14/08/2026
Independence Day Special!
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھے
علامہ کا یہ شعر یومِ آزادی کے موقع پر نہایت گہرا اور امید افزا پیغام دیتا ہے۔ قوم کی زندگی میں آنے والی مشکلات، بحران، کمزوریاں، شکستیں اور پریشانیاں خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، ایک صاحبِ یقین انسان کو خوف زدہ اور مایوس نہیں کر سکتیں، کیونکہ یہ سب عارضی مناظر ہیں؛ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، قومیں بھی اپنے سفر میں نشیب و فراز سے گزرتی ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان اپنی ملت کی صلاحیت، قوتِ حیات اور مستقبل پر اعتماد قائم رکھے۔ یہاں ملت کے مقدر سے مراد کوئی ایسی اندھی تقدیر نہیں جس میں انسان کا کوئی کردار نہ ہو، بلکہ اس اجتماعی امکان کی طرف اشارہ ہے جو ایک قوم کے اندر موجود ہوتا ہے اور جسے اس کے افراد اپنے کردار، علم، عمل، اتحاد، خودی اور مسلسل جدوجہد سے حقیقت میں بدلتے ہیں۔ آج جب ہم پاکستان کا یومِ آزادی مناتے ہیں تو اس شعر کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے؛ آزادی ہمیں ایک مکمل منزل کے طور پر نہیں ملی تھی بلکہ یہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھی جس میں قوم کو اپنی تقدیر خود تعمیر کرنی تھی۔ اس لیے اگر آج ہمیں سیاسی، معاشی، سماجی یا اخلاقی مشکلات نظر آتی ہیں تو اقبال ہمیں انکارِ حقیقت یا بے بنیاد خوش فہمی کا درس نہیں دیتے، بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ عارضی حالات کو قوم کی مستقل تقدیر نہ سمجھا جائے۔ مایوسی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم آج کے منظر کو کل کا فیصلہ سمجھ لیتے ہیں، جبکہ اقبال کی نگاہ مستقبل کے امکانات پر ہوتی ہے۔ یومِ آزادی پر اس شعر کا اصل پیغام یہی ہے کہ پاکستان سے محبت صرف جشن، پرچم اور نعروں کا نام نہیں؛ بلکہ اپنی ملت کے مستقبل پر ایسا یقین پیدا کرنا ہے جو ہمیں مایوسی کے بجائے تعمیر، شکایت کے بجائے کردار اور بے بسی کے بجائے عمل کی طرف لے جائے۔ ملت کے مقدر پر بھروسا دراصل اپنی ذمہ داری پر بھروسا بھی ہے؛ کیونکہ قوم کا مستقبل باہر سے نہیں آتا، اسے اس کے باشعور، باکردار اور صاحبِ عمل افراد بناتے ہیں۔ علامہ کا یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ وقتی تاریکیوں سے خوف زدہ نہ ہوں، اپنی اجتماعی قوت پر ایمان رکھیں اور اس یقین کو اپنے عمل کے ذریعے ثابت کریں کہ قوم کا آج خواہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو، اس کا مستقبل ابھی ہمارے ہاتھوں میں تعمیر ہونا باقی ہے۔
**i