Islami Jamiat Talaba Mansehra Division

Islami Jamiat Talaba Mansehra Division Largest, Most responsible and Most influential Student's Network in Pakistan.
🇵🇰
(1)

اللہ اور اسکے رسول ص کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زبدگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الہی کا حصول

تنظیمی دورہ ناظمِ اعلیٰ | مانسھرہ ڈویژنناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، برادر صاحبزادہ وسیم حیدر نے مانسھرہ ڈویژن ...
20/05/2026

تنظیمی دورہ ناظمِ اعلیٰ |
مانسھرہ ڈویژن

ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، برادر صاحبزادہ وسیم حیدر نے مانسھرہ ڈویژن کا تنظیمی دورہ کیا۔

دورے کے دوران تنظیمی و دعوتی پروگرامز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ کام کو مزید مؤثر، فعال اور منظم بنانے کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ ناظمِ اعلیٰ نے ذمہ داران و کارکنان کو سیشن کی ترجیحات اور آئندہ اہداف سے بھی آگاہ کیا۔

اس موقع پر معتمد صوبہ خیبرپختونخوا برادر انیس احمد اور ناظمِ ڈویژن برادر طیب خان سواتی بھی موجود تھے۔

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ مانسہرہ ڈویژن برادر طیب خان سواتی نے ڈویژنل مشاورت کے بعد سیشن 2026-27 کے لیے برادر انس نذیر کو ن...
18/05/2026

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ مانسہرہ ڈویژن برادر طیب خان سواتی نے ڈویژنل مشاورت کے بعد سیشن 2026-27 کے لیے برادر انس نذیر کو ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ضلع مانسہرہ مقرر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ راہِ حق میں استقامت عطاء فرمائے۔ آمین

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ مانسہرہ ڈویژن برادر طیب خان سواتی نے ڈویژنل مشاورت کے بعد سیشن 2026-27 کے لیے برادر شمسُ الحق کو ...
18/05/2026

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ مانسہرہ ڈویژن برادر طیب خان سواتی نے ڈویژنل مشاورت کے بعد سیشن 2026-27 کے لیے برادر شمسُ الحق کو ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کوہستان مقرر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ راہِ حق میں استقامت عطاء فرمائے۔ آمین

14/05/2026
13/05/2026

🔴 Live | President JamiatPk Addressing Pre-Budget Press Conference!

خیر و شر کی کشمکش اور مومن کی فکری بصیرتہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ...
17/04/2026

خیر و شر کی کشمکش اور مومن کی فکری بصیرت

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جابر نے، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبیداللہ حضرمی نے، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ بن یمان ؓ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا دَخَنُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ.

یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہوگا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ ان میں کوئی بات اچھی ہوگی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے۔ ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا، میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آجائے اور تو اسی حالت پر ہو (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)۔

حوالہ
صحیح بخاری
کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب: باب: نبی کریم ﷺ کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3606

تشریح

یہ حدیث ایک نہایت گہری بصیرت عطا کرتی ہے کہ انسانی تاریخ سیدھی لکیر کی طرح مسلسل خیر کی طرف نہیں بڑھتی بلکہ اس میں خیر اور شر کے ادوار باری باری آتے رہتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ کا طرزِ سوال خود ایک شعوری اور فکری بیداری کی علامت ہے کہ انسان صرف خیر کو جاننے پر اکتفا نہ کرے بلکہ شر کی پہچان بھی حاصل کرے تاکہ اس سے بچ سکے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ اسلام کے بعد بھی ایسے ادوار آئیں گے جن میں بظاہر خیر ہوگا مگر اس میں “دَخَن” یعنی آمیزش اور کھوٹ شامل ہوگی—یعنی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین کی بات کریں گے مگر ان کا طریقہ سنتِ نبوی ﷺ سے ہٹا ہوا ہوگا۔ قرآن مجید بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ “وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا” (الأنعام: 112)، یعنی ہر دور میں حق کے مقابل باطل کی قوتیں موجود رہیں گی۔ اس حدیث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اصل معیار “سنتِ رسول ﷺ” اور “جماعتِ مسلمین” ہے، نہ کہ محض دعوے، نعروں یا ظاہری دینداری کا فریب۔

حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں اس حدیث کی معنویت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ آج کے دور میں فتنوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ اور فکری ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا، سیاسی و مذہبی گروہ بندی، اور خود ساختہ داعیانِ دین ایسے ماحول کو جنم دے رہے ہیں جہاں حق و باطل کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ حدیث میں بیان کردہ “جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے” آج ان شکلوں میں بھی نظر آ سکتے ہیں جو دین کے نام پر انتہاپسندی، تفرقہ بازی یا گمراہ کن نظریات کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ وہ بظاہر ہماری ہی زبان بولتے اور ہمارے ہی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں نبی ﷺ کی ہدایت نہایت متوازن ہے: اگر ایک منظم، حق پر قائم جماعت اور صالح قیادت موجود ہو تو اس کے ساتھ وابستہ رہو، اور اگر ایسا نہ ہو تو فتنہ پرور گروہوں سے کنارہ کشی اختیار کرو، خواہ اس کے لیے تنہائی ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ اس کا مطلب معاشرتی فرار نہیں بلکہ عقیدے اور عمل کی حفاظت ہے۔ گویا یہ حدیث ہمیں فکری استقلال، دینی بصیرت، اور اجتماعی ذمہ داری—تینوں کا جامع درس دیتی ہے، جو آج کے انتشار زدہ دور میں ایک مضبوط اخلاقی و ایمانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

#حدیث . #اسلام

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کالجز زون برادر محمد اکرم نے مشاورت کے بعد برادر عمر صادق کو سیشن 2026 اور 27 کےلیے معتمد اسلامی ...
15/04/2026

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کالجز زون برادر محمد اکرم نے مشاورت کے بعد برادر عمر صادق کو سیشن 2026 اور 27 کےلیے معتمد اسلامی جمعیت طلبہ کالجز زون مقرر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ راہِ حق میں استقامت عطاء فرمائے۔

Address

Pakhwal Chock
Mansehra
21300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islami Jamiat Talaba Mansehra Division posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Islami Jamiat Talaba Mansehra Division:

Share