Share The Care A Welfare Foundation Pakistan

Share The Care A Welfare Foundation Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Share The Care A Welfare Foundation Pakistan, Charitable organisation, Multan.

علامہ اظہر عباس حیدری صاحب کی مکمل وڈیو کے لئے پہلے کمنٹ میں لنک دیکھیں  Al Asrar Hussain Syed TVمجلسِ چہلم شہداءِ کربلا...
11/08/2026

علامہ اظہر عباس حیدری صاحب کی مکمل وڈیو کے لئے پہلے کمنٹ میں لنک دیکھیں
Al Asrar Hussain Syed TV
مجلسِ چہلم شہداءِ کربلا | مناظرِ اسلام مولانا اظہر عباس حیدری | مرکزی امام بارگاہ حسینیہ ٹبہ سلطان پور
اس ویڈیو میں جلیل القدر عالمِ دین، مناظرِ اسلام اور خطیبِ ولایتِ آلِ محمد (ص) حضرت مولانا اظہر عباس حیدری صاحب کا مرکزی امام بارگاہ حسینیہ، ٹبہ سلطان پور میں ارشاد فرمایا گیا نہایت ہی پرتاثیر، ایمانی اور علم و معرفت سے بھرپور خطاب ملاحظہ فرمائیں۔
یہ مجلسِ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے پُرنور موقع پر منعقد کی گئی، جس میں آپ نے فضائل و مصائبِ اہل بیتِ اطہر (ع)، تاریخِ کربلا اور مذہبِ تشیع اثنا عشریہ کے عقائد،ولایت امیر المومنین مولا امام علی علیہ السّلام،سادات کی عظمت،عزت ،عصمت شرف و افضلیت پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ مولانا اظہر عباس حیدری صاحب کی دینِ اسلام اور عزاداریِ سید الشہداء کے فروغ کے لیے خدمات اور علمی مناظرے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
آپ کی اس ایک گھنٹے سے زائد طویل پرمغز گفتگو کو آخر تک سنیں تاکہ دین و حق کی معرفت حاصل ہو سکے۔
📌 اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو:
ویڈیو کو لائک (Like) کریں 👍
اپنے پیاروں اور دیگر تمام سادات و مومنین و مومنات و مسلمین کے ساتھ شیئر (Share) کریں ↗️
چینل کو سبسکرائب (Subscribe) کریں اور گھنٹی کے نشان (Bell Icon) کو دبائیں تاکہ ہر نئی مجلس آپ تک سب سے پہلے پہنچے 🔔
کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور
"یا حسین (ع)" ضرور لکھیں۔

تعلیم، علمِ نافع اور ریاست کی ذمہ داریاں: اسوہِ رسولؐ و اہل بیتؑ کی روشنی میں تحریر: سید علی جبران شاہ نقوی (صحافی و تجز...
09/07/2026

تعلیم، علمِ نافع اور ریاست کی ذمہ داریاں: اسوہِ رسولؐ و اہل بیتؑ کی روشنی میں
تحریر: سید علی جبران شاہ نقوی (صحافی و تجزیہ کار/کالمسٹ )
تعلیم اور حصولِ علم کسی بھی معاشرے کی بقا، ترقی اور اخلاقی سربلندی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام وہ واحد دین ہے جس کا آغاز ہی لفظ "اِقْرَأْ" (پڑھ) سے ہوا۔ علم محض معلومات کے ذخیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو شعور، بیداری اور خالقِ کائنات کی معرفت عطا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں نظامِ تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے، وہاں قرآنِ کریم، متفق علیہ احادیثِ نبویؐ، اور اسوہِ اہل بیتؑ کی روشنی میں تعلیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور ریاستی ذمہ داریوں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔قرآنِ مجید اور علم کی اہمیت ،قرآنِ حکیم نے جاہل اور عالم کو برابر قرار نہیں دیا اور علم کو فضیلت کی بنیاد بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ"فرما دیجئے: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔" (سورہ الزمر، آیت: 9)ایک اور مقام پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اہل علم کے درجات کی بلندی کا ذکر یوں فرمایا:يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا۔" (سورہ المجادلہ، آیت: 11)یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں علم کا حصول صرف ایک ضرورت نہیں، بلکہ انسانی شرف اور بلندیِ درجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔متفق علیہ احادیثِ نبوی (بین الفریقین)علم کی فرضیت اور اہمیت پر امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر (بین الفریقین) کا مکمل اتفاق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متواتر اور متفق علیہ احادیث اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔علم کی فرضیت: آقا نامدارؐ کا ارشادِ گرامی ہے:"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ""علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔" (ابن ماجہ، بیہقی)علم کی فضیلت اور راستہ: رسول اللہؐ نے علم کی راہ میں نکلنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان ہونے کی نوید سنائی:"مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ""جو شخص علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔" (صحیح مسلم)معلمِ کائنات: آپؐ نے اپنی بعثت کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:"إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا""بے شک مجھے معلم (استاد) بنا کر ہی بھیجا گیا ہے۔" (ابن ماجہ)اسوہِ رسولؐ و اہل بیتِ اطہارؑ اور تعلیمی نظام ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک اہل بیت علیہم السلام نے علم کو کائنات کی سب سے بڑی دولت اور جہالت کو سب سے بڑی غربت قرار دیا۔
۱۔ غزوہِ بدر کے قیدی اور تعلیمی فدیہ ، تاریخِ اسلام کا یہ منفرد اور انقلابی واقعہ اسوہِ رسولؐ کا بہترین عکاس ہے کہ غزوہِ بدر کے بعد جن مشرک قیدیوں کے پاس فدیہ دینے کی رقم نہیں تھی، آپؐ نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ مدینہ کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم کی اہمیت جنگی فدیے سے بھی بالاتر ہے۔
۲۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کا نقطہِ نظربابِ مدینۃ العلم، حضرت علی علیہ السلام نے علم اور مال کا موازنہ کرتے ہوئے نہج البلاغہ میں فرمایا:"علم مال سے بہتر ہے، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور مال کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے، جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔"
۳۔ امام جعفر صادقؑ کا تعلیمی انقلاباہل بیتِ اطہارؑ کا اسوہ صرف دینی علوم تک محدود نہ تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے درسِ بلاغت و علمی سنگت سے جابر بن حیان جیسے مایہ ناز کیمیا دان (Chemist) پیدا ہوئے، جنہوں نے دنیا میں سائنسی علوم کی بنیاد رکھی اور جو بھی ایجادات ہیں وہ مرہون منت ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل بیتؑ کے نزدیک ہر وہ علمِ نافع سراہا گیا ہے جو انسانیت کی فلاح کا باعث بنے۔تعلیمی نظام کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریاں ، اسلامی تاریخ اور بنیادی احکامات کی روشنی میں تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین اور بنیادی ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ موجودہ دور کے حکمرانوں کو درج ذیل خطوط پر تعلیمی اصلاحات کرنی چاہئیں:
ریاستی ذمہ داری تفصیل اور حل
1مفت اور لازمی تعلیم ،ریاست کا فرض ہے کہ وہ ابتدائی سے لے کر اعلیٰ سطح تک ہر شہری کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنائے۔2یکساں تعلیمی نظام ، طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔ غریب اور امیر کے بچوں کے لیے ایک جیسا نصاب اور سہولیات فراہم کی جائیں۔3علمِ نافع اور سائنسی نصاب ،نصاب کو صرف نظریاتی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کو شامل کیا جائے تاکہ نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
4اساتذہ کا بلند مقام ، اساتذہ کو معاشی طور پر مستحکم اور معاشرتی طور پر عزت دار مقام دیا جائے، کیونکہ ایک مجبور استاد کبھی بہترین معمارِ قوم نہیں بن سکتا۔
5اخلاقی و روحانی تربیت ، جدید علوم کے ساتھ ساتھ نصاب میں قرآن و سنت اور اسوہِ اسلاف کی روشنی میں اخلاقی تربیت (تزکیہ) کو لازمی جزو بنایا جائے۔
حاصلِ کلام ، اگر ہم بحیثیتِ قوم زوال کی پستیوں سے نکل کر عروج کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف کرنا ہوگا۔ تعلیم کو تجارت بنانے کے بجائے اسے ہر شہری کا بنیادی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ قرآن کی ہدایت، فرمانِ رسولؐ اور اسوہِ اہل بیتؑ کا تقاضا یہی ہے کہ ہم جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے مٹائیں اور ایک ایسا فلاحی معاشرہ تشکیل دیں جہاں علم کی شمع ہر گھر کو روشن کرے۔

سود سے پاک پاکستان: محمد و آلِ محمدؑ کا اسوہ معیشت اور فلاحی ریاست کا روڈ میپتحریر: سید علی جبران شاہ (صحافی و تجزیہ کار...
08/07/2026

سود سے پاک پاکستان: محمد و آلِ محمدؑ کا اسوہ معیشت اور فلاحی ریاست کا روڈ میپ
تحریر: سید علی جبران شاہ (صحافی و تجزیہ کار)
📩 [email protected] | 📞 03077349643
پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر معرضِ وجود میں آیا تھا۔ ایک ایسا ملک جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جس کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمائی۔ قائد اعظم نے یکم جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا تھا کہ "مغرب کا معاشی نظام دنیا کے لیے تباہی کا باعث بن چکا ہے، ہمیں اپنے ماہرینِ معیشت کو ایسا نظام وضع کرنے پر لگانا چاہیے جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو"۔ مگر افسوس کہ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ہم اسی استعماری اور سودی دلدل میں دھنستے چلے گئے، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے معاشی بدحالی، مہنگائی اور غیر ملکی قرضوں کی غلامی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
اگر ہم پاکستان کو دنیا کا امیر ترین، خوشحال اور ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں روایتی معاشی پیوند کاری کے بجائے بنیادی اور انقلابی مالی اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا۔
سود: اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ اور قرآنی انتباہ
ہمارے تمام معاشی مسائل کی جڑ وہ سودی نظام ہے جس پر ہماری معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اسلام میں سود کو محض ایک گناہ نہیں، بلکہ کفر کے بعد سب سے سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم سچے مومن ہو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔" (سورہ البقرہ: 278-279)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ سود خوروں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ
"جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) نہیں کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔" (سورہ البقرہ: 275)
رسول اللہ ﷺ نے سود کی شناعت کو واضح کرتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا:
"خبردار! جاہلیت کا ہر سود آج میرے دونوں قدموں کے نیچے (پامال) ہے اور ختم کیا جاتا ہے" (صحیح مسلم)۔
اسی طرح سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
"رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی دستاویز لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں" (صحیح مسلم)۔
جب تک ہم اس لعنت سے پیچھا نہیں چھڑائیں گے، ہماری معیشت میں برکت آسکتی ہے نہ عوام کو سکھ مل سکتا ہے۔
محمد و آلِ محمد علیہم السلام کا اسوہِ معیشت اور فلاحی ماڈل
جب ہم اسلامی فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں تو مدینۃ المنورہ کا وہ مثالی نظام ہمارے سامنے آتا ہے جس کی بنیاد خود تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے رکھی اور جس کی فکری و عملی آبیاری امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور اہل بیتِ اطہار علیہم السلام نے فرمائی۔
رسول اللہ ﷺ نے مواخاتِ مدینہ کے ذریعے ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کے بجائے معاشرے کے غریب ترین طبقے تک پہنچا۔ قرآن پاک اس اصول کو یوں بیان کرتا ہے:
كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنُ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ
"تاکہ یہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے۔" (سورہ الحشر: 7)
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دورِ حکومت میں بیت المال کی تقسیم کا جو معیار قائم کیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپؑ نے مالکِ اشتر کو لکھے گئے اپنے تاریخی مکتوب (جو نہج البلاغہ میں موجود ہے اور اقوامِ متحدہ نے اسے بہترین حکمرانی کا چارٹر تسلیم کیا ہے) میں معاشی انصاف کا سنہرا اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"ملک کی آبادی اور خوشحالی پر تمہاری نظر ٹیکس جمع کرنے سے زیادہ ہونی چاہیے، کیونکہ ٹیکس بھی آبادی اور زراعت کی خوشحالی ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور جو اباد کیے بغیر ٹیکس مانگتا ہے، وہ شہروں کو تباہ اور خدا کے بندوں کو ہلاک کرتا ہے"۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واہل بیتِ اطہار علیہم السلام کا یہ اصول واضح کرتا ہے کہ حکومت کا اصل کام عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنا نہیں بلکہ انہیں پیداواری کاموں میں لگا کر خوشحال بنانا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا معاشی فرمان ہے کہ: "خداوند عالم نے سود کو اس لیے حرام کیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کو قرضِ حسنہ اور نیکی کے کاموں سے محروم نہ کریں"۔ اگر ریاست سود ختم کر کے باہمی تعاون کا نظام لائے تو معاشرے سے نفرت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
غیر ملکی و داخلی سودی قرضوں کا متبادل کیا ہے؟
اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا مقامی بینکوں سے سودی قرضے نہ لیے جائیں تو ملک کیسے چلے گا؟ اسلام جمود کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک متحرک اور متبادل نظامِ معیشت پیش کرتا ہے۔ حکومت کو درج ذیل متبادلات پر فوری کام کرنا ہوگا:
۱۔ صکوک (اسلامی بانڈز) اور اثاثوں پر مبنی فنانسنگ
بین الاقوامی اور ملکی اداروں سے نقد رقم سود پر لینے کے بجائے حکومت کو اپنے بڑے منصوبوں (جیسے موٹرویز، بندرگاہیں، توانائی کے منصوبے) کے لیے "صکوک بانڈز" جاری کرنے چاہئیں۔ اس میں سرمایہ کار کو سود کے بجائے منصوبے کے منافع اور نقصان میں شریک بنایا جاتا ہے۔ ملائیشیا اور خلیجی ممالک نے اسی ماڈل کو اپنا کر اربوں ڈالر کا سرمایہ اکٹھا کیا۔
۲۔ مضاربت اور مشارکت کا فروغ
بینکنگ سیکٹر کو مکمل طور پر نفع و نقصان کی شراکت (Profit and Loss Sharing) پر منتقل کیا جائے۔ بینک محض "رقم ادھار دینے اور سود وصول کرنے" کا ادارہ نہ ہو، بلکہ وہ زراعت، صنعت اور تجارت میں براہِ راست شراکت دار بنے۔ اس سے مارکیٹ میں حقیقی دولت گردش کرے گی اور کاغذی معیشت کا خاتمہ ہوگا۔
۳۔ قرصِ حسنہ اور قومی فنڈز
بیرون ملک مقیم کروڑوں پاکستانیوں کا اثاثہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر حکومت سود سے پاک، شفاف اور "قرضِ حسنہ" کا ایک متبادل قومی فنڈ قائم کرے، جہاں سمندر پار پاکستانی ملکی ترقی کے لیے ہنگامی فنڈز جمع کرائیں، تو ہمیں کسی بین الاقوامی ادارے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اسلامی فلاحی ریاست کا قیام: حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں
ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست میں حکومت کا کام صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات کی کفالت اور معاشرے کی اصلاح ہے۔ حکومت کو درج ذیل پانچ بنیادی ستونوں پر کام کرنا ہوگا:
۱۔ روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار کی فراہمی
اسلامی ریاست میں ہر شہری کی بنیادی ضرورت (غذا، لباس، سر چھپانے کی جگہ) کا تحفظ ریاست کے ذمے ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
"جس شخص کا کوئی والی (وارث) نہ ہو، اس کا والی سلطان (ریاست) ہے" (جامع ترمذی)۔
حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے کاروباروں کے لیے بلا سود قرضے (Micro-financing) فراہم کرنے چاہئیں تاکہ ہر انسان باعزت طریقے سے کما سکے۔ حضرت مولا علی علیہ السلام اپنے دورِ حکومت میں راتوں کو بھیس بدل کر غریبوں کے گھروں میں آٹا اور راشن پہنچایا کرتے تھے، یہ حکمران کی ذمہ داری کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔
۲۔ سادات کرام عالی عظام کے لئے خمس اورعام مسلمانوں کے لئے زکوٰۃ کا مربوط نظام
غربت کے خاتمے کے لیے اسلام کا سب سے بڑا ہتھیار خمس اورزکوٰۃ ہے۔ ملک پاکستان میں رسول اللہ کی اولاد پاک کے لئے خمس کا نظام نافذ کرنا ہوگا اور موجودہ زکوٰۃ کے نظام کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ زکوٰۃ کا مقصد محض چند ہزار روپے بانٹنا نہیں، بلکہ غریب کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا تھا:
"انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان کے مالوں پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے، جو ان کے امیروں سے لیا جائے گا اور ان کے غریبوں میں بانٹ دیا جائے گا" (صحیح بخاری)۔
۳۔ مفت صحت اور یکساں نظامِ تعلیم
تعلیم اور صحت کی سہولیات ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہئیں۔ جب تک امیر اور غریب کے بچے کے لیے ایک جیسا نصابِ تعلیم اور یکساں طبی سہولیات میسر نہیں ہوں گی، معاشرتی تفریق ختم نہیں ہو سکتی۔ صحت مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت ہی کسی بھی ملک کو امیر اور خوشحال بناتی ہے۔
۴۔ جاگیرداری کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن زمینوں کی غیر منصفانہ تقسیم نے کسان کو غلام بنا رکھا ہے۔ اسلام میں بنجر زمینوں کو آباد کرنے والے کو اس کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر کے زرعی اراضی غریب کاشتکاروں میں تقسیم کرے اور زرعی انقلاب لائے۔
اسلامی نظامِ معیشت کے ثمرات اور برکات
جب ملک میں اسلامی معاشی نظام نافذ ہوگا تو اس کے فوائد فوری طور پر عوام تک پہنچیں گے:
مہنگائی اور مصنوعی قلت کا خاتمہ: سودی نظام اور ذخیرہ اندوزی (جس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے) کا خاتمہ ہوتے ہی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں آئیں گی۔
برکت اور امن کا نزول: جب معاشرہ سود جیسے گناہِ کبیرہ سے پاک ہوگا، تو اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔ قرآن پاک میں وعدہ ہے: "اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے" (سورہ الاعراف: 96)۔
طبقاتی فرق کا خاتمہ: سرمایہ دارانہ نظام غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر بناتا ہے، جبکہ اسلامی نظام دولت کو نچلی سطح تک پھیلاتا ہے جس سے غربت کا جڑ سے خاتمہ ہو جاتا ہے۔
خلاصہ کلام: اب نہیں تو کب؟
سپریم کورٹ کا شریعت اپیلٹ بینچ اور وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی پاکستان سے سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ دے چکے ہیں۔ اب گیند حکومت، مقتدر حلقوں اور ہمارے ماہرینِ معیشت کے ریمارکس میں ہے۔ سود کو چھوڑنا صرف ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ ہماری معاشی بقا کا واحد راستہ بھی ہے۔
اگر ہم سود کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، محمد و آلِ محمدؑ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق خمس و زکوٰۃ کا نظام نافذ کریں،
اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے سادگی اختیار کریں اور میرٹ کی بنیاد پر فلاحی پالیسیاں بنائیں، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا، بلکہ دنیا کا سب سے بہترین، خوشحال اور امیر ترین اسلامی معاشرہ بن کر ابھرے گا۔ جہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں رہے گا، جیسا کہ تاریخِ اسلام نے کوفہ میں مولا علیؑ کے دورِ عدل میں دیکھا جہاں کوئی ایک شخص بھی محتاج نہ رہا تھا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم رحمتِ الٰہی کے سائے میں ایک نئے، خوددار اور غریب پرور پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

26/05/2026

🌙 عید الاضحیٰ مبارک! 🕋
اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے صدقے آپ کو، آپ کی فیملی اور تمام امتِ مسلمہ کو عید کی حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے۔ ہماری قربانیوں اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین۔
تمام اہل اسلام کو میری اور میری فیملی کی طرف سے عید الاضحیٰ بہت بہت مبارک ہو! ❤️





ٰ



Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Share The Care A Welfare Foundation Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share