People of Muzaffarabad

People of Muzaffarabad History, Geography of Muzaffarabad and the People of Muzaffarabad

تین دریاوں کی سرزمین پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا دارلحکومت ضلع مظفرآباد زیریں کہنار وادی ، نیلم وادی اور جہلم وادی کے درمیان واقع ہے۔گہرے نیلگوں آسمانوں مخملی زمینوں ، عمیق جھیلوں ، گنگناتے جھرنوں ۔ غراقی ندیوںکھلی وادیوں ، تنگ گھاٹیوں ، کو جب یکجا کیا گیا تو مظفرآباد صورت پزیر ہوا ۔
مہاراجہ گلاب سنگھ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا رنبیر سنگھ کو بیشتر کاروبار حکومت سونپ دیا اور خود شمالی کشمیر گلگت

کی مہمات میں مصروف ہو گیا۔ سکھ اور ہندو اب رنجیت سنگھ کے بعد اسی کی ، اپنا مرّبی اور چارہ ساز سمجھنے لگے۔ چنانچہ سکھوں اور ہندوں کی خاصی تعداد ریاست کے سرحدی مقامات پر آ کر آباد ہو گئی۔ خاص کر مظفرآباد شہر کا نشیبی علاقہ ، انہی کے زمانے میں ہی ”گوردوارہ، چھٹی پادشاہی©©“ کی بنیاد ڈالی۔ یاد رہے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے 1273ھ میں تقریباً گیارہ(11)سالہ دور حکومت کے بعد ، اس کی وفات پر مہاراجہ رنبیر سنگھ سریرآرائے مملکت ہوا۔ اس سے پہلے ہی مہاراجہ گلاب سنگھ، شہر مظفرآباد سے سلاطین بمبہ کو وظائف دے کر چھوٹی چھوٹی جاگیروں میں منتشر کر چکا تھا اور اب مظفرآباد شہرمیں سکھوں اور ہندوں کو آباد کرنے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ رہی تھی لہذا علاقہ چھچھ اور گردونواح کے کئی ہندو خاندان جن میں دہرے اورمے، شرمے ، برہمن، سیٹھی ، کپور ، ٹھاکر اور کئی قوموں پر مشتمل تھے۔ مظفرآباد کے وسطی اور نشیبی حصے میں آباد ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اپنے کئی مندر اور صنم خانے تعمیر کر لےے۔ شہر کے ارد گرد اکثر دریا کے قریب میٹھے پانیوں کے بیسیوں چشمے ہیں جن کے قریب بھی ہندوں نے اپنے پوجا پاٹ اور گیان دھیان کے لےے چھوٹے چھوٹے مراکز قائم کرنے اور بعض چشموں پر ہندوں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی اپنا عمل دخل بڑھا لیااور بعض مقامات ایسے بھی تھے جہاں ایک سل پر ہندو پوجا پا ٹکرتا تھا اور دوسری سل پر مسلمان بارگِاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوتا۔ مسلمانوں کی شہر میں کئی مسجدیں پہلے ہی سے موجود تھیں۔ ان میں جامع مسجد سلطانی، خود سلطان مظفرخان ضلع مظفرآباد کے رہائشی کوارٹر میں بدل گئی اور آجکل سٹی شا]پنگ پلازہ تعمیرہے ۔ ایک اور جامع مسجد شہر کی شمالی سمت میں موسومہ حمام والی مسجد ہے۔ یہ بھی سلاطین بمبہ کے زمانے کی ہے۔ اس کے علاوہ بازار والی مسجد شہر کے وسط میں، کٹھہ والی مسجد اور شاہناڑہ مسجد شہر کے بالائی حصہ میں میں ہیں جہاں آجکل جمعہ کی نمازیں اد اہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر کو اس غرض کے لےے فراخ اور کشادہ کر لیا گیا ہے۔ 1947¾ ءسے پہلے شہر میں نماز جمعہ صرف اول الذِکر دو مساجد میں ادا ہوتی تھیں، جن میں مظفرآباد کے قریبی مقامات کے مسلمان بھی جمعہ ادا کرنے کے لےے آتے تھے۔ ایسے مواقع پر شہر بھر میں رونق اور چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ شہر کے مغربی حصہ میں مَلکَُوں کے محلہ کی ایک مسجد بھی قدیم ہے۔ یہاں بھی آج کل جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور اسے بھی فراخ اور وسیع کر دیا گیا ہے۔ ان قدیمی مساجد کے علاوہ 1947ءکے بعد بیشمار نئی مسجدیں بھی تعمیر ہوئی ہیںجہاں نماز پنجگانہ اور جمعہ کی نمازیں ہوتی ہیں۔
سادہ لوح اور خوش مزاج باسیوں کا یہ شہر بے شمار خو بیوں کا حامل ہے ۔سلاطین بمبہ ہی کے زمانہ میںکئی کشمیر ی خاندان بارہمولہ کے مضافات ، پونچھ اور کشمیر کے دیگر علاقوں سے یہاں آکر آباد ہو گئے اور یہ سلسلہ بعد میں بھی دیر تک جاری رہا ۔ ان میں کشمیری خاندانوں میں میر، گنائی،کنٹ ، ڈار ، بانڈے ، دھمن ، ہرجی ، پلہاجی، عمر چال۔گرستے ، شیخ ، پیڈت، صوفی، ماکنوں،مینگنو، قریشی، موّ اور کئی دیگر اقوام شامل ہیں۔ جو گھروں میں ابھی تک کشمیری کو مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں ، اور تمدن و تہذیب ، لباس و عادات و اطوار اور کھانے پینے اور شادی بیاہ سے بھی زیادہ تر۔ انکے کشمیری طور طریقوں ہی کی نمائندگی اور عکاسی ہوتی ہے۔ یہ کشمیری خاندان زیادہ تر تجارت ، پارچہ بافی، نجاری، گلگاری، صناعی، خطاطی اور دیگر کسی یاک شعبہ ہائے زیست سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح ضلع ہزارہ ، علاقہ پوٹھوہار سے مسلمانوں کے کئی خاندان یہاں آکر بس گئے ان میں ملک قریشی ، کیانی ، ترک ، خواجہ م چوہان ، شیخ ، مغل اور اعوان وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

اج کا سوالمظفرآباد کی ایک عمارت  Margerat مینشن کے بارے میں اپ کیا جانتے ہیں.شکریہ
09/04/2026

اج کا سوال
مظفرآباد کی ایک عمارت Margerat مینشن کے بارے میں اپ کیا
جانتے ہیں.

شکریہ


1920 نواں شہر، ایبٹ آباد کے تیرتھ رام شاہ ساہنی کی موٹر ٹرانسپورٹ کمپنی۔ یہ موٹر کمپنی راولپنڈی سے سری نگر( براستہ دومیل...
07/02/2026

1920 نواں شہر، ایبٹ آباد کے تیرتھ رام شاہ ساہنی کی موٹر ٹرانسپورٹ کمپنی۔ یہ موٹر کمپنی راولپنڈی سے سری نگر( براستہ دومیل مظفراباد )کے درمیان چلتی تھے۔
رائے بدر ایشر داس ساہنی آر بی تیرتھ رام ساہنی کے
بیٹے تھے۔

بشکرہہ
لنگر گروپ
جواد خورشید کیانی

جلال آباد۔مظفرآباد اکبر اعظم نے کشمیر کا دوسرا سفر اپریل 1592؁ء  میں کیا اور وہ ایک ہفتہ قیام کرنے کے بعد مظفرآباد کے را...
19/12/2025

جلال آباد۔مظفرآباد
اکبر اعظم نے کشمیر کا دوسرا سفر اپریل 1592؁ء میں کیا اور وہ ایک ہفتہ قیام کرنے کے بعد مظفرآباد کے راستے واپس گیا تھا -
غالباً اس سفر کے دوران جلال الدین اکبر کے نام نام پر جلال آباد آباد کیا گیا۔ اور یہاں ایک پارک بھی بنوایا گیا جو آج بھی موجود ہے اکبر کے قیام کے لئے گوجرہ کے مقام پر ایک وسیع سرائے 1597؁ء میں بنوائی گئی جو آج بھی موجود ہے۔
پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ کے مطابق مغل اس (مظفرآباد) کے راستے وادی کشمیر جایا کرتے تھے انہوں نے مظفرآباد میں کئی یادگاریں چھوڑ ی ہیں ان میں جلال آباد باغ ہے، جو جلال الدین بادشاہ کے نام پراب جلال آباد گارڈن کہلاتا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر آفاقی(مرحوم)


اج پرانے ریکارڈ سے ایک تصویر ملینام ملک عمادالدینایم اے ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹیمظفرآباد پتہ بہت کوشش کی ان کے ...
24/11/2025

اج پرانے ریکارڈ سے ایک تصویر ملی
نام ملک عمادالدین
ایم اے ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
مظفرآباد پتہ بہت کوشش کی ان کے بارے میں پتہ نہین چل رہا.
میری ادنی رایے کے مطابق نیا محلہ والے ملک فیملی کوہی تعلق نہ ہے.
غدر سے قبل کی تصویر ہے.

پیج فالورز سے معاونت کی استدعا ہے.

ایڈمن

AJK Radio ❤️
21/11/2025

AJK Radio ❤️

روزنامچہ گورنمنٹ سکول مظفرابادسال 2002بکرمیطالب علموں کے نامصادق  شاہ ولد امام علی شاہاوم پرکاش ولد سوری لالارجن سنگھ ول...
14/08/2025

روزنامچہ گورنمنٹ سکول مظفراباد
سال 2002بکرمی
طالب علموں کے نام
صادق شاہ ولد امام علی شاہ
اوم پرکاش ولد سوری لال
ارجن سنگھ ولد تارا سنگھ
(جاری ہے)

بشکریہ
جواد خورشید کیانی

مظفر آباد کا تمام وہ علاقہ جو دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر واقع ہے) زیریں کنہارہ نیلم، جہلم کی وادیاں نیز شمال مشرقی تح...
24/07/2025

مظفر آباد کا تمام وہ علاقہ جو دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر واقع ہے) زیریں کنہارہ نیلم، جہلم کی وادیاں نیز شمال مشرقی تحصیل ایبٹ آباد کا جزوی حصہ) بمبہ قبیلہ کی عملداری میں شامل تھا جبکہ بقیہ تمام علاقہ جو جہلم کے دائیں کنارے پر واقع ہے(کھاوڑہ، چکار، نامبلہ) وہ کھکھ قبیلہ کی عملداری میں تھا۔ مغل اور انا غنہ کے دور حکومت میں جو فرامین، بعہد سلاطین مظفر آباد کے نام تحریر ہوئے ان میں مظفر آباد کو '' کو ہستان ہمبہ ولائت پکھلی'' لکھا گیا ہے۔ 1190ءقبل زیریں پکھلی کا علاقہ بھی انہی ہر دو قبائل کی ملکیت اور عملداری میں شامل تھا۔یہ تحریر مانسہرہ پر لوکل قباحکمرانی پر لکھی گئی ہے۔یہ نقشہ سکھ دور حکومت کا ہے جس میں ان دو قبیلون کو درج کیا گیا ہے۔ مانسہرہ پر لوکل حکومتوں کی تواریخ حتمی نہیں ہے ۔ اس تحریر کے لئے سوائی قبلہ کی Archieve، مقامی حوالے ، گزیٹیئر، اور تاریخ ہزارہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ تاریخی تحریریں حتمی نہیں ہوتی ،انسا ن سے لکھنے اور یاد رکھنے کے دوران غلطی کا ایدیشہ رہتا ہے کیونکہ غلطی انسان کی جبلت میں شامل ہے۔
ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ اگر اپ اس خطےپہاڑ کی تارخ کا باریک ینی سے مطالعہ کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ خطہ دستیاب تاریخ سے لے کر اج تک کسی نہ کسی صورت
Resistance
کرتا رہا ہے .
شکریہ۔

سال 2013 فروری 17، شام 5 بجے  #مظفرآباد  مظفراباد
08/07/2025

سال 2013 فروری 17، شام 5 بجے
#مظفرآباد
مظفراباد

راجہ  خالد مظفر  مرحوم   انتہای  خوش اخلاق ، خوش گفتار،  خوش لباس اور شریف النفس  انسان تھے۔خاندانی وضع قطع کے ساتھ  سات...
27/06/2025

راجہ خالد مظفر مرحوم انتہای خوش اخلاق ، خوش گفتار، خوش لباس اور شریف النفس انسان تھے۔خاندانی وضع قطع کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ خالد صاحب ریڈیو کے ساتھ چار دہایوں تک منسلک رہے ۔ ڈیوٹی آفیسر سے لیکر پروگرام پروڈیوسر، سنیر پروڈیوسر اور پروگرام منیجر کے عہدوں پر تعینات رہے، اس دوران انہوں نے اردو، پہاڑی، گوجری
اور کشمیری زبانوں میں ادب و ثقافت کے حوالے سے مقبول پروگرام پرڈیووس کے جن میں کی یاد گار ڈرامے ، فیچر اور موسیقی کے پروگرام شامل تھے۔ اردو اور انگریزی ادب کے ساتھ خصوصی دلچسپی تھی،اانگریزی اور اردو کے ایک بہترین قلمکار تھے۔ آزاد کشمیر ریڈیو کے لیے ان کی نشریاتی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمایے ا٘مین
مرحوم کی وفات پر معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالکریم کا خراج عقیدت
ایک اور باب بند ہوا (ڈاکٹر عبدالکریم خان)
خالد مظفر صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ اللہ غریق رحمت فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے ۔ بھرپور زندگی گزاری۔بچپن ہی میں یتیمی کا دکھ جھیلا ہجرت کی۔دھوپ چھاوں دیکھے۔والد شہید مظفرخاں ،جج ریاسی تھے اور ہندو دہشت گردوں نے 1947 میں شہید کردیا۔
خالد مظفر صاحب روایت کی پاسدار پیڑھی کے آخری مسافروں میں سے تھے جو راہی ملک عدم ہوئے۔بلا کاحافظہ اور موسیقی اور شاعری سے محبت کرنے والے خاں صاحب سے طویل نشستیں رہیں۔ہنس مکھ اور باغ وبہار طبیعت۔غم کو خود سے دور رکھنے کے لیے مزاح پڑھتے، سنتے اور سمجھتے۔
ریڈیو نے ان کی قوت گویائی سے خوب استفادہ کیا لیکن سمعی صلاحیتوں میں بتدریج مسائل کا شکار رہے۔پسماندگان میں دوصاحبزادے، ایک صاحبزادی اور ایک بیوہ چھوڑے۔ان کی دبنگ آواز ایک مدت تک میرے کانوں میں گونجتی رہے گی

٘ (ریڈیو البم سے مرحوم کی کی تصویری جھلکیاں)

(یہ تحریر الطاف اندارابی کی وال وال سے لی گہی ہے. انشاءاللہ مصروفیات سے فرصت پاکر راجہ صاحب مرحوم انکے واد راجہ مظفر خان شہید اولین صدر سیرت کمیٹی مظفراباد اور انکے خاندان جو پر جامع تحریر اس پیج پر شیر کی جاہے گی.جو مکمل تاریخی پہلووں کو اجاگر کرے گی.

شکرہہ
ایڈمن
People of Muzaffarabad

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Farooq Khan, Wasim Qureshi, Ishaq Gujjar, Raja Ali, Umm-e...
25/06/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Farooq Khan, Wasim Qureshi, Ishaq Gujjar, Raja Ali, Umm-e Yahya Khan, Ozair Chughtai, Tufail Ahmad, Asim Naqvi, Saghir Ahmed, Abdul Rasheed Minhas, M Sarwar Tahir Tahir, Qasim Khan, Muhammad Anwar Mir, Tayyba Yousaf, Nisar Ahmed Butt

Thank you

ADMIN
PEOPLE OF MUZAFFARABAD

جاگیر گھوڑیاکبر علی خان 1198ہجری میں علاقہ گھوڑی پر قابض ہوا اور اس نے علیحدہ حکومت قائم کی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی سال اس ن...
16/06/2025

جاگیر گھوڑی

اکبر علی خان 1198ہجری میں علاقہ گھوڑی پر قابض ہوا اور اس نے علیحدہ حکومت قائم کی۔

کہا جاتا ہے کہ اسی سال اس نے تیمور شاہ درانی سے اپنی حکومت کی سند حاصل کی۔ مگر یہ سند میں نے نہیں دیکھی۔ یہ بڑا منتظم سلطان تھا۔ اس نے گھوڑی میں اپنے محلات تعمیر کئے۔ راستہ مظفر آباد اور گل گلوٹی کی حفاظت کے لئے قلعہ اور برج تعمیر کرائے۔ ان کے نشانات اب تک موجود ہیں موضع ٹپکا میں سکھوں کو آباد کیا۔ اور قلعہ ملحقہ کی حفاظت کا انہیں ذمہ دار بنایا۔ آبادی میں ترقی کی۔ آبادی موضع گھوڑی کو ترقی دے کر قصبہ کی حد تک پہنچایا۔ کھتری دوکانداروں کو نواں شہر علاقہ ہزارہ سے لاکر گھوڑی میں آباد کیا۔ مساجد و منادر کو معافیات عطا کیں۔ یہ علم دوست بھی تھا۔ علماء اور فقراءکو باہر سے لاکر اپنے ملک میں آباد کیا اور ان کو گزارہ کے لئے معافیات عطا کیں۔ خود بھی علوم عربی و فارسی کا عالم تھا۔ اور علمائسے علمی مضامین پر بحث و مباحثہ کرتا رہتا تھا۔ اس کا عہد حکومت امن وامان سے گذرا. کبھی معرکہ کی نوبت نہیں آئی۔ الغرض 96سال کی عمر تک کامیابی اور کامرانی کے ساتھ حکومت کر کے1868 بکرمی میں فوت ہوا۔

سلطان اکبر علی خان کے بعد اس کا بیٹا نجف خان ا±س کا جانشین ہوا۔ اس کا ابتدائی عہد حکومت بہت کامیاب رہا۔ ملکی اور فوجی انتظام اچھا رہا۔ تمام دعا یا فو ہا۔ تمام دعا یا فوجی خدمات انجام د ات انجام دینے کی پابند تھی۔ اس کے علاوہ پانچ مورد پیلا فوج تنخواہ دار ملازم تھی۔ اس کے عہد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر نصرت حاصل کیا۔ نجف خاں شاہزادہ شیر سنگھ کی خدمت میں بمقام کوٹ بیلہ علاقہ مانسہرہ حاضر ہوا۔ اور ا±س سے اپنی جاگیر گھوڑی کے متعلق سند مورخ?23بیساکھ 1888بکرمی مئی1831ء حاصل کی۔ اس زمانہ میں نجف خان اپنے والد کی خرید کردہ زمینداری جبڑی کلیش علاقہ مانسہرہ میں مقیم تھاا۔ بعد میں بعہد شیخ غلام محی الدین صوبہ دار کشمیر یہ تجویز ہوئی کہ جاگیر داران اپنے اپنے بیٹوں کو بطوریر غمال کشمیر میں رکھیں۔ چنانچہ سلطان نجف خان نے اپنے بیٹے فیروز الدین خان کو بطور یر غمال بھیجا۔ مظفر آباد سے رحمت اللہ خان برادر زادہ سلطان زبر دست خان اور کرناہ سے راجہ عنایت اللہ خان پر عمال بھیجے گئے۔
سن1897بکرمی 1840-41 ء میں جب سلطان نجف خان کے ساتھ شیخ غلام محی الدین صوبہ بار کشمیر کی مخالفت ہو گئی۔ صوبہ دار نے بسر کردگی مرزا ایوب و پنڈت راج کاک گھوڑی پر فوج کشی کی سلطان نجف خان مقابلہ کے لئے تیار نہ تھا۔ خفیہ طور پر اپنے قبائل لے کر یاغستان کی طرف نکل گیا۔سکھوں کی فوج نے گھوڑی پہنچھ کر سلطان کے کے محلات کو آگ لگا کر خراب کیا۔ اور یہاں اپنی چھاونی تیار کرلی۔ نجف خان ننہال باغستان میں تھا۔ ان تعلقات کی بناء پر اس نے باغستان میں( جاری ہے)

یہ پیراگراف تاریخ سلاطین بمبہ مظفر آبادساتواں حصہ سے لیا گیاہے یہ نامکمل ہے جو پروفیسر رحمت علی خان صاحب نے اپنی فیس بک پر شیر کی تھا۔ موضع کہوڑی پر مضمون لکھنے کے بارے مٰں ان سے دوبارہ درخواست کروں گا ۔ میں خود اس موضعع پر لکھنے کے بجائے استاد پروفیسررحمت علی خان صاحب سے دوبارہ درخواست کروں گا کہ وہ موضع کہوڑی پر ایک جامع مضمون اس پیج یی زینت بنائیں۔

کسی بھی علاقے کی تاریخ کسی ایک قبیلے کے بجائےاس دھرتی کے ہر فرد کی میراث ہوتی ہے۔

دعاوں میں یاد رکھیں۔

شکریہ

ایڈمن
People of Muzaffarabad

Address

Muzaffarabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when People of Muzaffarabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to People of Muzaffarabad:

Share