PEWS

Call Directions Website Contact the organization

PEWS Punjab Education Welfare Society (Reg)Narowal PEWS is an educational welfare society, established in 1995 in Narowal and registered under societies act of 1860.

The PEWS is a non-sectarian, non-profitable organization working to serve the deprived population by empowering them with education and a determination to cultivate the healthy values, through conceptual understanding of Islam. The schools which initially comprised of a few “The Punjab Public School” in 1996 now operate as a network of community based welfare school. The PEWS by the grace of Almighty runs its network of low resourced but well prescribed schools which are purpose built and impart education as well as vocational training at some centers, to the underprivileged section of our society. The PEWS team comprises of a staff of dedicated and educated volunteers. Whose compassion is to help, exploit and utilize the available resources to the extent that to improve their living developing and implementing unique resources to introduce variety of skills towards sustainable change. The accounts of the organization is annually audited by professional external auditors.

28/08/2026

سیرت النبی کانفرنس

25/08/2026

🚨 Darwin was WRONG! | ڈارون کا جھوٹ | 🧬✨

آپ کے خلیوں میں 9,000 RPM پر گھومنے والے انجن موجود ہیں۔ اگر ان کا ایک بھی حصہ نکال دیا جائے تو انسان فوراً مر جائے۔ یہ اندھا ارتقاء نہیں، خالق کا ماسٹر پیس ہے! 🤯✨

👇 کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ ہم بندروں سے بنے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں!

بچہ اور بوڑھا ایک جیسے نہیں ہوتےایک ایسے بزرگ سے ملاقات ہوئی جن کے چہرے پر عمر کی جھریاں تو تھیں، مگر آنکھوں میں زندگی ک...
07/08/2026

بچہ اور بوڑھا ایک جیسے نہیں ہوتے

ایک ایسے بزرگ سے ملاقات ہوئی جن کے چہرے پر عمر کی جھریاں تو تھیں، مگر آنکھوں میں زندگی کی کئی کہانیاں چھپی ہوئی تھیں:

سلام دعا کے بعد وہ چند لمحے خاموش رہے، پھر میری طرف دیکھ کر بولے:

“بیٹا! ایک بات پوچھوں؟”

میں نے کہا، “جی ضرور"۔

انہوں نے پوچھا:

“لوگ کہتے ہیں کہ بچہ اور بوڑھا ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے، یہ بات درست ہے

میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا، اور مسکرا کر کہا:

“جناب! میرا تو صرف بچپن گزرا ہے، بڑھاپا نہیں۔ آپ اس منزل پر پہنچ چکے ہیں، اس لیے آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔”

میرے جواب پر ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اگلے ہی لمحے وہ مسکراہٹ ایک گہری آہ میں بدل گئی۔

وہ کہنے لگے:

“بیٹا! لوگ یہ بات کہتے تو ہیں، مگر حقیقت اتنی سادہ نہیں۔"

میں نے ادب سے پوچھا، “کیوں؟”

انہوں نے دھیرے سے کہنا شروع کیا:

“بچے کے اردگرد تو پورا گھر جمع ہو جاتا ہے۔ کوئی اسے گود میں اٹھاتا ہے، کوئی ہنسانے کی کوشش کرتا ہے، کوئی اس کے لیے کھلونے لاتا ہے۔ اگر وہ ذرا سا رو دے تو کئی لوگ اسے چپ کرانے آ جاتے ہیں۔ اگر اسے بخار ہو جائے تو پورا گھر بے چین ہو جاتا ہے۔ بچے کی ایک مسکراہٹ سب کے چہروں پر خوشی بکھیر دیتی ہے۔"

پھر وہ خاموش ہو گئے۔

اور مجھے ان کی خاموشی میں چھپا درد محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی لمحوں بعد انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:

“لیکن بوڑھے کے اردگرد تو بس خاموشی ہی رہ جاتی ہے۔ گھر تو بھرا ہوا ہوتا ہے، مگر بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی سارا دن گزر جاتا ہے اور کوئی یہ پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا کہ ‘آپ کی طبیعت کیسی ہے؟

پھر انہوں نے ایک اور بات کہی جو ایک نہایت خوبصوت پیغام اور عمدہ نصیحت پر مشتمل تھی۔

کہنے لگے:

“اگر کسی مرد نے اپنی جوانی اپنی بیوی کے ساتھ محبت، عزت اور حسنِ سلوک سے زندگی گزاری ہو تو بڑھاپے میں اکثر وہی اس کی سب سے بڑی رفیق اور سہارا بنتی ہے۔ لیکن اگر اس نے اس رشتے کی قدر نہ کی ہو، یا بیوی اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہو، تو بڑھاپا کاٹے نہیں کٹتا۔ بہت خاموش اور بہت تنہا ہو جاتا ہے۔

یہ باتین سن کر مجھے احساس ہوا کہ شاید بچپن اور بڑھاپے میں جسمانی کمزوری تو ایک جیسی ہو سکتی ہے، مگر محبت اور توجہ کا فرق بہت بڑا ہوتا ہے۔

بچے کے اردگرد لوگ ہوتے ہیں… لیکن بہت سے بوڑھوں کے اردگرد صرف خاموشی ہوتی ہے۔

اسی لیے شاید ہمارے معاشرے کو بچوں کی طرح اپنے بزرگوں کو بھی وقت، محبت، عزت اور توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بڑھاپے میں سب سے قیمتی چیز دوا نہیں، بلکہ کسی اپنے کی آواز ہوتی ہے

وراثت بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور تاجر تھا‘ اس نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور آخر میں دل کے عارضے کی وجہ س...
10/07/2026

وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور تاجر تھا‘ اس نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور آخر میں دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہو گیا‘ والد کی جائیداد زیادہ تھی لہٰذا دونوں بھائیوں کے درمیان پھڈا ہو گیا‘ بڑے بھائی نے والد کی زمین‘ گھر اور حجرے پر قبضہ کر لیا جب کہ چھوٹا بھائی دکانوں پر قابض ہو کر بیٹھ گیا‘ یہ تنازع آہستہ آہستہ کورٹ کچہری اور دنگا فساد تک چلا گیا اور دونوں بھائی دس بارہ سال تک ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے‘ چھوٹا خان شہر میں رہتا تھا‘ وہ ایک دن اپنی بیگم‘ بیٹی اور بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہا تھا‘ راستے میں خانہ بدوشوں نے خربوزوں کی ڈھیری لگائی ہوئی تھی اور دس بارہ سال کی ایک خانہ بدوش لڑکی ڈھیری پر کھڑی ہو کر خربوزے بیچ رہی تھی‘ چھوٹے خان کی بیٹی خربوزہ کھانے کی ضد کرنے لگی چناں چہ اس نے اپنی گاڑی خربوزوں کی ڈھیری کے ساتھ کھڑی کر دی‘ بھائی کی بیگم کنجوس تھی‘ اس نے ایک خربوزہ خریدا اور خانہ بدوش بچی کے ساتھ بھاؤ تاؤ شروع کر دیا‘ بچی خربوزے کے دس روپے مانگ رہی تھی جب کہ بیگم پانچ روپے سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہیں تھی‘ بہرحال دس منٹ کی تکرار کے بعد چھ روپے میں سودا ہو گیا‘ خانہ بدوش بچی جب چھ روپے لے کر جانے لگی تو چھوٹے خان کے بیٹے نے بھی خربوزہ مانگ لیا‘ بیگم نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور خانہ بدوش لڑکی سے کہا ’’اے لڑکی بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘‘ لڑکی دوڑتی ہوئی گئی‘ ایک خربوزہ اٹھایا اور گاڑی کی طرف واپس دوڑ لگا دی‘ سڑک کے قریب اینٹ پڑی تھی‘ اس کا پاؤں ٹکرایا‘ وہ گری‘ خربوزہ اس کے ہاتھ سے نکل کر زمین پر گرا اور ٹوٹ گیا‘ بچی اٹھ کر واپس دوڑی اور دوسرا خربوزہ اٹھا کر لے آئی‘ بیگم نے لڑکی سے کہا ’’میں تمہیں زمین پر گرنے والے خربوزے کے پیسے نہیں دوں گی‘ وہ تمہاری غلطی تھی‘‘ خانہ بدوش لڑکی نے ہنس کر کہا ’’میں آپ سے دونوں خربوزوں کے پیسے نہیں لے رہی‘‘ بیگم نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیوں؟‘‘ لڑکی نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ نے کہا تھا بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘ آپ نے اسے میرا بھائی کہہ دیا‘ میری ماں نے مجھے وصیت کی تھی بھائیوں کے ساتھ کبھی حساب نہیں کرنا‘ ان سے کبھی سودا نہیں کرنا‘ آپ کا بیٹا آپ کے کہنے کے بعد میرا بھائی بن گیا‘ میں اب اس سے سودا کیسے کر سکتی ہوں‘ اس سے حساب کیسے مانگ سکتی ہوں چناں چہ دونوں خربوزے میری طرف سے میرے بھائی کے لیے تحفہ سمجھ کر قبول کریں‘‘ یہ بات سیدھی بیگم اور خان کے دل میں لگی‘ بیگم نے رونا شروع کر دیا اور نیچے اتر کر اپنا پرس لڑکی کی جھولی میں الٹ دیا‘ بیگم روتی جاتی تھی اور خانہ بدوش لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرتی جاتی تھی‘ اس نے آخر میں اپنی چوڑیاں اور کانوں کے بندے بھی اتار کر لڑکی کے ہاتھوں میں دے دیے‘لڑکی انکار کرتی رہی لیکن بیگم صاحبہ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے گاڑی میں واپس آئی‘ چھوٹا خان بھی اس دوران اپنا سر سٹیئرنگ پر رکھ کر رو رہا تھا‘ بیگم اس کا دکھ سمجھ رہی تھی‘ اس بے وقوف نے اپنے بھائی کے ساتھ حساب میں دس بارہ سال ضائع کر دیے تھے بہرحال وہ لوگ آگے روانہ ہوئے‘ تھوڑی دور جا کر خان نے گاڑی روکی‘ فون اٹھایا اور اپنے بڑے بھائی کو فون کر دیا‘ بڑا بھائی پریشان ہو گیا‘ چھوٹے بھائی نے بس ایک فقرہ کہا‘ بھائی میں آپ کی تقسیم پر راضی ہوں‘ آپ جو مناسب سمجھتے ہیں آپ کر دیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ میں اپنا دعویٰ اور کیس دونوں واپس لے رہا ہوں‘ بڑے بھائی نے پریشان ہو کر پوچھا ’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے‘ کیا ہوا تمہیں‘‘ چھوٹے بھائی نے ساری بات سنائی اور کہا’’ ہم کتنے بے وقوف ہیں‘ ہم یہ موٹی سی بات نہیں سمجھ سکے کہ بھائیوں کے ساتھ حساب نہیں کیا جاتا‘ وہ خانہ بدوش لڑکی ہم خانوں سے کتنی زیادہ سمجھ دار تھی‘ میں آپ سے پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے کے لیے سیدھا آپ کے پاس آ رہا ہوں‘‘ بڑے بھائی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے‘ وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ میں نے یہ واقعہ ایک پشتون بھائی کے کلپ میں سنا‘ آج کے زمانے میں یوٹیوب‘ ٹک ٹاک اور انسٹا گرام انفارمیشن اور نالج کا سب سے بڑا سورس ہیں بس یہ احتیاط ضروری ہے آپ اچھی ریلز دیکھیں ورنہ سوشل میڈیا آپ کا سارا دن برباد کر دیتا ہے‘ بہرحال اس ریل نے ہماری زندگی کی بہت بڑی حقیقت آشکار کر دی‘ میں نے زندگی میں ایسے درجنوں کیس دیکھے‘ مثلاً ہمارے سینئر اور استاد ہوتے تھے عباس اطہر‘ شاہ صاحب بہت ہی شان دار اور درویش صفت انسان تھے لیکن ان سے دو غلطیاں ہو گئیں‘ انہوں نے بڑھاپے میں جوان لڑکی سے شادی کر لی‘ اس خاتون نے شاہ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے گن مین سے شادی کر لی اور شاہ صاحب کے شاگردوں اور جاننے والوں سے پیسے مانگنے لگی‘ دوسرا اس نے جائیداد کا پھڈا بھی شروع کر دیا چناں چہ خاندان رل کر رہ گیا‘ دوسرا شاہ صاحب کے بچے نکمے نکلے‘ وہ عمر میں بڑے تھے مگر پوری زندگی والد انہیں پالتا رہا‘شاہ صاحب آخر میں ہسپتال میں علیل تھے‘ میرے ایک دوست عیادت کے لیے وہاں موجود تھے‘ اس کے سامنے ان کا بیٹا آیا اور نہایت بدتمیزی سے شاہ صاحب سے چیک بک پر سائن کرا لیے‘ وہ جاتے جاتے سر پر پیچ کس کا سائن بھی بناتا رہا جس کے ذریعے وہ وہاں موجود لوگوں کو یہ پیغام دے رہا تھا ہمارے والد کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے‘میرے دوست نے یہ واقعہ مجھے سنایا تو ہم دیر تک افسوس کرتے رہے۔ اسلام آباد میں میرے ایک اور جاننے والے تھے‘ وہ ٹھیکے دار تھے اور کھرب پتی تھے‘ وہ فوت ہوئے تو میں ہفتے بعد تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا‘ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی‘ وہ تینوں جائیداد کی تقسیم پر لڑ رہے تھے جب کہ ماں ویل چیئر پر سر نیچے کر کے آنسو بہا رہی تھی‘ میں وہاں دس پندرہ منٹ بیٹھا رہا لیکن ان میں سے کوئی دعا کے لیے میرے پاس نہیں آیا لہٰذا میں نے مجبوراً خود ہی ہاتھ اٹھائے‘ دعا کی اور چپ چاپ واپس آ گیا‘ میں راستہ بھر سوچتا رہا‘ مرحوم پوری زندگی اس اولاد کے لیے جمع کرتا رہا جو اس کی تعزیت پر بھی اکٹھی نہیں ہو رہی‘ میرے والد کے ایک جاننے والے تھے‘ وہ بھی بہت خوش حال تھے اور پوری زندگی اپنی اولاد کے لیے اکٹھا کرتے رہے لیکن پھر کیا ہوا‘ بڑے بیٹے نے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کو نکال کر جائیداد پر قبضہ کر لیا‘ والدین تڑپ تڑپ کر مر گئے اور ان کے بعد اب اولاد جائیداد کے لیے کورٹ کچہریوں میں دھکے کھا رہی ہے‘ سہگل پاکستان کی بڑی بزنس فیملی تھی‘ مجھے نعیم بخاری نے بتایا جب ان کے والد یوسف سہگل کا انتقال ہوا تو بیٹے قبرستان میں ایک دوسرے سے لڑ پڑے ‘ انہوں نے والد کی تدفین کا بھی انتظار نہیں کیا تھا‘ مجھے اسی طرح ایک صاحب نے بتایا ’’ہمارے والد کا انتقال ہوا‘ میں جب قبرستان میں والد کی تدفین میں مصروف تھا تو میرا بھائی میت چھوڑ کر گھر آیا‘ والد کی الماری توڑی اور جائیداد کے کاغذات‘ رقم‘ انگوٹھیاں اور گھڑیاں لے کر غائب ہو گیا‘ یہ ہمیں آج تک کاغذات نہیں دے رہا‘‘ اسی طرح میرے پاس ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے بڑی ہولناک کہانی سنائی‘ ان کے بقول میں بیمار تھا‘ مجھے دو ماہ ہسپتال میں رہنا پڑ گیا‘ میں جب واپس آیا تو میرے پاس ایک پٹھان آ گیا اور مجھ سے پچاس لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرنے لگا‘ میں اس رقم کے بارے میں بالکل نہیں جانتا تھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا‘ آپ جب ہسپتال میں تھے تو آپ کے بیٹے نے ہم سے چالیس لاکھ روپے قرض لیا‘ اس کا کہنا تھا میرا والد ہسپتال میں پڑا ہے‘ یہ مرنے والا ہے‘ یہ جوں ہی فوت ہو گا میں جائیداد بیچ کر سود سمیت آپ کا قرض ادا کر دوں گا‘ ہم دو ماہ آپ کے مرنے کا انتظار کرتے رہے لیکن آپ بچ گئے جس کے بعد آپ کا بیٹا غائب ہے‘ یہ رقم اب آپ کو ادا کرنا ہو گی‘ میں نے ان سے کہا ’’میں اگر بیماری سے بچ گیا ہوں تو کیا یہ میرا جرم ہے؟‘‘۔ پٹھان نے ہنس کو جواب دیا ’’یہ آپ کو بچنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا‘ اب آپ اگر بچ گئے ہیں تو آپ کو قرض تو ادا کرنا پڑے گا‘‘ وہ صاحب یہ بتانے کے بعد رو پڑے اور بار بار یہ کہہ رہے تھے ’’آپ دیکھیں جاوید صاحب میرے سگے بیٹے نے میری موت کی امید پر سود پر قرض لے لیا تھا‘‘۔ لاہور کے ایک بزرگ ہمارے سیشنز میں آتے ہیں‘ ان کی کہانی بھی بہت درد ناک ہے‘ یہ اربوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں لیکن کمرے کی کنڈی لگا کر سوتے ہیں کیوں کہ انہیں خطرہ ہے ان کا واحد بیٹا جائیداد کے لیے انہیں کسی بھی وقت قتل کر دے گا‘ مجھے اسی طرح کوئی صاحب اوکاڑہ سے فون کیا کرتے تھے‘ وہ سابق صحافی تھے‘ امریکا گئے‘ واپس آئے تو ان کی جائیداد پر بیٹا قابض ہو چکا تھا‘ وہ اس کے بعد جائیداد کے لیے کبھی اس دفتر دھکے کھاتے رہے اور کبھی اس دفتر‘ پولیس اور لوکل انتظامیہ ان کا مسئلہ سمجھتی تھی لیکن غلطی ان کی اپنی تھی‘ وہ امریکا جانے سے قبل اپنے بیٹے کو پاور آف اٹارنی دے گئے تھے اور بیٹے نے اس کا فائدہ اٹھا کر ان کی جائیداد اپنے دوست کے نام منتقل کر دی تھی یوں وہ بے چارے بیٹے کے خلاف درخواستیں دے دے کر دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن آپ خدا کی کرنی دیکھیے‘ والد کے انتقال کے بعد بیٹے کے دوست نے جائیداد واپس کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اب بیٹا دفتروں میں دھکے کھا رہا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو والدین کی موجودگی میں جائیداد کے لیے لڑ رہے تھے جب کہ والدین کے بعد اولاد کے درمیان تقسیم کیا کیا رنگ دکھاتی ہے وہ گھر گھر کی کہانی ہے‘ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی والدین کے انتقال کے بعد وارث وراثت تقسیم کرتے ہیں یا پھر وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے‘ ہمارے نوے فیصد کیسز میں وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے اور تقسیم کے عمل کے دوران رشتے اور احساس دونوں ختم ہو جاتے ہیں‘ ہم اگر اس تقسیم سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین فارمولا خانہ بدوش لڑکی نے دیاتھا ’’بھائیوں کے ساتھ سودا بازی ہو سکتی ہے اور نہ حساب‘‘ آپ یہ کر کے دیکھیں آپ کے رشتے بھی بچ جائیں گے اورآپ بھی۔
نوید نمبردار

آئی ایس آئی — ہر محب وطن کی دھڑکن 🇵🇰⚔️🇵🇰  آئی ایس آئی... یہ تین حروف نہیں، یہ پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہیں۔ یہ اس وطن ...
09/07/2026

آئی ایس آئی — ہر محب وطن کی دھڑکن 🇵🇰⚔️🇵🇰

آئی ایس آئی... یہ تین حروف نہیں، یہ پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہیں۔ یہ اس وطن کے ہر اُس بیٹے کی دھڑکن بن چکی ہے جو پاکستان کی بقا، سالمیت اور عزت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔

گمنام غازی بلوچ کے قلم سے ⚔️🇵🇰⚔️۔

گمنامی میں عزت ہے
دنیا کی ہر ایجنسی اپنے نام کی تشہیر چاہتی ہے، مگر ہمارے جوانوں کا نام، چہرہ، قبر تک گمنام رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا مقصد شہرت نہیں، پاکستان ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرحد پر بھی لڑتے ہیں اور سرحد کے پار دشمن کی نیندیں بھی اُڑاتے ہیں۔ نہ کوئی تمغہ مانگتے ہیں، نہ کوئی داد۔ بس ایک ہی دعا: "یا اللہ، پاکستان سلامت رہے"۔

دشمن کی نیند حرام
آج فتنہ الہندوستان ہو، خوارج ہوں یا کوئی اور ملک دشمن عنصر — سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے پاس آئی ایس آئی جیسی ڈھال موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ہر محاذ پر ناکام ہے۔ وہ بلوچستان میں آگ لگانا چاہتے ہیں، کراچی میں لسانیت پھیلانا چاہتے ہیں، کے پی میں خوف کا راج چاہتے ہیں، مگر ہر بار ان کے منصوبے مٹی میں مل جاتے ہیں۔ کیونکہ کوئی ہے جو جاگ رہا ہے۔

ہر محب وطن کے دل کی آواز
جب ایک بلوچ نوجوان پہاڑوں میں پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہے تو اسے حوصلہ کہاں سے ملتا ہے؟ جب ایک سندھی مزدور را کے ایجنٹ کو پکڑواتا ہے تو اس کے پیچھے اعتماد کس کا ہے؟ جب ایک پنجابی، پختون، مہاجر، گلگتی، کشمیری اپنے وطن کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی اس کے ساتھ ہے۔ اسی لیے آج آئی ایس آئی ہر محب وطن کی دھڑکن بن چکی ہے۔

پروپیگنڈے کا جواب
غدار، لبرل مافیا اور دشمن کے ٹکڑوں پر پلنے والے دن رات آئی ایس آئی کے خلاف بھونکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹے ٹرینڈ چلاتے ہیں۔ ان کو تکلیف ہی یہی ہے کہ ایک ادارہ ایسا ہے جو بکتا نہیں، جھکتا نہیں، ڈرتا نہیں۔ یاد رکھو! جس دن یہ ادارہ کمزور ہوا، اس دن پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ مگر ان شاء اللہ وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔

ہمارا عہد
ہم بلوچ، ہم سندھی، ہم پنجابی، ہم پختون، ہم کشمیری، ہم گلگتی — سب آئی ایس آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارا ایک ہی نعرہ ہے: "تو سلامت وطن، تا قیامت وطن"۔

اے گمنام مجاہدو! تمہیں سلام۔ تمہاری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ یہ قوم تمہاری مقروض ہے۔ تم سامنے نہیں آتے، مگر ہر پاکستانی کے دل میں بستے ہو۔

مارخور کا وار جاری رہے گا
دشمن کی ہار یقینی ہے

پاکستان آرمی زندہ باد
آئی ایس آئی پائندہ باد
پاکستان تا قیامت زندہ باد

#گمنامغازیبلوچ 🇵🇰⚔️

سوشل میڈیا پر عالمی شہرت یافتہ کانٹینٹ کریٹر خابی لام سے منسوب ایک بیان تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے...
08/07/2026

سوشل میڈیا پر عالمی شہرت یافتہ کانٹینٹ کریٹر خابی لام سے منسوب ایک بیان تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے الکحل برانڈز کی تشہیری پیشکشیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمان ہیں، اس لیے شراب کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے اسلامی عقیدے اور اپنے کروڑوں نوجوان فالوورز کی وجہ سے شراب اور جوئے جیسے برانڈز کی تشہیر نہیں کرتے۔

خابی لام نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا "مجھے الکحل برانڈز کی طرف سے بہت سی پیشکشیں (Offers) ملتی ہیں، لیکن میں ہمیشہ انکار کر دیتا ہوں، کیونکہ سب سے پہلے میں ایک مسلمان ہوں اور میں شراب کی تشہیر نہیں کرنا چاہتا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے بہت سے بچے فالو کرتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے وہ شراب نوشی کی طرف مائل ہوں، اس لیے میں صرف صاف ستھرے برانڈز کا انتخاب کرتا ہوں۔"
رپورٹ کے مطابق، اپنے اس اصولی فیصلے کی وجہ سے خابی لام نے تشہیر کے بڑے اور لاکھوں ڈالرز مالیت کے کئی سودے ٹھکرا دیے ہیں۔
سینیگال سے تعلق رکھنے والے خابی لام نہ صرف ایک پکے مسلمان ہیں، بلکہ وہ بچپن سے حافظِ قرآن بھی ہیں، انہوں نے اطالوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود اس بات کی تصدیق کی تھی۔



Disclaimer: This content is shared for informational and educational purposes only. The visuals and information are based on publicly available sources.

اگر وہ اتنی ہی شدت سے چاہتے تھے کہ ارجنٹینا جیتے، تو پھر باقی تمام ٹیموں کو ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کیوں بلایا؟مصری ہیڈ...
08/07/2026

اگر وہ اتنی ہی شدت سے چاہتے تھے کہ ارجنٹینا جیتے، تو پھر باقی تمام ٹیموں کو ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کیوں بلایا؟مصری ہیڈ کوچ حسام حسن برہم

'نتائج کچھ بھی ہوں، میں وہی کہوں گا جو میرے دل میں ہے، یہ واضح طور پر ایک فکس میچ تھا اور پوری دنیا نے یہ دیکھا':مصری ہیڈکوچ

اسکول مالک کے لیے کام کرنا بے وقوفی ہے زیادہ تر پرنسپلز اور اساتذہ ایک بنیادی غلطی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسکول ک...
08/07/2026

اسکول مالک کے لیے کام کرنا بے وقوفی ہے
زیادہ تر پرنسپلز اور اساتذہ ایک بنیادی غلطی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسکول کے مالک کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے ان کا کام صرف ڈیوٹی، تنخواہ اور احکامات تک محدود رہ جاتا ہے۔ وہ اتنا ہی کرتے ہیں جتنا ان سے کہا جائے،
لیکن کامیاب پرنسپلز اور اساتذہ مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر کلاس، ہر فیصلہ، ہر تربیتی سیشن، ہر طالب علم اور ہر کامیابی ان کے اپنے کردار، شہرت، مہارت اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
مالک بدل سکتا ہے، اسکول بدل سکتا ہے، ملازمت بدل سکتی ہے، لیکن آپ کی قابلیت، آپ کی ساکھ اور آپ کی پیشہ ورانہ شناخت ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہے۔
اگر ایک پرنسپل آج ایک مضبوط اسکول کلچر بناتا ہے، بہترین اساتذہ تیار کرتا ہے اور بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لاتا ہے، تو اس کا اصل فائدہ صرف اسکول کے مالک کو نہیں ملتا، بلکہ سب سے پہلے خود اس پرنسپل کی شخصیت، اعتماد، تجربے اور نام کو ملتا ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
جو لوگ صرف مالک کے لیے کام کرتے ہیں، وہ وقت گزارتے ہیں۔
اور جو لوگ اپنے کردار، اپنی مہارت اور اپنی میراث کے لیے کام کرتے ہیں، وہ تاریخ بناتے ہیں۔
یاد رکھیں، آپ ہر روز صرف ایک اسکول نہیں بنا رہے، بلکہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی، اپنی شناخت اور اپنی آنے والی کامیابیوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں

17/03/2026

رمضان المبارک کی 27ویں رات کو اسلامی تاریخ اور روحانی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جسے عام مسلمان "شبِ قدر" (Laylatul Qadr) کے امکانی مواقع میں سے ایک سمجھتے ہیں ۔

اس رات کی فضیلت درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہے:

· ریت کی رات: 27ویں رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک ہے، جس میں شبِ قدر کے ہونے کا زیادہ امکان ہے ۔
· نزولِ قرآن: مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق، اس رات (شبِ قدر) کو قرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔
· افضلیت: قرآن مجید میں سورۃ القدر میں اس رات کو "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رات کی عبادت کا ثواب طویل عرصے کی عبادت سے زیادہ ہے۔
· عبادات: اس موقع پر مساجد میں خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ مومنین اس رات کو عبادت (شب بیداری)، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نماز (جیسے صلاۃ التسبیح) میں گزاریں ۔ ان کا مقصد اللہ کی رحمت اور بخشش کو حاصل کرنا ہے ۔
· امن کے فرشتے: شبِ قدر کی رات فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر امن اور خیر کا پیغام لے کر اترتے ہیں، جو طلوعِ فجر تک رہتی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ 27 رمضان کی رات مسلمانوں کے لیے غور و فکر، دعا، استغفار اور اپنے خالق سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ یہی وہ بابرکت رات ہے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔

📖✨ تقریبِ تکمیلِ قرآن مجید✨📖گزشتہ سالوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، *27ویں شبِ رمضان المبارک* المرکز *الاسلامی، عیدگا...
16/03/2026

📖✨ تقریبِ تکمیلِ قرآن مجید✨📖

گزشتہ سالوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، *27ویں شبِ رمضان المبارک* المرکز *الاسلامی، عیدگاہ روڈ* نارووال میں *محترم ڈاکٹر حافظ زاہد منیر* صاحب نے *نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید* کی تلاوت مکمل کرتے ہوئے *تکمیلِ قرآن* کی سعادت حاصل کی۔

اس بابرکت تقریب میں *نائب امیر ضلع* *جماعت اسلامی نارووال محترم جناب انوار الحق* بٹ صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی اور *قرآنِ مجید کی عظمت، اس کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں* میں نافذ کرنے کی اہمیت پر نہایت مؤثر گفتگو کی۔
تقریب میں ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب کے *والدِ گرامی* نے بھی خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔

*امیر شہر جماعت اسلامی نارووال* و صدر المرکز الاسلامی، *حافظ کلیم سلیمان* صاحب نے ڈاکٹر زاہد منیر صاحب اور مسجد کے نمازیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے افتتاحی کلمات سے تقریب کو رونق بخشی۔

تقریب کی نقابت امام و خطیب مسجد *مولانا فاروق* صاحب نے نہایت احسن انداز میں سرانجام دی، جبکہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری و متولی جناب *علی احمد مغل* نے انتظامی امور بخوبی سنبھالے۔

اس موقع پر شہر کی *ممتاز شخصیات* جن میں محترم *بشیر احمد باجوہ* ، چوہدری محمد حسین ،نزیر احمد گورایہ ، *محترم یونس مغل* ، محمد عمر مغل، *عبدالصبور واہلہ* ، *پرنسپل* ایلیمنٹری کالج و *پیکٹا جناب اشرف مغل،* پرنسپل لیب ماڈل سکول جناب عبدالواحد تتلہ، محمد حبیب مرزا، ڈاکٹر عطاء الرحمن اور *قیم شہر جماعت اسلامی* نارووال جناب محمد رضا گورایہ سمیت دیگر معززینِ شہر نے شرکت کی۔

خصوصی بات یہ رہی کہ ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب پورے رمضان المبارک میں نمازِ تراویح سے *قبل قرآنِ مجید کا مختصر اور جامع خلاصہ بیان* کرتے رہے جسے نمازیوں نے بھرپور توجہ اور دلچسپی سے سماعت کیا۔
تقریب کے اختتام پر محمد عدیل اور زوہیب بھائی نے شرکاءِ تقریب کی مٹھائی اور قہوہ سے تواضع بھی کی۔

🤲 دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ *ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب کے علم، عمل اور ایمان* میں مزید برکت عطا فرمائے اور ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
منجانب:
انتظامیہ کمیٹی
المرکز الاسلامی، عیدگاہ روڈ نارووال

Address

Zafarwal Road
Narowal

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 14:00
Sunday 10:00 - 14:00

Telephone

+923338871518

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PEWS:

Shortcuts

Share