی کے وقت انہوں نے دوبارہ آنے اور مجھے لاھور آنے کی تاکید کی، لکین وہ پھر کھبی نہی آے، جسے غالب نے کہا تھا کہ،
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ڈاکٹر سید سہیل امام آپ ھمشہ ھمیں یاد رہنگے،
جیسا کہ فرانس کے مشہور ادیب انتوان دے سینٹ ایکزوپیری(Antoine de Saint-Exupéry)، نے کہا تھا کہ"جو شخص اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہو، جب تک ہم اس کی یاد کو اپنے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ رہتا ہے؛ بلکہ بعض اوقات زندہ لوگوں سے بھی زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔"

Address

Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khyber Psychological Association -KPA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share