KPK Updates

KPK Updates This page z about Community welfare to create awareness & facilitate the ppl. This page work without any political affiliation & works for D betterment of ppl.

about(Online skills, NIC-related issues, Ehsas, BISP, Passport, Scholarships, Local govt etc). یہ صفحہ کمیونٹی ویلفیئر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور لوگوں کو حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات جیسے (آن لائن نادرا، احساس، اسکالرشپس، بی آئی ایس پی، پاسپورٹ، برتھ سرٹیفکیٹ، اور لوکل گورنمنٹ) کے پی کے کے بارے میں ہے۔ یہ صفحہ بغیر کسی سیاسی وابستگی کے کام کرتا ہے اور کمیونٹی کے لوگوں کی بہتری کے لیے ک

ام کرتا ہے۔ کے پی سے کوئی بھی شخص بغیر کسی سیاسی/جنسی/مذہبی وابستگی کے اس میں شامل ہو سکتا ہے اور اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

10/06/2025
‏ریسرچ کے مطابق آج کل ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ اپنے اردگرد کے احمقوں سے نمٹنا ہے -ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ” آپ ات...
01/09/2024

‏ریسرچ کے مطابق آج کل ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ اپنے اردگرد کے احمقوں سے نمٹنا ہے -
ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ” آپ اتنے خوش کیسے رہتے ہیں ۔“
اُس نے کہا :”میں بیوقوف لوگوں سے بحث نہیں کرتا۔“
پوچھا ”پھر کیا کہتے ہیں ؟“
دانا شخص بولا میں انہیں جواب دیتا ہوں
‏کہ ” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“

پوچھنے والے نے کہا:”پھر بھی اپنی بات یا اپنا موقف منوانے کےلئے اسے قائل کرنے کے لئے آپ کو اسے کوئی دلیل کوئی جواز تو دینا چاہیے ۔“
اس پر اُس دانا شخص نے پوچھنے والے کو تاریخی جواب دیا ۔

”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں “ ....
منقول

یہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں چیک کیے گئے دودھ کے نتائج ہیں۔ بنوں اور ڈی آئی خان کے 100 فیصد سیمپلز ملاوٹ زدہ ہیں۔ ...
28/07/2024

یہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں چیک کیے گئے دودھ کے نتائج ہیں۔ بنوں اور ڈی آئی خان کے 100 فیصد سیمپلز ملاوٹ زدہ ہیں۔ پشاور اور مالاکنڈ میں 90 فیصد سے زیادہ دودھ ملاوٹ والا ہے۔ مردان، کوہاٹ اور ہزارہ ڈویژن میں 80 فیصد سے زیادہ دودھ ملاوٹ زدہ ہے ۔

Islam Zinda hotha Hai har Karbala k baad
26/07/2024

Islam Zinda hotha Hai har Karbala k baad

دیر آئے درست آئے: دیر آئے درست آئے کا محاورہ بالکل قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کی حالیہ تبدیلی کو بیان کرتا ہے۔ پہلی ب...
26/07/2024

دیر آئے درست آئے:
دیر آئے درست آئے کا محاورہ بالکل قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کی حالیہ تبدیلی کو بیان کرتا ہے۔ پہلی بار، میں نے کیو ڈبلیو پی کو ریاست کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا اور "یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے" کا طاقتور نعرہ سنا۔ یہ نعرہ جس کا ترجمہ "یہ دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے" ہے، میں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ میں قومی وطن پارٹی کے منشور میں اس نمایاں تبدیلی کی تعریف کرتا ہوں، اگرچہ مجھے لگتا ہے کہ انہیں یہ مؤقف پہلے اپنانا چاہیے تھا۔ تاہم، یہ ایک مثبت قدم ہے۔
کیو ڈبلیو پی کی ریاست کے ساتھ قربت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ پارٹی کے رہنما آفتاب شیرپاؤ نے اپنے لوگوں کی خدمت میں قابل ذکر کام کیے ہیں۔ اپنے دور میں انہوں نے کئی فائدہ مند منصوبے نافذ کیے۔ تاہم، یہ سچ ہے کہ انہوں نے پہلے کبھی ریاست کے خلاف سیاست نہیں کی۔ موجودہ مؤقف ان کی سیاسی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایک سیاسی رہنما ہونے کے ناطے، آپ کا ماضی آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آفتاب شیرپاؤ نے آمر پرویز مشرف کی کابینہ میں خدمات انجام دیں اور بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کے قتل کے وقت وہ وزیر داخلہ تھے۔ اس تاریخی سیاق و سباق میں شیرپاؤ کی موجودہ پوزیشن کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس کے باوجود، مجھے یقین ہے کہ کیو ڈبلیو پی کا یہ اقدام قابل تحسین ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
تاریخی طور پر، پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور ریاستی مشینری کے درمیان تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔ بہت سی جماعتوں نے گہرے ریاست کے ساتھ تعاون اور تصادم کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھا ہے، جو فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ کیو ڈبلیو پی کی تبدیلی ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاسی ادارے بڑھتی ہوئی تعداد میں فوجی مداخلتوں کو چیلنج کر رہے ہیں.
خیبر پختونخواہ میں، یہ نعرہ موجودہ جذبات کے مطابق ہے۔ ہر سیاستدان جانتا ہے کہ عوام اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعروں اور سولین بالادستی کے بیان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ شاید لوگوں میں پارٹی کی مقبولیت اور استحکام کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
یہ اہم ہے کہ اس نعرے کا سہرا منظور پشتین کو جاتا ہے، جنہوں نے بہادری سے ریاست کے غلط پالیسی خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی۔ وہ واقعی ایک بہادر آدمی ہیں۔

18/07/2024

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کیلئے برفانی جھیل کے آؤٹ برسٹ فلڈ کا الرٹ جاری

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور 23 جولائی 2024 تک موسلادھار بارش سے مقامی دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے جس سے لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔

اج فضل حکیم کا انٹرویو دیکھ لیا سوچا ہم بھی اس میں کچھ ایڈ کریں۔صحیح کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ٹیلنٹ اور کیریئر ضائع کرنے ک...
02/07/2024

اج فضل حکیم کا انٹرویو دیکھ لیا سوچا ہم بھی اس میں کچھ ایڈ کریں۔صحیح کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ٹیلنٹ اور کیریئر ضائع کرنے کی بہترین جگہ ہے۔ایک طرف فضل حکیم جس کو کلائمیٹ چینج کے سی(C) کا نہیں پتہ۔اور وہ پھر بھی کلائمیٹ چینج کا منسٹر بن جاتا ہے اور دوسری طرف اپنے قسمت پہ رونا اتا ہے۔ڈزاسٹر مینجمنٹ میں ماسٹر اورایم فیل کرکے بھی پھر بھی پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کر رہے ہیں ۔
میرے بہت سارے قابل دوست جنہوں نے ماسٹر کیا ہے ایم فل کیا ہے یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور پھر بھی ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ ان کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل جائے گی یا نھیں۔
اور وہ بیچارے کسے غیر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب کر رہے ہیں جاب تو سب کو مل جاتی ہے لیکن سب کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ جس سبجیکٹ کو اپ نے پڑھا ھو اس کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل جائے ہیں فضل حکیم جیسے لوگ خوش قسمت ہیں۔یہاں تک کہ میرے پروفیسر جن کے سو 100, 50 ,50 یہ اس سے زیادہ ریسرچ پیپر پبلش ہوئی ہے کلائمیٹ چینج(Climate Chang) پہ, فلڈ(Flood vulnerability پہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management) پہ۔اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ بھی کبھی اس قابل ہو. اس بد قسمت ملک کے حکمران (واکدارا )کے قابل نہیں سمجھتے ہیں .
خیر ایک فضل حکیم ہے ہی نہیں کیونکہ وہ ایک سیاسی بندہ ہے اس لیے ہم سب کو وہ دکھائی دے رہا ہے
یہاں این ڈی می کی (NDMA) چیئرمین اور پی ڈی میں(PDMA) چیئر مین
پہ کوئی بات نہیں کرے گا اور نہ اس کی کوئی اہلیت جاننا چاہے گا ۔جس طرح فضل حکیم کلائمیٹ چینج کے منسٹر کے قابل نہیں ہے اسی طرح این ڈی میں اے پی ڈی میں کی جتنے بھی چیئرمین ہے یا جو بھی ریٹائر یا حاضر سروس آرمی جرنل اس کو چلا رہے ہیں اور اپنی من مانیا کر رہے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب و یار دوستو, افس کولیگ, یہاں تک کہ اپنے ماتحت چاپلوسو کو بھی انہیں ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی کروا رہے ہیں کوئی نہیں پوچھے گا نہ کوئی پوچھ سکتا ہے۔ہاں صرف ایک لوگ پوچھ سکتے ہیں اور وہ غدار ہی ہوں گے۔ قسم سے مجھے ان غداروں سے بہت محبت ہے.
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ مسٹر جناح نے ہمیں ازاد نہیں غلام بنایا ہم انگریز سےازادی لے کر اس ملک کے سرمایہ دار اور جرنیل کے غلام بنائے گئے، ازاد تو وہ لوگ ہیں جو یہاں پہ جھاں چاہے جدھر چاہے جو چاہے جب چاہے کر سکتے ہو ہمیںیا تو ان کا آلہ کار بننا ہوگا۔یا اپنی حقوق کے لیے غدار بننا پڑے گا۔پر دونوں صورتوں میں ازادی ممکن نہیں ہے
محمد قاسم۔۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPK Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to KPK Updates:

Share