17/03/2026
رمضان المبارک کی 27ویں رات کو اسلامی تاریخ اور روحانی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جسے عام مسلمان "شبِ قدر" (Laylatul Qadr) کے امکانی مواقع میں سے ایک سمجھتے ہیں ۔
اس رات کی فضیلت درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہے:
· ریت کی رات: 27ویں رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک ہے، جس میں شبِ قدر کے ہونے کا زیادہ امکان ہے ۔
· نزولِ قرآن: مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق، اس رات (شبِ قدر) کو قرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔
· افضلیت: قرآن مجید میں سورۃ القدر میں اس رات کو "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رات کی عبادت کا ثواب طویل عرصے کی عبادت سے زیادہ ہے۔
· عبادات: اس موقع پر مساجد میں خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ مومنین اس رات کو عبادت (شب بیداری)، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نماز (جیسے صلاۃ التسبیح) میں گزاریں ۔ ان کا مقصد اللہ کی رحمت اور بخشش کو حاصل کرنا ہے ۔
· امن کے فرشتے: شبِ قدر کی رات فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر امن اور خیر کا پیغام لے کر اترتے ہیں، جو طلوعِ فجر تک رہتی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ 27 رمضان کی رات مسلمانوں کے لیے غور و فکر، دعا، استغفار اور اپنے خالق سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ یہی وہ بابرکت رات ہے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔