07/07/2023
(محمد سلیمان بلوچ)ڈیرہ تعلیمی بورڈ کی موضع راکھ مندھراں میں موجود سرکاری اراضی سے بغیر کسی ٹینڈر کے لاکھوں روپے کی مٹی اٹھا لی گئی،،،ڈیرہ تعلیمی بورڈ کی بلڈنگ کے لیے 2021 میں صوبائی حکومت کی طرف سے محکمہ ایلمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کو موضع راکھ مندھراں میں پچاس کنال اراضی دی گئی تاکہ اس اراضی پر ڈیرہ تعلیمی بورڈ کی اپنی بلڈنگ بنائی جاسکے،،، اس سرکاری اراضی پر تاحال ڈیرہ بورڈ کی اپنی بلڈنگ تو نا بن سکی مگر بورڈ کی بلڈنگ کے لیے خریدی جانے والی یہ سرکاری اراضی بورڈ کے بعض مخصوص افسران کے لیے سونے کی چڑیا ضرور بن گئی کیونکہ چند دن قبل بورڈ کی اس سرکاری اراضی سے لاکھوں روپے کی مٹی بغیر کسی ٹینڈر کے اٹھالی گئی_،زرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 26 جون کوچیرمین ڈیرہ کو بذریعہ ٹیلی فون یہ اطلاع دی گئی کہ بورڈ کی سرکاری اراضی سے ٹریکٹر ٹرالیوں کے زریعے مٹی اٹھائی جا رہی ہےجس پر چیرمین ڈیرہ بورڈ نے سائٹ وزٹ کرنے کے بعد یہاں سے اٹھائی جانے والی مٹی کے عمل کو فوری طور پر بند کرتے ہوئے اگلے دن 27 جون کو کنٹرولر ڈیرہ بورڈ کو اس معاملے کی وضاحت کے لیے ایک ایکسپلینیشن لیٹر جاری کیا جس میں تین دن کے اندر اندر کنٹرولر ڈیرہ بورڈ سے ایکسپلینیشن مانگی گئی تھی تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود جہاں ابھی تک اس کی ایکسپلینیشن تاحال نہیں دی گئی تو وہیں دوسری طرف بورڈ کے اہلکاروں نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اس سلسلے میں تین جولائی کو بورڈ ایپکا یونٹ کے عہدیداروں کی ایک ہنگامی میٹنگ بھی طلب کی گئی تھی جس میں چیرمین ڈیرہ بورڈ سے اس معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ جہاں ایک طرف چند دن پہلے بورڈ کی سرکاری اراضی سے بغیر کسی ٹینڈر کے لاکھوں روپے کی مٹی اٹھا لی گئی ہے تو وہیں دوسری طرف سے اس سے قبل اسی اراضی پر کاشت کی جانے والی گندم کی فصل سے حاصل ہونے والی 100 سے زائد بوریوں کو بھی پار لگانے کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں جس پر بورڈ اہلکاروں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس عمل سے ناصرف بورڈ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ لاکھوں روہے کی سرکاری مٹی کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے مالیت کی گندم بھی پار لگائی جا چکی ہے جس پر محکمہ اینٹی کرپشن کو فوری طور پر تحقیقات کرنی چاہیں جبکہ دوسری جانب اس ساری صورتحال پر جب مٹی اٹھانے والے بشیر نامی ٹریکٹر ڈرائیور سے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی بغیر کسی ٹینڈر کے بورڈ کی اس سرکاری اراضی سے مٹی اٹھانے کے عمل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرولر ڈیرہ بورڈ کی ہدایات پر یہاں سے مٹی اٹھا کر قریبی لوگوں پر پیسوں کے عوض بیچی جا رہی تھی کہ اس دوران چیرمین ڈیرہ بورڈ موقع پر پہنچ گئے جس کے بعد انہوں نے مٹی اٹھانے کے اس عمل کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جبکہ دوسری جانب اس صورتحال پر جب چیرمین ڈیرہ بورڈ پروفیسر احسان اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد شئیر کی جائیں گی جبکہ کرپشن کا یہ میگا اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد مختلف تعلیمی و سماجی حلقوں نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن،نیب،سیکرٹری تعلیم اور صوبائی نگران حکومت سے فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے کیونکہ بورڈ کے بعض افسران ناصرف کرپشن کے اس میگا اسکینڈل میں ملوث ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے قبل بھی کئی بار امتحانی ڈیوٹیوں اور مارکنگ کے عمل میں بھی بعض افسران کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اس معاملے سمیت بورڈ کے بعض افسران کی کرپشن کے دیگر معاملات بھی بہت جلد منظرعام پر آنے والے ہیں (تمام کاپی پیسٹ حضرات میری زاتی تحریر کو اپنے نام سے منسوب کرنے سے گریز کریں MSB)