Reminders For Youth

Reminders For Youth میرا مقصد اللّٰه اور مُحَمَّد (ﷺ )کا پیغام آپ تک پہنچانا ہے اس نیک میشن میں میرا ساتھ دیں جزاکاللّٰه
(3)

11/08/2026

Allah Ka Wali Gunha Gar Beautiful Reminders For Youth

11/08/2026
10/08/2026

Namaz Qabool Ni huo Geii Muhammad Ali Reminders For Youth

09/08/2026

Eman And Desires Abu Saad Reminders For Youth

09/08/2026

یا اللہ! جتنے بھی بیمار ہیں، سب کو شفا عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲❤️

09/08/2026

Tuaha Ibn Jalil

08/08/2026

Logo Ki Baatuo Ka Bora Na Manuo Tuaha Ibn Jalil Reminder

آپ اس شخص یا عادت کی جانب بار بار کیوں مائل ہوتے ہیں؟جب حضرت لوط علیہ السلام کو شہر چھوڑنے کا حکم ملا تو یہ محض جگہ بدلن...
07/08/2026

آپ اس شخص یا عادت کی جانب بار بار کیوں مائل ہوتے ہیں؟

جب حضرت لوط علیہ السلام کو شہر چھوڑنے کا حکم ملا تو یہ محض جگہ بدلنے کا فیصلہ نہیں تھا
بلکہ ایک روحانی قطع تعلق تھا

حکم واضح تھا:
چلے جاؤ...اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو

رات کی تاریکی تھی
قدم تیز تھے
دلوں میں خوف تھا
اور پیچھے ایک ایسا شہر تھا جو اپنی ہر حد پار کر چکا تھا اللہ کا عذاب آنے والا تھا

رحمت کا دروازہ صرف ان لوگوں کے لیے کھلا تھا جو اللہ کا حکم مان کر نکل جائیں

لیکن اس قصے کا سب سے بھاری لمحہ یہ نہیں کہ شہر پر عذاب آیا

سب سے بھاری لمحہ وہ تھا

جب حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی مومنوں کے ساتھ چل تو رہی تھی
مگر اس کا دل شہر کے ساتھ تھا
اہل ایمان کے ساتھ نہیں

وہ قدموں سے ہجرت کر رہی تھی
لیکن دل سے نہیں

یہ پیچھے دیکھنا صرف گردن موڑنا نہیں تھا

یہ دل کا جھکاؤ تھا۔

یہ اس جگہ کے لیے اندرونی نرم گوشہ تھا جسے اللہ نے چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا

کبھی آپ نے غور کیا ہے؟
اللہ نے انہیں صرف نکلنے کا حکم نہیں دیا
بلکہ یہ بھی فرمایا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا

کیوں؟
کیونکہ بعض اوقات نگاہ دل کا اعتراف ہوتی ہے۔

آپ جس طرف دیکھتے ہیں، دراصل آپ کا دل اسی طرف مائل ہوتا ہے

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے شاید سوچا ہوگا:
بس ایک نظر
اپنا شہر
اپنا ماضی دیکھ لوں

لیکن مسئلہ یہی تھا۔
وہ "میرا" ابھی تک زندہ تھا

نجات صرف جسم کی حفاظت کا نام نہیں
نجات دل کی سمت بدلنے کا نام ہے

اگر دل ابھی بھی اُس گناہ آلود ماحول کے ساتھ دھڑک رہا ہو
اگر اندر کہیں اُس بگڑے ہوئے نظام کے لیے نرم گوشہ باقی ہو

تو قدموں کا آگے بڑھ جانا کافی نہیں ہوتا۔

یہ قصہ ہمیں ایک گہرا سوال دے جاتا ہے:
کیا آپ واقعی اُس عادت یا اُس شخص کو چھوڑ چکے ہیں؟

یا صرف اُس سے دور ہوئے ہیں؟

آپ نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں
دینی محفلوں میں شامل ہو سکتے ہیں
اچھی صحبت اختیار کر سکتے ہیں

لیکن اگر دل اب بھی اُس پرانی عادت،
اس ناجائز تعلق
یا اس زہریلی یاد کے لیے نرم ہے
تو خطرہ ابھی باقی ہے۔

کیونکہ پیچھے مڑ کر دیکھنا آنکھوں کا مسئلہ نہیں تھا
یہ دل کی وفاداری کا مسئلہ تھا

اور الرقيب دیکھ رہا تھا کہ دل کس کے ساتھ ہے

ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک خفیہ شہر ہوتا ہے

کوئی گناہ
کوئی تعلق
کوئی عادت

جسے اللہ نے چھوڑنے کا حکم دیا، مگر دل اب بھی اس کے لیے دھڑکتا ہے

آگے بڑھنا صرف راستہ بدلنے کا نام نہیں
یہ ترجیح بدلنے کا نام ہے
یہ محبت بدلنے کا نام ہے
یہ خواہش کی سمت بدلنے کا نام ہے

کیونکہ جس چیز کو آپ دل میں زندہ رکھتے ہیں
وہی ایک دن آپ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچ سکتی ہے

یہ قصہ صرف عذاب کی کہانی نہیں
یہ دل کی سمت کا آئینہ ہے

پھر مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا

جب شراب کی حرمت کی آیات نازل ہوئیں تو یہ صرف ایک فکری تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک عملی اقدام تھا

حضرت محمد ﷺ نے اللہ کا حکم سنایا:
اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف یہ نہیں کہا کہ:
"اب ہم نہیں پئیں گے"

انہوں نے برتن الٹ دیے
مشکیزے پھاڑ دیے
اور مدینہ کی گلیاں بہتی ہوئی شراب سے بھر گئیں

کیونکہ وہ جانتے تھے
اگر برتن باقی رہے
تو کمزوری بھی باقی رہے گی

کسی چیز کو چھوڑنے کے دو درجے ہوتے ہیں

پہلا،
نظریاتی انکار
"میں اب یہ کام نہیں کروں گا"

اور دوسرا،
عملی قطع تعلق
یعنی وہ تمام راستے، ذرائع اور یادگاریں ختم کر دینا جو دوبارہ اُسی طرف لے جاتی ہوں۔

ہم اکثر پہلا قدم تو اٹھا لیتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
"بس... اب کافی ہے"

ہم توبہ بھی کر لیتے ہیں
وقتی طور پر فاصلہ بھی بنا لیتے ہیں

لیکن
ہم برتن نہیں توڑتے

اور برتن کیا ہیں؟

وہ نمبر جو ابھی تک محفوظ ہے
وہ چیٹ جو ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئی
وہ جگہ جہاں جانا ابھی بھی بند نہیں کیا

وہ چیزیں جو الماری میں یہ سوچ کر رکھی ہیں کہ:
"شاید کبھی"

اور حقیقت یہ ہے...

یہی "شاید کبھی" اصل مسئلہ ہے
نفسیاتی طور پر انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے

عادت صرف ارادے سے نہیں بنتی
عادت ماحول، رسائی اور محرکات سے بنتی ہے

اگر محرک موجود رہے گا
تو خواہش دوبارہ جاگے گی

اگر رسائی آسان رہے گی
تو کمزوری غالب آ جائے گی

اسی لیے قرآن نے صرف "مت کرو" نہیں فرمایا

بلکہ فرمایا:
"دور رہو"

یعنی ایسا فاصلہ پیدا کرو
کہ واپسی مشکل ہو جائے

ہم منہ تو موڑ لیتے ہیں
مگر برتن نہیں توڑتے۔

ہم کہتے ہیں:
"میں اس تعلق سے نکل آیا ہوں"

مگر تصاویر فون میں محفوظ رہتی ہیں

ہم کہتے ہیں:
"میں اس گناہ سے بچنا چاہتا ہوں"

مگر تنہائی میں وہی دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں

یہ اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنا ہے
اسلام انسان کی فطرت کو سمجھتا ہے
ہمیں محفوظ بناتا ہے

برتن توڑنا دراصل اپنے نفس پر عدم اعتماد کا اعلان ہے

اور یہی دانشمندی ہے۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے
جب تک برتن سلامت ہیں، رجوع کا امکان بھی باقی ہے

اکثر اوقات میں اور آپ یہی کرتے ہیں۔

ہم سچویشن سے تو آگے بڑھ جاتے ہیں
مگر برتن نہیں توڑتے

ہمت کیجیے،
اور اُن برتنوں کو توڑ دیجیے

جو آپ کو بار بار اُس عادت، اُس گناہ یا اُس شخص کی طرف مائل کرتے ہیں۔

Admin :Zaneeq
Reminders For Youth

07/08/2026

Dua Qabool Huoti Hai Lazmi Huoti Hai Tuaha Ibn Jalil Reminders For Youth

06/08/2026

Zindagi Asan Karnay Ka Wazifa Tuaha Ibn Jalil Reminders For Youth

Address

Gujranwala
Model Town

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reminders For Youth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share