ADK

ADK To raise the Socic-Economic and legal awareness of women in the state of Jammu and Kashmir.

🎀 بریسٹ کینسر – آگاہی زندگی بچا سکتی ہےبریسٹ کینسر ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج بیماری ہے، جو صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں...
15/10/2025

🎀 بریسٹ کینسر –
آگاہی زندگی بچا سکتی ہے

بریسٹ کینسر ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج بیماری ہے، جو صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس کا بروقت پتہ لگانا اور علاج کروانا زندگی کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

بچاؤ کا بہترین طریقہ:

ہر ماہ خود معائنہ کریں

اگر چھاتی یا بغل میں کوئی گٹھلی، سوجن، یا غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

40
سال کے بعد خواتین سالانہ میموگرافی کروائیں

متوازن غذا اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں

اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ آگاہی، ہمت، اور وقت پر علاج کے ذریعے ہم بہت سی زندگیاں بچا سکتے ہیں۔

آئیں، خاموشی توڑیں — خود بھی جانیں، دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔





















-

بچوں کی نافرمانی یا بات نہ ماننا والدین اور اساتذہ کے لیے ایک عام لیکن فکر انگیز مسئلہ ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب ...
14/10/2025

بچوں کی نافرمانی یا بات نہ ماننا والدین اور اساتذہ کے لیے ایک عام لیکن فکر انگیز مسئلہ ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی بچہ مسلسل ہدایات یا نصیحتوں کو نظر انداز کرتا ہے، تو اس کے پیچھے گہری نفسیاتی اور جذباتی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔

"جو بچہ دوسروں کی بات نہیں مانتا، وہ عموماً وہی بچہ ہوتا ہے جس کی اپنی بات یا احساسات مسلسل نظر انداز کیے گئے ہوں۔"

یہ رویہ محض ضد یا نافرمانی نہیں بلکہ ایک ردعمل ہوتا ہے—اپنی اہمیت، شناخت، اور احساسات کے اعتراف کا مطالبہ۔

1. توجہ کی کمی:
جب بچے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بات یا جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، تو وہ دوسروں کی باتوں کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیتا ہے۔

2. محبت یا اعتماد کا فقدان:
ایک بچہ جسے اپنے والدین یا سرپرستوں سے جذباتی وابستگی یا تحفظ کا احساس نہ ہو، ان کی بات ماننے میں فطری طور پر ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔

3. حد سے زیادہ سختی یا کنٹرول:
ایسے ماحول میں جہاں ہر وقت ممانعت ("یہ مت کرو، وہ مت کہو") کا غلبہ ہو، وہاں بچہ خودمختاری کے اظہار کے طور پر نافرمانی کو چُنتا ہے۔

4. رائے کو اہمیت نہ دینا:
اگر بچے کی رائے، احساسات یا خیالات کو بار بار رد کیا جائے، تو وہ سیکھ لیتا ہے کہ دوسروں کی بات بھی قابلِ توجہ نہیں۔

5. رویہ کی ماڈلنگ:
بچے بہت کچھ اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ بڑوں کو مسلسل نافرمانی، بدتمیزی یا بات نہ مانتے ہوئے دیکھیں، تو وہی طرزِعمل ان کے رویے میں بھی در آتا ہے۔

بچوں کی نافرمانی کو محض ضد یا بُرے اخلاق سے جوڑنا زیادتی ہوگی۔ درحقیقت، یہ اکثر اُن جذبات کی پکار ہوتی ہے جو سنے جانے کے منتظر ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کے رویے کو سمجھیں، ان کے جذبات کو تسلیم کریں، اور ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ خود کو محفوظ، اہم اور بااختیار محسوس کریں۔

Halima Sadia
Healer | Emotional Wellness | Spiritual Growth | Parenting & Relationships Mentor




























8اکتوبر 2005 آج سے بیس سال پہلے، 8 اکتوبر 2005 کو، زمین نے ایک ایسا زخم دیا تھا جو وقت کے ساتھ تو بھر گیا، مگر اس کے نشا...
07/10/2025

8
اکتوبر
2005

آج سے بیس سال پہلے، 8 اکتوبر 2005 کو، زمین نے ایک ایسا زخم دیا تھا جو وقت کے ساتھ تو بھر گیا، مگر اس کے نشان آج بھی دلوں پر تازہ ہیں۔
ایک لمحے میں بستیاں اجڑ گئیں، خواب ملبے تلے دب گئے، اور آنکھوں نے وہ منظر دیکھے جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔

مگر انہی ملبوں کے بیچ ایمان، ہمت اور انسانیت نے جنم لیا۔
جب لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنے،
جب اجنبیوں نے غم بانٹا،
اور جب قوم نے دکھ کو خدمت میں بدلا۔

آج ہم ان تمام شہداء کو یاد کرتے ہیں جو اس دن رب کے حضور چلے گئے،
اور ان ہاتھوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو ملبوں سے زندگی تلاش کر رہے تھے۔

آزمائشیں آتی ہیں، مگر قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو مشکل وقت میں ایک ہو کر اٹھتی ہیں۔

اللّٰہ سب مرحومین کی مغفرت فرمائے
اور ہمیں انسانیت کی خدمت کے جذبے میں ثابت قدم رکھے۔

بچوں کو ڈرانے  یا دھمکی دینے کا نقصانبچوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اکثر والدین غیر شعوری طور پر ڈراتے یا دھمکاتے ہیں —"ی...
05/10/2025

بچوں کو ڈرانے
یا دھمکی دینے کا نقصان

بچوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اکثر والدین غیر شعوری طور پر ڈراتے یا دھمکاتے ہیں —
"یہ نہیں کرو گے تو کھانا نہیں دوں گی"،
"یہ نہیں مانو گے تو ابو ناراض ہو جائیں گے"،
"اگر روئے تو بھوت آ جائے گا"۔

ایسے جملے وقتی طور پر تو بچہ خاموش کر دیتے ہیں،
لیکن لمبے عرصے میں اُس کے ذہن، دل اور شخصیت پر گہرے منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔

1. ڈرا ہوا نہیں، اعتماد سے خالی بچہ بنتا ہے
بچہ اپنی رائے یا جذبات ظاہر کرنے سے گھبراتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ "محبت شرائط کے ساتھ ملتی ہے"۔

2. جھوٹ بولنے کی عادت پڑتی ہے
جب بچے کو بار بار دھمکی دی جاتی ہے، وہ سچ بولنے سے ڈرتا ہے۔
وہ اپنے تحفظ کے لیے باتیں چھپانے لگتا ہے۔

3. محبت خوف میں بدل جاتی ہے
ماں باپ کے قریب رہنے کے بجائے بچہ ان سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔

4. دماغ میں “سزا کا نظام” بیٹھ جاتا ہے
بچہ سمجھتا ہے کہ ہر غلطی پر سزا ضروری ہے،
معافی، سمجھ بوجھ اور نرمی کا تصور مٹ جاتا ہے۔

5. تخلیقی صلاحیت اور خود اعتمادی ختم ہوتی ہے
خوف زدہ ذہن نہ سوچ سکتا ہے، نہ سیکھ سکتا ہے۔
بچہ صرف “غلطی نہ کرنے” کے دباؤ میں رہتا ہے۔

“اگر تم یہ کرو گے تو مجھے خوشی ہوگی”

“چلو ہم مل کر سیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے”

“مجھے پتا ہے تم تھوڑا ڈر رہے ہو، مگر تم بہادر ہو”

“غلطی ہو گئی تو کوئی بات نہیں، ہم ٹھیک کر لیں گے”

ڈرانا وقتی نظم دیتا ہے،
محبت اور سمجھ بوجھ ہمیشہ کے لیے کردار بناتی ہے۔

Halima Sadia – Healer | Emotional Wellness | Spiritual Growth | Parenting & Relationships Mentor

عورت صرف ایک رشتہ یا کردار کا نام نہیں، بلکہ ایک مکملانسان ہے جس کے اندر سوچنے، فیصلہ کرنے اور آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحی...
21/09/2025

عورت صرف ایک رشتہ یا کردار کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل
انسان ہے جس کے اندر سوچنے، فیصلہ کرنے اور آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری معاشرتی روایات اور رویّے اکثر عورت سے اس کا سب سے قیمتی سرمایہ چھین لیتے ہیں — خود پر اعتماد۔

اعتماد کے بغیر عورت اپنی قابلیت، تعلیم اور تجربے کو بروئے کار نہیں لا سکتی۔ لیکن جب عورت پر بھروسہ کیا جائے، اسے بولنے، سننے اور فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ترقی کی راہیں کھولتی ہے۔

عورت پر اعتماد دراصل ایک روشن مستقبل پر اعتماد ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ عورت اپنی ذہانت، قربانی اور حوصلے سے ہر میدان میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ
(البقرۃ: 228)
“اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں پر ذمہ داریاں ہیں، دستور کے مطابق۔”

حدیثِ نبوی ﷺ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں عورتوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کرو۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم عورت پر اعتماد کریں گے، اس کی آواز سنیں گے، اور اسے اپنے خواب حقیقت میں بدلنے کے مواقع فراہم کریں گے۔ کیونکہ جب عورت پر اعتماد کیا جاتا ہے، تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔

Halima Sadia |Healer|Emotional Wellness, Spiritual Growth, Parenting & Relationship Mentor


#خوداعتمادی










"لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ"(آ...
19/09/2025

"لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ"
(آل عمران: 92)

ترجمہ: "تم نیکی کے اعلیٰ مقام کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو، اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔"

سیلاب نے ہمارے بہت سے بہن بھائیوں کو بے گھر اور بے سہارا کر دیا ہے۔ آج وہ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ کپڑے ہیں، نہ بستر اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ ایسے وقت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے لئے آسانی پیدا کریں۔

ہم سب کو چاہیے کہ اپنے گھروں سے نئے یا پرانے لیکن قابلِ استعمال کپڑے، خاص طور پر سردی کے موسم کے لیے گرم جُوڑے، کمبل اور جوتے عطیہ کریں۔ آج وہ ضرورت مند ہیں، کل کو ہم بھی آزمائش میں ہو سکتے ہیں

آئیے! ہم سب مل کر سیلاب زدگان کا سہارا بنیں اور ان کے لئے وہی دیں جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔

الفاظ کا زخم — بچوں کی نفسیات پر اثراتاکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کے سامنے بچوں کو عزت اور محبت دکھاتے ہیں،...
14/09/2025

الفاظ کا زخم — بچوں کی نفسیات پر اثرات

اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کے سامنے بچوں کو عزت اور محبت دکھاتے ہیں، مگر جب کوئی اکیلا ہوتا ہے تو انہی بچوں کو سخت الفاظ سے ذلیل کرتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف بچے کو الجھن میں ڈال دیتا ہے بلکہ اس کے اندر اعتماد اور خودی کو بھی توڑ دیتا ہے۔

بچے اپنی پہچان سن کر بناتے ہیں — الفاظ کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔

بارہا سنے جانے والے دل آزار الفاظ جیسے "گدھا، الو کا پٹھا، پاگل یا جاہل" بچوں کے دل میں نفرت، شرمندگی اور کم قدر کا احساس چھوڑ دیتے ہیں۔

جو بڑے بچوں کو اکیلے میں نیچا دکھاتے ہیں، وہ دراصل اپنی محرومیوں اور اندر کے زخموں کو ان پر اتارتے ہیں — یہ بچے کی غلطی نہیں، بڑے کی کمزوری ہے۔

اپنے بچوں کو محبت اور نرمی سے سمجھائیں:
"تم وہ نہیں ہو جو کسی کے غصے یا تلخی نے کہا۔ تم قیمتی ہو، محترم ہو اور اللہ کی تخلیق ہو۔"

اور بڑوں کے لیے ایک سادہ مگر اہم پیغام:
آج اگر آپ کسی بچے کو ذلت دو گے، تو آپ اس کا طویل المدتی ٹراما بنا رہے ہوں گے — اور کل اس کا اثر یا مکافات آپ ہی پر لوٹ سکتے ہیں۔
(یعنی، ایک بچے کے زخم بھلے نظر نہ آئیں، مگر ان کا اثر آنے والے کل میں آپ کی اجتماعی ذمہ داری اور رویوں پر منفی طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔)

آئیے مل کر ایسا ماحول بنائیں جہاں عزت اور محبت دکھاوے کا حصہ نہ ہوں بلکہ حقیقت بنیں — ہر بچہ محفوظ، باوقار اور خوددار ماحول کا مستحق ہے۔


سیلاب اور ناگہانی آفات سے متاثرہ ہمارے بہن بھائی آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ایسے وقت میں چھوٹی سی قربانی بھی ان کے لیے ب...
10/09/2025

سیلاب اور ناگہانی آفات سے متاثرہ ہمارے بہن بھائی آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ایسے وقت میں چھوٹی سی قربانی بھی ان کے لیے بڑی راحت بن جاتی ہے۔

اگر آپ کپڑے، بستر، رقم، برتن یا کوئی بھی ضرورت کی چیز دینا چاہتے ہیں تو براہِ راست ہمیں فراہم کریں، یا اپنے قریب موجود کسی بھی امدادی کیمپ میں جمع کروا دیں تاکہ یہ امانتیں جلد از جلد ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں۔

سردیوں کا موسم قریب ہے، اس لیے کمبل، رضائیاں اور گرم کپڑوں کا عطیہ خصوصاً بے حد قیمتی ثابت ہوگا۔

آئیں! اپنے حصے کی روشنی جلائیں اور مصیبت میں گھرے خاندانوں کے لیے امید بنیں۔


- إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَس...
06/09/2025

- إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
-سورۃ الاحزاب،۵۶

ہنر اور قرآن  زندگی کی دو روشنیوں کا سنگم ہمارے ادارے میں بچیوں کو سلائی کے ہنر کے ساتھ ساتھ قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم بھی...
05/09/2025

ہنر اور قرآن
زندگی کی دو روشنیوں کا سنگم

ہمارے ادارے میں بچیوں کو سلائی کے ہنر کے ساتھ ساتھ قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
ہمارا مقصد ہے کہ یہ بچیاں معاشی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ دین و ایمان سے بھی جڑی رہیں، تاکہ ایک باوقار اور روشن زندگی گزار سکیں۔

ہاتھ میں ہنر ہو تو زندگی آسان بنتی ہے
دل میں قرآن ہو تو زندگی روشن ہو جاتی ہے

۔"سب سے بہترین کھانا وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے کمائے" (حدیث)۔"یہ مرکز سلائی اور کڑھائی کا نہیں بلکہ حوصلے اور ...
03/09/2025

۔
"سب سے بہترین کھانا وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے کمائے" (حدیث)۔

"یہ مرکز سلائی اور کڑھائی کا نہیں بلکہ حوصلے اور خود داری کا مرکز ہے۔

ہمارا یقین ہے کہ جب ایک عورت باہنر ہو جاتی ہے تو پورا گھر روشن ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سوئی، ہر دھاگے اور ہر مشین کو صرف ایک ہنر نہیں بلکہ ایک مستقبل سمجھتے ہیں۔"


: یتیم بچوں کی مکمل تربیت اور ان سے حسنِ سلوکدنیا میں سب سے زیادہ محروم اور حساس طبقہ یتیم بچوں کا ہوتا ہے۔ وہ جن سے قدر...
02/09/2025

: یتیم بچوں کی مکمل تربیت اور ان سے حسنِ سلوک

دنیا میں سب سے زیادہ محروم اور حساس طبقہ یتیم بچوں کا ہوتا ہے۔ وہ جن سے قدرت نے والدین کا سایہ چھین لیا ہو، ان کے دل نازک، جذبات حساس، اور زندگی کے تقاضے بہت پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

قرآن میں یتیم کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:

> "فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ"
"پس یتیم پر ظلم نہ کرنا"
(سورہ الضحیٰ، آیت 9)

> "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ"
"اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: ان کی اصلاح بہتر ہے"
(سورہ البقرہ، آیت 220)

نبی کریم ﷺ کا فرمان

> "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (اور آپ ﷺ نے دو انگلیاں اکٹھی کر کے دکھائیں)"
(صحیح بخاری)

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یتیم کی دیکھ بھال انسان کو جنت میں رسول ﷺ کے قریب کر دیتی ہے۔

یتیم کی ہمہ جہت تربیت: ہر پہلو سے

1. Emotional (جذباتی) تربیت

یتیم بچے اکثر پیار، توجہ اور والدین کے سائے کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

ان سے نرمی سے بات کریں

ان کے دل کی بات سنیں

انہیں احساس دلائیں کہ وہ تنہا نہیں

2. Mental (ذہنی) تربیت

اچھی تعلیم دیں

سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی آزادی دیں

ان کے اعتماد کو بحال کریں

3. Physical (جسمانی) نگہداشت

صحت کا خیال رکھیں

کھانے، لباس، رہائش کی اچھی سہولیات دیں

کسی قسم کی جسمانی زیادتی سے مکمل حفاظت کریں

4. Spiritual (روحانی) تربیت

نماز، قرآن، دعا کی تعلیم دیں

ان میں اللہ سے محبت اور توکل کا جذبہ پیدا کریں

دین کا فہم اور اسلامی اخلاق سکھائیں

5. Moral (اخلاقی) تربیت

سچ بولنا، بڑوں کا ادب، صبر، برداشت سکھائیں

ان کو اعتماد دیں کہ وہ معاشرے میں عزت سے جی سکتے ہیں

6. Financial (مالی) مدد اور تربیت

اگر ان کا مال ہے تو اس کی حفاظت کریں، اس میں خیانت نہ کریں

ان کو روزگار کے قابل بنائیں

اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا ہنر سکھائیں

یتیم کے اعتماد اور بھروسا کیسے بحال کریں؟

یتیم اکثر عدم تحفظ
(insecurity)
اور خوف کا شکار ہوتے ہیں، ان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے:

انہیں اپنائیت دیں: "تم ہمارے اپنے ہو"

چھوٹے چھوٹے فیصلے ان سے کروائیں تاکہ خود اعتمادی بڑھے

ان پر بھروسا کریں، ان کے وعدے کو اہمیت دیں

غلطی ہو تو محبت سے سمجھائیں، شرمندہ نہ کریں

یتیم کی دل جوئی کرنے والوں کے لیے خوشخبری

نبی ﷺ نے فرمایا:

> "جو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے (محبت سے)، اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کو اتنی نیکیاں عطا کرے گا"
(مسند احمد)

یتیم بچوں کی کفالت صرف روٹی، کپڑے اور تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ان کی مکمل شخصیت کی تعمیر کرنی چاہیے۔ ان کی جذباتی، ذہنی، روحانی، اخلاقی، اور مالی تربیت اس انداز سے کرنی چاہیے کہ وہ کل کو خود دار، پر اعتماد اور صالح انسان بن کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔

یہ عمل نہ صرف ہمیں دنیا میں سکون دے گا بلکہ آخرت میں اللہ کا قرب اور جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا ذریعہ بنے گا۔

Halima Sadia | Emotional Wellness, Spiritual Growth, Parenting & Relationship Mentor

Address

Mirpur
10250

Opening Hours

Monday 09:00 - 14:00
Tuesday 09:00 - 14:00
Wednesday 09:00 - 14:00
Thursday 09:00 - 14:00
Friday 09:00 - 14:00

Telephone

+925827432954

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ADK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ADK:

Share