29/10/2025
حُسن — ایک خاموش کوزہ گر"
میں اُس کوچے سے گزرا —
جہاں آئینے بکتے تھے،
اور ہر آئینے کے اندر
ایک چہرہ —
جھوٹ کی مانند سچا لگتا تھا۔
میں رُکا...
اک چمکتی ہوئی صورت کے سامنے۔
وہ بولی —
“دیکھو، یہ حُسن ہے،
یہی عورت کی پہچان ہے!”
میں نے کہا —
“حُسن؟
یہ لمحے کی دھوپ ہے،
جو ذرا سی ہوا میں بکھر جاتی ہے۔
یہ رنگ جو تم نے چہرے پر اوڑھا ہے،
یہ صبح کی اوس ہے —
جسے دن کا سورج پی لیتا ہے۔
کیا یہی تمہاری سچائی ہے؟”
وہ مسکرائی...
ایک ایسی مسکراہٹ —
جیسے موم پگھلے،
اور اس کے اندر سے
کوئی صدیوں پرانا دکھ بول اٹھے۔
“میں بھی کبھی حُسن پر یقین رکھتی تھی،”
اُس نے کہا،
“پھر وقت نے آئینے توڑ دیے،
اور میں نے جانا —
کہ حُسن، اتنی بڑی دلیل نہیں۔
یہ تو ایک کوزہ ہے —
جسے ہر زمانہ اپنے سانچے میں ڈھالتا ہے،
کبھی محبوب کی صورت میں،
کبھی خدا کی مخلوق کی طرح۔
پر میں؟
میں تو وہ مٹی ہوں
جو ہر بار جل کر بھی شکل اختیار کرتی ہے۔”
میں نے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا —
زخموں سے بھری، مگر نرم۔
اُس کے چہرے پر وقت کی لکیریں تھیں،
مگر اُن لکیروں میں
ایک نرمی،
ایک سکون کا چمکدار جلال تھا۔
میں نے کہا —
“تو تُو ہی تو کوزہ گر ہے،
اور حُسن —
تیری انگلیوں کی خاموش عبادت۔
تو خالق ہے،
اور خُوبصورتی —
تیرا مٹی سے کیا گیا وعدہ۔”
وہ مسکرائی —
“میں عورت ہوں،
میں مٹی ہوں،
میں کوزہ بھی،
میں کوزہ گر بھی —
اور حُسن؟
بس ایک لمحے کا سایہ،
جو میرے ہاتھ کے گرد
پھرتا ہے،
پھر مٹ جاتا ہے۔”
میں اُس کوچے سے نکلا —
اور میرے دل میں
ایک سچائی کی خوشبو رہ گئی:
حُسن —
اتنی بڑی دلیل نہیں۔