Abdül Ghãñï Mêmøñ

Abdül Ghãñï Mêmøñ ISLAMIC KNOWLEDGE

AGM GRAPHICS 03093007290
18/04/2026

AGM GRAPHICS
03093007290

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے فضائل، 📌 اعتراضات اور ان کے مدلل جواباتAGM GRAPHICS 03093007290
19/09/2025

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے فضائل، 📌 اعتراضات اور ان کے مدلل جوابات
AGM GRAPHICS
03093007290

مزید اسلامک پوسٹ اور ویڈیوز حاصل کرنے کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک کریں
02/05/2024

مزید اسلامک پوسٹ اور ویڈیوز حاصل کرنے کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک کریں

20/04/2024
13/04/2024

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:
تمام طلبہ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ان شاء اللہ العزیز مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث گهمن آباد حیدرآباد کے نئے تعلیمی سال کے تدریسی سلسلہ کا آغاز 20 اپریل 2024 بمطابق 11 شوال 1445 ھ بروز ہفتہ سے ہو رہا ہے، لہذا تمام مقیم طلبہ 19 اپریل 2024 بروز جمعہ کی شام مدرسہ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔۔

نیز تعلیمی سال 1445/46ھ بمطابق 2024/2025 کے داخلے ان شاء اللہ 21 اپریل 2024 بروز اتوار کے دن ہونگے.

اخوکم: حافظ محسن انصاری مدرس و آفس سیکریٹری مدرسہ ھذا

05/03/2024

*دینی تعلیم کی اہمیت و فضیلت*

*تحریر: ابو عمير حزب اللہ بلوچ صاحب حفظہ اللہ*
*اردو ترجمہ: حافظ محسن انصاری صاحب حفظہ اللہ*

دینی علم کی اہمیت و فضیلت کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا. [سورة طه 114]
اے پیغمبر! آپ اپنے رب سے سے یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب! تو میرے علم میں اضافہ فرما.

⭐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم عطا کرکے بطور احسان ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ﴾ [الشورى: 52].

اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح (علم) کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے.

⭐ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ﴾ [النساء: 113].

اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت (کتاب و سنت) اتاری ہے اور تجھے وہ (علم) سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے.

⭐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پہلی وحی بھی علم کے حوالے سے ہی کی گئی کہ:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5) (العلق)

( اے پیغمبر!) اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے (ساری کائنات) کو پیدا کیا۔اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔وہ جس نے (انسان کو علم) قلم کے ساتھ سکھایا۔اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا.

⭐ صبح فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا.
اے اللہ! میں تجھ سے فائدے والے علم کا سوال کرتا ہوں…(سنن ابن ماجہ: 925)

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیتے ہوئے فرمایا: سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا،وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ. یعنی تم بھی اللہ سے علم نافع کا سوال کرو اور جو علم نافع نہ ہو اس سے پناہ طلب کرو. (سنن ابن ماجہ: 3843)

⭐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَاجَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا.
خبردار بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم مجھے سکھایا ہے، وہ میں تمہیں بھی سکھا دوں، جس سے تم لا علم تھے. (صحيح مسلم: 2865)

اور فرمایا کہ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ (سنن ابوداؤد: 8)
میں تمہارے والد کی طرح ہوں کیونکہ تمہیں علم سکھاتا ہوں.

⭐ اللہ تعالی نے ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر فضیلت قائم کرنے کے لیے پہلے انہیں علم سکھایا:
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ﴾ [البقرة: 31].
اور (اللہ تعالیٰ نے) آدم کو سب کے سب نام سکھلا دیے، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا، پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ، اگر تم سچے ہو.

⭐ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو جب خبر ہوئی کہ اس دنیا میں ان سے بھی بڑھ کر کوئی علم والا (خضر علیہ السلام) بھی موجود ہے تو کہنے لگے: أَيْ رَبِّ، كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ؟ اے میرے رب! میں ان تک کیسے پہنچوں؟ (صحيح بخاری: 4727)

⭐ سیدنا یوسف علیہ السلام کو حسن و جمال کی وجہ سے قید میں جانا پڑا، لیکن پھر علمی دولت کی بنیاد پر مصر کے بادشاہ بن گئے.

⭐ انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان دینی علم ہی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی سے پہلے دینی علم کا ذکر فرمایا:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4)(سورة الرحمان)
رحمن، جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا.

⭐ اللہ تعالیٰ نے علم کو ایمان سے بھی مقدم رکھا ہے، کیونکہ صحیح، سچے اور پکے ایمان کی معرفت شرعی علم کے بغیر ممکن ہی نہیں:
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴾ [الروم: 56].
اور وہ لوگ جنھیں علم اور ایمان دیا گیا کہیں گے کہ بلا شبہ یقیناً تم اللہ کی کتاب میں اٹھائے جانے کے دن تک ٹھہرے رہے، سو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے اور لیکن تم نہیں جانتے تھے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس طرح باب قائم کیا ہے: بَابٌ : الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ }. فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ.
یعنی قول اور عمل سے پہلے علم حاصل کرنا ہے، دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کلمہ توحید اختیار کرنے سے پہلے علم کا حکم فرمایا ہے. یعنی علم ہر چیز سے پہلے یعنی مقدم ہے.

⭐ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے یہ حکم دیا ہے کہ:
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ (آل عمرن : 79)

کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ اور لیکن (پیغمبر یہی کہیں گے کہ ربانی یعنی) رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے.

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُونُوا رَبَّانِيِّينَ حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ، وَيُقَالُ : الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ.
(علقه البخاري كِتَابٌ : الْعِلْمُ بَابٌ : الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ. )
سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، حسن، سعید بن جبیر، مجاھد اور ابن قتیبہ رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ: ربانی بننے کا مطلب یہ ہے کہ حکمت بھرے عالم اور فقیہ بن کر لوگوں کی تربیت کرو. (تفسير ابن کثير ،تفسير بغوی، تفسير الطبری: (3/233) زاد المسير: (1/413) فتح الباری: (1/160، 161)

⭐ دینی علم حاصل کرنے کی خاطر مؤمنوں پر جہاد کے حکم میں بھی تخفیف کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ [سورة التوبة 122]

اور ممکن نہیں کہ مومن سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل جائیں، سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلیں، تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈرائیں، جب ان کی طرف واپس جائیں، تاکہ وہ بچ جائیں.

⭐ مطلق طور پر علم کی فضیلت کے لیے علماء نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے کلب معلم (سدھائے اور سکھائے ہوئے کتے) کو غیر معلم (بغیر سدھائے اور بغیر پڑھائے) کتے پر فوقیت دی ہے کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار حلال ہے، جبکہ بغیر سدھائے کتے کا شکار حرام ہے:
﴿ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ﴾ [المائدة: 4] .

(اے پیغمبر!) تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ کہہ دے تمھارے لیے (سب) پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور (وہ شکار بھی حلال ہے جو) شکاری جانوروں (کتوں) میں سے جو تم نے (سکھائے پڑھائے) سدھائے ہیں، (جنھیں تم) شکاری بنانے والے ہو، انھیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھاؤ جو وہ تمھاری خاطر روک رکھیں.

⭐ گھر میں پالتو کتا رکھنے کی سخت وعید آئی ہے کہ روزانہ دو قیراط عمل کے کم کیے جاتے ہیں، لیکن اگر شکار، مال متاع اور کھیتی باڑی کی چوکیداری کے لیے سدھائے اور سکھائے ہوئے کتے رکھے جائیں تو اس کی اجازت دی گئی ہے. (صحيح مسلم : 1575)

⭐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ؛ سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ؛ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.(صحيح مسلم : 2699)

جو شخص علم حاصل کرنے والے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے، اور جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں بیٹھ کر اس کی کتاب پڑھتے، پڑھاتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوکر انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے معزز فرشتوں کے سامنے کرتا ہے.

⭐ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ جس انسان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کا علم اور سمجھ عطا فرماتا ہے. (صحيح بخاری: 71)

⭐ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا . (صحيح بخاری: 3493. صحيح مسلم: 2637 )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو (نیکی اور برائی میں) زمین سے نکلنے والی سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح پاؤ گے، جو لوگ زمانہ جاہلیت میں اچھی اور نیک صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی اچھی، بہترین اور نیک صفات والے ہی ہونگے پر شرط یہ ہے کہ وہ دین کا علم اور سمجھ حاصل کریں...

⭐ علم اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے جو ہر صورت انسان کے لیے فائدہ مند ہے اور جہالت بڑا عذاب ہے جو ہر لحاظ سے بہت بڑا نقصان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ ؛ عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا، فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ. فَهُوَ بِنِيَّتِهِ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا، فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ. فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ. (سنن الترمذي ابواب الزهد باب : مَا جَاءَ مَثَلُ الدُّنْيَا مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: 2325)

دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:
1: ایک وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے علم اور مال دونوں عطا فرمائے ہیں، وہ مال کمانے اور خرچ کرنے میں اللہ کا خوف رکھتا ہے، اس مال سے صلہ رحمی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتا ہے، ایسے انسان کا درجہ سب سے بلند ہے.
2: دوسرا وہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم تو عطا فرمایا ہے لیکن مال و دولت سے نہیں نوازا، لیکن پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی مال عطا کرے اور میں بھی پہلے انسان کی طرح نیک کاموں میں خرچ کروں، اس انسان کو اس کی نیت کے مطابق پہلے افضل شخص کے برابر ہی بدلہ ملے گا.
3: تیسرا وہ انسان جسے علم عطا نہیں کیا گیا مگر مال و دولت سے نوازا گیا ہے، وہ نہ تو صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتا ہے، نہ ہی مال کمانے اور خرچ کرنے میں اللہ تعالیٰ کا خوف کرتا ہے، یہ سب سے بدتر درجے کا ہے.
4: چوتھا وہ شخص جس کے پاس نہ ہی علم ہے اور نہ مال، مگر وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اس (تیسرے نمبر) والے کی طرح اپنا مال (برے اور بدتر کاموں میں) خرچ کرتا، تو ان دونوں کا گناہ اور عذاب برابر ہے اور ایک ہی درجے کے کمینے ہیں.

⭐ عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا، وَسَقَوْا، وَزَرَعُوا، وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ.
(صحيح البخاری | كِتَابٌ: الْعِلْمُ | بَابُ فَضْلِ مَنْ عَلِمَ وَعَلَّمَ. 79، صحيح مسلم: 2282)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر ( خوب ) برسے۔ (1) تو بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے۔ (2) اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں ( اور تمام جانوروں) کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں۔ (3) اور کچھ زمین کے بعض خطوں پر پانی پڑتا ہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتے ہیں۔ نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتے ہیں۔
تو یہ (پہلی اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے جو دین میں سمجھ پیدا کرے اور نفع دے اس چیز کے ساتھ جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں۔ اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور اس شخص کی مثال ہے۔
اور (تیسری مثال اس شخص کی ہے) جس نے سر نہیں اٹھایا ( یعنی توجہ نہیں کی ) اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا.

⭐ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ : أَحَدُهُمَا عَابِدٌ، وَالْآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ، وَمَلَائِكَتَهُ، وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرَضِينَ، حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ ؛ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ .(جامع ترمذی: 2685)

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو لوگوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عالم اور دوسرا عابد (عبادت گذار) ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں سمندر میں خیر وبرکت اور بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اس (عالم) شخص کے لیے جو لوگوں کو نیکی وبھلائی کی تعلیم دیتاہے.

⭐ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (سنن ابن ماجہ: 227)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص میری اس مسجد کی طرف بھلائی (قرآن و حدیث کا علم) سیکھنے یا سکھانے کی نیت سے آتا ہے تو وہ (مقام، مرتبے اور ثواب کے اعتبار سے) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد (فوجی) کی طرح ہے.

⭐ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ حَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بُرْدٍ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بطالبِ الْعِلْمِ، طَالِبُ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ، فَمَا جِئْتَ تَطْلُبُ؟ ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا نَزَالُ نُسَافِرُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَأَفْتِنَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ.
(ﺃ‍ﺧ‍‍ﺮ‍ﺟ‍‍ﻪ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﻄ‍‍ﺒ‍‍ﺮ‍ﺍ‍ﻧ‍‍ﻰ في الكبير (8/54 ‍ﺭ‍ﻗ‍‍ﻢ‍ 7347) ‍ﻗ‍‍ﺎ‍ﻝ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﻬ‍‍ﻴ‍‍ﺜ‍‍ﻤ‍‍ﻰ (1/131) : ‍ﺭ‍ﺟ‍‍ﺎ‍ﻟ‍‍ﻪ‍ ‍ﺭ‍ﺟ‍‍ﺎ‍ﻝ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺼ‍‍ﺤ‍‍ﻴ‍‍ﺢ‍. السلسة الصحيحة: 3397 , ‍ﺻ‍‍ﺤ‍‍ﻴ‍‍ﺢ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺘ‍‍ﺮ‍ﻏ‍‍ﻴ‍‍ﺐ‍ ‍ﻭ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺘ‍‍ﺮ‍ﻫ‍‍ﻴ‍‍ﺐ‍:71)

سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں آپ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: طالب علم کے لیے خوش آمدید ہو! طالب علم کو فرشتے اپنے پروں سے ڈھانپتے ہیں اور ان پر سایہ کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر سوار ہو کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں، وہ یہ عمل اس علم سے محبت کی وجہ سے کرتے ہیں جو بھی اسے حاصل کر رہے ہیں……

⭐ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ ؛ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ . (ابوداؤد: 3660)

اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو ترو تازہ (پر رونق اور شاداب) رکھے جو ہم سے حدیث سنے، اس کو یاد کرے اور پھر آگے دوسروں تک پہنچا دے، کیونکہ کتنے ہی علم اور فقہ حاصل کرنے والے دوسرے ایسے لوگوں تک علم پہنچاتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ فقیہ ہوتے ہیں اور کتنے ہی علم اور فقہ حاصل کرنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً. جسے ایک آیت (حدیث یا دین کا کوئی مسئلہ) بھی معلوم ہو وہ میری طرف سے دوسروں تک پہنچا دے. (صحيح بخاری: 3461)
اس لیے کہ اس کا بڑا اجر و ثواب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ جو شخص کسی انسان کی خیر و بھلائی کے کسی کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو اسے بھی عمل کرنے والے کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے. (صحيح مسلم : 1893)

⭐ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا- وفي رواية- رَجُلٍ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ : لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ، فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ.
(صحيح بخارج: 1409. 5026.)

حسد (رشک) کرنا صرف دو لوگوں پر جائز ہوسکتا ہے..... ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (قرآن و حدیث کے علم) سے نوازا ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور دوسروں کو بھی (وہ علم) سکھاتا ہو.

⭐ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ .( صحيح مسلم: 1631. جامع ترمذی: 1376)

جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بند کردیا جاتا ہے، مگر تین اعمال فوت ہونے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں: 1: اس کی طرف سے جاری کردہ کوئی صدقہ 2: ایسا علم کہ اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں 3: اس کی وہ نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کریں.

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ . (سنن ابن ماجه : 1631)
حكم الحديث: حسن عند الامام الالبانی وضعفه الشيخ زبير علی زئی. رحمهما اللہ.)

⭐ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ،مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ، وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ.(جامع ترمذی: 2322. ابن ماجة: 4112.)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس پر لعنت کی گئی ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے اور جو کچھ اس کے ساتھ ملا ہوا ہو، اور دینی علم سکھانے والے (عالم) اور علم سیکھنے والے (طالب علم) کے.

⭐ قارئین کرام! قرآن اور حدیث میں وارد ان فضیلتوں کو حاصل کرنے اور وعیدوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا تعلق دینی اداروں سے جوڑیں اور اس میں مزید مضبوطی لائیں، ہر سال ماہ شوال میں دینی مدارس میں نئے سال کے داخلے شروع ہوتے ہیں ، آئیں خود بھی فائدہ حاصل کریں اور اپنی آل و اولاد کو بھی ان اداروں میں داخل کرائیں اور اپنی آخرت کے لیے ذخیرہ بنائیں.

*علم کے متعلق چند ضعیف اور موضوع روایات*

ذیل میں اس موضوع کے متعلق بطور تنبیہ چند ضعیف اور موضوع روایات لکھی جاتی ہیں تاکہ عام خطیب اور عوام الناس ایسی روایات بیان کرنے سے محفوظ رہیں.

(1) عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَبَا سَعِيدٍ ، فَيَقُولُ : مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرَضِينَ ؛يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا . (ترمذی، ابن ماجہ)

وضاحت: یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، اس میں راوی ابو ھارون العبدی سخت ضعیف، مجروح اور کذاب ہے. تفصیل کے لیے دیکھیں: (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوۃ المصابيح لشيخنا الحافظ زبير علی زئی رحمہ اللہ رقم الحديث: 215)

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا .(ترمذی، ابن ماجہ)
وضاحت: اس کا راوی ابراہیم بن فضل المخزومی ابو اسحاق المدنی منکر الحدیث اور متروک ہے. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 216 وضعفه الشيخ الالبانی رحمه اللہ فی تحقيق مشکواة المصابيح)

(3) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ( ابن ماجہ)
وضاحت: یہ روایت موضوع، من گھڑت ہے، اس کا راوی روح بن جناح الدمشقی سخت ضعیف اور مجروح ہے. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 217. ضعيف الترغيب والترهيب: 66)

(4) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌعَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ . ‍ﺭ‍ﻭ‍ﺍ‍ﻩ‍ ‍ﺍ‍ﺑ‍‍ﻦ‍ ‍ﻣ‍‍ﺎ‍ﺟ‍‍ﻪ‍ ‍ﻭ‍ﺭ‍ﻭ‍ﻯ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺒ‍‍ﻴ‍‍ﻬ‍‍ﻘ‍‍ﻲ‍ ‍ﻓ‍‍ﻲ‍ ‍ﺷ‍‍ﻌ‍‍ﺐ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺈ‍ﻳ‍‍ﻤ‍‍ﺎ‍ﻥ‍ ‍ﺇ‍ﻟ‍‍ﻰ ‍ﻗ‍‍ﻮ‍ﻟ‍‍ﻪ‍ ‍ﻣ‍‍ﺴ‍‍ﻠ‍‍ﻢ‍. ‍ﻭ‍ﻗ‍‍ﺎ‍ﻝ‍: ‍ﻫ‍‍ﺬ‍ﺍ ‍ﺣ‍‍ﺪ‍ﻳ‍‍ﺚ‍ ‍ﻣ‍‍ﺘ‍‍ﻨ‍‍ﻪ‍ ‍ﻣ‍‍ﺸ‍‍ﻬ‍‍ﻮ‍ﺭ ‍ﻭ‍ﺇ‍ﺳ‍‍ﻨ‍‍ﺎ‍ﺩ‍ﻩ‍ ‍ﺿ‍‍ﻌ‍‍ﻴ‍‍ﻒ‍ ‍ﻭ‍ﻗ‍‍ﺪ ‍ﺭ‍ﻭ‍ﻱ‍ ‍ﻣ‍‍ﻦ‍ ‍ﺃ‍ﻭ‍ﺟ‍‍ﻪ‍ ‍ﻛ‍‍ﻠ‍‍ﻬ‍‍ﺎ ‍ﺿ‍‍ﻌ‍‍ﻴ‍‍ﻒ‍(مشکواۃ)

وضاحت: روایت کا راوی قاری ابو عمر حفص بن سلیمان الاسدی حدیث میں سخت ضعیف اور مجروح ہے. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 218)۔
نوٹ: امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے.

نوٹ: اطلبوا العلم ولوا بالصين. یعنی علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین تک جانا پڑے. اس روایت کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے باطل قرار دیا ہے. (السلسلة الضعيفة: 416)

(5) مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ؛ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ. (ترمذی، ابن ماجہ)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے، اس کے راوی اسحاق بن یحیی، حماد بن عبد الرحمن، اشعث بن سوار اور عبداللہ بن سعید المقبری ضعیف ہیں. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 225.226)
نوٹ: امام ناصر الدين البانی رحمہ اللہ نے مختلف ضعیف روایات کو جمع کرکے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے.

(6) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً : يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ ؛ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ.
وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے، سند میں ابن جریج اور ابو الزبیر المکی مدلس ہیں اور روایت “عن“ سے ہے. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 246 ، سلسلة الاحاديث الضعيفة: 4833)

(7) أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ . (سنن الدارمی)

وضاحت: ضعیف ہے، مرسل ہونے کے ساتھ ساتھ راوی نصر بن القاسم، محمد بن اسماعیل اور عمرو بن کثیر تینوں مجہول ہیں. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 249 . السلسة الضعيفة تحت حديث: 3804)

(8) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ : إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ : هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، ……. فَجَلَسَ مَعَهُمْ.(سنن ابن ماجہ. سنن الدارمی)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے، راوی عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی، عبد الرحمن بن رافخ التنوخی، داؤد بن زبرقان اور بکر بن خنیس ضعیف ہیں. (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 257 . السلسة الضعيفة: 11)

(9) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا.(سنن الدارمی)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ ابن جریج نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا اور حفص بن غیاص مدلس ہے اور “عن“ سے روایت کر رہے ہیں.( اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 256. وضعفه الشيخ الالبانی مشكاة المصابيح )

(10) عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء، من عندهم تخرج الفتنة، وفيهم تعود. (رواه البيهقی في شعب الإيمان مشکوة المصابيح: 276)

وضاحت: اس کی سند موقوفا اور مرفوعا دونوں طرح ضعیف ہے، راوی عبداللہ بن دکین اور بشر بن الولید ضعیف ہیں. ( اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 276. وضعفه الشيخ الالبانی رحمہ اللہ، السلسلة الضعيفة: 1936)۔

Address

Matiari
70150

Telephone

+923102156803

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdül Ghãñï Mêmøñ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Abdül Ghãñï Mêmøñ:

Share

Category