Justice Of Peace SBA

Justice Of Peace SBA Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Justice Of Peace SBA, Nonprofit Organization, District & Sessions Court, Shaheed BenazirAbad, Nawabshah.

11/04/2026
12/02/2026

𝐏𝐫𝐨𝐟𝐞𝐬𝐬𝐨𝐫 𝐃𝐫. 𝐌𝐚𝐪𝐬𝐨𝐨𝐝 𝐀𝐡𝐦𝐞𝐝 𝐒𝐢𝐝𝐝𝐢𝐪𝐮𝐢

Head of Anesthesiology, Surgical ICU & Pain Management | Pioneer in Critical Care and Pain Management

Professor Dr. Maqsood Ahmed Siddiqui is a towering figure in Pakistan’s medical landscape, serving as Head of the Department of Anesthesiology, Surgical ICU & Pain Management in Sukkur. With advanced qualifications including MCPS, FCPS (Anesthesiology), and MSc (Pain Medicine), He is a First Fellow Anesthesiologist in Sukkur He has played a historic role in establishing Surgical ICUs, Medical ICUs, and the first Pain Management Clinic in a government hospital of Sukkur.

With a special interest in Pain Management and Regenerative Medicine, his work has transformed patient care and expanded access to advanced critical care services. An accomplished academic, he is the author of nearly 50 national and international research articles and has contributed chapters to an international critical care book—cementing his legacy as a clinician, researcher, and healthcare pioneer.

📢 Get featured on The Pakistan Stories
📱 Contact on WhatsApp: wa.me/ 0316 0012110





خواتین کی بے دخلی کا قانون  تحفظ یا خاندانی نظام پر حملہ؟13 اگست 2025 کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے فوجداری قانون ترم...
13/08/2025

خواتین کی بے دخلی کا قانون تحفظ یا خاندانی نظام پر حملہ؟

13 اگست 2025 کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے فوجداری قانون ترمیمی بل 2025 کے تحت پاکستان پینل کوڈ 1860 میں نیا سیکشن 498 ڈی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو بظاہر خواتین کے تحفظ کے نام پر لایا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ قانون یکطرفہ ہتھیار ہے جو خاندانی نظام کی جڑوں میں بارود رکھ سکتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت اگر شوہر یا اس کا کوئی گھر والا بیوی کو مشترکہ رہائش گاہ سے بغیر قانونی اجازت یا جائز وجہ کے نکالے یا نکالنے کی کوشش کرے تو اسے کم از کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ بھگتنا ہوگا۔ گرفتاری صرف وارنٹ کے ذریعے ہوگی، جرم قابلِ ضمانت اور قابلِ راضی نامہ ہوگا، اور مقدمہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی کورٹ میں سماعت ہو گا۔
لیکن اس قانون کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف بیوی کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر بیوی شوہر یا اس کے اہل خانہ کو غیر قانونی طور پر بے دخل کر دے تو قانون خاموش ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 25 میں درج مساوات کے اصول کا کھلا مذاق ہے۔ یہاں مرد (خاوند ) کو صرف ایک ملزم کے طور پر دیکھا گیا ہے، متاثرہ فریق کے طور پر نہیں۔ یہ یکطرفہ سوچ صرف انصاف کے اصول کو روندتی نہیں بلکہ معاشرے میں صنفی تقسیم کو اور گہرا کرے گی۔
اس قانون کے نفاذ کے بعد جھوٹے مقدمات کی یلغار شروع ہونا بعید نہیں۔ گھریلو جھگڑوں میں الزام تراشی پہلے ہی ایک عام ہتھیار ہے، اب اسے قانونی ڈھال بھی مل جائے گی۔ بیوی یا اس کے اہل خانہ ذاتی انتقام، مالی فائدے یا دباؤ ڈالنے کے لیے شوہر اور سسرال پر یہ مقدمہ ڈال سکتے ہیں۔ ایک الزام کافی ہوگا کہ مرد اپنی عزت، نوکری اور خاندان کے رشتے داؤ پر لگا بیٹھے۔ چاہے بعد میں بے گناہ ثابت ہو، معاشرتی بدنامی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔
یہ قانون گھر بسانے کے بجائے گھر توڑنے کا نیا ہتھیار بن سکتا ہے۔ شوہر کو گھر سے نکالنے کی اجازت نہ ہونے کے باوجود اگر رشتے میں تلخی بڑھ جائے تو سسرال والے بیوی کو نکالنے کے بجائے اسے ذہنی اور جذباتی اذیت دینے پر اُتر آئیں گے۔ اس سے گھریلو تشدد میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف، معمولی جھگڑوں کا انجام فوری فوجداری مقدمات میں نکلے گا، صلح کا امکان ختم اور طلاق کی شرح بڑھ جائے گی۔ سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوگا، جو والدین کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے۔
دو لاکھ روپے جرمانہ اور قید کی سزا کا بوجھ خاص طور پر لوئر مڈل کلاس اور غریب گھرانوں پر تباہ کن اثر ڈالے گا
عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھے گا، پولیس اور کورٹس مزید دباؤ میں آئیں گے، اور انصاف کے بجائے تاخیر اور ناانصافی کا سلسلہ لمبا ہوگا۔
مذہبی و ثقافتی لحاظ سے بھی یہ قانون بارود کی سنسیٹیو مائن ہے۔ خاندانی نظام میں مغربی طرز کی قانونی مداخلت کو بہت سے حلقے اسلامی تعلیمات کے خلاف تصور کریں گے۔ نکاح، طلاق اور ازدواجی تعلقات میں ریاستی طاقت کے اس غیر متوازن استعمال سے سماجی مزاحمت پیدا ہوگی، اور مرد و عورت کے بیچ موجود اعتماد کا رشتہ مزید کمزور پڑے گا۔
یہ بل خواتین کو تحفظ دینے کے بجائے قانون کو ایک انتقامی ہتھیار میں بدل سکتا ہے۔ اگر حکومت واقعی انصاف چاہتی ہے تو اسے مرد و عورت دونوں کو یکساں قانونی تحفظ دینا ہوگا، جھوٹے مقدمات پر سخت سزا متعارف کرنی ہوگی، اور خاندانی تنازعات کو فوجداری کارروائی میں بدلنے کے بجائے مصالحتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔
Adnan Ahmed Siddiqui
Justice Of Peace/ Advocate High Court.

Address

District & Sessions Court, Shaheed BenazirAbad
Nawabshah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice Of Peace SBA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share