09/08/2024
پشاور() خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبائی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں میں 20/25 فیصد اضافہ اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کی منظوری کے باوجود مزدوروں، انڈسٹریز اور دیہاڑی داروں کی کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار روپے سے بڑھا کر 37 ہزار روپے نہیں کی جا سکی۔ جس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں اور انڈسٹریز میں کام کرنے والے مزدوروں ، دیہاڑی دار مزدوروں میں سخت بے چینی پھیل رہی ھے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے بجٹ کے موقع پر کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار روپے سے بڑھا کر 36 ہزار روپے کرنے کے اعلان کیا تھا جس کو بھی تاحال عملی جامہ نہیں پہنایا گیا جب کہ مرکزی اور دیگر صوبائی حکومتوں نے مزدورں کی کم سے کم ماہانہ اجرت 37 ہزار روپے کرنے کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چئیرمین شوکت علی انجم، صدر حاجی انور کمال خان، سینئر نائب صدر حاجی نیاز علی خان ، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی ، فنانس سیکرٹری محبوب اللہ اور پریس سیکرٹری راحیل احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈا پور ، صوبائی وزیر محنت ، صوبائی وزیر بلدیات اور سیکریٹری محنت و سیکریٹری بلدیات سے مزدوروں کی کم سے کم ماہانہ اجرت بلاتاخیر 37 ہزار روپے کرنے کے عملی اقدامات یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ھے