Gandhara Hindko Board

Gandhara Hindko Board Promotion of Hindko Language, Culture and its literature.

17/01/2025

سلام پشوریوں خیر نال آئیو ں

گندھارا ہندکو بورڈ دے تحت 23 اپریل 1930 دے شہدا نوں خراج تحسین پیش کرنے دے موقع تے اکٹھ دیاں تصویری جھلکیاں.
23/04/2024

گندھارا ہندکو بورڈ دے تحت 23 اپریل 1930 دے شہدا نوں خراج تحسین پیش کرنے دے موقع تے اکٹھ دیاں تصویری جھلکیاں.

پشاور کا جلیانوالہ باغتحقیق و تحریر: محمد ضیاء الدین 23 اپریل 1930 کا قصہ خوانی کا مشہور معرکہ آزادی ہماری تحریک حریت کا...
23/04/2024

پشاور کا جلیانوالہ باغ
تحقیق و تحریر: محمد ضیاء الدین

23 اپریل 1930 کا قصہ خوانی کا مشہور معرکہ آزادی ہماری تحریک حریت کا سنگ میل ہے۔ اِس روز پشاور کے شہریوں نے بہادری کی لازوال داستان رقم کی۔ نہتے پشاوری اُس وقت کی سپر پاور تاجِ برطانیہ کے خلاف سینہ سپر ہو گئے ، اپنے مذہبی تشخص اور حریت فکر کے لئے انگریز کا بھرپور مقابلہ کیا اور اِس جدوجہد کے نتیجے میں قصہ خوانی کی سڑکیں خون سے لہولہان ہو گئیں۔اِن شہید ہونے والوں میں بوڑھے، بچے ، جوان اور خواتین بھی شامل تھیںاور اِن شہداء کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی تھی اور زخمی ہونے والوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ اِس واقعہ کے کئی دِن بعد تک کرفیو نافذ رہا اور ظلم و استبداد کا دور دورہ رہا۔
قصہ خوانی بازار آج بھی آباد ہے اِس واقعہ کو 94 سال گزر گئے ہیں لیکن شہیدوں کی یادگاریں آج بھی ہمیں اس حریت کے دِن کو یاد دِلاتی رہتی ہیں۔جس روز پشاور کے بہادر شہریوں نے ایک تحریک کی صورت میں اپنی آواز کو نہ دبنے دِیا اور اِسی خون کے قطروں نے آزادی کی شمعیں روشن کیں جس سے آزادی کے متوالوں کے سینے منور ہوئے اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا اور اِس سے دوسری شمعیں فروزاں ہوتی رہیں اور 1947 میں آزادی کی جدوجہد اِس طرح کامیاب ہوئی کہ ایک آزاد وطن پاکستان کے نام سے وجود میں آ گیا۔قصہ خوانی بازار جو کل تک انگریز کی راجدھانی میں تھا آج آزاد سبز جھنڈے کی سرزمین کا قصہ خوانی بازار بن گیا تھالیکن تاریخ کی آنکھ صاف دیکھ رہی ہے کہ اِس طلوع ہونے والی صبح آزادی نے 1930ء کے شہیدوں کے لہو سے وضو کیا تھااور آزادی کے لئے صف آراء ہو کے انگریز کو دیس سے نکال چکے تھے۔ لیکن یہی آج یہی آنکھ ہم سے سوال کر رہی ہے کہ اِس عظیم الشان واقعہ کو آنے والی نسلوں تک اُس کے صحیح تناظر میں پیش نہیں کیا گیا۔
لیکن تاریخ کی یہ آنکھ ہم سے آج پوچھ رہی ہے کہ اِس روشن دِن کو آنے والی نسلوں نے کس حد تک یاد رکھا ہے۔ امرتسر میں جلیانوالہ باغ کے معرکہ حریت کو اب تک یاد رکھتے ہوئے آزادی کی شمع آج بھی ایک چراغ کی صورت میں روشن ہے اور اِس چراغ کو امرتسر کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قربانی کو فراموش نہیں کر سکے۔ امرتسر کی یہ روشن شمع ہم سے سوال کر رہی ہے کہ پشاوریوں نے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو کس حد تک یاد رکھا ہے ۔
٢٣ اپریل 1930 کا دِن پشاور کی تاریخ کا ایک ہولناک اور خون آلود دِن تھاجسے تاریخ فراموش نہیں کر سکتی۔ اِس دِن شہر پشاور کا قصہ خوانی بازار ان گنت شہیدوں اور آزادی کے متوالوں کے خون سے لالہ زار ہو گیا تھا انگریزوں نے اِس دِن اتنی گولیاں چلائیں تھیں کہ اُن کے پاس بارود کا اسٹاک ختم ہو گیا تھا ۔ اِس کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا ۔ شہر کے لوگ اپنے شہری علمائوں کی قیادت میں اپنے شہر کو شراب خانوں، جوا خانوں سے پاک کرنا چاہتے تھے اور اُنہوں نے برطانوی حکومت کو Ultimatumدے رکھا تھا کہ 23 اپریل سے باقاعدہ پکٹنگ کا فیصلہ کیا گیا تھا انگریز حکومت نے حفظ ماتقدم کے طور پر خلافت کمیٹی کے 10 آراکین کو پہلے ہی راتوں رات گرفتار کر لیا تھا جن میں علی گل خان، مولانا مفتی عبدالرحیم پوپلزئی، رحیم بخش غزنوی، آغا قاسم جان، غازی عثمان، خان میر ہلالی، لالہ پیڑا خان، اچرن رام گہمنڈی، عبدالرشید صدیقی اور عبدالرحمان رِیا شامل تھے۔ آغا سید لال شاہ کو صبح سویرے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں اللہ بخش برق اور غلام ربانی سیٹھی کو گرفتار کر کے سرکاری گاڑیوں میں کابلی تھانے کی طرف لیجایا گیا۔ راستے میں عوام کا ہجوم بھی اپنے رہنماؤں کو آزاد کروانے کے لئے نکل آیا جو غیض و غضب سے برہم تھا یہ ہجوم رفتہ رفتہ بڑھتا گیا اِس عوامی جلوس میں اِن رہنمائوں کو رہا کروانے کا عزم کر لیا تھا۔ جب حالات نازک ہو گئے تو قیدیوں نے تھانے تک پیدل چلنے کا فیصلہ کر لیا اِس وقت قصہ خوانی بازار اور ملحقہ گلیاں اور کوچے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بن چکا تھا۔ انگریز ڈپٹی کمشنر مٹکاف تھانے میں پہنچ چکا تھا اُسے بتایا گیا کہ ہجوم بپھرا ہوا ہے مگر جلد ہی منتشر ہو جائے گا۔ مگر وہ اقتدار کے نشہ میں چور تھا اِس نے فون بند کر بکتر بند گاڑیاں طلب کر لیں یہ گاڑیاں خیبر بازار کی طرف سے آئیں اور راستے میں اُنہوں نے بے گناہ پشاوریوں کو پہئیوں کے نیچے روند ڈالا یہ لاشیں بھی پڑی تھیں اور عوام کا غم و غصہ بھی دور نہیں ہوا تھا کہ انگریز سپاہیوں نے اشتعال انگیز حرکات شروع کر دیں۔ اِس موقع پر پہلوان عبدالرحمان نے قریب ٹال سے کلہاڑی اُٹھا کر انگریز افسر کے سر کو نشانہ بنایا۔ علاؤ الدین نامی چائے فروش نے تیل کا کنستر اُٹھا کر بکتر بند گاڑیوں پر ڈالنا شروع کر دیا اِس کے بعد بازار کی عمارتوں سے اینٹوں کی بارش شروع ہو گئی ،اور پھر کیا تھا کہ گولیاں چلنے لگی۔ پہلے گورکھا پلٹن کو گولی چلانے کا حکم دیا گیا اُنہوں نے انکار کیا تو پھر انگریز سپاہیوں کو فائرنگ کا حکم دیاگیا۔ بکتر بند گاڑیوں سے اِس قدر بارود نہتے شہریوں پر برسایا گیا کہ اُس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی اتنی لاشیں گریں کہ اُن کا شمار کرنا مشکل تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ٣٠٠۔٤٠٠ تک بیان کی جاتی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال زخمیوں سے بھر چکا تھا۔
حریت آزادی کا یہ دِن عظیم الشان قربانیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ہمارے صوبے میں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں اِس جیسا واقعہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اِن شہداء کی ایک یادگار قصہ خوانی بازار کے عاشق حسین بقال نے اِس جگہ قائم کر دی تھی پھر انگریز حکومت نے اُس کو گرفتار کیا اور زبردستی مجبور کیا کہ اِس یادگار کو وہ اپنے ہاتھوں سے خود توڑے۔ کچھ ہی عرصے بعد حریت کے متوالوں نے اِسی جگہ شہداء کی یادگاریں دوبارہ قائم کر دیں۔ ہر سال یہاں ٢٣ اپریل کے دِن پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ پہلے پہل یہاں ایک ہی یادگار تھی پھر کچھ عرصے بعد ایک کی بجائے دو یادگاریں قائم کی گئیں ایک یادگار کا رنگ سُرخ اور دوسری کا سبز تھا۔ یعنی سرخ پوش اور مسلم لیگی دونوں اِن یادگاروں کو اپنی یادگاریں سمجھتے تھے۔ پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ اِن دونوں رنگوں کو ہٹا کر اِنہیں سفید سنگ مرمر سے سفید بنا دیا گیا۔ یہ کام بھی پشاور کے ایک میئرسعید احمد جان نے انجام دِیا اور یہ درست ہی ہوا کہ یہ جدوجہد آزادی کی قربانی، نہ سرخ تھی نہ سبز بلکہ سفید پوش پشاوریوں کی سفید براق عوامی اور انقلابی تحریک تھی۔
حقیقت میں سرخ، سفیداور سبز رنگوں کے اختلاف سے کچھ فرق نہیں پڑتا اصل بات یہ ہے کہ حریت کی اِس تاریخ کو آنے والی نسلوں کو صحیح طریقے سے اصل حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے اور اِس جدوجہد پر پڑے ہوئے دبیز پرودوں کو ہٹایا جائے اور تاریخ کے ریکارڈ سے اِن حقیقتوں کو تحقیق کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے۔ ہمارے تحقیقی ادارے جدوجہد آزادی کے اِس روشن باب کو اپنی تحقیقوں کا موضوع بنائے اور طلباء کو اِس طرف راغب کریں کہ وہ اِس موضوع پر تحقیق کر کے مقالے اور تحقیقی کتب شائع کریں۔ جو قوم اپنے درخشاں ماضی کو فراموش کر دیتی ہے اُس کا حال اور مستقبل مخدوش ہونے لگتا ہے ۔ اب یہ ہمارے ظرف پہ ہے کہ ہم قصہ خوانی گولی کے واقع کو جلیانوالے باغ کی گولی کی طرح روشن رکھتے ہیں جنہوں نے برطانوی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ اُس سے جلیانوالے باغ پر ہونے والے مظالم کی معافی مانگے۔ اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ پشاور کی عوام بھی قصہ خوانی گولی کی حقیقت اور اُس کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے تاج باطانیہ کو مجبور کرے کہ وہ اُس قصہ خوانی کی گولی کے حوالے سے ہونے والے مظالم کی معافی پشاور کی عوام سے مانگے۔ کہ اِس طرح ہم اُمید کرتے ہیں کہ شہیدوں کی روح ہم سے خوش ہو گی اور ہمارا بھی مستقبل تابناک ہوگا اور یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے صوبے کی درسگاہوں میں باقی لوگوں کی تاریخیں تو بیان کی جاتی ہیں لیکن بہادر پشاوریوں کی حریت کی اِس جدوجہد کو تعلیمی نصاب سے یکسر خالی کر دیا گیا ہے۔ تاریخی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پشاور کی گلیوں میں اُٹھنے والی اِس تحریک نے آزادی کے متوالوں کو آزادی کا راستہ بتایا اور اِس واقعہ کے سترہ (17) سال بعد قصہ خوانی میں شہیدوں کی یادگار انگریزی استبداد سے آزاد ہو گئی لیکن پاکستان کو بنے ہوئے 77 سالوں بعد بھی آزادی کے اِس روشن مینار سے ہم نے اپنے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اِن سینکڑوں شہیدوں کی روحیں آج ہم سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ آپ آج تک ہماری جدوجہد سے ناواقف ہیں اپنی آنکھیں اور اپنے دِل کی آنکھیں کھولیں تا کہ آپ کو بھی آزادی کے مفہوم سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے۔

08/04/2024
گندھارا ہندکو بورڈ پشاور دے تحت صوبائی محتسب محترمہ رخشندہ ناز صاحبہ دی صدارت اچ خواتین دے عالمی دن 08 مارچ دے حوالے نال...
08/03/2024

گندھارا ہندکو بورڈ پشاور دے تحت صوبائی محتسب محترمہ رخشندہ ناز صاحبہ دی صدارت اچ خواتین دے عالمی دن 08 مارچ دے حوالے نال تقریب منعقد ہوئی جس اچ اسلام آباد سی تشریف لیانڑے والی مشہور ماہر تعلیم محترمہ پروفیسر وحیدہ ملک نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کیتی جد کہ پروفیسر رخشاں انجم تے میمونہ پروین صیبہ دے علاوہ دیگر معزز مہمانان گرامی بی شامل ائے.

گندھارا ہندکو بورڈ پشاور دے تحت ہر سال دی طراں اس سال بی تریمتاں دے عالمی دِن دے حوالے نال گندھارا ہندکو اکیڈمی واقع 4A ...
06/03/2024

گندھارا ہندکو بورڈ پشاور دے تحت ہر سال دی طراں اس سال بی تریمتاں دے عالمی دِن دے حوالے نال
گندھارا ہندکو اکیڈمی واقع 4A ریلوے روڈ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور اچ 08 مارچ 2024 (بروز جمعہ) سہ پہر 04 وجے''تریمتاں نوں وسائل دی فراہمی ترقی دی ضمانت'' دے عنوان نال ہِک تقریب دا اہتمام کیتا گیا وے جس دی صدارت محترمہ رخشندہ ناز کر سُن جد کہ مہمانِ خصوصی محترمہ وحیدہ ملک ہو سُن، توانوں اس تقریب شرکت دی خصوصی دعوت اے۔

راہواں تکدے :
محمد ضیاء الدین
جنرل سیکریٹری،
گندھارا ہندکو بورڈ پشاور

دوستی پشاور لٹریچر فیسٹیول دے تحت گندھارا ہندکو اکیڈمی دے چیف ایگزیکٹیو کمیٹی محمد ضیاء الدین ہونڑاں نال ہک شام دا اہتما...
01/03/2024

دوستی پشاور لٹریچر فیسٹیول دے تحت گندھارا ہندکو اکیڈمی دے چیف ایگزیکٹیو کمیٹی محمد ضیاء الدین ہونڑاں نال ہک شام دا اہتمام

اقبال اکیڈمی پاکستان دے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی دا گندھارا ہندکو اکیڈمی پشاور دا دورہ تے اکیڈمی دے چیف ایگزیکٹیو ...
29/02/2024

اقبال اکیڈمی پاکستان دے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی دا گندھارا ہندکو اکیڈمی پشاور دا دورہ تے اکیڈمی دے چیف ایگزیکٹیو کمیٹی محمد ضیاء الدین ہونڑاں نال ملاقات، دوواں اداریآں دے درمیان اقبالیات دے حوالے نال پاکستانی زباناں دی ترویج و ترقی دے پیش نظر مفاہمتی یادداشتاں تے دستخط. اس موقع تے جائنٹ سیکرٹری جی ایچ بی احمد ندیم اعوان، پروفیسر حامد رحمان تے دیگر معزز شرکاء بی موجود ائے.

گندھارا ہندکو ادبی اکٹھ اجلاس  #682 گندھارا کتاب کہانی- غزلاں نظماں تیرے نام از احمد ندیم اعوان صدارت : سہیل انجمبتاریخ ...
05/12/2023

گندھارا ہندکو ادبی اکٹھ
اجلاس #682
گندھارا کتاب کہانی- غزلاں نظماں تیرے نام از احمد ندیم اعوان
صدارت : سہیل انجم
بتاریخ : 01 دسمبر 2023ء
شرکاء : احمد ندیم اعوان، سعید پارس، سکندر حیات سکندر، وسیم شاہد، سید تنویر کاظمی، محمد نواز صابر ، پروفیسر سید حامد محمود، کفایت رحمان صدیقی ، جمال ناصر جلوی، میر قمر زمان، علی اویس خیال.

Address

4 Railway Road, Abdara, University Town Peshawar
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:30
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

0919216223

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gandhara Hindko Board posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gandhara Hindko Board:

Share