Consumer Protection Council Swat

Consumer Protection Council Swat Consumer Protection Council Swat Consumer protection group of S*F organizations designed to ensure the rights of consumers as well as fair trade, competiti

کیا آپ اپنے روزانہ کھانے میں قدرتی اور تازہ چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں؟
24/08/2026

کیا آپ اپنے روزانہ کھانے میں قدرتی اور تازہ چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں؟

سٹوڈنٹس کےلئے سنہری موقع
20/08/2026

سٹوڈنٹس کےلئے سنہری موقع

قرضِ حسنہ نہ ملا، پندرہ لاکھ کا قرض اٹھایا اور تباہی کی بنیاد رکھ دییہ کہانی خیبرپختونخوا کے ایک کاروباری شخص کی ہے۔ نام...
24/07/2026

قرضِ حسنہ نہ ملا، پندرہ لاکھ کا قرض اٹھایا اور تباہی کی بنیاد رکھ دی
یہ کہانی خیبرپختونخوا کے ایک کاروباری شخص کی ہے۔ نام اور شناخت ظاہر کرنا مقصود نہیں، کیونکہ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جس سے نہ جانے کتنے کاروباری افراد اور ان کے خاندان خاموشی سے گزر رہے ہیں۔
وہ ایک کاروباری شخص تھا۔ کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا، گھر کا نظام بھی کسی نہ کسی طرح سنبھلا ہوا تھا، لیکن کچھ عرصے سے کاروباری مندی نے اسے بری طرح متاثر کر رکھا تھا۔ اسی دوران اسے اپنے مال سپلائر کو ایک بڑی رقم ادا کرنا تھی۔ کاروباری حالات ایسے تھے کہ وہ بروقت ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ رقم ادا نہیں ہو رہی تھی، اصل خطرہ یہ تھا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں سپلائر نے مال دینا بند کر دینا تھا، اور اگر مال کی سپلائی رک جاتی تو اس کا کاروبار بھی بند ہونے کے قریب پہنچ جاتا۔ برسوں کی محنت سے کھڑا کیا گیا کاروبار ایک معمولی سی مالی رکاوٹ کے باعث ڈوبنے کے خطرے سے دوچار تھا۔
اس نے سوچا کہ شاید کوئی دوست، رشتہ دار یا قریبی شخص مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے اور اسے قرضِ حسنہ مل جائے۔ اس نے اپنے حلقہ احباب میں بہت ہاتھ پاؤں مارے، کئی لوگوں سے رابطہ کیا، اپنی مجبوری بیان کی اور مدد کی امید باندھی، لیکن ہر طرف سے مایوسی ہی ہاتھ آئی۔ کسی نے کہا کہ وہ خود مالی مشکلات کا شکار ہے، کسی نے معذرت کرلی اور کسی کے پاس مدد کے لیے رقم ہی نہیں تھی۔ یوں قرضِ حسنہ حاصل کرنے کی اس کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔
وہ اپنی دکان پر پریشان حال بیٹھا تھا۔ کاروبار بچانے کی فکر، سپلائر کی ادائیگی کا دباؤ اور مستقبل کی بے یقینی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ اسی دوران ایک دوست دکان پر آیا۔ اس نے اسے پریشان دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ کاروباری شخص نے اسے سارا ماجرا سنایا۔ دوست نے تسلی دیتے ہوئے اسے ایک کار بارگین کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہاں سے اسے چھ ماہ کی ادائیگی پر موٹر کار مل سکتی ہے۔
پریشان حال شخص کے لیے یہ تجویز کسی امید کی کرن سے کم نہ تھی۔ وہ کار بارگین کے مالک کے پاس پہنچا۔ معاملہ طے ہوا اور اسے چھ ماہ کی ادائیگی پر ایک موٹر کار پندرہ لاکھ روپے میں دے دی گئی۔ اس نے وہ گاڑی فوری طور پر ایک دوسرے شخص کو آٹھ لاکھ روپے میں فروخت کردی اور آٹھ لاکھ روپے نقد حاصل کرلیے۔ اس رقم سے اس نے اپنے سپلائر کو فوری ادائیگی کردی۔ سپلائی بحال رہی، کاروبار چلتا رہا اور بظاہر ایک بڑا بحران ٹل گیا۔
اس نے شاید اس دن سکون کا سانس لیا ہوگا کہ اس نے اپنا کاروبار بچا لیا ہے، لیکن حقیقت میں اس نے اپنے کاروبار کو نہیں بلکہ اپنی تباہی کو چند ماہ کے لیے مؤخر کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص کاروباری مندی کے باعث آٹھ لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس کے ذمے اب چھ ماہ بعد پندرہ لاکھ روپے کی ادائیگی کھڑی تھی۔ سوال یہ تھا کہ وہ یہ رقم کہاں سے لائے گا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فرد کی کہانی خیبرپختونخوا میں موجود ایک بڑے اور خاموش معاشرتی مسئلے سے جڑ جاتی ہے۔ نجی طور پر سودی قرض دینے کا کاروبار اور مالی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کا رجحان کوئی نیا مسئلہ نہیں، لیکن معاشی مشکلات، مہنگائی، کاروباری مندی اور محدود مالی وسائل کے باعث اس کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک ضرورت مند شخص جب فوری رقم کے حصول کے لیے باقاعدہ مالیاتی نظام تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا تو وہ ایسے راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جہاں اسے بظاہر فوری سہولت ملتی ہے، مگر اس کے بدلے میں مستقبل کا مالی بوجھ کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں نجی سود کے انسداد کے لیے قانون موجود ہے۔ اس قانون کا مقصد ہی لوگوں کو نجی سود خوروں کے استحصال سے تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر قانون موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کہاں ہے؟ اگر نجی سودی کاروبار قانوناً ممنوع ہے تو پھر یہ سرگرمیاں کیسے جاری ہیں؟ اگر کوئی شخص کسی ضرورت مند کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے غیر معمولی مالی بوجھ تلے دبا دیتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کا مؤثر نظام کہاں ہے؟
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہر نجی قرض یا ہر قسطوں کا کاروبار لازماً غیر قانونی سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ اصل مسئلہ ان معاملات کا ہے جہاں کسی شخص کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، غیر شفاف شرائط عائد کی جائیں یا قرض کے نام پر ایسا مالی بوجھ ڈال دیا جائے جو قرض لینے والے کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہو۔ ایسے معاملات نہ صرف فرد بلکہ اس کے پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔
ایک شخص قرض لیتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا گھر بھی قرض دار بن جاتا ہے۔ قرض کی واپسی کا دباؤ بڑھتا ہے تو گھر کا سکون ختم ہونے لگتا ہے۔ کاروبار کی آمدنی قرض کی ادائیگی میں جانے لگتی ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، علاج مؤخر ہوتا ہے، گھر کے اخراجات محدود ہوتے جاتے ہیں اور بعض اوقات ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لینا پڑتا ہے۔ یوں قرض کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر لوگ ایسے قرضوں کی طرف جاتے ہی کیوں ہیں؟ جواب بہت سادہ ہے: مجبوری۔
جب ایک دکاندار کو مال کی ادائیگی کرنی ہو، جب ایک چھوٹے تاجر کو کاروبار بچانے کے لیے فوری سرمایہ درکار ہو، جب کسی مزدور کے گھر میں بیماری آ جائے یا کسی خاندان کو اچانک کوئی بڑا خرچ درپیش ہو تو اسے فوری مالی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں اگر اسے قانونی، شفاف اور آسان شرائط پر قرضِ حسنہ یا کوئی مناسب مالی سہولت دستیاب نہ ہو تو وہ کسی بھی ایسے شخص کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے جو اسے فوری رقم دینے پر آمادہ ہو۔
یہی وہ خلا ہے جہاں مبینہ نجی سود خور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
لہٰذا صرف قانون بنا دینا کافی نہیں۔ قانون پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ امتناعِ نجی سود کے قانون پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں، ایسے معاملات کی نگرانی کریں، متاثرہ شہریوں کے لیے آسان شکایتی نظام قائم کریں اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ لوگوں کو یہ اعتماد بھی دیا جائے کہ اگر وہ نجی سود یا مالی استحصال کا شکار ہیں تو وہ بلاخوف متعلقہ اداروں سے رجوع کرسکتے ہیں۔
لیکن اس مسئلے کا حل صرف کارروائی نہیں۔ حکومت کو ضرورت مند افراد کے لیے متبادل مالی راستے بھی پیدا کرنا ہوں گے۔ چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قرضِ حسنہ کے منظم اور شفاف نظام کو فروغ دینا ہوگا۔ فلاحی اداروں، مخیر حضرات، زکوٰۃ کمیٹیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کسی ضرورت مند کو اپنی مجبوری کے وقت ایسا قرض لینے پر مجبور نہ ہونا پڑے جو بعد میں اس کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ قرض لیتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مجبوری میں ایسا قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے جسے واپس کرنا اس کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔
آج اس کاروباری شخص نے اپنے سپلائر کو آٹھ لاکھ روپے ادا کرکے اپنا کاروبار بظاہر بچا لیا، لیکن اس کے ذمے چھ ماہ بعد پندرہ لاکھ روپے کی ادائیگی کھڑی ہوگئی۔ اس نے آج کا بحران تو ٹال دیا، مگر کل کا بحران کئی گنا بڑا کرلیا۔ شاید یہی ہمارے معاشرے کے قرض کے بحران کی سب سے بڑی تصویر ہے: انسان موجودہ مشکل سے نکلنے کے لیے مستقبل کو گروی رکھ دیتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ایک شخص کو آٹھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی تو اسے پندرہ لاکھ روپے کا بوجھ کیوں اٹھانا پڑا؟ اگر وہ قرضِ حسنہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو شاید اسے اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے اتنا بڑا مالی خطرہ مول نہ لینا پڑتا۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خیبرپختونخوا میں امتناعِ نجی سود کے قانون کو محض کتابوں اور سرکاری فائلوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی ایسے باعزت اور شفاف مالیاتی متبادل پیدا کیے جائیں جو ضرورت مند شہریوں کو قرض کے استحصالی جال سے بچا سکیں۔
کیونکہ جب ایک مجبور انسان کے سامنے دو راستے ہوں، ایک طرف قرضِ حسنہ کا بند دروازہ اور دوسری طرف فوری رقم دینے والا سود خور، تو وہ اکثر اپنی مجبوری کے ہاتھوں دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
اور پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے جو قرض لیا تھا، وہی قرض اب اس کے کاروبار، اس کے گھر اور اس کے مستقبل کو کھا رہا ہے۔
قرض صرف رقم نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جو ایک شخص نہیں، پوری نسلیں اٹھاتی ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ حکومت قانون پر عملدرآمد بھی کرے، عوام کو متبادل بھی دے اور ان لوگوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کرے جو دوسروں کی مجبوری کو اپنے منافع کا ذریعہ بناتے ہیں۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرے میں کسی مجبور انسان کی ضرورت، کسی دوسرے شخص کے استحصال کا لائسنس نہیں ہونی چاہیے۔

روشن مستقبل کا فریب یا تباہی کا سودا؟ آج ہمارے معاشرے بالخصوص نوجوان نسل میں بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا ...
24/07/2026

روشن مستقبل کا فریب یا تباہی کا سودا؟
آج ہمارے معاشرے بالخصوص نوجوان نسل میں بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا جنون ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ استحصال نام نہاد ویزا کنسلٹنٹس، جعلی ایجنٹس اور انسانی اسمگلرز کر رہے ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شاندار نوکریوں اور مستقل اقامت (PR) کے سبز باغ دکھا کر یہ لٹیرے معصوم شہریوں اور نوجوانوں کی زندگیوں اور جمع پونجی سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ لاکھوں روپے لوٹنے کے بعد ان نوجوانوں کو قانونی ویزے کے بجائے خطرناک اور غیر قانونی 'ڈنکی روٹس' کے حوالے کر دیا جاتا ہے، جہاں جنگلوں، سمندروں اور غیر قانونی سرحدوں پر ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ یہ محض مالی نقصان نہیں، بلکہ ہمارے قیمتی انسانی سرمائے اور لاکھوں خاندانوں کی بربادی ہے۔
میرے عزیز نوجوانو اور والدین! اپنی محنت کی کمائی اور جوانی کو ان دلالوں کے حوالے مت کریں۔ بیرونِ ملک جانے کے لیے ہمیشہ قانون کا راستہ اپنائیں، اور کسی بھی کنسلٹنٹ کی خدمات لینے سے پہلے حکومتِ پاکستان کے مجاز اداروں سے اس کی قانونی حیثیت کی مکمل پڑتال کریں۔ یاد رکھیں، جو کنسلٹنٹ آپ کو بغیر کسی ضابطے یا انٹرویو کے راتوں رات امیر بنانے یا شارٹ کٹ کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک میں پہنچانے کا جھانسہ دے، وہ آپ کا خیر خواہ نہیں بلکہ آپ کی زندگی کا سودا کر رہا ہے۔ محنت اور دیانت کا کوئی نعم البدل نہیں، اپنے خوابوں کو اس فریب سے بچائیے اور اس غیر قانونی مافیا کے خلاف آواز اٹھائیے۔

19/07/2026
28/06/2026

اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔۔۔

28/06/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟

22/06/2026

پرائیوٹ ہسپتال اور سکول کو لگام کیوں نہیں ڈالی جاسکتی

کیا ہم اپنی نسلوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا مرض کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ 🧬پاکستان میں 'کزن میرج' ایک روایت سہی، مگر اس کے...
07/06/2026

کیا ہم اپنی نسلوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا مرض کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ 🧬
پاکستان میں 'کزن میرج' ایک روایت سہی، مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جینیاتی بیماریاں اب ایک قومی بحران بن چکی ہیں۔
اہم حقائق:

پاکستان میں 65-75 فیصد شادیاں خاندان میں ہوتی ہیں۔
تھیلیسیمیا مائنر (کیریئر) ایک کروڑ سے زائد افراد میں موجود ہے۔
اگر دو کیریئرز کی شادی ہو جائے، تو بچہ تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہونے کا 25 فیصد خطرہ ہوتا ہے۔
حل کیا ہے؟
شادی سے قبل 'ہیموگلوبن الیکٹروفورسس' (تھیلیسیمیا ٹیسٹ) کو نکاح کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ یہ محض ایک ٹیسٹ نہیں، بلکہ آپ کے ہونے والے بچوں کی زندگی کی ضمانت ہے۔
میرا مطالبہ:
حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ اس ٹیسٹ کو نکاح نامے میں شامل کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔ اور بطور شہری، ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے خاندانوں میں اس شعور کو عام کریں۔
خون کی بوتلیں لگوانا کسی بچے کا مقدر نہیں، ہم اپنی ذرا سی غفلت سے ان کی زندگی تباہ کر رہے ہیں۔

کیا قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے؟ ⚖️خیبر پختونخوا میں غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے کم از کم سرکاری اجرت 40,000 روپے ماہانہ...
07/06/2026

کیا قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے؟ ⚖️
خیبر پختونخوا میں غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے کم از کم سرکاری اجرت 40,000 روپے ماہانہ مقرر ہے (نافذ العمل: یکم جولائی 2025)۔ یہ قانون صرف سرکاری اداروں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس صنعتی اور تجارتی ادارے کے لیے ہے جہاں محنت کش اپنے خون پسینے سے روزگار کماتے ہیں۔

تلخ حقیقت:
افسوس کی بات یہ ہے کہ بے روزگاری کا فائدہ اٹھا کر نجی شعبے کے مالکان حکومت کے مقرر کردہ معاوضے کو ماننے سے انکاری ہیں۔ سیکورٹی گارڈز، سیلز مین، گھریلو ملازمین، نجی سکولوں کا عملہ اور نجی ہسپتالوں کے ملازمین، سب ہی اس خاموش استحصال کا شکار ہیں۔ نہ تحریری معاہدہ، نہ کوئی قانونی تحفظ، بس 12 گھنٹے کی تھکا دینے والی ڈیوٹی اور اس کے بدلے میں انتہائی قلیل معاوضہ!

ریاست کا فرض:
محنت کشوں کا یہ استحصال اب ختم ہونا چاہیے۔ ریاست کا آئینی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور نجی شعبے کے ہر مزدور کو ان کا جائز حق دلائے۔

✅ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

آگاہی: اپنے اردگرد کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے حقوق کے بارے میں بتائیں۔

آواز اٹھائیں: قانون شکنی کرنے والے اداروں کی نشاندہی کریں۔

مطالبہ: حکومت سے سخت لیبر انسپیکشن اور مؤثر شکایات سیل کے قیام کا مطالبہ کریں۔

محنت کشوں کا استحصال بند کرو! ✊

Address

Mingora

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Consumer Protection Council Swat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share