12/11/2024
اس نے گل کرتے کرتے ہوۓ میرے چراغ
مجھ سے عارف اک ذرا پوچھا نہیں
آہ عارف ! کہتے ہیں کہ جب ایک چراغ گل ہوتا ہے تو چشم فلک دوسرے دیے کا اہتمام کر دیتی ہے لیکن عارف آج تیرے چراغ کےگل ہوۓ چار برس بیت گۓ لیکن کسی متبادل چراغ کی لو نظر آئ نہ کسی ماں نے تجھ جیسا چراغ جنا۔آج ایسا کوئ چراغ نہیں جو جس سے پھوٹنے والی کرنوں سے کسی کو نادار طالب علم،بے آسرا بیوائیں اور مستحق نابینا دِکھ سکیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم یسوع مسیح کے دور میں رہ رہے ہوتے اور ہمارے سوال پرابن مریم تجھ جیسا چراغ دوبارہ روشن کر دیتا۔اے کاش اے کاش!!!!!
Muhammad Ishtiaq