06/02/2026
نصرت صدیقی کے چند اشعار
بنارہے ہیں عبث کھیل کود کے میدان
ہمارے شہر کے بچے تو کام کرتے ہیں
۔۔
وہ کون ہے جو انہیں کھیلنے نہیں دیتا
یہ کمسنی میں جو روزی کمانے لگتے ہیں
۔۔
کچے گھروں میں رہتے ہیں شاید اسی لئے
سہمے ہوئے سے رہتے ہیں کالی گھٹا سے ہم
۔۔
کس ضرورت کو دباؤں، کسے پورا کروں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے
۔۔
محرومیوں نےدل کی تمنائیں چھین لیں
بچوں نے کرنے چھوڑ دئیے ہیں مطالبات
۔۔
وہ ہنستے کھیلتے بچے رلا کے چھوڑ جاتا ہے
غبارے بیچنے والا گلی میں روز آتا ہے..
فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے
آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے
خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے
امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے
دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن
تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ کھانے سے
ایک ظلم کرتا ہے ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے
زخم بھی لگاتے ہو پھول بھی کھلاتے ہو
کتنے کام لیتے ہو ایک مسکرانے سے
اور بھی سنورتا ہے اور بھی نکھرتا ہے
جلوہؑ رؐخ ِ جاناں دیکھنے دِکھانے سے
جب تلک نہ ٹوٹے تھے خیر و شر کے پیمانے
وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے
ہر طرف چراغاں ہو تب کہیں اؐجالا ہو
اور ہم گریزاں ہیں اک دِیا جلانے سے
چاند آسماں کا ہو یا زمین کا نصرت
کون باز آتا ہے انگلیاں اٹھانے سے
چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے اکثر
یہ اذیت بھی کئی بار سہی ہے میں نے
اگرچہ تیرے سوا کچھ سجھائی دیتا نہیں
مگر کبھی کبھی تُو بھی دکھائی دیتا نہیں
زندگی قید کے مانند ہے لیکن اُس نے
قید میں بھی مجھے آرام سے رکھا ہوا ہے
وہاں تک تو ہمارے ساتھ چلیے
جہاں تک خوفِ رُسوائی نہیں ہے
تجھے بھی ہے اگر دعویٰ وفا کا
تو پھر کوئی بھی ہرجائی نہیں ہے
مجھے اب احتیاطاً خط نہ لکھنا
مرے بچے کو پڑھنا آ گیا ہے
بنائے پھرتے ہیں ہم خود کو خوش لباس مگر
ہمارے گھر میں ابھی مکڑیوں کے جالے ہیں
نصرت صدیقی 7 دسمبر 1942 کو حصار، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، اب فیصل آباد میں رہتے ہیں. ان کی شاعری کے مجموعے لمحہ موجود، ترے طلوع کا لمحہ اور تقاضے شائع ہوچکے ہیں.