Human Rights Youth Organization KpK

Human Rights Youth Organization KpK 𝙷𝚞𝙼𝚊𝙽 𝚁𝚒𝙶𝙷𝚃𝚜 𝚈𝚘𝚞𝚃𝙷 𝑂𝑟𝑔𝑎𝑛𝑖𝑧𝑎𝑡𝑖𝑜𝑛 𝙿𝚊𝙺𝚒𝚜𝚃𝚊𝙽 ( KpK)

*_HRYO_آفیشل_KpK_**_کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کا حالیہ لرزہ خیز واقعہ محض ایک ج...
07/06/2026

*_HRYO_آفیشل_KpK_*
*_کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کا حالیہ لرزہ خیز واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے گرتے ہوئے اخلاقی رویوں کا آئینہ دار ہے۔ اگرچہ قانون نے ملزم کو اس کے انجام تک پہنچا دیا، لیکن اس واقعے نے ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے والے سینکڑوں ڈاکٹرز کے تحفظ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹرز پر تشدد، ان کا قتل اور انہیں ہراساں کرنا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔_*
*_​ایک طرف ہمارے ڈاکٹرز دن رات ہسپتالوں میں ڈیوٹی کرنے، وسائل کی کمی اور مریضوں کے بے پناہ دباؤ کے باعث شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف سوشل میڈیا کے اس دور میں ان کی تذلیل کا ایک نیا دستور چل پڑا ہے۔ میٹرک پاس مبینہ صحافی ہاتھ میں موبائل فون لے کر ہسپتالوں میں گھس جاتے ہیں اور بغیر کسی تحقیق یا پس منظر کو جانے، صرف چند ویوز کی خاطر مسیحاؤں کی تذلیل شروع کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پنجاب کے ایک ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ اس کی بدترین مثال ہے، جہاں ایک ڈاکٹر ایک ذہنی مریضہ کا علاج کر رہا تھا، لیکن اس کی ایک مختصر اور ادھوری ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی اور اس مخلص ڈاکٹر کی بدترین کردار کشی کی گئی۔_*
*_​ایسے لاتعداد کیسز روزانہ سامنے آ رہے ہیں جن کی بنیادی وجوہات اور حقائق جانے بغیر ڈاکٹرز کو عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹرز بھی انسان ہیں، وہ کوئی جادوگر نہیں جو ہر مریض کو چند سیکنڈز میں ٹھیک کر دیں۔ وہ شدید ذہنی دباؤ کے باوجود انسانی جانیں بچانے کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، اور ایسے میں ان کے ساتھ یہ سلوک سراسر ناانصافی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔_*
*_​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن حکومتِ وقت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اربابِ اختیار سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو فول پروف تحفظ فراہم کیا جائے۔ فرائضِ منصبی کے دوران ڈاکٹرز پر ہاتھ اٹھانے، انہیں ہراساں کرنے یا بلیک میلنگ کے ذریعے ان کی کردار کشی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اگر آج ہم نے اپنے مسیحاؤں کو تحفظ نہ دیا، تو کل ہمارا پورا صحت کا نظام مفلوج ہو جائے گا۔ خدارا! ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ بلا خوف و خطر انسانیت کی خدمت کر سکیں۔_*
https://chat.whatsapp.com/FkM0a3Sy2mt58nvYQjYBDj

Following
Human Rights Youth Organization HRYO Pakistan

Demand for Justice and the Protection of Human Dignity in the Siraj Mahsud Case​The Human Rights Youth Organization (HRY...
11/05/2026

Demand for Justice and the Protection of Human Dignity in the Siraj Mahsud Case
​The Human Rights Youth Organization (HRYO) expresses its grave concern over the tragic killing of Siraj Mahsud, a young man from the tribal districts, and the subsequent high-handedness displayed by the law enforcement agencies. The Jirga held in Tarnol reflects the growing unrest among citizens regarding the denial of basic rights.
​Our Urgent Demands:
​Immediate Release of Women: The arrest of female family members by the Punjab Police is a blatant violation of fundamental human rights and the sanctity of the home ("Chador and Chardiwari"). Detaining innocent women as a pressure tactic is legally and morally indefensible. They must be released immediately.
​Respect for the Deceased: Obstructing the handover of Siraj Mahsud’s body from the hospital to his family is an inhumane act. Every family has the fundamental right to grieve and bury their loved ones with dignity.
​Transparent Inquiry: We urge the Islamabad Police and Punjab Police to ensure a transparent, impartial, and high-level inquiry into the entire chain of events. Justice must be served without bias, and the rule of law must prevail over retaliatory actions.
​Solidarity with Civil Leadership: We acknowledge the presence of Ismat Raza Shahjahan and other respected leaders at the protest. HRYO stands with the demand that the state must treat all citizens equally, regardless of their ethnic background.
​Delay in justice is a denial of justice. We call upon the relevant authorities to shift from punitive measures to a fair legal process that ensures the safety and dignity of the victim's family.

Tribute to the Guardians of Peace | شہدائے بنوں کو خراجِ عقیدت 🛡️🇵🇰​The Human Rights Youth Organization (HRYO) Khyber Pa...
11/05/2026

Tribute to the Guardians of Peace | شہدائے بنوں کو خراجِ عقیدت 🛡️🇵🇰

The Human Rights Youth Organization (HRYO) Khyber Pakhtunkhwa expresses its profound sorrow and heartfelt condolences over the tragic loss of 15 valiant personnel of the KP Police in the Kauthar Fateh Khel (Bannu) attack on May 9, 2026.
​These brave sons of the soil stood as an unwavering wall against extremism, sacrificing their lives to ensure our safety. We stand in absolute solidarity with the grieving families and the entire police force. Their sacrifice will never be forgotten.

ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا، 9 مئی 2026 کی رات کوثر فتح خیل (بنوں) میں پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں خیبر پختونخوا پولیس کے 15 بہادر جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
​دھرتی کے ان نڈر بیٹوں نے انتہا پسندی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔ ہم اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور پوری پولیس فورس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن آج ہمارا مستقبل ایک ایسے خاموش زہر کی زد میں ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر نسلوں کو...
03/05/2026

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن آج ہمارا مستقبل ایک ایسے خاموش زہر کی زد میں ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر نسلوں کو معذور بنا رہا ہے۔ حالیہ طبی رپورٹس اور انسانی حقوق کے جائزوں کے مطابق، بچوں کے خون میں سیسے (Lead) کی بڑھتی ہوئی مقدار ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکی ہے۔ سیسہ ایک ایسی دھات ہے جو جسم میں داخل ہونے کے بعد اعصابی نظام، دماغ اور گردوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ ان کے بڑھتے ہوئے جسم اور دماغ اس زہر کو بڑوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جذب کرتے ہیں، جس سے ان کی سیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور وہ عمر بھر کے لیے ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
​ہمارے ماحول میں سیسہ مختلف صورتوں میں موجود ہے، جن میں گھروں اور کھلونوں میں استعمال ہونے والا ناقص پینٹ، پرانی پائپ لائنوں سے آنے والا آلودہ پانی، اور گنجان آباد علاقوں میں بیٹریوں کی غیر محفوظ ری سائیکلنگ سرِفہرست ہیں۔ ان ذرائع سے پھیلنے والی آلودگی نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما روکتی ہے بلکہ ان کے رویوں میں چڑچڑاپن اور خون کی شدید کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ اکثر والدین اس پوشیدہ خطرے سے بالکل لاعلم ہیں۔
​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO) انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ پینٹ اور کھلونوں کی تیاری میں سیسے کے استعمال پر فوری پابندی لگائی جائے اور عالمی معیار کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ ساتھ ہی سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے خون کی اسکریننگ کے لیے مفت ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سخت ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسے کی آلودگی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے "حقِ صحت" کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ کیس ہری پور حطار میں انڈسٹریز ایریا کے آس پاس آبادی میں دیکھے گئے ہیں جس کی آلودگی ماحول کو اور خصوصاََ بچوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے

​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO)

*_HRYO_آفیشل_KpK_**_26_Apr_2026_**_موضوع_**_علمائے کرام کی ممبر پر بد زبانی اور غیر سنجیدہ شخص ساقی جان کی سوشل میڈیا پر...
26/04/2026

*_HRYO_آفیشل_KpK_*
*_26_Apr_2026_*
*_موضوع_*
*_علمائے کرام کی ممبر پر بد زبانی اور غیر سنجیدہ شخص ساقی جان کی سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیز_*
*_کسی بھی معاشرے میں جب مقتدر اور مذہبی طبقات کسی غیر سنجیدہ شخص کی باتوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے کر اسے اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بناتے ہیں، تو وہ نادانستہ طور پر اس کی تشہیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جس شخص کی باتوں کو سنجیدہ حلقوں میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا، اسے منبر و محراب سے نام لے کر ڈسکس کرنے سے نہ صرف اسے شہرت ملتی ہے بلکہ وہ خود کو ایک "ہیرو" یا "مظلوم" کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔_*
*_​سب سے زیادہ افسوسناک پہلو وہ تضاد ہے جو قول اور فعل کے درمیان نظر آتا ہے۔ منبرِ رسول ﷺ وہ پاکیزہ جگہ ہے جہاں سے صبر، عفو و درگزر اور اخلاقِ حسنہ کا درس دیا جاتا ہے۔ وہاں بیٹھ کر کسی کے لیے نازیبا زبان استعمال کرنا یا گالیاں دینا کسی بھی طور شریعت اور اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا۔ جب ہم سیرتِ طیبہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے واقعات سناتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح بدترین مخالفین کی باتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا، تو عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ ان دروس کا عکس اپنے پیشواؤں کے عمل میں بھی دیکھیں۔_*
*_​اس قسم کے انتہا پسندانہ ردِ عمل سے سب سے بڑا نقصان دینِ اسلام کی شبیہ کو پہنچتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جب علماء کے لب و لہجے میں تلخی اور بدزبانی آتی ہے، تو وہ لوگ جو پہلے ہی دین سے دور ہیں یا اسلام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، انہیں ایک مضبوط دلیل مل جاتی ہے۔ وہ چند افراد کے اس رویے کو بنیاد بنا کر پورے پاکیزہ دین پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔_*
*_​اصلاح کا تقاضا یہ تھا کہ ایسی غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کیا جاتا۔ ہر اشتعال انگیزی کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، اور اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہو بھی، تو اس کا انداز داعیانہ اور نرم ہونا چاہیے نہ کہ تذلیل پر مبنی۔ آج کے دور میں جب پشتون دھرتی سمیت پورے ملک کو امن اور اتحاد کی ضرورت ہے، علماء کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی تعمیری کاموں اور حقیقی مسائل پر صرف کریں، نہ کہ سطحی شہرت کے حامل افراد کو ہوا دے کر معاشرے میں مزید تلخی پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم اور اپنے اخلاق کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔_*
*آمین۔*

*_HRYO_لوئر دیر_KpK_**_24_Apr_2026_**_ہیومن رائٹس کے تمام ممبران روزانہ کے بنیاد پر انسانیت کی خدمت میں حصہ لیتے ہیں لیک...
24/04/2026

*_HRYO_لوئر دیر_KpK_*
*_24_Apr_2026_*
*_ہیومن رائٹس کے تمام ممبران روزانہ کے بنیاد پر انسانیت کی خدمت میں حصہ لیتے ہیں لیکن کچھ کام ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں اور کچھ نجی مصروفیات کے بنا پر گروپ میں Share نہیں ہو پاتے جیسے کے_*
*_ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (لوئیر دیر) کو اپنے جنرل سیکرٹری نواب زادہ صاحب کی جانب سے ایک ایسی دلگداز کہانی موصول ہوئی، جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔_*

*_​ایک زخمی پرندہ، جس کی خاموش آنکھیں کسی ظالم کے نشانے کا نوحہ پڑھ رہی تھیں، جب نواب زادہ صاحب کو ملا تو انہوں نے محض تماشائی بننے کے بجائے تڑپتی ہوئی زندگی کو بچانے کا فیصلہ کیا۔_*
*_وائلڈ لائف کا رابطہ نمبر پاس نہ ہونے کے باوجود، ان کا جذبہ انہیں فارسٹ آفس تک لے گیا، جہاں فارسٹ آفیسر کی فرض شناسی اور تعاون سے اس ننھی جان کو بروقت طبی امداد اور تحفظ فراہم کیا گیا۔_*

23/04/2026

*_​خیبر پختونخواہ کی مٹی ہمیشہ سے ہی جفاکش اور غیرت مند لوگوں کی امین رہی ہے، لیکن حال ہی میں لوئر کرم سے سامنے آنے والی ایک تصویر نے انسانیت اور فرض شناسی کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ہمارے تعلیمی نظام میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی ڈیوٹی سے غافل ہیں اور گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں، وہیں دوسری طرف استاد اورنگزیب جیسے جری اور مخلص سپاہی بھی ہیں جو اندھیروں میں علم کی شمع روشن رکھنے کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔_*
*_​گزشتہ دنوں جب آسمان سے تیز آندھی اور طوفانی بارش برس رہی تھی اور زمین پر ندیاں بپھری ہوئی تھیں، تب لوئر کرم کے اس عظیم استاد نے پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً دو کلومیٹر تک ندی کے بپھرے ہوئے پانی کو عبور کرنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ اس جنون کا ثبوت ہے جو صرف ایک سچے استاد کے سینے میں موجزن ہو سکتا ہے۔ یہ جدوجہد صرف ایک اسکول پہنچنے کی تگ و دو نہیں تھی، بلکہ یہ ان غریب بچوں کے مستقبل کو بچانے کی ایک پکار تھی جو علم کی روشنی کے منتظر ہیں۔_*
*_​ایک طرف وہ کالی بھیڑیں ہیں جو "گھوسٹ ٹیچرز" کہلاتی ہیں اور قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں، اور دوسری طرف اورنگزیب صاحب کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ ضمیر ابھی زندہ ہے۔ ایسے ہی اساتذہ کسی بھی قوم کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں جو مشکل حالات میں بہانے تراشنے کے بجائے راستے بناتے ہیں۔_*
*_​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO) کا یہ فیصلہ نہایت خوش آئند ہے کہ انہوں نے اس عظیم استاد کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں "تعریفی اسناد" دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے حوصلہ مند افراد کی حوصلہ افزائی کرنا دراصل معاشرے میں خیر کے پہلو کو زندہ رکھنا ہے۔_*
*_​استاد اورنگزیب کو سلام پیش کرنا صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ان تمام مخلص اساتذہ کی قدر دانی ہے جو خاموشی سے قوم کی معمار سازی میں مصروف ہیں۔_*
*_ہمیں امید ہے کہ محکمہ تعلیم اور حکومتِ وقت بھی ایسے ہیروز کی حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ فرض شناسی کا یہ جذبہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے۔_*
*_​بے شک، جب تک اورنگزیب جیسے اساتذہ موجود ہیں، علم کی روشنی کو کوئی طوفان نہیں بجھا سکتا۔_*

Human Rights Youth Organization HRYO Pakistan
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

*_پریس ریلیز / اعلامیہ_**_​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO) کی مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق، عنایت سواتی (سابق صدر مل...
23/04/2026

*_پریس ریلیز / اعلامیہ_*
*_​ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO) کی مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق، عنایت سواتی (سابق صدر ملاکنڈ ڈویژن) کی تنظیم سے ممبرشپ فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔_*
*​وضاحت:*
*_عنایت سواتی کی رکنیت کی منسوخی کی بنیادی وجہ ان کے وہ غیر قانونی مطالبات ہیں جو تنظیم کے دائرہ اختیار اور آئین سے تجاوز کرتے تھے۔ ادارے کی جانب سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی قسم کی ذاتی رنجش یا عناد کی بنیاد پر نہیں لیا گیا، اور نہ ہی ادارے کی ایسی کوئی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے ممبران کے خلاف بلاوجہ کارروائی کرے۔_*
*_​تنظیم یہ بھی باور کراتی ہے کہ اگر عنایت سواتی مستقبل میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ادارہ ان کے کسی عمل کا ذمہ دار ہوگا۔_*
*_​اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن کل جاری کر دیا جائے گا۔_*
Human Rights Youth Organization HRYO Pakistan
Malakand Region Police
Swat News Agency

The Recent Cowardly Attack on Polio Team in Tangi, Bajaur: A Testament to Bravery and SacrificeThe recent attack on the ...
17/12/2025

The Recent Cowardly Attack on Polio Team in Tangi, Bajaur: A Testament to Bravery and Sacrifice

The recent attack on the polio team in Tangi, Bajaur, is not only a testament to the brutality of the enemies of humanity but also a story of bravery and sacrifice that deserves to be written in golden letters in the annals of history. In this incident, while a police officer laid down his life in the line of duty, a civilian, Fazal Hayyan, son of Gajar Khan, set an example of courage that is rare to find in today's era.

According to investigations by the Human Rights Youth Organization Khyber Pakhtunkhwa, Fazal Hayyan was present at the scene when terrorists opened fire on the polio team and the security personnel. As a civilian, he could have saved himself and left the scene, but his sense of patriotism and non-violence did not allow him to remain a silent spectator.

When a police officer was injured in the firing, Fazal Hayyan bravely overpowered the terrorist, risking his own life to prevent further harm to innocent lives. In the ensuing struggle, the terrorist's armed accomplice fired at Fazal Hayyan, who succumbed to his injuries and became a martyr.

Fazal Hayyan's sacrifice is a testament to the fact that the war against terrorism is not just the responsibility of the uniformed personnel, but of every son and daughter of this land. This young man, unarmed and alone, confronted the armed terrorist and proved that the Pakistani nation cannot be intimidated.

It is unfortunate that this great sacrifice has not received the official recognition it deserves.

The Human Rights Youth Organization Khyber Pakhtunkhwa demands that the Government of Pakistan, the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, and the Inspector General of Police officially recognize Fazal Hayyan's martyrdom and confer upon him the status of a national hero.

We demand that he be awarded the Civil Military Medal (Tamga-e-Shujaat) posthumously in recognition of his bravery.

The family of the martyr should be immediately announced the Shahid Package, and the state should take responsibility for their financial and social welfare.

A memorial or monument should be erected in Tangi, Bajaur, to commemorate Fazal Hayyan's bravery, so that future generations can learn from his sacrifice.

Fazal Hayyan and others like him are our assets. If the state does not recognize and appreciate these unsung heroes, the spirit of sacrifice and altruism in society may dwindle. It is time for the government to rectify this oversight and give Fazal Hayyan's blood the recognition it deserves.

KPK Police
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Commissioner Malakand Division
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

16/08/2025

*HRYO Stands with Bajaur Flood Victims*

In the aftermath of the devastating floods in Bajaur, Khyber Pakhtunkhwa, the Human Rights Youth Organization (HRYO) has dispatched a delegation to express solidarity with the affected communities and assess the damage.

HRYO's General Secretary, Wajid Iqbal, visited Salarzai, Bajaur, where he met with the families of those who lost their lives in the floods and offered his heartfelt condolences.

He urged the administration to provide immediate relief to the affected individuals, ensuring their suffering is alleviated. Wajid Iqbal assured that HRYO will do its best to support the victims in this difficult time.

Bajaur is currently facing a dual challenge - ongoing military operations and the devastating impact of natural disasters. In this critical situation, it is our collective moral responsibility to support the affected communities and help them rebuild their lives.

*Human Rights Youth Organization* is committed to standing with the people of BajaurFloodReliefur of need.

Address

Khan Law Chamber Office 2nd Floor District Court Nowshera
Nowshehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human Rights Youth Organization KpK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Human Rights Youth Organization KpK:

Share