03/05/2026
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن آج ہمارا مستقبل ایک ایسے خاموش زہر کی زد میں ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر نسلوں کو معذور بنا رہا ہے۔ حالیہ طبی رپورٹس اور انسانی حقوق کے جائزوں کے مطابق، بچوں کے خون میں سیسے (Lead) کی بڑھتی ہوئی مقدار ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکی ہے۔ سیسہ ایک ایسی دھات ہے جو جسم میں داخل ہونے کے بعد اعصابی نظام، دماغ اور گردوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ ان کے بڑھتے ہوئے جسم اور دماغ اس زہر کو بڑوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جذب کرتے ہیں، جس سے ان کی سیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور وہ عمر بھر کے لیے ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ماحول میں سیسہ مختلف صورتوں میں موجود ہے، جن میں گھروں اور کھلونوں میں استعمال ہونے والا ناقص پینٹ، پرانی پائپ لائنوں سے آنے والا آلودہ پانی، اور گنجان آباد علاقوں میں بیٹریوں کی غیر محفوظ ری سائیکلنگ سرِفہرست ہیں۔ ان ذرائع سے پھیلنے والی آلودگی نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما روکتی ہے بلکہ ان کے رویوں میں چڑچڑاپن اور خون کی شدید کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ اکثر والدین اس پوشیدہ خطرے سے بالکل لاعلم ہیں۔
ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO) انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ پینٹ اور کھلونوں کی تیاری میں سیسے کے استعمال پر فوری پابندی لگائی جائے اور عالمی معیار کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ ساتھ ہی سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے خون کی اسکریننگ کے لیے مفت ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سخت ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسے کی آلودگی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے "حقِ صحت" کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ کیس ہری پور حطار میں انڈسٹریز ایریا کے آس پاس آبادی میں دیکھے گئے ہیں جس کی آلودگی ماحول کو اور خصوصاََ بچوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے
ہیومن رائٹس یوتھ آرگنائزیشن (HRYO)