18/11/2025
سانحہ مریدکے میں ہونے والے ظلم کا چشم دید گواہ آرمی پرسن آصف
جس نے سانحہ مریدکے کے بعد فوج کو خیرباد کہہ دیا تھا اور ظلم اور ظالم کے خلاف ویڈیو بنا کر عوام کو حقائق سے آگاہ کر رھا تھا۔
اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں جنکا ذکر وہ اپنی ویڈیوز میں کرتا رھا۔
مورخہ 17 نومبر بروز پیر پولیس چکنمبر 140 گ۔ب آئی اور آصف جٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی جس پر اس نوجوان نے اپنا دفاع شروع کر دیا۔ جس سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا بعد ازاں مزید فورس منگوائی گئی اور آصف کو مسجد میں ہی گولیوں سے بھون ڈالا۔
اب اس واقعے کو تحریک لبیک سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ھے۔
یاد رہے اس جوان کا تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا نہ تو وہ تحریک لبیک کا کارکن تھا اور نہ ہی کوئی ذمہ دار۔۔۔۔
اس نے ایک محب وطن پاکستانی اور درد رکھنے والے مسلمان کی حیثیت سے سانحہ مریدکے کے حقائق عام لوگوں کو بتائے اور فوج سے استعفٰی دیا۔