14/06/2026
عوام کی 7 فیصد تنخواہ اور اشرافیہ کی پانچ سو فیصد عیاشی: یہ بجٹ ہے یا مذاق؟
جب ریاست اپنے ملازمین کو مہنگائی کے طوفان میں صرف سات فیصد کا سہارا دے اور خود اپنے لیے ساڑھے پانچ سو فیصد کا اضافہ منظور کر لے، تو اسے معاشی مجبوریاں نہیں، بلکہ ترجیحات کا دیوالیہ پن کہتے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کا بجٹ سامنے آتے ہی ایک ایسا موازنہ منظرِ عام پر آیا ہے جس نے ہر درمیانے اور غریب طبقے کے پاکستانی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف ملک کا وہ تنخواہ دار طبقہ ہے جو صبح سے شام تک خون پسینہ بہاتا ہے، اور دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جو پہلے ہی مراعات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
موجودہ حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کا جو تقابلی جائزہ سامنے آیا ہے، وہ ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ جہاں ایک عام سرکاری ملازم کی تنخواہ میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر یعنی صرف 7 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے، وہیں قومی اسمبلی کے سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں بیک وقت 535 فیصد کا ناقابلِ یقین اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ تضاد یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں تقریباً 140 فیصد اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے ارکان کی تنخواہوں میں 138 فیصد کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس ملک میں مہنگائی کا اثر صرف عام سرکاری ملازم پر ہوتا ہے؟ کیا آٹا، دال، چینی اور بجلی کے بل صرف ایک چھوٹے ملازم کے لیے مہنگے ہوتے ہیں؟ جب ایک عام شہری دکان پر جاتا ہے تو اسے کوئی رعایت نہیں ملتی، لیکن جب مراعات یافتہ طبقے کی باری آتی ہے تو خزانے کے منہ کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں ہے، بلکہ یہ اس سوچ کا عکاس ہے جو غریب اور امیر کے درمیان خلیج کو مسلسل وسیع کر رہی ہے۔
عوامی حلقوں اور معاشی ماہرین کی رپورٹ پر مبنی یہ حقائق بتاتے ہیں کہ منتخب نمائندوں اور عام سرکاری ملازمین کے مابین یہ تفریق اب برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور سب کو قربانی دینی ہے، تو اس قربانی کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے تھا، نہ کہ نیچے بیٹھے ہوئے غریب ملازم کا گلا گھونٹ کر۔
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد خاموش مت رہیے، اپنی رائے کا اظہار کیجئے کہ کیا یہ فیصلہ آپ کو درست لگتا ہے؟ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ آگے پہنچائیں تاکہ یہ آواز ان ایوانوں تک پہنچے جہاں بیٹھ کر یہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اپنی وال پر شیئر ضرور کریں تاکہ سب کو معلوم ہو سکے کہ بجٹ کی اصل حقیقت کیا ہے۔