Sahara Welfare M B Din

Sahara Welfare M B Din WE PLEDGE TO IMPROVE THEIR LIVES WITH OUR LOVE, CONCERN AND DEDICATION Our mission is to change lives of such children - by providing them with long-term care.

SAHARA WELFARE is a non-profit & non-governmental organization working for underprivileged children - orphaned, abandoned, destitute and other vulnerable groups. This includes basic needs, education and healthcare and skills necessary to transform them into responsible citizens.

03/05/2026
03/05/2026

"اگرنظام جاگ جائےتوقوم خودسنبھل جائے"
تحریر: فیاض بٹ
یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سی حقیقت ہے—اگر پاکستان میں سرکاری اساتذہ اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کریں، اگر ڈاکٹرز مریض کو کمائی کا ذریعہ بنانے کے بجائے انسان سمجھیں، اگر سرکاری سکولوں میں بچوں سے جھاڑو لگوانے کے بجائے حکومت خود صفائی کا نظام بہتر کرے—تو وہ دن دور نہیں جب پرائیویٹ سکولوں اور مہنگے ہسپتالوں کے دروازے ویران ہو جائیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟
کیا ہمارے اساتذہ قابل نہیں؟
کیا ہمارے ڈاکٹرز میں صلاحیت کی کمی ہے؟
یا پھر مسئلہ کہیں اور ہے؟
سچ یہ ہے کہ مسئلہ نیت سے زیادہ نظام کا ہے، اور نظام وہ ہے جسے بہتر کرنے کی ذمہ داری انہی لوگوں پر ہے جو آج صرف تقریروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ حکمرانوں کے دعوے آسمان کو چھوتے ہیں، مگر زمینی حقائق مٹی میں دبے کراہ رہے ہیں۔
ایک غریب باپ جب اپنے بچے کو سرکاری سکول بھیجتا ہے تو وہ صرف تعلیم نہیں، ایک بہتر مستقبل کا خواب بھی ساتھ بھیجتا ہے۔ مگر جب وہی بچہ کتاب کے بجائے جھاڑو پکڑے نظر آئے تو یہ صرف ایک بچے کی نہیں، پورے معاشرے کی شکست ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک مریض جب سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے تو وہ زندگی کی امید لے کر آتا ہے، مگر جب اسے ٹیسٹوں اور دواؤں کے نام پر لوٹا جائے تو یہ صرف ایک انسان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔
کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف وعدے نہیں، عمل دیکھنا چاہتی ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام صرف کاغذوں میں نہیں، زمین پر نظر آنا چاہیے۔ سکولوں میں صفائی، ہسپتالوں میں شفافیت، اور اداروں میں جوابدہی—یہ سب خواب نہیں، حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔
آج بھی وقت ہے۔ اگر حکمران واقعی “گفتار کے نہیں، کردار کے غازی” بن جائیں، تو یہ ملک بدل سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وسائل کی کمی سے نہیں، ناانصافی اور غفلت سے تباہ ہوتی ہیں۔
منڈی بہاؤالدین ہو یا پنجاب کا کوئی اور شہر—ہر جگہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بس ضرورت ہے ایک سچے ارادے، ایک مضبوط نظام، اور ایک ایسے ضمیر کی… جو ابھی بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے، مگر اسے جگانے کی ضرورت ہے۔
یہ کالم صرف الفاظ نہیں، ایک سوال ہے—
کیا ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں، یا صرف باتیں کرنا ہی کافی ہے؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

03/05/2026
03/05/2026

اسلام آباد (سہاراویب ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں سینیٹر کامل علی آغا پاور ڈویژن پر برس پڑے۔اجلاس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر بحث کے دوران کامل علی آغا نے بتایا کہ اُن کا پارلیمنٹ لاجز کا 102 یونٹ کا بل 11 ہزار 800 روپے آیا ہے۔بل میں استعمال شدہ یونٹس کی قیمت 3300 روپے ہے جبکہ ساڑھے 8 ہزار روپے کے ٹیکسز لگے ہوئے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق سینٹر کامل علی آغا نے پاور ڈویژن کے حکام کو مشورہ دیا کہ آپ بجلی صارفین کو کنزیومر نہیں بلکہ بکرا کہہ دیں۔ اس پر ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بکرا تو معذرت کے ساتھ اس وقت حکومتی بنی ہوئی ہے، جب سے سولر آیا ہے، 200 یونٹ والا سلیب ہی بدل گیا ہے

03/05/2026
03/05/2026

سرکاری اسکولوں میں طلبہ سے صفائی کروانے کا انکشاف — تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان
منڈی بہاؤالدین (نمائندہ خصوصی سہارا)
میونسپل کمیٹی گرلز ہائی اسکول (بلمقابل میاں وحیدالدین پارک) اور اسکی بیک سائٹ پرواقع ایم سی بوائز ہائی اسکول میں ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں طلبہ و طالبات سے کلاس رومز اور اسکول کی صفائی کروائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس عمل نے نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ بچوں کے ذہنوں میں احساسِ کم تری بھی پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان اسکولوں میں صفائی کے لیے مستقل عملہ (سویپر) موجود نہیں، جس کے باعث انتظامیہ نے یہ ذمہ داری طلبہ پر ڈال دی ہے۔ والدین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل بچوں کی عزتِ نفس کے منافی ہے اور ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق اسکول وہ جگہ ہے جہاں بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی تربیت کی جاتی ہے۔ اگر اسی ماحول میں انہیں ایسے کاموں پر مجبور کیا جائے جو ان کے دائرہ کار سے باہر ہیں تو اس سے نہ صرف ان کا تعلیمی شوق متاثر ہوتا ہے بلکہ وہ سرکاری تعلیمی نظام سے بدظن بھی ہو جاتے ہیں۔
شہریوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایسے حالات کے باعث والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں سے نکال کر مہنگے پرائیویٹ اداروں میں داخل کروانے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت سرکاری اسکولوں میں جدید سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بنیادی سہولت یعنی صفائی کا نظام بھی موجود نہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
اسکولوں میں فوری طور پر صفائی کاعملہ تعینات کیا جائے اورتعینات عملہ سےصفائی کاکام لیاجائے
واش رومز اور کلاس رومز کی صفائی کا باقاعدہ نظام بنایا جائے
طلبہ و طالبات سے صفائی کروانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے
تمام سرکاری اسکولوں کا سروے کر کے ایسے مسائل کا سدباب کیا جائے
عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکاری تعلیمی نظام سے لوگوں کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جو کہ کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کر کے سرکاری اسکولوں کا وقار بحال کرے تاکہ غریب عوام کے بچے بھی عزت اور بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں

05/03/2026

پاکستان کے تمام بارڈزپر اس وقت ہائی الرٹ ہے افغان بارڈر کے علاؤہ تمام فورسز اپنی اپنی پوزیشنوں پر ہم وقت تیار کھڑی ہیں ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں پاکستان کو مصروف کرنے کے لیے ہندوستان بھی مشرقی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرنے کو تیار ہے لہذا متحد رہیے اور تیار رہیے ۔۔🇵🇰🤲🏻🇵🇰⚔️

05/03/2026

Address

Mandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahara Welfare M B Din posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sahara Welfare M B Din:

Share