KPPLA Press Official

KPPLA Press Official This is the official page of College Teachers Movement (CTM) Khyber Pakhtoonkhwa Press

سب کو بہت بہت مبارکباد۔CTM KP
03/12/2025

سب کو بہت بہت مبارکباد۔
CTM KP

03/12/2025

کئی دوستوں نے نومبر کے مہینے کی پے سلپ بھیج دئے گریڈ 20 والوں سے 20 اور 30 ہزار جبکہ گریڈ 19 والوں سے 15 سے 20 ہزار ٹیکس کاٹا گیا ہے۔ گریڈ 18 اور 17 سے 8 اور 15 ہزار کے درمیان۔۔

ستم بالائے ستم یہ کہ نمائندہ تنظیموں کو بھی گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔ کوئی پوچھنے اور بولنے والا نہیں۔ فیسبک اور اخباری بیان تک دینے سے قاصر ہیں ہمارے لیڈران و سربراہان۔

میرا تو مشورہ ہے کہ اگیگا اور کپلا کو سخت پیغام دینا چاہئے۔ اگر یہ اسلام آباد کی کارستانی ہو تو پھر بلا جھجھک اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا چاہئے۔ کب تک سرکاری ملازمین اور خصوصاً ٹیچنگ کمیونٹی پر یہ بم برسائے جائیں گے۔۔

(جمشیدخان چیئرمین کالج ٹیچرز موومنٹ)

02/12/2025

کالج ٹیچنگ فیکلٹی کی معزز برادری کے مقاصد، حقوق اور مفادات کو میں نے ہمیشہ مقدم رکھا۔ کے۔ڈی۔ایف۔ کے ساتھ شدید تر اختلافات کے باوجود محترم جناب پروفیسر عبدالحمید افریدی صاحب کو ڈاریکٹوریٹ اور کئی پرنسپل کے ذریعے جتوانے کے باوجود بھی کمیونٹی کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کبھی انہیں متنازعہ نہیں بنایا۔ اور پہلے ہی دن سے صدر تسلیم کیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ کالج آوٹ سورسنگ اور سروس رولز میں ناجائز تبدیلی کے خلاف جب بھی محترم صدر صاحب نے مجھ سے تعاون مانگا تو میں اپنی پوری CTM کے ساتھ حاضر ہوا اور اپنی انتہائی خدمات پیش کیں اور ایسا کرتا رہوں گا۔۔۔

کل انہوں نے تقریباً آدھے گھنٹے کے الٹی میٹم پر ہنگامی میٹنگ بلائی تو میں بروقت حاضر ہوا اور سو فیصد اتفاق رائے سے احتجاج کا فیصلہ ہوا۔ آج صبح میں کسی ایمرجنسی کے پیش نظر دیر تیمرگرہ کے لئے روانہ ہوا۔ تھوڑی دیر پہلے جناب صدر صاحب کی کال آئی اور مجھے سیول سیکرٹریٹ پشاور کے حالات کے بارے میں مطلع کر کے مجھ سے مشورہ مانگا۔ سخت مصروفیت کے باوجود میں سائیڈ پہ ہو کر ان کے ساتھ مفصل بات کی اور ایک بار پھر کمیونٹی کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر خیر کا مشورہ دیا۔ ہاں یہ ضرور کہا کہ کہیں ہم حکومت کی طرف سے دھوکے میں نہ آ جائیں۔۔

یہاں میں ایک لازمی اور اہم نکتے کی وضاحت کرتا چلوں کہ ان دنوں ہمارے ہائیرایجوکیشن کے ڈاریکٹوریٹ کے چند آفیسرز انتہائی منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی ڈاریکٹوریٹ کے دو معزز آفیسرز کو سروس رولز میں ناجائز ترامیم کا خوب علم تھا بلکہ یہ انہوں نے سروس رولز ترامیم کا ورکنگ پیپر بھی خود تیار کرنے میں کردار ادا کیا۔ میں کمیونٹی کے تعاون سے ڈاریکٹوریٹ اف ہائیرایجوکیشن ایجوکیشن

کو ان تمام نا انصافیوں کا سخت جواب دوں گا۔ ڈاریکٹوریٹ کا ایک سیکشن صرف اس کام کے لئے تشریف فرما ہے کہ کہاں کہاں پہ سینئر پروفیسرز اور پرنسپلز کو بے عزت کر کے ان کے اوپر کن کن جونیئرز کو بٹھانا ہے۔ کس کس اہم اور ضروری انکوائریوں کو دبا کر کون کونسی غیر اہم انکوائریوں کو شروع کرنا ہے۔ کس کو بے عزت کرنا ہے اور کس کو تاج پہنانا ہے۔ یہ چند آفیسرز بس اسی کام کے لئے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ ان کا ٹینیور بہت عرصہ پہلے مکمل ہو چکا ہے۔ مختلف کالجز کے دورے کر کے دس اور بیس گنا TA DA بل بنانے کے حوالے سے بھی میں عنقریب پوری کمیونٹی کو آگاہ کروں گا۔۔

بس میں آخر میں کپلا قیادت اور محترم صدر صاحب سے گزارش کروں گا کہ آپ اس معاملے میں درمیان میں مت کودئے گا۔ ہاں کمیونٹی کی عزت، وقار، حقوق و مفادات کے لئے ہم آپ کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے۔ میں عنقریب تمام ثبوتوں کے ساتھ پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے سب کچھ سامنے لاوں گا ان شاءاللہ۔

جمشیدخان چیئرمین کالج ٹیچرز موومنٹ
و سابقہ صدر خیبرپختونخوا پروفیسر،
لیکچررز اینڈ لائبریرینز ایسوسی ایشن

ایک مجرم کو ڈائریکٹر  ہائیرایجوکیشن نے کلین چٹ دیکر 12 ہزار کمیونٹی کو رسوا کیا۔ حساب لیں گے انشاءاللہ
21/11/2025

ایک مجرم کو ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن نے کلین چٹ دیکر 12 ہزار کمیونٹی کو رسوا کیا۔ حساب لیں گے انشاءاللہ

20/11/2025

' ایم۔فل۔۔۔۔پی۔ایچ۔ڈی۔۔۔ الاونس کیسز
حکومت کی تعلیم دشمن سوچ اور ہماری بے بسی
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے یہ شوشہ چھوڑا کہ ایم۔فل۔۔۔پی۔ایچ۔ڈی۔۔ الاونسز کے لئے ہم نئی پالیسی لائیں گے اور مستقبل کے لئے الاونسز اس پالیسی کی بنیاد پر لگا دئے جائیں۔ اس بہانے کے سائے تلے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے تقریباً ڈیڑھ تک ہمارے کالجز کے 500 میل و فی میل ٹیچنگ فیکلٹی ممبرز کے کیسز کو لٹکائے رکھا۔۔

آخر کار دو تین مہینے پہلے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے اگر چہ نئی پالیسی بنائی لیکن ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعطل کا شکار پرانے 500 کیسز پر بھی نئی پالیسی کا اطلاق کر کے سب کے سب ڈیپارٹمنٹ کو واپس کر دئے۔ ان فائلوں میں سے بہت سی فائلیں گم ہو گئیں جن کا اتہ پتا نہیں۔ انسانی معاشرے میں زندگی گزارنے کے ناطے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام معزز پروفیسرز اور لیکچرارز کو ان کے ایم۔فل۔۔۔۔اور۔۔۔پی۔ایچ۔ڈی۔ ڈیفنس اور ڈگری کے لئے اہل ہونے کے نوٹیفیکیشن سے الاونسز کو جاری کر دیا جاتا لیکن فنانس ڈیپارٹمنٹ نے تعلیم دشمنی اور قارون کی خود پسندی اور پیسہ پرستی کی سنت زندہ کرکے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں تعلیم کا حصول اور تحقیق کے میدان میں کوششیں سب سے بڑا ظلم ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مہذب انسانوں کے معاشروں میں نئے قانون کا اطلاق اس دن سے ہوتا ہے جس دن یہ قانون بن جائے لیکن فنانس ڈیپارٹمنٹ نے تنگ نظری، جہالت اور تعلیم دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے دو سالا پرانے کیسز پر بھی اس کا اطلاق کیا۔۔۔

ستم بالائے ستم یہ کہ اب جو بندہ ڈیفینس کے بعد 1 سال کے اندر الاونس کے لئے اپلائی نہ کرے وہ تا حیات اس حق سے محروم کر دیا جائیگا۔۔
ان جابرانہ اور ظالمانہ فیصلوں نے نہ صرف کالج سیکٹر کے 12 ہزار پروفیسرز, لیکچررز اور لائبریرینز کو مایوسی کی تاریکیوں میں دھکیلا ہے بلکہ نوجوان نسل کو تعلیم کے حصول کے بجائے نشئی اور معاشرے کے لئے ناسور بننے کی ترغیب دی ہے۔ دوسری طرف کالج پروفیسرز، لیکچررز اور لائبریرینز کی نمائندہ تنظیم کپلا حکومت کے ہر ناجائز فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لئے 24 گھنٹے تیار کھڑی رہتی ہے۔۔۔

اب بھی وقت ہے کہ کپلا اپنے ان انتہائی تعلیم یافتہ بہن بھائیوں پر رحم کر کے حکومت کے اس غیر دانشمندانہ اور ظالمانہ پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کا اعلان کرے۔ ہم پوری 12 ہزار کمیونٹی اس پر لبیک کہیں گے۔۔۔

Jamshed Khan جمشیدخان
(چیئرمین کالج ٹیچرز موومنٹ)

30/10/2025

انتہائی افسوس بلکہ شرم کی بات ہے کہ کل گورنر سیکرٹریٹ حکومت صوبہ بلوچستان نے سیکرٹری ٹو حکومت صوبہ بلوچستان ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو ایک لیٹر (حکم نامہ) بھیجا ہے کہ گورنر صاحب اس بات کی آرزو اور تمنا رکھتے ہیں کہ صوبہ بلوچستان کے تمام کالجز میں چار سالا BS پروگرام کو بند کر دے۔۔

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں اب بھی گورنر تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ عہدہ وزیر اعلٰی کے پاس ہے۔ پہلے تو مجھے اس خط کے جعلی ہونے کا شک تھا لیکن عین الیقین حاصل کرنے کے لئے اپنے بہت ہی پیارے بھائی اور دوست سابقہ صدر بلوچستان پروفیسر و لیکچررز ایسوسی ایشن محترم جناب پروفیسر طارق بلوچ صاحب کو تقریباً رات 12 بجے واٹس ایپ وائیس کی اور حقیقی صورتحال معلوم کرنے کے لئے درخواست کی۔ اللہ بھلا کرے پیارے طارق بلوچ صاحب کا کہ انہوں نے پورے 7 منٹ کی 1 وائیس نوٹ اور بعد میں کئی وائیس میسیجز کے ذریعے بہت سارے حقائق سے پردہ اٹھا کر بے حد مفید معلومات فراہم کیں اور مجھے اپڈیٹ کر دیا اور فرمایا کہ خط بلکل حقیقی ہے اور بلوچستان کی اشرافیہ اور یونیورسٹیوں کی آنکھوں میں بلوچستان کے کالجز میں کامیاب BS پروگرام ہمیشہ سے کھٹکتا چلا آیا ہے۔

میں اکثر اوقات انتہائی اہم مسائل پر فیسبک پر لکھ لکھ کر سخت تک بھی جاتا ہوں اور اپنے ساتھ وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایک دو ہفتے تک کچھ بھی نہیں لکھوں گا لیکن ناگہانی طور پر پھر کچھ ایسی اہم اور ایمرجنسی چیز نازل ہو جاتی ہے کہ اپنی معزز کمیونٹی، پیارے طلبہ اور مجموعی لحاظ سے پوری سوسائٹی کو اس مسئلے سے آگاہ کرنا بحیثیت پروفیسر اور معمار قوم اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ یہاں ایک بار پھر اپنے معزز قارئین کو 10 منٹ کی زحمت دیکر چند حقائق سے پردہ اٹھا رہا ہوں۔۔

گورنر سیکرٹریٹ صوبہ بلوچستان کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ متذکرہ بالا لیٹر میں انتہائی جھوٹ اور غلط اعداد وہ شمار سے کام لے کر چار سالا BS پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔

صوبہ خیبر پختونخوا کا حوالہ بھی غلط، بے کار اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ پہلے کہا گیا ہے کہ کالجز میں BS کامیاب ہونے سے ریوینیو جنریشن یعنی پیسہ کمانے کا دھندا ماند پڑ گیا ہے۔ دل پر پتھر رکھ کر اس جملے کو 3،4 بار پڑھئے۔۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں تعلیم دینے نہیں بلکہ ناجائز دکان چلانے اور پیسہ بھٹورنے کی غرض سے تعمیر کی گئی ہیں۔۔۔

پھر قلابازی کھا کر کہا ہے کہ کالجز میں BS کی وجہ سے تعلیم کا معیار گر گیا ہے۔ یعنی یہ کوشش کی گئی ہے کہ اگر بلوچستان کے عوام پہلی دلیل سے حیرت زدہ ہو جائیں اور کہیں کہ یہ تو بہت بہتر بلکہ بہترین بات ہے کہ اور ہماری طرف انگلیاں اٹھنے لگیں تو ہم دوسری جھوٹی اور بے بنیاد دلیل سے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں متشکک بنانے کی کوشش کریں گے۔۔۔

تیسری جھوٹی اور بے بنیاد دلیل یہ دی ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی کالجز سے BS ختم کرکے دوسالہ AD اور ADS پروگرام شروع کیا ہے۔

اب صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام، ٹیچنگ فیکلٹی، والدین اور طلبہ کی خاطر حقیت کی طرف آتے ہیں۔۔۔۔

تقریباً 1980 سے آج تک ملک کی مختلف حکومتوں نے اپنی تمام تعلیمی پالیسیوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انٹر نیشنل معیار کی مجبوری کے پیش نظر ہم جلد از جلد کالجز لیول پر چار سالا BS پروگرام چلائیں گے۔ سکولز میں سکول لیول اور یونیورسٹیوں میں تحقیق اور ریسرچ کی سطح کے کام ہونگے۔ یاد رہے کہ چار سالا BS یچنگ کی ڈگری ہے اور بین الاقوامی طور پر اسے کیپسٹون Capstone پروگرام کہتے ہیں یعنی ٹیچنگ کورس کی آخری "ٹوپی" ۔ اس تعلیمی پالیسی کو گلے لگا کر ٹاپ پر صوبہ خیبرپختونخوا کے کالجز اور سیکنڈ نمبر پر بلوچستان کے کالجز کی ٹیچنگ فیکلٹی اور ایڈمینیسٹریڈن کامیاب ہوگئے۔


2023 میں جب میں نے آل پاکستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور کپلا کے صدر کی حیثیت سے جناب پروفیسر منور عباس صاحب صدر سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن و آل پاکستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی دعوت پر کراچی کا دورہ کیا تو وہاں بلوچستان کالجز پر جناب طارق بلوچ صاحب نے زبردست بریفنگ دی اور فرمایا کہ اس وقت ہمارے 40 کالجز میں زبردست اور کامیاب ترین BS پروگرام چل رہا ہے۔ اسی طرح میں نے خیبرپختونخوا کے کالجز اور خصوصاً کامیاب BS پروگرام پر تفصیل رکھی۔ سیکرٹری ہائیرایجوکیشن کالج سیکر بھی اس موقع پر موجود اور مہمان خصوصی تھیں۔۔۔

بلوچستان چونکہ آبادی کے لحاظ سے صوبہ خیبرپختونخوا کے مقابلے میں بہت چھوٹا صوبہ ہے اس لئے وہاں 40 کالجز میں بھی کامیاب BS بہت بڑا کارنامہ تھا۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 200 کالجز میں 30 مضامین میں BS کے ایک ہزار (1000) ڈیپارٹمنٹس شاندار طریقے سے چل رہے ہیں۔ ان 1000 ڈیپارٹمنٹس میں 1 لاکھ اور 50 ہزار کے لگ بھگ طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ گورنر سیکرٹریٹ صوبہ بلوچستان سے گزارش ہے کہ وہ میری پوسٹ سے درست اعداد و شمار اٹھا کر اپنے خط کی تصحیح فرمائے۔۔۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر چہ ہمارے یعنی صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ کالجز سے BS ڈیپارٹمنٹس ختم کر کے وہاں دو سالا AD اور ADS پروگرامز کی منظوری دی گئی ہے لیکن ہمارے ڈاریکٹوریٹ نے اس کی بنیادی وجہ ان چند ڈیپارٹمنٹس میں انتہائی کم انرولمنٹ بتائی ہے۔ اگر چہ میں نے ہر محاذ پر اس کی بھی مخالفت کی ہے اور کرتا رہونگا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج صوبہ بلوچستان کا گورنر سیکرٹریٹ ہماری اس معمولی کمزوری کا حوالا دے رہا ہے۔۔

المختصر کہ صوبہ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں چار سالا BS پروگرام بہترین انداز سے کامیابی کے ساتھ چلتے رہے ہیں، BS پروگرام تحقیقی نہیں بلکہ تدریسی ڈومین سے تعلق رکھتا ہے، یہ ہماری نیشنل ایجوکیشن پالیسی کا حصہ اور تقاضا ہے اور یہ کالجز کا استحقاق ہے کہ اسے پڑھائے۔
ملک کے تمام کالجز میں اعلٰی کوالیفائیڈ ٹیچنگ فیکلٹی موجود ہے جس کی اکثریت ملکی اور غیر ملکی اعلٰی ترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل العلم و تحقیق ہے۔ صرف صوبہ خیبرپختونخوا کے کالجز میں اس وقت 650 Ph.D اور 3000 MS, M.Phil اور LLM ڈگری ہولڈر پڑھا رہے ہیں۔
ہم اپنے کالجز سے کسی صورت BS پروگرام ختم کرنے یا اسے ناکام بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اسے غریب کے بچے کے منہ سے نوالا چھیننے کی کوشش سمجھیں گے۔

صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں اپنی اپنی پبلک سروس کمیشن کے مختلف امتحانات کا ریکارڈ چیک کر کے اس میں کالجز کی کارکردگی چیک کریں۔
صوبہ بلوچستان کے کالج سیکٹر نے 2017 سے اب تک 3000 سے اوپر طلبہ و طالبات کو جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے کالج سیکٹر نے 30000 سے زیادہ طلبہ و طالبات کو BS کی ڈگریوں سے نوازا ہے۔
ہم بلوچستان کے تمام کالجز کی ٹیچنگ فیکلٹی اور ایڈمینیسٹریشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔
میں جناب پروفیسر طارق بلوچ صاحب سابقہ صدر BPLA اور جناب پروفیسر نقیب اللہ صاحب سابقہ فنانس سیکرٹری BPLA کا بہت ساری معلومات فراہم کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔۔۔

اپنے عوام، بچوں، طلبہ، والدین، سیول سوسائٹی اور ہر سطح کے اساتذہ کرام کی معلومات "Awareness" کی خاطر اس پوسٹ کو بہت زیادہ تعداد میں شیئر کرنے اور بلوچستان گورنر سیکرٹریٹ تک پہنچانے کی اپیل کیجاتی ہے۔

Jamshed Khan جمشیدخان
چیئرمین کالج ٹیچرز موومنٹ صوبہ خیبرپختونخوا

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPPLA Press Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share