30/05/2026
پلندری: جنتِ ارضی یا ہماری غفلت کا قبرستان؟
تحریر: حمزہ
یہ ویڈیو صرف پلندری کے خوبصورت نظاروں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی غفلت پر ایک نوحہ ہے۔ کیمرے کی آنکھ نے جب گلا نکر سے پلندری شہر کے پھیلاؤ کو دیکھا، یا بائی پاس روڈ کی بلندیوں اور رانی باولی کی تاریخی کاریگری کو عکس بند کیا تو دل کو سکون ملا، لیکن یہ سکون عارضی تھا۔ برسات میں بھیگا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ بوائز کالج ہو، ڈنہ میسرہ سے منگ اور کوٹلی ستیاں کے پہاڑ ہوں، یا دریک گوراہ سے پیرگلی روڈ پر ایستادہ دیار کے درخت اور گوراہ چھیتر کی شامیں—یہ سب قدرت کے وہ رنگ ہیں جن پر ہم ناز کرتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔
ضلع سدھنوتی کا 77 فیصد رقبہ ہریالی کا امین ہے، مگر اس عید پر جو کچھ ہوا وہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ہمارے جنگل آگ کے طوفان میں جلتے رہے، کہیں سگریٹ کی چنگاری نے تو کہیں انسان کی سفاکیت نے قدرت کے اس حسین لباس کو راکھ کر دیا۔ اس آگ میں جلتے پرندے اور خاک ہوتے پودے صرف جاندار نہیں تھے، یہ ہماری سانسیں تھیں جو دھویں میں تحلیل ہو رہی تھیں۔ عید کے دوسرے دن آلودگی کا معیار 109 فیصد تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم خالص ہوا کے لیے ترس رہے ہیں، مگر ہماری ترجیحات عجیب ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہم سیاست، تنقید اور مزاح کے بازار تو گرم رکھتے ہیں، مگر قدرت کی تباہی پر سب "اشرف المخلوقات" گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی لیڈر، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی کوئی ادارہ اس طرف متوجہ ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک زہر آلود ماحول سونپ رہے ہیں۔ ہم اپنے گھروں کو ٹائل ماربل سے تو فینسی بنا لیتے ہیں، مگر انہی گھروں کا کچرا قدرت کی ندی نالیوں میں بہانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یہ شعور نہیں، یہ جہالت کی انتہا ہے کہ ہم جس زمین پر سانس لیتے ہیں، اسی کے سینے پر کچرے کے ڈھیر لگا رہے ہیں۔
یاد رکھیں، یہ تحصیل، یہ ضلع بھی آپ کا اپنا گھر ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے رویوں میں تبدیلی نہ لائی اور ان جنگلوں کو آگ سے اور زمین کو کچرے سے نہ بچایا، تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے پاس نہ پینے کو پانی بچے گا اور نہ سانس لینے کو آکسیجن۔ وقت ابھی بھی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں، اس سے پہلے کہ پچھتاوا ہماری مقدر بن جائے اور آنے والی نسلیں ہمیں ایک بنجر اور زہر آلود زمین کا وارث قرار دے کر کوسیں۔
ایک انسان کو زندہ رہنے کے لیے روزانہ 500 سے 600 لیٹر خالص آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ لیکن پلندری میں ہوا کا معیار (AQI 109) یہ بتا رہا ہے کہ ہم آکسیجن کے ساتھ زہریلے ذرات سانس میں لے رہے ہیں۔
سدھنوتی کے 80 فیصد سے زائد لوگوں کے پھیپھڑے اس آلودگی کی زد میں ہیں۔ یہ صرف ہوا نہیں، ہماری صحت کا بحران ہے۔ خدارا! اپنے ماحول کو بچائیں، پودے لگائیں، اور اس "گرین شفٹ" کا حصہ بنیں.
@topfansFareed Khan SadozaieFareed SadozaieMasood Ahmed KhanSardar Asif Khan@