22/10/2024
اقوام متحدہ اور انٹرنینشل کورٹ آف جسٹس نے حکومت اور اسٹیبلشمنت کی 26ویں ترامیم کو غیرقانونی، غیرآہینی، عدلیہ کی آزادی پر شب خون مارنا، 24 گھنٹوں میں سینٹ، پارلیمنٹ سے منظورکروانا، صدر سے دستخط کروانا، ااہینی ٹریبیونل بنانا، ججز کی تقریری، خاص طو پر چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار، جس میں پارلیمنٹ کے فارم 47 کے لوگوں سے ججز کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا اور انسانی حقوق کے متضاد قرار دیتے ہوئے ریجکٹ کردیا
اسے ICCPR کے قوانین اور انٹرنینشل قوانین آرٹیکل 14 اور پاکستان کے قانون کے آرٹیکل 10 اے کے متضاد قرار دیتے ہوے سیاسی ترمیم قرار دے دیا۔