09/03/2024
سینیٹ کے اجلاس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ایشو اٹھانے پر سینیٹر اسحاق ڈار نے جواب میں کہا تھا کہ ہمیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے جو آپشنز اور سیاسی راستے موجود ہیں کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ دوسرے دن میں نے وزیراعظم شہباز شریف اور سینیٹراسحاق ڈار کے نام الگ الگ خطوط میں انکو یہ قانونی سیاسی آپشنز(راستے) بتا دیئے۔ یہ خط میں نے براہ راست اسحاق ڈار کے حوالے کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط بھی ان کے حوالے کیا نیز براہ راست بھی وزیراعظم کو خطا لکھ کر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے جو چار قانونی سیاسی راستے ہیں بتا دیئے۔
1. حکومت پاکستان اخلاص کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کی وکیل / مدعی بن جائے۔
2. ریاستی سطح پر ججمنٹ ریویو کے آپشن ماہر وکلاء کے ذریعے اختیار کرے۔
3. ڈاکٹر عافیہ کے 15 سالہ میڈیکل ریکارڈ حاصل کر کے انسانی ہمدردی (compassionate grounds) پر ریلیف اور رہائی کا مطالبہ کرے۔
4. امریکی صدر سے رحم کی اپیل (clemency petition) کرے۔
5. پاکستان امریکہ باہمی ریاستی معاملات میں مفادات کا تبادلہ (Swap of interests) میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیح اول بنائے۔ نیز حکومت فوری طور پر موجودہ امریکی انتظامیہ سے رابطہ کر کے ڈاکٹر عافیہ کو موجودہ بد نام زمانہ جیل سے کسی مناسب جگہ منتقل کرنے کے انتظامات کرے۔
میں اپریل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملنے اور انکی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے پھر امریکہ جا رہا ہوں، ان شاءاللہ۔میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان مدعی بنے اور ان چار آپشنز پر عمل کر کے جلد از جلد ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان آ سکتی ہے۔ حکومت فوری طور پر ان کو بدنام زمانہ جیل FMC Carswell سے کسی دوسری جیل میں منتقل کرے۔
Mushtaq Ahmad Khan کی وال سےکاپی