It'x Azu

It'x Azu مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا ۔
میری خاک جگنو بنا کر اڑا 🥰

چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مُنہ بند!علامہ محمد اقبال ❤️  #اقبال    #اردوشاعری  ...
25/08/2026

چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مُنہ بند!
علامہ محمد اقبال ❤️
#اقبال #اردوشاعری #اقبالیات

Independence Day Special!کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے ہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھےعلامہ  کا یہ شعر یومِ ...
14/08/2026

Independence Day Special!
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھے

علامہ کا یہ شعر یومِ آزادی کے موقع پر نہایت گہرا اور امید افزا پیغام دیتا ہے۔ قوم کی زندگی میں آنے والی مشکلات، بحران، کمزوریاں، شکستیں اور پریشانیاں خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، ایک صاحبِ یقین انسان کو خوف زدہ اور مایوس نہیں کر سکتیں، کیونکہ یہ سب عارضی مناظر ہیں؛ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، قومیں بھی اپنے سفر میں نشیب و فراز سے گزرتی ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان اپنی ملت کی صلاحیت، قوتِ حیات اور مستقبل پر اعتماد قائم رکھے۔ یہاں ملت کے مقدر سے مراد کوئی ایسی اندھی تقدیر نہیں جس میں انسان کا کوئی کردار نہ ہو، بلکہ اس اجتماعی امکان کی طرف اشارہ ہے جو ایک قوم کے اندر موجود ہوتا ہے اور جسے اس کے افراد اپنے کردار، علم، عمل، اتحاد، خودی اور مسلسل جدوجہد سے حقیقت میں بدلتے ہیں۔ آج جب ہم پاکستان کا یومِ آزادی مناتے ہیں تو اس شعر کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے؛ آزادی ہمیں ایک مکمل منزل کے طور پر نہیں ملی تھی بلکہ یہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھی جس میں قوم کو اپنی تقدیر خود تعمیر کرنی تھی۔ اس لیے اگر آج ہمیں سیاسی، معاشی، سماجی یا اخلاقی مشکلات نظر آتی ہیں تو اقبال ہمیں انکارِ حقیقت یا بے بنیاد خوش فہمی کا درس نہیں دیتے، بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ عارضی حالات کو قوم کی مستقل تقدیر نہ سمجھا جائے۔ مایوسی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم آج کے منظر کو کل کا فیصلہ سمجھ لیتے ہیں، جبکہ اقبال کی نگاہ مستقبل کے امکانات پر ہوتی ہے۔ یومِ آزادی پر اس شعر کا اصل پیغام یہی ہے کہ پاکستان سے محبت صرف جشن، پرچم اور نعروں کا نام نہیں؛ بلکہ اپنی ملت کے مستقبل پر ایسا یقین پیدا کرنا ہے جو ہمیں مایوسی کے بجائے تعمیر، شکایت کے بجائے کردار اور بے بسی کے بجائے عمل کی طرف لے جائے۔ ملت کے مقدر پر بھروسا دراصل اپنی ذمہ داری پر بھروسا بھی ہے؛ کیونکہ قوم کا مستقبل باہر سے نہیں آتا، اسے اس کے باشعور، باکردار اور صاحبِ عمل افراد بناتے ہیں۔ علامہ کا یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ وقتی تاریکیوں سے خوف زدہ نہ ہوں، اپنی اجتماعی قوت پر ایمان رکھیں اور اس یقین کو اپنے عمل کے ذریعے ثابت کریں کہ قوم کا آج خواہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو، اس کا مستقبل ابھی ہمارے ہاتھوں میں تعمیر ہونا باقی ہے۔

**i

✨ فکرِ اقبال — محشر میں بھی بےقرار عشقفارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جُنوں میرایا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاک!یہ ش...
03/08/2026

✨ فکرِ اقبال — محشر میں بھی بےقرار عشق

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جُنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاک!

یہ شعر عشقِ حقیقی کی اُس بےتابی کی تصویر ہے جو قیامت کے دن بھی خاموش نہیں رہتی۔ اقبالؒ کے نزدیک سچا عشق اپنے رب کی قربت کے لیے ہر حد سے گزر جانے کا نام ہے۔

اگر یہ پیغام دل کو چھو جائے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔

عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کروہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں۔خودی انسان کو اپنی اصل پہچان عطا کرتی ہے۔ جب ا...
04/07/2026

عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں۔

خودی انسان کو اپنی اصل پہچان عطا کرتی ہے۔ جب انسان اپنے باطن کو پہچان لیتا ہے تو وہ دوسروں کی خواہشات کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ اپنے مقصد، اپنے یقین اور اپنے رب سے وابستگی میں جیتا ہے۔

آپ کے نزدیک اس شعر کا سب سے گہرا مفہوم کیا ہے؟

فکرِ اقبال کو عام کرنے کے لیے پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔

#خودی

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںعلامہ اقبالترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوںستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابیکوئ...
04/07/2026

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
علامہ اقبال

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

اے صبا اے پیکِ دور افتادگاناشکِ ما بر خاک پاکِ او رسان(علامہ اقبال)منظوم پنجابی ترجمہ:وا، دریغا۔ وائے ساتھوں دور نے پیر ...
04/07/2026

اے صبا اے پیکِ دور افتادگان
اشکِ ما بر خاک پاکِ او رسان
(علامہ اقبال)

منظوم پنجابی ترجمہ:
وا، دریغا۔ وائے ساتھوں دور نے پیر اساڈے
اوس مقدس دھرتی ولے لے جا نیر اساڈے
(خلیل آتش)

ترجمہ و تشریح:
اے صبا! اے دور افتادہ لوگوں کی قاصد! ہمارے آنسوؤں کا ہدیہ امام حسینؓ کے مرقد مقدس (روضہ مبارک) پر پہنچا دے۔
(پروفیسر حمید ﷲ شاہ ہاشمی)

فرہنگ:
۱۔ اے۔۔۔۔لفظ تخاطب۔ مخاطب کےلیئے۔ پکارنےاور متوجہ کرنےکےلیئے۔
۲۔ صبا۔۔۔۔۔۔۔وہ ہوا جو صبح کےوقت مشرق سےمغربی رخ چلے۔ وہ پروا ہوا جو موسم بہار میں چلتی ہے۔صبح کی ٹھنڈی پُر مہک ہوا۔
۳۔ اے ۔۔۔۔۔۔ توجہ اور پکار کےلیئے، ندائیہ لفظ
۴۔ پیکِ ۔۔۔۔۔۔۔ کےقاصد، کے پیغام بر، کی ہرکارہ، کی چٹھی رساں
۵۔ دُورافتادگاں ۔۔۔۔۔۔۔ دور+افتاد+گاں۔
دور۔۔۔۔دوری۔فاصلےپر۔ بعید۔ الگ۔ علیٰحدہ(علیٰ حَدّہٖ)اپنی حد پر۔ پرے۔ جدا۔
افتاد۔۔۔۔گراوٹ۔ مصیبت۔ تکلیف۔ دکھ۔ درد۔ رنج۔
گاں۔۔۔۔گاں یا گان۔ فارسی میں جمع بنانےکےلیئےمستعمل۔
ان یا اں اور گاں یا گان۔ ۔۔زیادہ تعداد کے لیئے
۶۔ اشکِ۔۔۔۔۔۔۔آنسو۔ روتےوقت آنکھوں سےگرتے پانی کے قطرے۔
۷۔ ما۔۔۔۔۔۔۔ہمارے۔
۸۔ بر۔۔۔۔۔پر۔اوپر۔
۹۔ خاکِ۔۔۔۔۔کی مٹی۔ تُرْبَتْ کی مٹی۔ مرقد کی مٹی۔ مزار کی مٹی۔ روضہ کی مٹی۔
پاکِ۔۔۔۔۔کی مقدس۔ کی صاف۔ کی ستھری۔ کی پوتر۔ کی نرمل۔ کی غیر آلود۔ کی بےگناہ۔ کی معصوم۔ کی بَرِیْ۔ کی مامون۔ کی حلال۔ کی جائز۔ کی نیک۔ کی شریف۔
۱۰۔ او۔۔۔۔۔۔۔اس۔ وہ۔ ان یعنی(حضرت امام حسین بن حضرت علی علیھما السلام)
۱۱۔ رسان۔۔۔۔۔۔اسمِ حالیہ(فارسی)۔ پہنچنےوالا۔ پہچانےوالا.
(فرہنگ از سلامت علی چشتی صابری)

حوالہ:
کلام: حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: رموزِ بیخودی
‏‎درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا
شعر نمبر ۳۹
پیشکش: ملک محمد عارف بارا

مختصر فرہنگ:(۱) قم باذنی: اُٹھ میرے حکم سے(۲) گوے: کہہ دیجیے(۳) و او را: اور اس کو(۴) زندہ کن: زندہ کر دیجیے(۵) در دلش: ...
04/07/2026

مختصر فرہنگ:
(۱) قم باذنی: اُٹھ میرے حکم سے
(۲) گوے: کہہ دیجیے
(۳) و او را: اور اس کو
(۴) زندہ کن: زندہ کر دیجیے
(۵) در دلش: اس کے دل میں
(۶) ﷲ ھو را: ﷲ ھو کو
(۷) زندہ کن: زندہ کر دیجیے
(فرہنگ از ملک محمد عارف بارا)

وہ مسلمان ہی نہیں جو اس پوسٹ کو دیکھ کر شیئر نہیں کریں آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو لازمی شیئر کروں تاکہ حکومت ا...
04/07/2026

وہ مسلمان ہی نہیں جو اس پوسٹ کو دیکھ کر شیئر نہیں کریں آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو لازمی شیئر کروں تاکہ حکومت اس کمپنی کو بند کر سکے یہ قادیانیوں کی سازش ہے اسلام کے خلاف جو کمپنیوں کو پیسے دے کر ان سے قرآن پاک کی الفاظ غلط لکھواتے ہیں
پلیز زیادہ سے زیادہ آگے شئیر کریں اور اس سازی کو ناکام بنانے میں ہمارا ساتھ دیں

یہ شعر علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔شعر:تو رازِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا ر...
02/07/2026

یہ شعر علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔

شعر:

تو رازِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

تشریح (اردو میں):

اس شعر میں علامہ اقبال انسان کو اس کی اصل طاقت اور عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔

"تو رازِ کُن فکاں ہے" سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بلند صلاحیتیں اور بے شمار قوتیں عطا کی ہیں۔ "کُن فَیَکُون" اللہ کا وہ حکم ہے جس سے کائنات وجود میں آئی۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان بھی اللہ کی عظیم تخلیق ہے اور اس کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔

"اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا" کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو، اپنی حقیقت اور اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرو۔ خود کو کمزور نہ سمجھو بلکہ اپنی اصل قدر کو جانو۔

"خودی کا رازداں ہو جا" یعنی اپنی خودی، کردار، ایمان، علم اور اخلاق کو مضبوط بناؤ۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ باوقار، خوداعتماد اور کامیاب بن جاتا ہے۔

"خدا کا ترجماں ہو جا" سے مراد یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالو، عدل، سچائی، رحم اور نیکی کو اپناؤ، تاکہ تمہارا کردار دنیا میں اللہ کی تعلیمات کی نمائندگی کرے۔

مرکزی پیغام: علامہ اقبال انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے، اپنی خودی کو مضبوط کرے، اور ایسا باکردار انسان بنے جو اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کی ہدایت اور پیغام کا عملی نمونہ بن جائے۔

اس شعر میں علامہ اقبال شاہین کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔شعر:پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میںکہ شاہیں بناتا...
28/06/2026

اس شعر میں علامہ اقبال شاہین کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

شعر:

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

تشریح (اردو):

اس شعر میں شاہین خودداری، آزادی، بلند ہمتی اور غیرت کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ شاہین دنیاوی آسائشوں اور آرام کا طلبگار نہیں ہوتا۔ وہ اپنا مستقل گھونسلہ (آشیانہ) نہیں بناتا بلکہ ہمیشہ بلند پرواز کرتا ہے اور آزادی کی زندگی گزارتا ہے۔

اقبال کا پیغام یہ ہے کہ ایک سچا اور باوقار انسان بھی شاہین کی طرح خوددار، بہادر، محنتی اور بلند حوصلہ ہونا چاہیے۔ اسے صرف آرام، دولت اور دنیاوی سہولتوں میں نہیں کھو جانا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے اعلیٰ مقصد کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

آسان الفاظ میں:

شاہین آزادی اور خودداری کی علامت ہے۔

وہ آرام و آسائش کا عادی نہیں ہوتا۔

انسان کو بھی بلند مقصد، ہمت اور خود اعتمادی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔

کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو محنت اور جدوجہد کو اپنا شعار بناتے ہیں۔

مرکزی خیال: "خودداری، آزادی، بلند حوصلگی اور مسلسل جدوجہد ہی انسان کو عظیم بناتی ہے۔"

Address

Ausia Murre
Peshawar

Telephone

+923181828539

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when It'x Azu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to It'x Azu:

Shortcuts

Share