Private Education Network

Private Education Network Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Private Education Network, Community Organization, Main School Road, Near Police Station, Sector No. 1, Peshawar.

PEN is a non-profit organization working through building a network of existing private sector schools, colleges, IT, technical and vocational centers & education.

30/08/2026

آ ہ ! ہارون نیازی، تعلیمی افق پر تیس سال سے چمکتا سورج غروب ہوگیا۔
تحریر: عبداللہ خان حیدر
تعلیمی افق پر تیس برس سے چمکتا سورج غروب ہوگیا۔ کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور خاموشی سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر کچھ لوگ جب رخصت ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف ایک سانس نہیں رکتی، ایک عہد کی دھڑکن تھم جاتی ہے۔ کچھ لوگ مٹی کے سپرد نہیں ہوتے، وہ اپنے کردار، اپنی محبت، اپنی شفقت اور اپنی خدمت کی صورت میں لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ ہارون نیازی بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ تعلیمی افق پر تین دہائیوں سے مسلسل روشنی بکھیرنے والا وہ سورج آج غروب ہوگیا، جس کی کرنوں نے خیبر پختونخوا کے نجی تعلیمی شعبے کو نہ جانے کتنے موسموں میں راستہ دکھایا۔ ایک ایسا شخص، جس نے تعلیم کو صرف کتاب، تختی، کلاس روم اور امتحان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قوموں کی تعمیر، نسلوں کی تربیت اور مستقبل کی حفاظت کا نام دیا۔ پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صوبائی سینئر نائب صدر ہارون نیازی کی وفات ایک فرد کی وفات نہیں، ایک کردار کی رخصتی ہے۔ ایک ایسے کردار کی رخصتی، جس کی داستان کے صفحات خیبر پختونخوا کے ہزاروں تعلیمی اداروں کے در و دیوار پر بکھرے پڑے ہیں۔ کہیں کسی استاد کی حوصلہ افزائی میں ان کی آواز سنائی دیتی ہے، کہیں کسی ادارے کی کامیابی میں ان کی جدوجہد کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، کہیں کسی طالب علم کے روشن مستقبل میں ان کی دعاؤں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ عہدے پر بیٹھنے والے انسان نہیں تھے، عہدے کو وقار بخشنے والے انسان تھے۔ وہ قیادت کرنے والوں میں سے نہیں تھے، وہ قیادت کو معنی دینے والوں میں سے تھے۔ ان کے پاس اختیار سے زیادہ اخلاص تھا، منصب سے زیادہ محبت تھی، الفاظ سے زیادہ عمل تھا اور دعووں سے کہیں زیادہ خدمت تھی۔ ان کی میت کے سامنے کھڑے ہوکر مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ موت کبھی کبھی اتنی خاموش ہوتی ہے کہ پورا مجمع بولنے کے باوجود کچھ کہہ نہیں پاتا۔ آنکھیں سامنے موجود حقیقت کو ماننے سے انکار کرتی ہیں، دل کسی معجزے کا منتظر رہتا ہے اور ذہن بار بار یہی کہتا ہے کہ ابھی وہ اٹھیں گے، ابھی مسکرائیں گے، ابھی وہی مانوس آواز سنائی دے گی۔ مگر اس دن خاموشی بہت گہری تھی۔ جب پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صوبائی صدر سلیم خان مجھ سے بغل گیر ہوئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تو اس منظر نے دل کے اندر ایک ایسی دستک دی جس کی آواز آج تک سنائی دے رہی ہے۔ سلیم خان جیسے مضبوط اعصاب کے شخص کا یوں ٹوٹ کر رو دینا محض غم کا اظہار نہیں تھا، یہ ہارون نیازی سے محبت کی وہ گواہی تھی جس کے لیے کسی تحریری سند کی ضرورت نہیں۔ وہ آنسو الفاظ سے زیادہ سچے تھے، وہ سسکیاں کسی تقریر سے زیادہ بامعنی تھیں، وہ دھڑکنیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ ہارون نیازی صرف ایک ساتھی نہیں تھے، وہ دل کا ایک حصہ تھے۔ پھر صوبائی قائدین ، ساؤتھ ریجن کے قائدین و برادران محترم طاہر امین ، کیمیاگل ، مکرم خان ، شبیراحمد، محمد ابراہیم، محمد شعیب، محمد جواد ، لقمان خان، محمد صفدر، محمد تنویر، ذیشان احمد اور صدیق اللہ سمیت ضلع ہنگو کے مقامی قائدین و اراکین کے کندھوں پر سر رکھا تو یوں لگا جیسے جدائی کی اس رات میں بھی ہارون نیازی ماما کی شفقت ہمارے گرد حصار بنائے کھڑی ہے۔ وہی اپنائیت، وہی محبت، وہی بے تکلفی، وہی شفقت جس میں رشتوں کے نام نہیں پوچھے جاتے تھے، صرف دل پہچانے جاتے تھے۔ کچھ رشتے خون سے نہیں بنتے، وقت انہیں بناتا ہے، محبت انہیں مضبوط کرتی ہے اور جدائی انہیں امر کردیتی ہے۔ ہارون نیازی ماما بھی ایسا ہی رشتہ تھے۔ میں نے ان تمام رہنماؤں کو زندگی کے سخت ترین حالات میں ایک ساتھ کھڑے دیکھا تھا۔ مسائل آئے، مخالفتیں آئیں، راستے دشوار ہوئے، حالات نے امتحان لیے، مگر یہ لوگ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ ان کے چہروں پر عزم ہوتا تھا، لہجوں میں حوصلہ ہوتا تھا اور قدموں میں استقامت ہوتی تھی۔ مگر آج وہی چہرے بجھے ہوئے تھے، وہی لہجے ٹوٹے ہوئے تھے، وہی قدم بوجھل تھے۔ میں نے اس دن صبر و استقامت کے پہاڑوں کو موم کی طرح پگھلتے دیکھا۔ آنکھوں سے آنسو نہیں نکل رہے تھے، جیسے دل کے اندر برسوں سے جمع محبت کے بند ٹوٹ گئے ہوں اور اشکوں کے چشمے پھوٹ پڑے ہوں۔ اور ان آنکھوں کی زبان ایک ہی بات کہہ رہی تھی: ہارون نیازی کا ثانی نہیں ملے گا۔ واقعی کچھ لوگ اپنی مثال خود ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی متبادل نہیں ہوتا، ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ذات میں ایک پورا زمانہ ہوتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد جگہ تو خالی رہتی ہے، مگر وہ جگہ کسی دوسرے شخص سے پُر نہیں ہوتی۔ ہارون نیازی بھی ایک ایسا ہی خلا چھوڑ گئے ہیں۔ آج خیبر پختونخوا ایک ماہر تعلیم سے محروم ہوگیا ہے۔ نجی تعلیمی شعبہ اپنے ایک مخلص رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔ اساتذہ اپنے ایک خیر خواہ سے محروم ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں نے اپنا ایک محسن کھو دیا ہے اور بہت سے دلوں نے اپنا وہ شخص کھو دیا ہے جسے وہ صرف ہارون نیازی نہیں بلکہ ماما کہہ کر پکارتے تھے۔ لیکن شاید موت بھی ان لوگوں کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتی جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کے مستقبل کے نام کردی ہو۔ وہ چلے گئے، مگر ان کے لگائے ہوئے چراغ باقی ہیں۔ وہ خاموش ہوگئے، مگر ان کی آواز ان اداروں میں باقی ہے جن کی تعمیر میں ان کا کردار تھا۔ وہ رخصت ہوگئے، مگر ان کی شفقت ان دلوں میں باقی ہے جنہیں انہوں نے محبت دی۔ وہ ہم سے دور ہوگئے، مگر ان کی یاد ہر اس شخص کے ساتھ چل رہی ہے جس نے کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر مسکرایا، کبھی ان سے رہنمائی لی، کبھی ان کی حوصلہ افزائی سنی اور کبھی ان کی شفقت محسوس کی۔ یہی تو اصل زندگی ہے۔ انسان کی اصل عمر وہ نہیں جو کیلنڈر کے صفحات پر لکھی جاتی ہے، انسان کی اصل عمر وہ ہے جو لوگوں کے دلوں میں اس کے جانے کے بعد باقی رہتی ہے۔ اور ہارون نیازی صاحب کی عمر ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وہ ہر اس استاد کی آواز میں زندہ رہیں گے جو اپنے طالب علم کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرے گا۔ وہ ہر اس تعلیمی ادارے میں زندہ رہیں گے جو مشکل حالات کے باوجود چراغ روشن رکھے گا۔ وہ ہر اس بچے کی کامیابی میں زندہ رہیں گے جس کے مستقبل کی تعمیر کے لیے کسی استاد نے اخلاص سے محنت کی۔ وہ ہر اس شخص کی دعا میں زندہ رہیں گے جو انہیں یاد کرکے کہے گا: اللہ ہارون نیازی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان موت سے آگے نکل جاتا ہے۔ جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، مگر کردار وقت سے بلند ہوجاتا ہے۔ قبر خاموش ہوجاتی ہے، مگر خدمت بولتی رہتی ہے۔ انسان رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کی محبت لوگوں کے درمیان چلتی رہتی ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے پیدا ہوتے ہیں چمن میں دیدہ ور پیدا۔
جی ہاں ! ہارون نیازی بھی اس چمن کے ایک دیدہ ور تھے۔ تین دہائیوں تک انہوں نے تعلیم کے افق پر روشنی بکھیرتے ہوئے کتنے لوگوں کو راستہ دکھایا، کتنے اداروں کی آواز بنے، کتنے اساتذہ کا حوصلہ بڑھایا، کتنے لوگوں کے دکھ میں شریک ہوئے، کتنے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، اس کا حساب شاید کوئی رجسٹر نہیں رکھ سکتا۔ مگر دلوں کے رجسٹر میں ان کا نام بہت گہرا لکھا ہوا ہے۔ ایسا نام جسے وقت مٹا نہیں سکتا۔ آج قلم اٹھاتا ہوں تو لفظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جملہ بناتا ہوں تو آنکھ نم ہوجاتی ہے۔ یاد لکھتا ہوں تو یادیں آنسو بن جاتی ہیں۔ اور تعزیت لکھنے بیٹھتا ہوں تو دل کہتا ہے، جس شخص نے زندگی بھر دوسروں کے دکھ بانٹے ہوں، آج اس کے لیے تعزیتی الفاظ بھی کتنے بے بس ہیں۔ ہارون نیازی صاحب! آپ کی جدائی کو شاید وقت قبول کرلے، مگر دل کبھی قبول نہیں کرے گا۔ آپ کے ساتھ گزرے لمحے شاید ماضی بن جائیں، مگر ان کی خوشبو کبھی پرانی نہیں ہوگی۔ آپ کی آواز شاید خاموش ہوگئی ہے، مگر اس کی بازگشت بہت دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔ آپ کا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ گیا ہے، مگر آپ کی شفقت کا احساس ابھی باقی ہے۔ اور جب کبھی کسی تعلیمی ادارے کے صحن میں بچوں کی آوازیں گونجیں گی، جب کسی استاد کی آنکھ میں اپنے شاگرد کے مستقبل کا خواب چمکے گا، جب کوئی تعلیمی رہنما مشکل حالات میں بھی حق اور خدمت کا راستہ اختیار کرے گا، تو یقیناً کہیں نہ کہیں ہارون نیازی کی یاد ضرور آئے گی۔ کیونکہ کچھ لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ یاد بن جاتے ہیں، وہ مثال بن جاتے ہیں، وہ روایت بن جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو وہ پورے ایک عہد کا نام بن جاتے ہیں۔ ہارون نیازی بھی اب صرف ایک نام نہیں رہے۔ وہ نجی تعلیم کی جدوجہد کا ایک باب ہیں، وہ اخلاص کی ایک مثال ہیں، وہ شفقت کی ایک خوشبو ہیں، وہ خدمت کی ایک روشن روایت ہیں اور ہماری یادوں میں ہمیشہ جلتا رہنے والا وہ چراغ ہیں جسے موت کی کوئی ہوا بجھا نہیں سکتی۔ تعلیمی افق پر تیس برس سے چمکتا سورج غروب ہوگیا ہے، مگر اس کی روشنی ابھی باقی ہے۔ اور شاید یہی ہارون نیازی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے اندھیرا نہیں چھوڑا۔ وہ چراغ چھوڑ گئے ہیں، بے شمار چراغ۔ اللہ تعالیٰ ہارون نیازی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام تعلیمی، سماجی اور انسانی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے اہل خانہ، احباب، رفقائے کار اور پورے تعلیمی حلقے کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیم و خدمت کی اس روشن روایت کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

30/08/2026
28/08/2026
تعمیر ملت سکول اینڈ کالج خان پور میں  ہارون نیازی صاحب کے بلندی درجات کے لئے  دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا
28/08/2026

تعمیر ملت سکول اینڈ کالج خان پور میں ہارون نیازی صاحب کے بلندی درجات کے لئے دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا

28/08/2026

ختمِ قرآن و دعائے مغفرت 🤲

پین تھانہ کے صدرِ محترم جناب تاج خان کی ہدایت پر پاک سولجرز اسکول تھانہ میں مرحوم ہارون نیازی صاحب کے ایصالِ ثواب کے لیے ختمِ قرآن کا اہتمام کیا گیا۔

اس موقع پر طلبہ نے قرآنِ کریم کی تلاوت کی اور مرحوم کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبر و حوصلے کی خصوصی دعا کی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔
آمین یا رب العالمین 🤲

جواد اللّٰہ خان
پرنسپل پاک سولجرز سکول تھانہ

Address

Main School Road, Near Police Station, Sector No. 1
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Private Education Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Private Education Network:

Shortcuts

Share