25/09/2021
سوشل میڈیا پر آنے والی توہین آمیز پوسٹوں کا معاملہ
تمام مسلمان اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں
چند روز قبل شاردہ نیلم ویلی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے قرآن پاک کے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا جو شائد ہی کسی مسلمان کے لیئے قابل برداشت ہوں ( سکرین شارٹ اجمل خان کے نام سے کمنٹ کے ساتھ موجود ہے )
نوجوان کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے معاملے پر جب سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیا گیا تو اس نوجوان نے نہ صرف اپنے الفاظ حذف کر دیئے بلکہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ معافی مانگتے ہوئے اپنے الفاظ پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کیا جس کی وجہ سے اس نوجوان کے خلاف سخت ردعمل ختم ہو گیا اور بغیر کسی قانونی کاروائی کے نوجوان کی جان چھوٹ گئی
اب بات کرتے ہیں آج کے تازہ رونما ہونے والے واقعات کی
ضلع نیلم کے ہیڈکوارٹر آٹھمقام کے نواحی گاوں پلنگ کا رہائشی نسیم خان جو کہ پیشے کے لحاظ سے ٹیچر ہے اور شاہکوٹ کے ایک پرائمری سکول میں ڈیوٹی پر مامور ہے۔ نسیم خان کی طرف سے ایک پوسٹ پر کمنٹ کیا گیا اور اس کمنٹ میں صحابی رسولﷺ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے حضرت امیر معاویہ کو برا بھلا کہا گیا۔ ( کمنٹ کا سکرین شارٹ اور نسیم خان کی تصویر نیچے تصاویر میں موجود ہے)
چند نوجوان نے جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا تو نسیم خان کی حمایت میں مزید ملعون سامنے آگئے اور نسیم خان کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اصحاب رسول اللہ ﷺ کی شان میں مزید گستاخیاں کرنے لگے۔ ( دیگر فسادی ملعونوں کی دفاعی پوسٹیں اور کمنٹ کے سکرین شارٹ نیچے تصاویر میں موجود ہیں )
( نیلم ویلی میں ایسے واقعات تشویشناک شکل اختیار کرنے لگے ہیں )
معاملہ جب سوشل میڈیا پر شدت اختیار کر گیا تو ہم نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فساد کی جڑ تک پہنچنے کے لیئے جب نسیم خان سے رابطہ قائم کیا تو نسیم خان نے اپنے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے کمنٹ اور تمام تر معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
" میں نے نہ ہی ایسی کوئی پوسٹ کی ہے اور نہ ہی ایسے کوئی کمنٹ جاری کیئے ہیں مجھے تو ٹھیک سے موبائل استعمال کرنا بھی نہیں آتا شائد کسی نے میرا اکاونٹ ہیک کر کے اس طرح کے توہین آمیز الفاظ سوشل میڈیا پر استعمال کیئے ہیں " ( نسیم خان کے موقف کی ویڈیو اس لنک پر موجود ہے 👈👈 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3132434506977415&id=1631047330449481 )
نسیم خان کے موقف اور کمنٹ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہ ہو گا کہ یہ الفاظ نسیم خان کی طرف سے ہی استعمال کیئے گئے ہیں کیونکہ نسیم خان کے موقف کے مطابق اسے موبائل پر ٹھیک سے لکھنا نہیں آتا اور اگر اس کے کمنٹ کا سکرین شارٹ غور سے دیکھا جائے تو اس میں بھت ساری غلطیاں ہیں جو واقعی ہی نسیم خان کو ٹھیک سے لکھنا نہ آنے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اور اگر نسیم خان کے موقف کو سچ مان لیا جائے واقعی نسیم خان بے گناہ ہو کسی نے سازش کے تحت یہ سب کیا ہے تو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے اور اصل کردار کو سامنے لانے کے لیئے بھی آواز اٹھائی جانی لازم ہے( نسیم خان کے کمنٹ کا سکرین شارٹ نیچے تصاویر میں موجود ہے )
حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ نیلم ویلی کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کے لیئے ایک گروہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے
بحیثیت مسلمان اور نبی پاک ﷺ کا امتی میرا قرآن مجید پر مکمل ایمان اور اصحاب رسولﷺ سے دل و جان سے بڑھ کر محبت ہے اہل بیت المقدس کی حرمت کے لیئے تن من جان سے حاضر ہیں ۔ نیلم ویلی میں فساد پھیلانے کی کوشش کرنے والے ایسے عناصر کے خلاف ہر مسلمان کو آواز بلند کرنی ہو گی تاکہ قانون حرکت میں آئے اور ان فسادی ملعونوں کو گستاخیوں پر سزا دیتے ہوئے نشان عبرت بنایا جا سکے ۔۔۔۔۔
نوٹ
ساتھ دیئے گئے سکرین شارٹ میں موجود کمنٹ اور پوسٹیں ان ملعونوں کی طرف سے نسیم خان کے دفاع میں کی جا رہی ہیں ( انتظامیہ ان تمام افراد کے خلاف ازخود کاروائی عمل میں لائے )
رپورٹ
عثمان طارق چغتائی