The Parachinar

The Parachinar Parachinar is the Capital City of District Kurram, Khyber Pakhtoonkhwa, Pakistan Parachinar is so beautiful that's why it's known as Paradise on the earth.

It is also called the land of Shrines. Where Para means part and Chinar means maple tree so it is called the land of Chainars as well. But in real sense media has called it the land of death. Regardless Shia or Sunnies, the Taliban, Alqaeda, local, regional, Pakisatani and international Terrorists and extremists never leave any stone to throw it on the people of Parachinar. Shia's own this piece

of Paradise while Sunnies sometime make mistakes to steal a bit of it. Anyway, it is the most sensitive area in Pakistan and easy target for power players to get advantage of it.

28/04/2026
ایران کے ڈاکٹر علی رضا زارعی، جو کہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ریاضی کے پروفیسر اور آئی ٹی سینٹر کے سربراہ ہیں، اپن...
08/04/2026

ایران کے ڈاکٹر علی رضا زارعی، جو کہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ریاضی کے پروفیسر اور آئی ٹی سینٹر کے سربراہ ہیں، اپنے تباہ شدہ دفتر میں ہی طلبہ کو “رینڈمائزڈ الگورتھمز” کی کلاس دے رہے ہیں۔ یہ منظر نہ صرف علمی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ حوصلے، عزم اور تعلیم سے محبت کی ایک زندہ مثال بھی ہے۔

تباہی اور مشکلات کے باوجود انہوں نے ہار ماننے کے بجائے اپنے فرض کو جاری رکھا اور اپنے طلبہ کو یہ پیغام دیا کہ علم کی روشنی کسی بھی رکاوٹ سے نہیں بجھ سکتی۔ ان کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ ایک استاد کا جذبہ صرف عمارتوں یا سہولیات کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ اصل طاقت اس کے عزم اور نیت میں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: “میں اس جگہ کو نہیں چھوڑوں گا، یہ ہماری یونیورسٹی ہے۔ وہ عمارت کو تباہ کر سکتے ہیں مگر ہمارے حوصلے اور جذبے کو نہیں۔” یہ الفاظ نہ صرف ان کی اپنی ہمت کا اظہار ہیں بلکہ طلبہ کے لیے ایک سبق بھی ہیں کہ مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔

26 مارچ 2008 کی تاریخ پاراچنار کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب تحصیل لوئر کرم چھپری کے مقام پر انسانیت سسک اٹھی۔ پاراچنار ...
26/03/2026

26 مارچ 2008 کی تاریخ پاراچنار کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب تحصیل لوئر کرم چھپری کے مقام پر انسانیت سسک اٹھی۔ پاراچنار سے پشاور جانے والی ایک سرکاری ایمبولینس کو دہشت گردوں نے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لیڈی ڈاکٹر، رزمک کیڈٹ کالج کے ایک ہونہار طالب علم اور دو لیویز اہلکاروں سمیت 7 بے گناہ افراد شہید ہوئے۔ اس سانحے میں خصوصاً بستی زیڑان (قباد شاہ خیل) کے دو سپوتوں، سید منیر حسین اور سید تصور حسین کی قربانی آج بھی علاقے کے لوگوں کے دلوں میں ایک ان مٹ نقش اور انصاف کے حصول کے لیے ایک توانا پکار بن کر زندہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی بقا ان کے شہداء کے لہو سے وابستہ ہوتی ہے۔ آج سے ٹھیک 18 سال قبل، جب بہار کی آمد آمد تھی، کرم کی وادی ایک ایسے غم سے نڈھال ہوئی جس کی کسک آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک ایمبولینس، جو زندگی کی علامت ہوتی ہے، اسے بگن کے مقام پر موت کے سوداگروں نے راکٹوں اور گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

اس حملے کی سفاکیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملہ آوروں نے نہ ایک خاتون ڈاکٹر (ڈاکٹر ثریا) کا لحاظ کیا اور نہ ہی اس طالب علم کا جس کی آنکھوں میں قوم کی خدمت کے خواب سجے تھے۔ یہ حملہ محض چند افراد پر نہیں، بلکہ تعلیم، صحت اور امن پر حملہ تھا۔

ہمارے اپنے علاقے زیڑان (قباد شاہ خیل) کے دو جری جوان، سید منیر حسین اور سید تصور حسین، اس قافلہِ شہادت کے وہ مسافر بنے جنہوں نے اپنے خون سے وفا کی نئی داستان لکھی۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ حق کی راہ میں دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ وہ آج مٹی تلے ضرور سو رہے ہیں، لیکن ان کی یادیں ہمارے حوصلوں کو جلا بخشتی ہیں۔

18 سال گزر جانے کے باوجود، ان شہداء کے لواحقین کی آنکھیں آج بھی انصاف کی تلاش میں ہیں۔ وہ مائیں جن کی آغوش اجڑ گئی اور وہ بچے جو یتیم ہوئے، ان کی خاموشی ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ان کا خون اس امن کے لیے کافی نہیں تھا جس کا خواب ہم دیکھتے ہیں؟

ہم ان شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن (امن اور انسانیت کی خدمت) کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔


15/03/2026

مفتی صاحب کی گفتگو ضرور سنئے۔
مولا علیؑ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کو بھی حق بات کہنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے ۔ تعلیماتِ اہلِ بیتؑ ہمیں اخوت، محبت اور اتحاد کا درس دیتی ہیں تاکہ امت مسلمہ اختلافات سے بچ کر مضبوط ہو سکے۔

07/03/2026

اہلِ تشیع ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ صبر، برداشت اور قانون کی پاسداری کی مثال قائم کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً کوئٹہ، ہزارہ اور پاراچنار میں شیعہ برادری کو بارہا دہشت گردی اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا، بے شمار جانیں ضائع ہوئیں اور خاندان اجڑ گئے، لیکن اس کے باوجود اس اہل تشیع نے کبھی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ صبر، اتحاد اور پرامن جدوجہد کو ترجیح دی اور ریاستی اداروں سے انصاف کی امید وابستہ رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ تشیع کو ایک باوقار، مہذب اور امن پسند قوم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی معاشرتی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال بھی ہے۔

مبشر لقمان صاحب

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ترلائی امام بارگاہ کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور مالی امداد کا...
12/02/2026

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ترلائی امام بارگاہ کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور مالی امداد کا اعلان کیا۔

عون عباس کے لیے ایک کروڑ، شہداء کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ، شدید زخمیوں کے لیے 30 لاکھ اور دیگر زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

مولانا طارق جمیل نے سانحہ ترلائی پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہا...
09/02/2026

مولانا طارق جمیل نے سانحہ ترلائی پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے اب کچھ آلو کچالو ضرور کہیں گے کہ طارق جمیل صاحب بھی رافضی ہوگئے

08/02/2026

اب دیکھتے ہیں کہ تم کتنے پانی میں ہو توہین توہین کرنے والوں سنو اب بات خانہ کعبہ کی حرمت پہ آئی ہے۔ شرک اور بدعت کی پجاریوں، خودکش دھماکے کرنے والوں سامنے آجاو تمھاری غیرت کہاں ہے ؟

پاراچنار میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سان...
08/02/2026

پاراچنار میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سانحے کے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف 8 فروری کو “یومِ سیاہ” کے طور پر منایا جا رہا ہے، اسی سلسلے میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ شروع ہوگیا جہاں مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ مظاہرین نے سیاہ پرچم اور بینرز اٹھا رکھے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور ملک بھر میں بالخصوص حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات عوام میں عدم تحفظ پیدا کر رہے ہیں، لہٰذا صرف مذمتی بیانات کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ مظاہرین نے شہداء کے خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

#پاراچنار

Address

Parachinar
26300

Telephone

+929265465430

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Parachinar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share