30/08/2026
💔
تعلیم کا غروب ہوتا سورج
آج ملک کے آنگن میں تعلیم کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔
یونیورسٹیوں کے دروازے، کالجوں کی راہداریاں، اسکولوں کے صحن... سب ویران۔ داخلہ ڈیسک پر بیٹھے لوگ بس کرسیاں گھور رہے ہیں۔
جن مضامین کو کبھی ہمارے اساتذہ فخر سے پڑھاتے تھے، آج ان کے نام تک زنگ آلود تختیوں پر اداس لٹک رہے ہیں۔
اردو، فارسی، ریاضی، اسلامیات، فزکس، فلسفہ، تاریخ، سماجیات، شماریات، معاشیات، نفسیات، کیمسٹری، نباتات، حیوانیات، زبانیں...
یہ سب علم کے چراغ ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں۔ جیسے کوئی اپنی آخری سانس گن رہا ہو۔
اور سب سے بڑا زخم یہ ہے...
جب 15 سیکنڈ کی ٹک ٹاک ویڈیو کی کمائی، کسی استاد کی پی ایچ ڈی کی 8 سال کی محنت سے زیادہ ہو جائے،
تو پھر کون ماں باپ اپنے لختِ جگر کو کتابوں کی دنیا میں دھکیلے گا؟
کون جوان اپنی راتیں لائبریری میں جگائے گا؟
ایچ ای سی آج اس بوڑھے باپ جیسی لگتی ہے جو کونے میں بیٹھا کھانس رہا ہے۔ جسم جواب دے چکا ہے، مگر آنکھوں میں ابھی بھی پرانے خوابوں کی روشنی ہے۔
گھروں میں فیس کے لیے پیسے نہیں۔
اداروں کے خزانے خالی ہیں۔
کچھ یونیورسٹیوں کی حالت یہ ہے کہ لگتا ہے کل کو اپنی دیواریں اور درخت بیچ کر تنخواہیں دینی پڑیں گی۔
یہ صرف تعلیمی بحران نہیں ہے میرے بھائی...
یہ ہماری آنے والی نسلوں کے خوابوں کا قتل ہے۔
یہ اس قوم کے دل کی دھڑکن رکنے جیسا منظر ہے۔
جب نوجوان لاکھوں روپے لٹا کر بھی اپنے مستقبل میں صرف اندھیرا دیکھے،
تو بتاؤ... کون علم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرے گا