Growup Team Karak

Growup Team Karak سماجی تبدیلی کی تحریک گرو-آپ پیج کے زریعے اپ کو ہر وہ کام دیکھایا جائیگا جو ٹیم نے ملک اور قوم کیلیے رازاکارانا طور پر کیا ہو۔

وہ جس کے لیے جیتا تھا، وہی چھن گیا آج،خاموش آنکھوں میں کرب کا سمندر رہ گیا آج۔
16/04/2026

وہ جس کے لیے جیتا تھا، وہی چھن گیا آج،
خاموش آنکھوں میں کرب کا سمندر رہ گیا آج۔

03/04/2026

پاکستان میں آج کہاں کہاں احتجاج ریکارڈ ہوا ہے؟

چې لونګی دې پر سر وي، نو سر به نه ټیټېږيپښتون د غیرت ژوند دی، هېڅکله نه ماتیږی
22/03/2026

چې لونګی دې پر سر وي، نو سر به نه ټیټېږي
پښتون د غیرت ژوند دی، هېڅکله نه ماتیږی

27/02/2026
حضرت محمد ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے مسلمانوں کو جو اہم نصیحتیں دیں، وہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے زندگی کا رہنما اصول ہیں-1️⃣ ...
15/02/2026

حضرت محمد ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے مسلمانوں کو جو اہم نصیحتیں دیں، وہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے زندگی کا رہنما اصول ہیں-
1️⃣ توحید اور اللہ کی یاد
• سب سے پہلی نصیحت ہمیشہ یہ تھی: اللہ کی واحدانیت (توحید) پر ایمان رکھو
انہوں نے فرمایا:
“میں تم پر سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں، اللہ سے ڈرو اور اس کی عبادت کرو۔”

• مقصد: زندگی کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
2️⃣ نماز اور عبادت
• نماز اور عبادت کی پابندی پر زور دیا
• فرمایا:
“میری امت کے لیے سب سے بہترین عمل نماز ہے، اسے ترک نہ کرو۔”
• عبادت کو زندگی کا بنیادی ستون بتایا۔
3️⃣ اخلاق اور انسانیت
• ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک، عدل اور اخلاق کی تعلیم
• فرمایا:
“تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مفید ہو۔”

• جھوٹ، دھوکہ، ظلم اور حسد سے بچنے کی ہدایت

4️⃣ قرآن اور سنت کی پیروی
• مسلمانوں کو قرآن اور سنت پر عمل کرنے کی تاکید
• فرمایا:
“تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑی گئی ہیں: قرآن اور میری سنت، ان سے کبھی نہ ہٹو”

• یہ نصیحت امت کے لیے راستے کا رہنما ہے

5️⃣ اخوت اور اتحاد
• امت کے اتحاد پر زور
• فرمایا:

“مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، اگر ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم دکھ محسوس کرتا ہے”

• مقصد: محبت، تعاون اور بھائی چارہ قائم رکھنا-

6️⃣ دنیاوی معاملات اور دنیا کی حقیقت
• دنیاوی دولت، عزت اور طاقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس کے عارضی ہونے کی تعلیم
• فرمایا:

“دنیا تمہاری ضرورت کے لیے ہے، لیکن آخرت کا حصول سب سے بڑا مقصد ہے”

حضرت محمد ﷺ کی آخری نصیحتیں مختصر طور پر:
1. توحید اور اللہ کی عبادت
2. نماز اور عبادت کی پابندی
3اچھے اخلاق، عدل اور انسانیت
4. قرآن و سنت کی پیروی
5. امت میں اتحاد اور محبت
6. دنیا کی حقیقت اور آخرت کی اہمیت
#مدینہ #روحانیت #عمرہ #سکون #سفر

ظلم کے خلاف  صدر خٹک اتحاد مدثر ایوب کے ساتھ پورے خٹک زینے کو کھڑا  ہونا ہوگا ۔
31/01/2026

ظلم کے خلاف صدر خٹک اتحاد مدثر ایوب کے ساتھ پورے خٹک زینے کو کھڑا ہونا ہوگا ۔

31/01/2026

ظلم کوئ خلاف ئیے یو۔

22/01/2026

“جھوٹ اور فریب سے کھیلنے والوں کو اُن کا اصل چہرہ دکھانا”

اختیارات رکھنے والوں کی جانب سے دھوکے پر مبنی بیانیے کی ایک عینی شاہد کی روداد، جو عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں دونوں کو گمراہ کرتی ہے۔

کئی دنوں تک میں یہ سوچتا رہا کہ لکھوں یا دوسروں کی طرح خاموش رہوں۔ خاموشی اکثر زیادہ محفوظ ہوتی ہے، مگر ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میں ان تمام واقعات کا عینی شاہد ہوں؛ یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہے۔

ضلع کرک کا علاقہ بانڈہ داؤد شاہ میرا آبائی تحصیل ہے۔ 23 دسمبر کو یہاں ٹی ٹی پی کی جانب سے کیے گئے ایک حملے میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ان میں سے ایک ابرار شہید تھا، جو گلستان بانڈہ کا رہائشی تھا، جو میرے گاؤں سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ابرار کے جنازے کے دن پولیس نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں آٹھ شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ مقامی لوگوں نے پولیس گاڑیوں میں لاشیں بھی دیکھیں، مگر وہ لاشیں ان شدت پسندوں کی نہیں تھیں جو ویڈیو میں دکھائے گئے تھے ۔ یہ دعویٰ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ابرار کے بچوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ ان کے والد کے قاتل مارے جا چکے ہیں، حالانکہ وہ اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس طرح شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو بھی گمراہ کیا جا رہا ہے۔

28 دسمبر کو آر پی او کوہاٹ کی قیادت میں ایک اور آپریشن کیا گیا۔ اس دوران ایک عام آدمی، سلام خان، کی جھونپڑیاں جلا دی گئیں، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔ حقیقت میں وہاں ایسے کوئی ٹھکانے موجود ہی نہیں تھے۔ جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ایک ایس ایچ او نے جواب دیا:

“اس بارے میں بات نہ کرنا ہی بہتر ہے”

یہ جواب ایک گہرے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے—جھوٹ کو بچانے کے لیے مسلط کی گئی خاموشی۔

نئے جنریشن کو اکثر بے صبر یا حد سے زیادہ بولنے والا قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو سچ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ دیانت داری، جواب دہی، اور ابرار شہید جیسے لوگوں کی قربانیوں کاحترام چاہتے ہیں۔

خاموشی شاید اداروں کو وقتی تحفظ دے، مگر یہ عوامی اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور جب اعتماد ختم ہو جائے، تو اسے دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔

Gaslighting the GaslightersAn eyewitness account of deception by authorities that misleads both the public and law enfor...
08/01/2026

Gaslighting the Gaslighters

An eyewitness account of deception by authorities that misleads both the public and law enforcement.

For days, I debated whether to speak or remain silent. Silence is often safer, but conscience does not allow it. I am an eyewitness to these events; I saw them unfold with my own eyes.

Banda Daud Shah in District Karak is my ancestral tehsil. On 23 December, five police officers were martyred in an attack claimed by the TTP. One of them was Abrar from Gulistan Banda, a village just three kilometers from my own.

On the day of Abrar’s funeral, police announced that eight Militants had been killed in a retaliatory operation. Local residents saw bodies in police vehicles, but those bodies did not belong to the militants shown in official footage. The claim did not match reality. Abrar’s children believed his killers had been brought to justice, yet they remain free. Even the families of fallen officers are being deceived.

On 28 December, an operation was launched under RPO Kohat. During it, the huts of an ordinary man were burned while authorities claimed terrorist hideouts had been destroyed. No such hideouts existed. When questioned, an SHO replied, “It’s better not to talk about this,” reflecting a deeper problem , silence used to protect falsehoods.

Gen Z is often labeled impatient or overly vocal. In reality, they refuse to accept lies as truth. They demand honesty, accountability, and respect for sacrifices like those of Abrar Shaheed.
Silence may protect institutions, but it destroys public trust. Once trust is lost, it is not easily restored.

06/01/2026

چونکہ ہمارا تحریک سماج میں مثبت تبدیلی کے لئے ہے ۔ زہنی بیداری اور نوجوانوں کو اپنی توانائیاں اللہ کے مخلوق کو آسانیاں پیدا کرنے کے لئے استعمال پر زور دینے کے لیے ہیں ۔
حق اور سچ کو آگے لانے اور ظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کے لئے ہے۔
اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ ضلع کرک کے بانڈہ داود شاہ تحصیل میں حالیہ بدامنی پر ایک آرٹیکل پوسٹ کریں گے جسمیں زمینی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
آپ سب ہمارے ساتھ ملکر اس تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں ۔
شکریہ

12/11/2025

جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہے، یعنی:
• وہ میرے کپڑے اتار دیں گے…
• مجھے غسل دیں گے…
• مجھے کفن میں لپیٹیں گے…
• مجھے میرے گھر سے نکالیں گے…
• اور مجھے میرے نئے مسکن (قبر) تک لے جائیں گے…
• بہت سے لوگ میری نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے…
• بلکہ کئی لوگ اپنی مصروفیات اور ملاقاتیں منسوخ کر دیں گے، صرف میری تدفین کے لیے…
یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے شاید بہت کم نے کبھی میری نصیحتوں پر دھیان دیا ہو۔
پھر میری چیزیں ختم کر دی جائیں گی…
• میری چابیاں…
• میری کتابیں…
• میرا بیگ…
• میرے جوتے…
• میرے کپڑے…
اور اگر میرے اہلِ خانہ نیک ہوں گے، تو وہ ان چیزوں کو صدقہ کر دیں گے تاکہ وہ مجھے فائدہ دے سکیں۔
یقین رکھیں کہ دنیا مجھ پر نہیں روئے گی…
• دنیا کا نظام نہیں رکے گا…
• معیشت چلتی رہے گی…
• اور میری جگہ کسی اور کو نوکری مل جائے گی…
• میرا مال ورثاء کو منتقل ہو جائے گا…
جبکہ ان سب چیزوں کا حساب مجھ سے لیا جائے گا!
• تھوڑے کا بھی…
• زیادہ کا بھی…
• ذرہ ذرہ کا بھی…
اور موت کے وقت سب سے پہلے جو چیز مجھ سے چھین لی جائے گی، وہ میرا نام ہوگا!
جب میں مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے: “جنازہ کہاں ہے؟”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو کہیں گے: “جنازہ لاؤ!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ مجھے دفن کریں گے تو کہیں گے: “میت کو قریب کرو!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
لہذا مجھے میرے نسب، میری قومیت، میرے عہدے اور میری شہرت پر کوئی غرور نہیں ہونا چاہیے!
یہ دنیا کتنی حقیر ہے…
اور وہ حقیقت کتنی عظیم ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں!
لہذا اے زندہ انسان! جان لو کہ تم پر تین طرح کا غم کیا جائے گا:
1. وہ لوگ جو تمہیں سرسری جانتے ہیں، کہیں گے: “بیچارہ!”
2. تمہارے دوست کچھ گھنٹوں یا دنوں تک غم کریں گے، پھر اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے۔
3. گہرا غم تمہارے گھر والوں کو ہوگا، جو ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک رہے گا…
پھر وہ تمہیں یادوں کے گوشے میں ڈال دیں گے!
تمہاری کہانی دنیا والوں کے لیے ختم ہو جائے گی…
اور تمہاری اصل کہانی شروع ہو جائے گی…
تم سے چھن جائے گا:
• حسن…
• دولت…
• صحت…
• اولاد…
تم گھر، محلات، اور بیوی کو چھوڑ دو گے…
اور تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال رہ جائیں گے!
اور یہی حقیقی زندگی کی شروعات ہوگی!
سوال یہ ہے:
آج سے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیار کیا؟
یہ حقیقت سوچنے کی متقاضی ہے…
لہذا…
• فرض نمازوں کا خیال رکھو…
• نفل عبادات کرو…
• خفیہ صدقہ کرو…
• اچھے اعمال کرو…
• رات کی نماز ادا کرو…
تاکہ تم بچ سکو۔
اگر تم نے لوگوں کو اس تحریر کے ذریعے نصیحت کی جب تم زندہ ہو، تو قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا، ان شاء اللہ!
“اور نصیحت کرتے رہو،

سابق مشیر اۓ حکومت

Address

Peshawar

Telephone

+923129782106

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Growup Team Karak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share