01/08/2026
کتنی عجیب اور تلخ حقیقت ہے
نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی لوگ آنسوؤں کے ساتھ اپنے پیارے کو آخری الوداع کہہ رہے تھے اسی دوران ان کے موبائل پر تنخواہ جمع ہونے کا پیغام آیا وہ تنخواہ جس کے لیے انہوں نے مہینوں ڈیوٹی کی، دن رات محنت کی سردی گرمی، عید، خوشی اور اپنے بچوں کی خواہشات قربان کیں... مگر افسوس آج وہ خود اس تنخواہ کو لینے کے لیے دنیا میں موجود نہیں تھے یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ ہر اُس پولیس اہلکار کی حقیقت ہے جو وردی پہن کر گھر سے نکلتا ہے، مگر اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ شام کو اپنے بچوں کے پاس واپس لوٹے گا یا نہیں جب ہم سکون سے سوتے ہیں تو یہی جوان رات بھر جاگ کر ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عید اور خوشیاں مناتے ہیں تب یہی پولیس اہلکار چوکوں، سڑکوں اور خطرناک علاقوں میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہوتے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر پولیس کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں، مگر اُن کی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں ہر روز کوئی نہ کوئی جوان وطن، عوام اور امن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتا ہے کل ہنگو میں بھی دہشت گردوں کے حملے میں ہمارے بہادر پولیس اہلکار شہید ہوئے ان کے گھروں میں بھی ایسے بچے ہیں جو اپنے والد کا انتظار کرتے ہوں گے، ایسی مائیں ہیں جو آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہوں گی، اور ایسے والدین ہیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو سپردِ خاک کیا ایک شہید پولیس اہلکار کی تنخواہ اس کے موبائل پر
آ سکتی ہے مگر وہ باپ واپس نہیں آ سکتا جو اپنے بچوں کا سہارا تھا، وہ بیٹا واپس نہیں آ سکتا جو اپنے والدین کی امید تھا، اور وہ شوہر واپس نہیں آ سکتا جو اپنے خاندان کا محافظ تھا آئیے اختلافات اور شکایات سے بالاتر ہو کر اُن تمام پولیس اہلکاروں کو سلام پیش کریں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہماری حفاظت کرتے ہیں، اور اُن شہداء کو کبھی فراموش نہ کریں جن کی قربانیوں کی بدولت ہم آج امن کی سانس لے رہے ہیں اللہ تعالیٰ تمام شہداءِ پولیس کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔