PEWS

PEWS Punjab Education Welfare Society (Reg)Narowal PEWS is an educational welfare society, established in 1995 in Narowal and registered under societies act of 1860.

The PEWS is a non-sectarian, non-profitable organization working to serve the deprived population by empowering them with education and a determination to cultivate the healthy values, through conceptual understanding of Islam. The schools which initially comprised of a few “The Punjab Public School” in 1996 now operate as a network of community based welfare school. The PEWS by the grace of Almig

hty runs its network of low resourced but well prescribed schools which are purpose built and impart education as well as vocational training at some centers, to the underprivileged section of our society. The PEWS team comprises of a staff of dedicated and educated volunteers. Whose compassion is to help, exploit and utilize the available resources to the extent that to improve their living developing and implementing unique resources to introduce variety of skills towards sustainable change. The accounts of the organization is annually audited by professional external auditors.

17/03/2026

رمضان المبارک کی 27ویں رات کو اسلامی تاریخ اور روحانی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جسے عام مسلمان "شبِ قدر" (Laylatul Qadr) کے امکانی مواقع میں سے ایک سمجھتے ہیں ۔

اس رات کی فضیلت درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہے:

· ریت کی رات: 27ویں رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک ہے، جس میں شبِ قدر کے ہونے کا زیادہ امکان ہے ۔
· نزولِ قرآن: مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق، اس رات (شبِ قدر) کو قرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔
· افضلیت: قرآن مجید میں سورۃ القدر میں اس رات کو "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رات کی عبادت کا ثواب طویل عرصے کی عبادت سے زیادہ ہے۔
· عبادات: اس موقع پر مساجد میں خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ مومنین اس رات کو عبادت (شب بیداری)، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نماز (جیسے صلاۃ التسبیح) میں گزاریں ۔ ان کا مقصد اللہ کی رحمت اور بخشش کو حاصل کرنا ہے ۔
· امن کے فرشتے: شبِ قدر کی رات فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر امن اور خیر کا پیغام لے کر اترتے ہیں، جو طلوعِ فجر تک رہتی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ 27 رمضان کی رات مسلمانوں کے لیے غور و فکر، دعا، استغفار اور اپنے خالق سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ یہی وہ بابرکت رات ہے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔

📖✨ تقریبِ تکمیلِ قرآن مجید✨📖گزشتہ سالوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، *27ویں شبِ رمضان المبارک* المرکز *الاسلامی، عیدگا...
16/03/2026

📖✨ تقریبِ تکمیلِ قرآن مجید✨📖

گزشتہ سالوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، *27ویں شبِ رمضان المبارک* المرکز *الاسلامی، عیدگاہ روڈ* نارووال میں *محترم ڈاکٹر حافظ زاہد منیر* صاحب نے *نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید* کی تلاوت مکمل کرتے ہوئے *تکمیلِ قرآن* کی سعادت حاصل کی۔

اس بابرکت تقریب میں *نائب امیر ضلع* *جماعت اسلامی نارووال محترم جناب انوار الحق* بٹ صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی اور *قرآنِ مجید کی عظمت، اس کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں* میں نافذ کرنے کی اہمیت پر نہایت مؤثر گفتگو کی۔
تقریب میں ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب کے *والدِ گرامی* نے بھی خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔

*امیر شہر جماعت اسلامی نارووال* و صدر المرکز الاسلامی، *حافظ کلیم سلیمان* صاحب نے ڈاکٹر زاہد منیر صاحب اور مسجد کے نمازیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے افتتاحی کلمات سے تقریب کو رونق بخشی۔

تقریب کی نقابت امام و خطیب مسجد *مولانا فاروق* صاحب نے نہایت احسن انداز میں سرانجام دی، جبکہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری و متولی جناب *علی احمد مغل* نے انتظامی امور بخوبی سنبھالے۔

اس موقع پر شہر کی *ممتاز شخصیات* جن میں محترم *بشیر احمد باجوہ* ، چوہدری محمد حسین ،نزیر احمد گورایہ ، *محترم یونس مغل* ، محمد عمر مغل، *عبدالصبور واہلہ* ، *پرنسپل* ایلیمنٹری کالج و *پیکٹا جناب اشرف مغل،* پرنسپل لیب ماڈل سکول جناب عبدالواحد تتلہ، محمد حبیب مرزا، ڈاکٹر عطاء الرحمن اور *قیم شہر جماعت اسلامی* نارووال جناب محمد رضا گورایہ سمیت دیگر معززینِ شہر نے شرکت کی۔

خصوصی بات یہ رہی کہ ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب پورے رمضان المبارک میں نمازِ تراویح سے *قبل قرآنِ مجید کا مختصر اور جامع خلاصہ بیان* کرتے رہے جسے نمازیوں نے بھرپور توجہ اور دلچسپی سے سماعت کیا۔
تقریب کے اختتام پر محمد عدیل اور زوہیب بھائی نے شرکاءِ تقریب کی مٹھائی اور قہوہ سے تواضع بھی کی۔

🤲 دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ *ڈاکٹر حافظ زاہد منیر صاحب کے علم، عمل اور ایمان* میں مزید برکت عطا فرمائے اور ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
منجانب:
انتظامیہ کمیٹی
المرکز الاسلامی، عیدگاہ روڈ نارووال

14/03/2026

The Prophet ﷺ said:
“I and the one who sponsors an orphan will be like this in Paradise,” and he held his two fingers together.

14/03/2026
14/03/2026

Haram macca

15/12/2025

پنشن اصلاحات 2024
- ایک خاموش جھٹکا، ایک بے آواز انقلاب

قانون کبھی کبھی ایسے موڑ لاتا ہے جہاں قلم لرز اُٹھتا ہے، اور دل کے اندر سوالوں کی تپش دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ پنشن اصلاحات کی یہ تازہ ہوا بظاہر ایک انتظامی حکم نامہ ہے، مگر اس کے پیچھے احساسات کی وہ گہری لہر چھپی ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی پوری جوانی ریاست کی خدمت میں سمیپی، اور اب بڑھاپے کی دہلیز پر امن، تحفظ اور باوقار ریٹائرمنٹ کا خواب لیے کھڑا تھا۔ یہ اصلاحات محض اعداد و شمار نہیں—یہ ایک پوری نسل کے خوابوں، امیدوں اور اعتماد کی نئی تشریح ہیں۔

قانونی وضاحت ـ مکمل اور جامع

حکومتی اعلامیے کے مطابق 2 دسمبر 2024 کے بعد ریٹائر ہونے والے تمام سرکاری ملازمین کے لیے پنشن کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ دو بنیادی نکات انتہائی اہم ہیں:

1. ماہانہ پنشن میں واضح کمی

پرانا نظام:

30+ سالہ سروس

60 سال عمر

ماہانہ پنشن: 65% = 91,464 روپے

نیا نظام:

وہی سروس، وہی عمر

ماہانہ پنشن: (75% فارمولا کے باوجود) = 60,064 روپے

یہ مجموعی کمی تقریباً 40 فیصد بنتی ہے۔

وجہ؟
قانونی مسودے نے مؤقف اپنایا ہے کہ:

پنشنرز کی بڑھتی ہوئی تعداد

ریاست پر مالی دباؤ

بجٹ کے کمزور وسائل

ان عوامل نے پنشن کے نظام کو ’’مستحکم‘‘ بنانے کے نام پر اس کٹوتی کو ’’ناگزیر‘‘ قرار دیا ہے۔
مگر اس ’’استحکام‘‘ کی قیمت ان خاندانوں نے ادا کرنا ہے جو اپنی امیدوں کے سہارے بڑھاپا گزارنے والے تھے۔

2. پنشن کمپیوٹیشن (Lump Sum) میں شدید کمی

پرانا نظام:

35% کمپیوٹیشن = 33 لاکھ روپے

نیا نظام:

25% کمپیوٹیشن = 23 لاکھ روپے

تقریباً 10 لاکھ روپے کی یہ کمی ایک ایسے وقت میں ہوتی ہے جب ریٹائرڈ فرد کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں سب سے زیادہ مالی سہارا چاہیے ہوتا ہے۔

اصلاحات کا قانونی جواز:
حقیقت یا دلیل؟

آرٹیکل 240 کے تحت حکومت کو سروس اسٹرکچر اور پنشن پالیسی میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر ان اصلاحات کو ’’قانونی‘‘ قرار دیا گیا۔

ریاست کا موقف:

پنشن غیر واجبی فلاحی سہولت ہے

اسے بجٹ کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے

معاشی بحران کے پیشِ نظر سخت فیصلے ضروری ہیں

مگر عدالتی و سماجی ماہرین کے مطابق اصل سوالات کچھ اور ہیں:

کیا 30 سالہ سروس کے بعد یہ کمی انصاف ہے؟

کیا پنشن کو محض ’’مالی بوجھ‘‘ کہنا انسانی ضروریات کا انکار نہیں؟

کیا ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچے ہزاروں ملازمین کو ’’تدریجی تحفظ‘‘ نہیں دیا جا سکتا تھا؟

یہ سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں، اور اسی تشنگی نے ملازمین کے دلوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

سبق آموز پیغام

قانون اپنی جگہ، مگر زندگی قانون سے زیادہ انسانیت پر چلتی ہے۔
یہ اصلاحات ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہیں:

اعتماد کسی نظام پر نہیں، صرف اللہ پر کرنا چاہیے۔

ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی وقت سے پہلے کرنی چاہیے۔

ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کے بڑھاپے کو تحفظ دیں - یہ بھی بنیادی حق ہے۔

ہم سب کو ایک منظم آواز بن کر اپنی رائے حکومت تک پہنچانی چاہیے تاکہ پالیسیاں ’’لوگوں‘‘ کے لیے بنیں، ’’اعداد‘‘ کے لیے نہیں۔

پنشن صرف ایک رقم نہیں ہوتی-
یہ برسوں کی خدمات کا اعتراف، دل کی تسلی، بڑھاپے کی چھت اور عزت کی سانس ہوتی ہے۔

اہم گزارش

اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ آگے پہنچائیں۔
ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر… کسی ہزاروں گھروں تک آواز بن کر پہنچے۔
آپ کی دعاؤں کا طالب
ملک منور اقبال

12/12/2025

Investment Alert
A poor young female patient has clots in her blood that have already loosened her legs, and she needs to undergo surgery on her arms. Anyone who wants to invest for the sake of Allah Almighty

IBAN: PK21HABB0001820036224401

Address

Zafarwal Road
Narowal

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 14:00
Sunday 10:00 - 14:00

Telephone

+923338871518

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PEWS:

Share