14/08/2026
پریس ریلیز — سوات ہیومن رائٹس پروٹیکشن سوسائٹی (SHRPS)
پاکستانی جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی و طبی حقوق یقینی بنائے جائیں: SHRPS
سوات ہیومن رائٹس پروٹیکشن سوسائٹی (SHRPS) نے پاکستانی جیلوں میں قید افراد کو بنیادی انسانی، قانونی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قیدی بھی انسان ہیں اور آئین و قانون کے تحت ان کے بنیادی انسانی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ پاکستان Prison Rules, 1978 کے Rules 776 تا 809 میں قیدیوں کے لیے طبی سہولیات، جیل ہسپتال، مناسب علاج اور بیماری کی صورت میں خصوصی طبی نگہداشت کا انتظام موجود ہے۔
خصوصاً 75 سے 80 سالہ بزرگ قیدی جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو، لیکن اسے مناسب علاج، ماہر ڈاکٹر، ضروری ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت میسر نہ ہو، تو یہ انتہائی تشویشناک انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ایسے مریض کو محض قیدی سمجھ کر علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سوات ہیومن رائٹس پروٹیکشن سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ:
1. تمام جیلوں میں قیدیوں کو Jail Manual/Prison Rules کے مطابق مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
2. مذکورہ بزرگ کینسر کے مریض کا فوری طور پر ماہر آنکولوجسٹ سے معائنہ کرایا جائے۔
3. ضرورت پڑنے پر اسے کسی سرکاری یا مستند کینسر ہسپتال منتقل کیا جائے۔
4. اس کے تمام ضروری ٹیسٹ، ادویات، علاج اور خصوصی غذا کا انتظام کیا جائے۔
5. عمر رسیدہ اور شدید بیمار قیدیوں کے کیسز کا باقاعدہ Medical Board سے جائزہ لیا جائے۔
6. جیل حکام قیدیوں کے اہلِ خانہ کو مریض کی صحت اور علاج سے متعلق مناسب معلومات فراہم کریں۔
7. حکومت تمام جیلوں میں آزادانہ طبی معائنہ اور انسانی حقوق کی مؤثر نگرانی کا نظام یقینی بنائے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) بھی اپنی رپورٹس میں جیلوں میں طبی سہولیات، طبی عملے اور قیدیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق مسائل کی نشاندہی کر چکا ہے۔ NCHR کے مطابق Prison Rules 1978 میں بیمار قیدیوں کے لیے علاج اور جیل ہسپتال کی سہولت کا تقاضا موجود ہے۔
سوات ہیومن رائٹس پروٹیکشن سوسائٹی حکومتِ پاکستان، متعلقہ صوبائی محکمۂ جیل خانہ جات، Inspector General Prisons اور NCHR سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر بزرگ اور شدید بیمار قیدی کو بلا تاخیر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
محمد رحیم ایڈووکیٹ
چیئرمین، Swat Human Rights Protection Society (SHRPS)