05/05/2026
خلیل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے تعزیتی بیان
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ افسوسناک خبر سامنے آئی کہ پختونخوا کے جید عالمِ دین، شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ سانحہ نہ صرف ان کے خاندان اور شاگردوں کے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پختونخوا کے عوام کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔
ہم اس اندوہناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت، بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل کی ایک خطرناک کڑی سمجھتے ہیں۔ علماء کرام اس معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا اہم ستون ہیں، اور ان کو نشانہ بنانا دراصل امن، علم اور اعتدال پر حملہ ہے۔
بدقسمتی سے پشتون بیلٹ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ افراد، بالخصوص علماء کرام کی مسلسل شہادتیں ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری کو مزید بڑھا دیا ہے کہ وہ اس سلسلے کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
خلیل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
- اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں
- ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
- علماء کرام اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
- پشتون بیلٹ میں امن و امان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
ہم مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
میڈیا سیل خلیل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یونیورسٹی آف پشاور