Refugees Camp Lower Manakpiyan

Refugees Camp Lower Manakpiyan حق کے داعی، جمہوریت کے امین، خدمت کے خلق کا جذبہ They neither found appropriate leadership, nor included many educated individuals.

The human rights violations in Indian-held Jammu and Kashmir and the Kashmiris’ unprecedented struggle have been the subject of, literally, hundreds of books and thousands of articles; abundant information is available on every aspect. Surprisingly, however, the migration that began from the State in the 1990s and the difficulties faced by the refugees who arrived in Azad Jammu and Kashmir (AJK) h

ave rarely been a topic of discussion. When the reasons for this are explored, it becomes apparent that the majority of refugees hail from a very backward segment of the Jammu and Kashmir population, most of them living below the poverty line. As a result, even after their arrival in Azad Kashmir, they were unable to emerge as a collective voice. The local leadership was also unable to pay due attention to their problems. During the last 15 years (1990–2005), there has been migration from more or less all points along the 750-kilometer Line of Control (LoC). Although the extent of migration varies from area to area, the presence of refugee camps in most districts of Azad Kashmir bears testimony to the fact that suppression on the other side of the LoC has grown consistently. Although the Government of Pakistan/AJK provides regular assistance to refugee families to meet their day-to-day needs, it is considerably insufficient for the dispossessed families. A few non-governmental organizations (NGOs) are also actively supporting the refugees but their roles are limited and their resources even more so. International institutions, particularly the United Nations High Commission for Refugees (UNHCR), have provided considerable support for the rehabilitation of displaced families and individuals the world over; Kashmiri refugees have, however, remained deprived of their help. While the indifference of the international agencies is also an issue, lack of the Government interest in involving these agencies is equally regrettable. No efforts have been made to seek assistance from foreign governments and NGOs either. Meanwhile, refugees continue to arrive and settle at camps, indicating that decisions need to be made to pave the way for long-term and concrete planning for their rehabilitation and proper settlement. The objective of this paper is to study the current situation and the problems facing the refugees in order to facilitate an understanding of the issue in its proper perspective, and to suggest practical steps for the refugees’ relief and rehabilitation, keeping in view their cultural, religious and political background and aspirations.

26/04/2026
*تعلیمی پیکج اور مانکپیاں مہاجر کیمپ 2 کی عوام کے نام پیغام* تعلیمی پیکج میں شامل ہونے کے لیے حلقہ کے ایم ایل اے کو درخو...
26/04/2026

*تعلیمی پیکج اور مانکپیاں مہاجر کیمپ 2 کی عوام کے نام پیغام*

تعلیمی پیکج میں شامل ہونے کے لیے حلقہ کے ایم ایل اے کو درخواست دینا بظاہر ایک خوش آئند اقدام ہے، مگر ہماری معصوم عوام کو اصل مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ صرف درخواست دینے کا نہیں، بلکہ اس بنیادی سیاسی اور انتظامی الجھاؤ کا ہے جس نے ہمارے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری آبادی حلقہ لچھراٹ میں واقع ہے، مگر ہمارا گورنمنٹ پرائمری سکول ماضی میں منتقل کرکے حلقہ نمبر 3 سٹی میں شامل کر دیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عوام ایک حلقے میں ہیں اور سکول دوسرے حلقے میں۔
یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس نے ہمیں ہر ترقیاتی اور تعلیمی پیکج سے محروم کر رکھا ہے۔
حلقہ لچھراٹ کے متعلقہ وزیر چاہیں بھی تو اس سکول کے لیے فنڈ نہیں دے سکتے، نہ اسے اپنے تعلیمی منصوبوں میں شامل کر سکتے ہیں، کیونکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ سکول ان کے حلقے میں موجود ہی نہیں۔ دوسری طرف حلقہ نمبر 3 سٹی کے ایم ایل اے چاہیں بھی تو یہاں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، کیونکہ یہاں سے انہیں ووٹ نہیں ملنے۔
یوں ہماری نسلوں کا مستقبل سیاسی نقشوں کی ایک غلط لکیر میں دفن ہو چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ پیچیدگی پیدا کس نے کی؟ کس نے اپنے ذاتی مفاد، وقتی سیاست یا مخصوص فائدے کے لیے اس علاقے کو ایسی بے سمتی میں دھکیلا؟ اور آج وہ لوگ کہاں ہیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام صرف نئے وعدوں اور اسمبلی نشستوں کے خواب دکھانے والوں کے پیچھے نہ چلیں، بلکہ ان لوگوں کا احتساب کریں جنہوں نے اس بنیادی مسئلے کو جنم دیا۔
افسوس یہ ہے کہ کچھ لوگ صرف اسمبلی نشست کے لیے بے چین ہیں، مگر نہ انہیں سکول کی حالت کا احساس ہے، نہ سیوریج، نہ سڑک، نہ بچوں کے مستقبل کی فکر۔
مانکپیاں مہاجر کیمپ 2 کی یہ معصوم عوام آخر کب تک سیاسی تجربات کی قیمت چکاتی رہے گی؟
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام سوال کرے، جواب مانگے، اور صرف نعروں نہیں بلکہ مستقل حل کا مطالبہ کرے۔ کیونکہ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔۔۔

🖖🏻

ایک وعدہ وفا ہو گیا ابان شاء اللہ جلد بی ایچ یو کی فراہمی پر بھی عملدرآمد ہوگا۔شکریہ پاکستان
21/04/2026

ایک وعدہ وفا ہو گیا
اب
ان شاء اللہ

جلد بی ایچ یو کی فراہمی پر بھی عملدرآمد ہوگا۔

شکریہ پاکستان

*باشعور قیادت ہی قوموں کا سرمایہ ہوتی ہے* یہی فرق ہوتا ہے باشعور سیاسی قیادت اور وقتی شور مچانے والوں میں۔ ایک طرف وہ لو...
21/04/2026

*باشعور قیادت ہی قوموں کا سرمایہ ہوتی ہے*

یہی فرق ہوتا ہے باشعور سیاسی قیادت اور وقتی شور مچانے والوں میں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسئلہ پیدا کیا، عوام کو الجھایا اور خود کسی اور کی ڈکٹیشن پر چلتے رہے۔ نہ اپنی سوچ، نہ کوئی لائحہ عمل، نہ عوامی مفاد کا احساس۔
اور دوسری طرف وہ باشعور قیادت ہے جس نے عملی قدم اٹھایا، سکول کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا اور اسے اربابِ اختیار تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔
مہاجرین نمائندہ فورم کی جانب سے محکمانہ سطح پر باقاعدہ درخواست جمع کروانا ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ درخواست میں واضح موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ تعلیمی پیکج میں مانکپیاں مہاجر کیمپ کے سکول کی عمارت تعمیر کی جائے اور 1989 کے مہاجرین جموں کشمیر کے دیگر کیمپس میں بھی سرکاری سکول قائم کیے جائیں۔
یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بات ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور مہاجرین کے بچوں کو اس بنیادی حق سے محروم رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔
ہم مہاجرین نمائندہ فورم کو اس جرات مندانہ اور عوامی اقدام پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ جب نیت صاف ہو اور قیادت باشعور ہو تو مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
ساتھ ہی ان عناصر کو بھی آئینہ دکھانے کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل پر سیاست تو کرتے ہیں مگر عملی قدم اٹھانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات کی سیاست ختم ہو اور عوامی خدمت کو ترجیح دی جائے۔
تعلیم ہمارا حق ہے — اور اس حق کے حصول کی جدوجہد جاری رہے گی۔.

🖖🏻

مہاجر کیمپ مانکپیاں کے عوام کے لیے خوشخبریپل کی منظوری
21/04/2026

مہاجر کیمپ مانکپیاں کے عوام کے لیے خوشخبری

پل کی منظوری

10/04/2026

ان شاء اللّٰه العزیز
پانچواں سالانہ سہ روزہ عرس مقدس قندیل عرفانی،واقف اسرار روحانی،مرشد حقانی،نیر عرفاں،قطب زماں،غوث جہاں ،قاسم فیضان سرکار جھاگوی،حضرت الحاج پیر میاں محمد شفیع صاحب جھاگوی رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ 𝟏𝟎،𝟏𝟏،𝟏𝟐 اپریل بروز جمعہ ،ہفتہ ،اتوار بمقام دربار عالیہ غوثیہ دارالعرفان گلستان جھاگ شریف ایبٹ آباد روڈ گوجرہ مظفرآباد میں منعقد ہوگا..
مہمان خصوصی
شیخ المشائخ فخر المشائخ آفتاب چشت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت الحاج دیوان احمد مسعود چشتی فاروقی صاحب دامت برکاتہم العالیہ زیب سجادہ دربار عالیہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ پاک پتن شریف
تمام عقیدت مندان و اہل محبت سے شرکت کی استدعا ہے..
#𝐠𝐮𝐥𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧𝐞𝐣𝐡𝐚𝐠𝐬𝐡𝐚𝐫𝐢𝐟 #𝐮𝐫𝐬𝐞 #عرس

10/04/2026
Shukriya Pakistan Rally
10/04/2026

Shukriya Pakistan Rally

Address

Muzaffarabad
13100

Telephone

03475560344

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Refugees Camp Lower Manakpiyan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Refugees Camp Lower Manakpiyan:

Share