02/07/2024
اج فضل حکیم کا انٹرویو دیکھ لیا سوچا ہم بھی اس میں کچھ ایڈ کریں۔صحیح کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ٹیلنٹ اور کیریئر ضائع کرنے کی بہترین جگہ ہے۔ایک طرف فضل حکیم جس کو کلائمیٹ چینج کے سی(C) کا نہیں پتہ۔اور وہ پھر بھی کلائمیٹ چینج کا منسٹر بن جاتا ہے اور دوسری طرف اپنے قسمت پہ رونا اتا ہے۔ڈزاسٹر مینجمنٹ میں ماسٹر اورایم فیل کرکے بھی پھر بھی پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کر رہے ہیں ۔
میرے بہت سارے قابل دوست جنہوں نے ماسٹر کیا ہے ایم فل کیا ہے یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور پھر بھی ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ ان کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل جائے گی یا نھیں۔
اور وہ بیچارے کسے غیر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب کر رہے ہیں جاب تو سب کو مل جاتی ہے لیکن سب کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ جس سبجیکٹ کو اپ نے پڑھا ھو اس کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل جائے ہیں فضل حکیم جیسے لوگ خوش قسمت ہیں۔یہاں تک کہ میرے پروفیسر جن کے سو 100, 50 ,50 یہ اس سے زیادہ ریسرچ پیپر پبلش ہوئی ہے کلائمیٹ چینج(Climate Chang) پہ, فلڈ(Flood vulnerability پہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management) پہ۔اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ بھی کبھی اس قابل ہو. اس بد قسمت ملک کے حکمران (واکدارا )کے قابل نہیں سمجھتے ہیں .
خیر ایک فضل حکیم ہے ہی نہیں کیونکہ وہ ایک سیاسی بندہ ہے اس لیے ہم سب کو وہ دکھائی دے رہا ہے
یہاں این ڈی می کی (NDMA) چیئرمین اور پی ڈی میں(PDMA) چیئر مین
پہ کوئی بات نہیں کرے گا اور نہ اس کی کوئی اہلیت جاننا چاہے گا ۔جس طرح فضل حکیم کلائمیٹ چینج کے منسٹر کے قابل نہیں ہے اسی طرح این ڈی میں اے پی ڈی میں کی جتنے بھی چیئرمین ہے یا جو بھی ریٹائر یا حاضر سروس آرمی جرنل اس کو چلا رہے ہیں اور اپنی من مانیا کر رہے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب و یار دوستو, افس کولیگ, یہاں تک کہ اپنے ماتحت چاپلوسو کو بھی انہیں ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی کروا رہے ہیں کوئی نہیں پوچھے گا نہ کوئی پوچھ سکتا ہے۔ہاں صرف ایک لوگ پوچھ سکتے ہیں اور وہ غدار ہی ہوں گے۔ قسم سے مجھے ان غداروں سے بہت محبت ہے.
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ مسٹر جناح نے ہمیں ازاد نہیں غلام بنایا ہم انگریز سےازادی لے کر اس ملک کے سرمایہ دار اور جرنیل کے غلام بنائے گئے، ازاد تو وہ لوگ ہیں جو یہاں پہ جھاں چاہے جدھر چاہے جو چاہے جب چاہے کر سکتے ہو ہمیںیا تو ان کا آلہ کار بننا ہوگا۔یا اپنی حقوق کے لیے غدار بننا پڑے گا۔پر دونوں صورتوں میں ازادی ممکن نہیں ہے
محمد قاسم۔۔