06/08/2023
*اظہار تعزیت*
آج مورخہ 6 اگست بروز اتوار ریلوے ورکرز یونین کا اجلاس جناب منظور احمد رضی صاحب کی قیادت میں چل رہا تھا، درمیان میں سرہاری ریل حادثہ کی بریکنگ نیوز آگئی، مرکزی جنرل سیکرٹری جناب محمد نسیم راؤ صاحب کے حکم پر 5 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، شہداء و زخمیوں کیلئے دعا کی گئی۔
______________________________________________
______________________________________________
بھوک سے مرنے والے غریب کے مرنے کے بعد اسکے ایصال ثواب کیلئے دیگیں خیرات کرنے سے اس غریب کو زندگی میں ایک وقت کا کھانا کھلادینا افضل ہے،
یہ ہی حال کچھہ ہماری مظلوم ریل کا ہے جب تک چل رہی ہے الله تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی نہ کسی کی دعاؤں سے چل رہی ہے، رہی کام کی بات تو عرصہ دراز سے مینٹیننس صفر ہے، نہ کوارٹرز کی مرمت، نہ پٹریوں پر بیلیسٹ، نہ کوچز کی مرمت، نہ اسٹاف کی تعداد کا مکمل ہونا دوسری جانب دیکھا جائے تو اصل وجہ ہے اسٹورز سے سامان کی سپلائی جو کہ عرصہ دراز سے بند ہے یہاں تک کہ اسٹیشن ماسٹرز کو آپریشنلز پیپرز بھی سپلائی نہیں کئے جاتے، آخر کب تک لنگڑی لولی ریل یونہی چیلیگی۔۔؟
کب تک ہیڈ ٹی ایکس آر ایک جگہ سے نٹ نکلواکر دوسری جگہ لگوائیں گے، کب تک مختلف برانچ کے فورمین صاحبان اپنی جیب سے سامان لیکر لگواتے رہینگے۔۔؟
کب تک اسٹاف کے بغیر لوکل ارینجمینٹ پر ریل چلتی رہیگی، پورے پاکستان ریلویز میں ایسی کوئی بھی برانچ مشکل ہوگی جس برانچ میں ملازمین کی تعداد مکمل ہو، جہاں گینگ مین جو ریل کی بنیاد ہیں وہ کہیں بھی مکمل نہیں، گینگ جمعدار کو ریلوے لائین کیلئے مٹیریل سپلائی نہ کیا جاتا ہو، وہاں ایکسیڈنٹ ہونے پر حیرانگی نہیں اعلیٰ افسران کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، ہر برانچ میں اسٹاف کی شارٹیج کی وجہ سے افسران بالا کا ڈنڈا کہ ریل چلاؤ، ریل کا ہر ملازم اوور ہورس ڈیوٹی کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن چکا ہے نچلے طبقے کی ایل ایف پی، سی ایل بند ہیں، تنگ آکر ملازمین ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہیں تو ریٹائرمنٹ نہیں دیجاتی، اگر کوئی 60 سال میں ریٹائرڈ ہوتا ہے تو بقایا جات ادا نہیں کیجاتیں، اگر یہ ہی حال رہا تو آخر کب تک اس ریل اس طرح چلیگی، اگر اسی طرح ریل کو چلایا گیا تو مشینری بھی مجبور ہوکر بے حال ہو جاتی ہے بیچاری لنگڑاتی ہوئی ریل مظلوم مسافروں سمیت گرجاتی ہے نتیجتاً بری طرح حادثات رونما ہوتے ہیں، اور دلوں میں حسرتیں لئے اپنے گھروں اپنے بچوں کی جانب جاتے ہوئے مسافران شہید و زخمی ہوتے ہیں، الزام نچلے طبقے کے ملازمین ڈرائیورز، گارڈز، اسٹیشن ماسٹرز پی ڈبلیو آئیز پر آتا ہے اور بیجا سزا بھگتتے ہیں بلا وجہ بیوروکریسی کی نا اہلی کی سزا بیچارے ریل کے ملازمین کو دیجاتی ہے، آج سرکاری کا ریل حادثہ بھی یقیناً انہی باتوں میں سے ایک سلسلے کی کڑی ہوسکتی ہے، اس کے بعد دیکھا گیا کہ ہیلی کاپٹر اوپر اڑ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ صاحب اور نہ جانے کون کون اپنا اپنے فوٹو سیشن کیلئے پہنچ رہے ہیں، حکومت کے کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں، بے دریغ پیسہ فوٹو سیشن کی مد میں تباہ و برباد ہورہا ہے، چیف منسٹر صاحب و دیگر اعلیٰ حکام حادثہ کے وقت فوٹو سیشن کرکے کروڑوں روپے ضایع کرنے کے بجاء الله تعالیٰ کے واسطے ریل اور ریل کے ملازمین کے مسائل پر ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی قائدین سے میٹنگ کرکے ریل کی بہتری کے لئے پروگرام مرتب دیں تو ان شاءاللہ تعالیٰ آئندہ نہ صرف حادثات میں کمی آسکتی ہے، بلکہ ریل یقیناً ترقی کرسکتی ہے.
آخر کب تک بیگناہ مسافر و ملازمین زخمی ہوتے رہینگے، اور ملازمین و ملازمین کی ہر سال لاشیں اٹھاتے رہینگے۔۔۔۔؟
ریلوے ورکرز یونین اس حادثے کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتی ہے صاف اور شفاف انکوائری کرکے مجرمان کو سخت سے سخت سزا دیجائے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے ریل کو بچایا جاسکے۔
منجانب:- جاوید اقبال میمن ڈویژنل انفارمیشن سیکرٹری کراچی ڈویژن۔