Mustafa Foundation Katkair

Mustafa Foundation Katkair جب آپ سے کوئی مدد مانگے تو اِنکار کے بجائے یہ سوچ لیں کہ اس نے آپ سے پہلے اپنے رب سے مدد مانگی تھی اور رب نے اسے آپکا پتا دیا�

سرپرست اعلٰی اور صدر فاٶ نڈیشن
09/06/2022

سرپرست اعلٰی اور صدر فاٶ نڈیشن

23/04/2022
مشن عظیمتحریرعبدالرحمان۔۔۔جامی۔۔۔کچھ اہل ستم کچھ اہل چشم میخانہ گرانے آئے تھےدہلیز کو چوم کر چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر ب...
18/04/2022

مشن عظیم
تحریر
عبدالرحمان۔۔۔جامی۔۔۔

کچھ اہل ستم کچھ اہل چشم میخانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کر چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ھے۔
میں عبدالرحمٰن جامی
سب سے پہلے بانئ فاؤنڈیشن غلام عبید اور مشتاق احمد جے کے کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے میرے موجودہ ضلع کی یونین کونسل کٹکیر کے جوانوں کی صلاحیت اور عزم صمیم کو دیکھتے ہوٸے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنے کی بھر پور کوشش کی جس سے جوان طبقہ ہی نہیں بلکہ ھر عمر کے لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور پھر ایک جوان بلکہ نوجوان کہنا بجا ہو گا کہ جس نے ہمیں قابل سمجھتے ہوئے مصطفیٰ فاؤنڈیشن کٹکیر کا آغاز کر ڈالا
اب اگر سوچوں تو ذہن میں ہزاروں سوال جنم لیتے ہیں کہ کیا آج سے پہلے کوئی ایسا انسان کٹکیر میں نہیں تھا جو اس طرح کا کام کر سکتا یا کیا غلام عبید کوئی بہت ہی امیر کبیر شخص ھے کیا غلام عبید کا دماغ ہم سے زیادہ ھے کیا غلام عبید کا اربوں کروڑں کا کاروبار ھے جو اس سے پہلے کبھی کسی کے پاس نہیں تھا کہ کوئی ایسی نیکی کر سکتا جبکہ کئی ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں یونین کونسل کٹکیر میں جو لاکھوں اربوں روپے اپنے اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے ہیں اور کیا پتہ زکوٰۃ بھی نہ دیتے ہوں مگر اللّٰہ پاک نے اس نوجوان کو نیکی کے لیے چنا اور ہمیں اس کارخیر میں بطور کارکن کی حیثیت سے چنا اور سب سے اہم زمہ داری مشتاق احمد جے کے کے زمہ لگا دی کیونکہ عبید صاحب یہ جانتے ہیں کہ یہ انسان جس کام کا بیڑہ اپنے زمہ لگا دے اسکو توڑ پہنچانا اسکے آگے چٹکیوں کا کام ہے۔اللہ پاک نے ایک نعمت اگر لی ہے تو دس صلاحیتیں اور عطا کر دی ہیں اوربفضل خدا آج جتنا کام اور جس طرز سے ہر کام مشتاق احمد جےکے کرتا ہے ہم چلنے پھرنے والے وہ کام سر انجام دینے سے قاصر ہیں اور یوں رب تعالٰی نے بتا دیا کہ میں جس سے کام لینا چاہوں تو ایسے ہی لیتا ہوں۔الحَمْدُ ِلله مشتاق احمد جے کے اس فاؤنڈیشن میں ستونوں کی حثیت رکھتے ہیں اور شاید کارکن یہ سمجھتے ہوں کہ ہم لوگ فضول ہیں مگر بتاتا چلوں کہ اگر گھڑی کی سیکنڈ والی سوئی نہ کام کرے تو گھڑی بےکار ہوتی ھے لہٰذا تمام کارکنان گھڑی کی سوئیوں کی مانند اپنا کام جاری رکھیں اور ان سب کے بارہ بجاتے رہیں جو اس کار خیر میں رکاوٹ ہیں جب بھی کوئی نیک کام کیا جاتا ھے تو شیطان اپنے دوستوں کو اس کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ھے شیطان خود تو راستہ نہیں روکتا بلکہ انھی شیطانوں کے لیے آیت مبارکہ نازل ہوئی بلکہ یہ والی پوری صورت ہی ایسے لوگوں کے لیے نازل ہوئی
(من الجنتہ والناس)
کہ جنوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہیں
شیطان ان کو اپنے کام میں لگا دیتا ھے اور یہ خیر اور بھلائی کے کاموں میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں
بیشک وہ باطل پر ہیں اور باطل مٹ کے رہتا ھے
دین کہتا ھے حق آ کر رہے گا اور باطل مٹ کر رہے گا بیشک باطل مٹنے والا ھے
ہم غلام عبید کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ جیسے ہمارے قائد مقبول بٹ کا نام ہر سال 13 فروری کو ساری دنیا میں گونجتا ھے ایسے ہی آنے والے چند سالوں میں پورے کشمیر میں اس فاؤنڈیشن کا نام بھی پوری ریاست جموں کشمیر میں گونجے گا اور مصطفیٰ فاؤنڈیشن کی ٹیم کے مخالف بھی تاحیات ہمیں سنہری الفاظ میں یاد کرتے رہیں گے
ابھی فاؤنڈیشن کی ابتدا ھے مخالفین کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں کیونکہ پانچ روپے کا سکہ پانچ سو کے نوٹ سے زیادہ شور کرتا ہے۔سمندر کو نہیں پرواہ کہ اسکی راہ میں کون آتا ہے بغیر چیخے پکارے خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور ان شاء اللہ ہم آخری دم تک فاٶنڈیشن کو چلاٸیں گے۔
والسلام
مخلص
عبدالرحمان (جامی)

انسان وہ ہے جو دوسروں کےلیے جٸے۔مصطفٰے فاٶنڈیشن کٹکیر کے پلیٹ فارم سے دوسروں کی خدمت کا موقع ملنا باعث فخر ہے۔اللہ پاک م...
11/04/2022

انسان وہ ہے جو دوسروں کےلیے جٸے۔
مصطفٰے فاٶنڈیشن کٹکیر کے پلیٹ فارم سے دوسروں کی خدمت کا موقع ملنا باعث فخر ہے۔
اللہ پاک مصطفٰے فاٶنڈیشن کٹکیر کے تمام عہدیداران و ممبران کو ثابت قدم رکھے۔
راجہ عبید خان۔

انسان کہلانے کا وہی شخص مستحق ہے جو دوسروں کےلیے دل میں درد رکھتا ہو،دوسروں سے محبت کا سلوک روا رکھتا ہو،ان کی مصیبت میں مدد کرتا ہو۔الغرض انسان وہ ہے جو دوسروں کےلیے جٸے۔
اپنے لیے تو حیوان اور کیڑے مکوڑے بھی زندہ رہتے ہیں۔محتاجوں اور
مسکینوں کو کھانا کھلانا،
بیماروں کی تیماداری کرنا،زخمیوں کی مرہم پٹی کرانا،گمراہوں کو راستہ بتانا،بوڑھوں اور بچوں کو سڑک پار کروانا،اپاہجوں کی مدد کرنا، یتیموں کے سر پرہاتھ رکھنا،بیواٶں کی امداد کرنا،ان پڑھ کو پڑھانا،کمزور کو جابر سے بچانا،حادثہ کے شکار کو ہسپتال پہنچانا،کسی بھولے بھٹکے کو اس کے گھر پہنچانا سب خدمت خلق میں آتا ہے۔

آپ ﷺ کی پوری زندگی خدمتِ خلق کا اعلیٰ نمونہ ہے، آپ ﷺ معاشرے میں خدمت خلق ، محتاجوں ومسکینوں کی دادرسی، یتیموں سے ہمدردی، پریشاں حالوں کی مدد اور دیگر بہت سارے رفاہی کاموں کے حوالے سے معروف تھے، چناںچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ، جس کا مفہو م ہے کہ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مصروف رہے گا تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہے گا ،جو کسی کی کوئی مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور کرے گا۔(صحیح بخاری و مسلم)

ایک اور جگہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے،جس کا مفہوم ہے کہ اللہ اپنے بندےکی مدد میں اس وقت تک رہتا ہے ،جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔(جامع ترمذی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک فرمان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا، اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا ، تو نے میری عیادت نہ کی،انسان حیران ہو کر کہے گا کہ اے میرے رب تو تو رب العالمین ہے، میں تیری کس طرح عیادت کرتا، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا ،کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا ، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو اسے میرے پاس پاتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو نے مجھے کھانا نہ دیا ، بندہ عرض کرےگا ۔ اے پروردگار ! تو تو رب العالمین ہے ۔ تجھے کس طرح کھانا کھلاتا ۔ اﷲ تعالیٰ فرمائےگا ، کیا یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا،لیکن تو نے اسے کھانا نہ کھلایا ۔ اگر تو اُسے کھانا کھلاتا تو اس کاثواب میرے یہاں پاتا،اسی طرح اللہ فرمائے گا، اے آدم کے بیٹے : میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ، انسان کہے گا اے میرے رب ، میں تجھے کس طرح پانی پلاتا ،جب کہ تو رب العالمین ہے ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا ،مگر تو نے اسے پانی نہ پلایا کیا۔ تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اسے میرے پاس پاتا ۔(صحیح و مسلم)

قرآن پاک اور احادیث سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک خدمتِ خلق کی کتنی زیادہ اہمیت ہے ،لیکن دور حاضر میں خدمت خلق کا جذبہ بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔آج کی دنیا میں ہر شخص اپنی ہی خواہشات کو پورا کرتا دکھائی دیتا ہے، دنیا میں ملنے والی نعمتوں پر کسی کا حق نہیں ہوتا ،یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوتی ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے، اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ہمیں اللہ نے جن نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں چاہیے ہم ان نعمتوں میں سے اللہ کی مخلوق کےلئے کچھ حصہ ضرور نکالیں، ڈاکٹر غریب مریضوں کا مفت یا کم فیس میں علاج کریں، استاد غریب بچوں کو مفت یا کم فیس میں تعلیم دیں،اگر آپ کا تعلق پولیس،عدالت یا سیاست سے ہے ، تو آپ اپنا کام ایمان داری سے کر کے خدمت خلق کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، آپ کا تعلق کسی بھی شعبےسے ہو ،اپنے کام کی نوعیت اور استطاعت کے مطابق خدمت خلق میں خود کو مصروف رکھیں۔

آج کل ایک بات جو بہت عام ہے کہ ہم اپنی استعمال شدہ اشیاء سے کسی کی مدد کرتے ہیں، مثال کے طور پرہم کسی کو کھانا بھی دیتے ہیں تو بچا ہوا،ہم کسی کو کپڑے،جوتے، کتابیں،برتن،بستروغیرہ بھی دیتے ہیں تو استعمال شدہ، اگرہم میں خدمت خلق کا جذبہ بیدار بھی ہوتا ہے تو عمر کے آخری حصے میں پہنچ کربلا شبہ ایسا کرنا کسی کی مدد نہ کرنے سے تو بہتر ہے مگر ہمیں اپنی جوانی میں خدمت خلق کے لئے وقت نکالنا چاہیے ،ہمیں کھانا کھانے سے پہلے پڑوسی یاکسی غریب کو دینے کے لئے علیحدہ کرنا چاہیے،ہمیں نئے کپڑے خریدتے وقت کسی غریب کے لئے کپڑے خریدنے چاہییں۔چناںچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے،تم میں کوئی مومن کامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔( صحیح بخاری ) جب تک ہم اپنی پسندیدہ چیز خدمت خلق کے لئے خرچ نہیں کریں گے، تب تک ہم اس کا اصل مزا نہیں چکھ سکتے اور اللہ پاک نعمتوں کو بانٹنے سے بڑھاتا ہے ،کم کبھی نہیں کرتا تو ہمیں اللہ پاک کی رضا کی خاطر مخلوق خدا کی مدد کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے۔

Address

Muzaffarabad

Telephone

+923454590100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mustafa Foundation Katkair posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mustafa Foundation Katkair:

Share