جمالِ اردو

جمالِ اردو "میں لفظوں کا مسافر ہوں، اردو میرا آشیانہ ہے۔" ✒️

انا للہ و انا الیہ راجعونڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ چلی گئیں۔ایک عورت جو لفظوں سے لڑتی نہیں تھی — انہیں سکھاتی تھی۔زبان کے سا...
10/11/2025

انا للہ و انا الیہ راجعون
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ چلی گئیں۔
ایک عورت جو لفظوں سے لڑتی نہیں تھی — انہیں سکھاتی تھی۔
زبان کے ساتھ عشق کیا، اور اس عشق کو باوقار رکھا۔

اب اردو کچھ یتیم سی لگتی ہے۔
ایسے لوگ روز نہیں مرتے،
ایسی خاموشیاں روز نہیں اُترتیں۔

29/10/2025

حُسن — ایک خاموش کوزہ گر"

میں اُس کوچے سے گزرا —
جہاں آئینے بکتے تھے،
اور ہر آئینے کے اندر
ایک چہرہ —
جھوٹ کی مانند سچا لگتا تھا۔

میں رُکا...
اک چمکتی ہوئی صورت کے سامنے۔
وہ بولی —
“دیکھو، یہ حُسن ہے،
یہی عورت کی پہچان ہے!”

میں نے کہا —
“حُسن؟
یہ لمحے کی دھوپ ہے،
جو ذرا سی ہوا میں بکھر جاتی ہے۔
یہ رنگ جو تم نے چہرے پر اوڑھا ہے،
یہ صبح کی اوس ہے —
جسے دن کا سورج پی لیتا ہے۔
کیا یہی تمہاری سچائی ہے؟”

وہ مسکرائی...
ایک ایسی مسکراہٹ —
جیسے موم پگھلے،
اور اس کے اندر سے
کوئی صدیوں پرانا دکھ بول اٹھے۔

“میں بھی کبھی حُسن پر یقین رکھتی تھی،”
اُس نے کہا،
“پھر وقت نے آئینے توڑ دیے،
اور میں نے جانا —
کہ حُسن، اتنی بڑی دلیل نہیں۔

یہ تو ایک کوزہ ہے —
جسے ہر زمانہ اپنے سانچے میں ڈھالتا ہے،
کبھی محبوب کی صورت میں،
کبھی خدا کی مخلوق کی طرح۔
پر میں؟
میں تو وہ مٹی ہوں
جو ہر بار جل کر بھی شکل اختیار کرتی ہے۔”

میں نے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا —
زخموں سے بھری، مگر نرم۔
اُس کے چہرے پر وقت کی لکیریں تھیں،
مگر اُن لکیروں میں
ایک نرمی،
ایک سکون کا چمکدار جلال تھا۔

میں نے کہا —
“تو تُو ہی تو کوزہ گر ہے،
اور حُسن —
تیری انگلیوں کی خاموش عبادت۔
تو خالق ہے،
اور خُوبصورتی —
تیرا مٹی سے کیا گیا وعدہ۔”

وہ مسکرائی —
“میں عورت ہوں،
میں مٹی ہوں،
میں کوزہ بھی،
میں کوزہ گر بھی —
اور حُسن؟
بس ایک لمحے کا سایہ،
جو میرے ہاتھ کے گرد
پھرتا ہے،
پھر مٹ جاتا ہے۔”

میں اُس کوچے سے نکلا —
اور میرے دل میں
ایک سچائی کی خوشبو رہ گئی:
حُسن —
اتنی بڑی دلیل نہیں۔

28/10/2025

"مرد — اپنی زنجیر کا قیدی"

میں نے دیکھا ہے —
وہ مرد،
جو اپنی طاقت کے بوجھ تلے
دب کر سانس لیتا ہے۔

وہ،
جو مسکراہٹ اوڑھتا ہے
جیسے یہ فرض ہو —
اور خاموشی کو
اپنی زبان بناتا ہے،
تاکہ کوئی نہ دیکھ لے
کہ اس کے اندر
کیا طوفان سُلگتے ہیں۔

اس کے آنسو —
عادت نہیں،
جرم ہیں!
اور کمزوری —
گناہِ کبیرہ۔

وہ اپنے دکھ
میزوں کے نیچے چھپاتا ہے،
تاکہ دیواریں
اس کی تھکن نہ سن لیں۔

کبھی وہ باپ کہلاتا ہے،
کبھی شوہر،
کبھی بیٹا،
کبھی سہارے کا نام —
مگر خود،
کس کا سہارا ہے؟

وہ اپنے خواب
روٹی کے عوض بیچ دیتا ہے،
اور جب نیند مانگتا ہے —
زمانہ کہتا ہے:
“ابھی نہیں!”

اس کے کندھوں پر
دنیا کے فیصلے ہیں،
مگر دل میں
اک چھوٹا سا بچہ —
جو برسوں سے
کسی کی گود ترس رہا ہے۔

کیا یہ مظلوم نہیں —
وہ مرد،
جو روتا بھی ہے تو
پردے کے پیچھے؟
جو ٹوٹتا بھی ہے
تو مسکرا کے؟

وہ کہتا کچھ نہیں،
صرف جلتا ہے —
اپنی ہی روشنی میں،
اپنی ہی آگ سے۔

مرد —
کبھی فاتح کہلاتا ہے،
مگر اصل میں
اپنی زنجیر کا
سب سے پہلا قیدی ہے۔

28/10/2025

"خاموشیوں کے جرم"

میں نے دیکھا ہے،
کہ لفظ مر جاتے ہیں
جب ضمیر سستا پڑ جائے۔

میں نے محسوس کیا،
کہ دعا کے سائے میں بھی
بدن کی بھوک سانس لیتی ہے۔

شہر کے بیچوں بیچ
ایک عورت چل رہی تھی،
سر پر چادر، دل میں آگ،
اور ہونٹوں پر بس اتنا کہ —
"میں گناہگار نہیں… زندہ ہوں۔"

مگر لوگ ٹھہر گئے،
ان کی نظریں بول پڑیں —
"زندگی اتنی آزاد نہیں ہو سکتی!"

میں نے سوچا —
یہ معاشرہ کب سمجھے گا
کہ عفت صرف کپڑوں میں نہیں،
نیت میں ہوتی ہے۔

میں نے دیکھا —
مسجد کے صحن میں بچہ سو رہا تھا،
ماں بھیک مانگ رہی تھی،
اور مولوی صاحب کے مائیک سے
"ایمان کی روشنی" گونج رہی تھی۔
میں نے دل سے کہا —
"یا رب، یہ روشنی کب اندھوں کو دکھائی دے گی؟"

کبھی کبھی لگتا ہے،
زمین توبہ کرنا چاہتی ہے،
مگر انسان باز نہیں آتا۔

لوگ کہتے ہیں —
"خدا سب دیکھتا ہے!"
ہاں… دیکھتا ہے،
مگر شاید اب
ہماری شرمندگی کا انتظار کر رہا ہے۔

اور میں؟
میں ہر رات
اپنے لفظوں کو دھوتا ہوں
تمہاری جھوٹی عبادتوں کے داغ سے۔
میں دعا نہیں کرتا
بس اتنا کہتا ہوں:
"خدا!
ہمیں وہ آنکھ دے
جو سچ کو دیکھ سکے،
اور وہ دل
جو خاموشی کے جرم پہ کانپ جائے۔"

27/10/2025

🪶 "ہم بہت اچھے لوگ ہیں!"

ہم بہت اچھے لوگ ہیں —
ایسے اچھے کہ اگر کوئی برائی سامنے آ جائے
تو فوراً نظریں جھکا لیتے ہیں…
تاکہ دیکھنے کا گناہ نہ ہو،
بس کرنے کا رہ جائے۔

ہماری شرافت کا یہ عالم ہے
کہ رشوت لیتے ہوئے بھی
مسکرا کر کہتے ہیں:
“بھئی کچھ نہیں، یہ تو محبت کا اظہار ہے!”

ہم دیانتدار بھی ہیں،
بس "مجبور" ہیں۔
بجلی چوری نہیں کرتے،
بس تھوڑی روشنی مانگ لیتے ہیں۔
ٹیکس نہیں چراتے،
بس “نظام” سے بچاؤ کرتے ہیں۔

ہماری مسجدیں آباد ہیں،
دل ویران۔
ہمارے خطیب زور سے چیختے ہیں،
اور سننے والے اونگھتے ہوئے آمین کہتے ہیں۔

ہماری محفلوں میں
شعر سننے سے پہلے چائے مانگی جاتی ہے،
اور انقلاب سن کر بل رکھی جاتی ہے۔

ہم عورت کی عزت کے قائل ہیں،
بس وہ پردے میں رہے،
چاہے انصاف برہنہ ہو جائے۔

ہم بہت سچے لوگ ہیں —
جھوٹ صرف فائدے کے وقت بولتے ہیں،
ورنہ عام دنوں میں تو خاموش رہتے ہیں۔

ہمارا ایمان مضبوط ہے —
جب تک نوکری چلتی ہے۔
ہمارا ضمیر زندہ ہے —
بس سویا ہوا ہے۔

اور ہم دعا کرتے ہیں:
“یا اللہ!
ہمیں معاف کر دے —
جیسا تُو روز کرتا ہے۔”

22/10/2025

ابھی لہو میں تپش باقی،
ابھی میں مٹی بنا نہیں ہوں۔

میں اپنی راہوں پہ چل رہا ہوں،
کسی کے در کا گدا نہیں ہوں۔

وہ جسےکوئی باندھ کے رکھنا چاہے،
میں کوئی ایسا دریا نہیں ہوں۔

وہ میرے زخموں پہ ہنس رہا ہے،
میں اس کی ہنسی سے خفا نہیں ہوں۔

میں اپنی جاں کے چراغ سے بھی،
کسی کے حکم پہ بجھا نہیں ہوں۔

میں اپنے مقتل سے لوٹ آیا،
مگر میں خود سے جدا نہیں ہوں۔

میں اُس حسیں کے حضورِ دل میں،
مرا تو ہوں، پر فنا نہیں ہوں۔

وہ پوچھتا ہے “ابھی تلک کیوں؟”
میں کہہ رہا ہوں “مٹا نہیں ہوں!”

اس کی ضد تھی جھکاؤں سر کو
میں کٹ گیا ہوں پر جھکا نہیں ہوں

22/10/2025

"میں خدا سے ملنے نکلا تھا"

میں خدا سے ملنے نکلا تھا،
اپنے ہاتھوں میں مٹی لیے۔
کہا —
"یہی میرا سرمایہ ہے،
یہی میرا گناہ بھی،
اور یہی میری عبادت بھی۔"

چاک گھومتا رہا —
مٹی چپ تھی،
لیکن اُس کی خاموشی میں
ایک صدیوں پرانی دعا سانس لیتی تھی۔

میں نے کہا:
"اے مٹی!
تو کتنی فرمانبردار ہے،
خالق جو چاہے،
تو ویسی بن جاتی ہے۔"

مٹی بولی —
"نہیں،
میں فرمانبردار نہیں —
میں جان رکھتی ہوں۔
جو مجھے محبت سے چھوئے،
میں اُس کے لیے جنت بن جاتی ہوں،
اور جو مجھے غرور سے گوندھے،
میں اُس کے ہاتھ جلا دیتی ہوں۔"

میں لرز گیا۔
میرے دل نے کہا:
"اے حسن!
یہ مٹی تیری نہیں —
یہ رب کی امانت ہے۔
تو فقط وسیلہ ہے،
خالق نہیں۔"

میں نے ہاتھ روک دیے۔
چاک کی گردش تھم گئی۔
چراغ بجھ گیا،
اور میرے اندر روشنی اترنے لگی۔

میں نے آنکھیں بند کیں —
اور پہلی بار محسوس کیا،
کہ میرے اندر بھی ایک چاک گھوم رہا ہے،
جہاں میری روح مٹی بن کر خدا کے ہاتھوں میں ہے۔

میں نے سجدہ کیا —
نہ بطور فنکار،
نہ بطور خالق،
بلکہ بطور کوزہ،
جو آخرکار اپنے بنانے والے سے ملنے آیا تھا۔

اور تب،
میں نے سنا —
ایک صدا،
روشنی کے پار سے آتی ہوئی:

"اے میرے بندے،
تُو مٹی سے کوزے بناتا رہا،
مگر آج…
تو خود میرے دل کا کوزہ بن گیا ہے۔
اب میں تیری روح میں سانس بھرتا ہوں۔"

میں رو دیا۔
میری آنکھوں سے زمین نم ہو گئی،
اور آسمان روشن۔

میں خدا سے ملنے نکلا تھا،
اور خدا…
میرے اندر بیٹھا ملا۔

22/10/2025

میں مٹی سے خدا بنانے نکلا تھا"

میں نے…
مٹی کو چُوما —
اور وہ بول پڑی۔
بولی:
“اے میرے خالق!
تو کب تک…
خدا بننے کا خواب دیکھتا رہے گا؟”

میں ٹھٹک گیا…
میری انگلیوں سے چاک کی گردش تھم گئی۔
چراغ لرزا…
اور دل کے اندر سے آواز آئی —
“تو نے کتنا کچھ بنایا،
مگر خود کبھی بنا نہیں!”

میں نے چاک پر ہاتھ رکھا،
مٹی رو پڑی۔
بولی:
“تو نے مجھے عشق سے نہیں…
انا سے چھوا ہے۔
اسی لیے میں جیتے جی مردہ ہوں۔”

میں نے کہا —
“میں نے تمہیں محبت سے گوندھا ہے،
میں نے تمہیں چوم کر جلایا ہے،
میں نے تم میں اپنی سانس چھپا دی ہے۔”

مٹی ہنس پڑی —
وہ درد بھری ہنسی…
جو دل کے اندر خالی جگہوں میں گونجتی ہے۔
بولی:
“اے حسنِ کوزہ‌گر!
تُو خالق ضرور ہے،
مگر عاشق نہیں۔
اور جو عاشق نہیں —
وہ خدا کو چھو نہیں سکتا!”

میں رو دیا…
میری انگلیوں سے مٹی پھسلنے لگی،
چاک تھم گیا،
چراغ بجھ گیا۔

اندھیرے میں ایک کوزہ چمکا —
اور بولا:
“اے میرے خالق!
تو نے مجھے بنایا ضرور،
مگر مجھ میں روح نہیں بھری۔
اب جب تُو مٹی بنے گا،
میں تیری روح کا گھر بنوں گا!”

میں… مٹی سے خدا بنانے نکلا تھا،
پر مٹی نے مجھے خدا کے قریب کر دیا۔

17/10/2025

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌸
جمعہ مبارک —

صبح کے نرم اجالوں میں کچھ خواب بیدار ہوتے ہیں،
کچھ دعائیں آسمان کی سیڑھیاں چڑھتی ہیں،
اور انسان ایک لمحے کے لیے رک کر سوچتا ہے —
کاش دل کی خاموشیاں بھی کسی مناجات میں ڈھل جائیں۔

آج جمعہ ہے —
رحمتوں کا دن، مغفرت کی ساعتوں کا لمحہ۔
وقت کے دریا میں بہتی ہوئی یہ صبح ہمیں یاد دلاتی ہے
کہ ہر دن نیا ہوتا ہے، مگر جمعہ کا دن رب کے قرب کی خوشبو رکھتا ہے۔

اللّٰہ کرے یہ دن آپ کے دل کو سکون سے بھر دے،
آپ کی دعاؤں کو لفظوں سے آگے، قبولیت کے لمس تک پہنچا دے۔
اور آپ کی روح کو وہ قرار بخشے
جو دنیا کی ہلچل سے ماورا ہو۔ 🌿✨

10/10/2025

‏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌸
صبح بخیر
دن کی ابتدا ہمیشہ دعا سے ہونی چاہیے، کیونکہ دعا دل کو ترتیب دیتی ہے۔
اللہ آپ کے دن میں سکون اتار دے،
آپ کے رزق میں برکت،
اور دل میں وہ روشنی دے جو یقین سے جنم لیتی ہے🤲

04/09/2025

میں گرفتارِ محبت ہوں فقط اس دل کا
جس میں سب طیبہ و کربل کے مکین رہتے ہیں ،

دلِ مومن کو نہ توڑو اسی دل کے اندر ،
اصغر و عابد واکبر سے حسیں رہتے ہیں ،

اس میں سردارِ خدیجہ کا ٹھکانہ ہے اظہر،
اس میں اللہ کے نبی سب کے امیں رہتے ہیں۔


30/08/2025

یا اللہ! یہ جو چھوٹے چھوٹے بچے خیموں میں بارش کی بوندوں کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں،
ان کے خوف کو مسکراہٹ میں بدل دے۔

🏚️✨
یا اللہ! ان عورتوں کے ہاتھوں میں پھر سے وہی چولہا جلنے دے،
جہاں وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پکا سکیں۔

🌾💚
یا اللہ! اس مٹی کو پھر سے اناج اگانے کی برکت دے،
اور کسان کے چہرے پر پسینے کی لکیریں امید میں بدل دے۔

🕊️❤️
یا اللہ! ان گھروں کو دوبارہ آباد کر،
اور ہمارے دلوں کو بھی آباد کر دے
کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ کو بانٹ سکیں۔

Address

Mian Channun

Telephone

+923007970040

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جمالِ اردو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to جمالِ اردو:

Share