09/07/2026
وہ اس بچے کی رشتہ دار نہیں تھی۔ اسے اس اضافی وقت کا کوئی معاوضہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ وہ ایک نرس تھی جس کی ڈیوٹی کئی گھنٹے پہلے ختم ہو چکی تھی، لیکن اس نے اپنے ننھے مریض کا ہاتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
چھ سالہ کائلین (Kylian) کے لیے بچوں کے کینسر وارڈ میں رہنا ایک خوفناک تجربہ تھا، خاص طور پر رات کے وقت۔ آئی وی پمپوں اور دل کی دھڑکن مانیٹر کرنے والی مشینوں کی مسلسل مدھم بیپ بیپ اس کے لیے درد اور خوف کی علامت بن چکی تھی۔ وہ کئی دنوں سے سکون کی نیند نہیں سو سکا تھا۔
اس کی والدہ، جو شدید تھکن کا شکار تھیں، کمرے کے ایک کونے میں رکھی چھوٹی سی فولڈنگ چارپائی پر کچھ دیر آرام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اسی دوران کائلین کی نرس جینا (Jenna) اپنی نہایت مصروف 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے اختتام پر آخری بار اس کا حال پوچھنے کمرے میں آئی۔ اس نے دیکھا کہ مدھم روشنی میں کائلین کی آنکھیں خوف سے کھلی ہوئی تھیں۔
جینا نے نرمی سے پوچھا:
"کیا بات ہے، میرے بہادر دوست؟"
کائلین نے دھیمی آواز میں کہا:
"مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے… پلیز، مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔"
جینا نے ایک نظر اس کی تھکی ہوئی ماں پر ڈالی، پھر دوبارہ کائلین کی طرف دیکھا۔ اس کی ڈیوٹی ختم ہو چکی تھی، اور اسے اپنے گھر جا کر آرام کرنا چاہیے تھا۔ مگر اس نے کمرے کے کونے سے ایک کرسی کھینچی اور بچے کے بستر کے پاس بیٹھ گئی۔
اس نے کائلین کی والدہ سے کہا:
"آپ آرام کریں، میں اس کے پاس ہوں۔"
وہ بیٹھ گئی، اس نے کائلین کا ننھا سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور اس سے باتیں کرنے لگی۔ اس نے اپنے شرارتی کتے کے قصے سنائے، بتایا کہ صبح ناشتے میں کیا کھانے کا ارادہ ہے، اور ہر وہ بات کی جو اسپتال، بیماری اور تکلیف سے ہٹ کر تھی۔
آہستہ آہستہ کائلین کی سانسیں معمول پر آ گئیں، اس کا خوف کم ہونے لگا، اور چند ہی لمحوں میں وہ گہری نیند سو گیا۔
کچھ دیر بعد جب اس کی والدہ کی آنکھ کھلی تو کمرے میں خاموشی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو سکون سے سوتے دیکھا۔ پھر ان کی نظر نرس جینا پر پڑی، جو کرسی پر بیٹھی بیٹھی خود بھی نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔ اس کی ڈیوٹی ختم ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا، مگر اس کا ہاتھ اب بھی مضبوطی سے کائلین کے ہاتھ میں تھا۔
یہ منظر دیکھ کر کائلین کی والدہ جذبات سے مغلوب ہو گئیں۔ انہوں نے خاموشی سے اس لمحے کی ویڈیو بنانی شروع کی اور آہستہ سے کہا:
"یہ میرے بیٹے کی حفاظت کرنے والا ایک فرشتہ ہے۔"