Knowledge

Knowledge Knowledge made Adam superior to Jinn and Malaik. It comes through Benign Education and Sincere Practice. Follow Divine Values and achieve Divinity

https://youtu.be/1_iCOa_QTiA?si=JIl79gfqs59rMr5E
20/11/2025

https://youtu.be/1_iCOa_QTiA?si=JIl79gfqs59rMr5E

Ben gurbette değilim, gurbet benim içimde ..🍁Ney Defteri ®➤ İnstagram : ❣️▬▬▬▬▬▬▬▬▬☪▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬Ney , Neyzen , Ney Enstrümantal , Ney Sesi , Ney...

03/05/2025

گھوٽڪي --ڪچو رينج لڊڙ ٻيلو جنھن جي ايراضي ھڪ اندازي مطابق -11ھزار ايڪڙ آھي جنھن مٿان قبضو ٿي چڪو آھي فاريسٽ آفيسرن جي ملي ڀڳت سان گذريل 30سالن کان ھن ٻيلي جي زمين مٿان آھسته آھسته مختلف مر حلن ۾قبضو ٿيندو رھيو آھي آخري چئوڪڙي مٿان به قبضو جاري پر افسير مٿي ريپورٽ جمع ڪرائيندا آھن ته لڍڙ ٻيلو ھڪ باغ آھي جتي وڻن جي گلزاري لڳي پئي جڏھن ته ھڪ به وڻَ ڪونھين ساري ٻيلي جي زمين مٿان قبضو ٿي چڪو آھي ان ۾َڀاڱي ڀائيوار راکو -رينجرس -ڊي ايف او ۽َڪنزرويٽر شامل آھن

03/05/2025

ڪنداھ ٻيلو سيوهڻ تعلقي جو سڀ کان وڏو ٻيلو لکيو ويندو هو تاريخ گواھ آهي ته هن ٻيلي ۾ مختلف قسمن جا ناياب وڻ هوندا هئا .ڪيترائي جانور جن ۾ هرڻ ڦاڙها سها گدڙ بگهڙ سوئر ۽ ٻيا به ڪيترائي جانور موجود هوندا هئا .هن ٻيلي۾ طوطن تترن ڪوئلن جون لاتون ٻڌڻ ۾ اينديون هيون .ماکي جا مڻ ملندا هئا ڍنڍن ڍورن واھن ۾ پٻڻ لوڙه پڻ ملندا هئا .۽ هن ٻيلي ۾ شڪارگاھ نالي هڪ وڏو سرڪاري بنگلو پڻ ٺھيل هيو پر افسوس سنڌ حڪومت جي لاپرواهي ۽ سياسي ڀوتارن کي خوش رکڻ لاء سنڌ جي ٻين ٻيلن سميت ڪنداھ ٻيلي کي تباھ ڪيو ويو . ۽ ڪنداھ ٻيلي جي سرڪاري زمين تي سياسي ڀوتارن جا قبضا به آهن

سنڌ کی موسمیاتی تبدیلین کان جیڪی خطرہ لاحق آھن سو ان تی بہ ڲالھایون
اسان جی جنت جھڙي وادئ مھراڻ جو حُسن سنڌ جی ھر جِئَ جو جیاپو (ساھ) یعني ٻیلا انھن کی تباھ وبرباد ڪرائی اتی قبضہ ڪرائی سنڌ ڌرتي کي دوزخ بٹائي ڇڏیو ويو آهي
خدارا,
سنڌ جی ٻیلن جی زمینن تان ھنگامي بنیادن تی قبضہ ختم ڪرائي سنڌ کي ساڳي واديء مھراڻ جو درجو ڏیاري جنت بٹایو۔۔۔۔
سنڌ جا ٻیلا سنڌ جی ماروئڙن لاء ,Green Gold جی حیثیت رکن ٿا ۽ معاشی استحڪام جا ضامن آھن۔۔۔
خدارا,
سنڌ جی عوام جو معاشی قتل عام بند ڪیو۔ سنڌ جی ماروئڙن کی مزید بُک ۽ بدحالي کان بچایو۔
امید تہ اهل شعور اهل قلم دوست هي عرض قبول ڪري ڪنداھ ٻيلي جي رهيل سهيل وڻن کي بچائڻ جي ڀرپور ڪوشش ڪندا..!!

25/04/2025

اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ - قول باری ہے : (الذین یومنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون) لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یہ قول باری نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے امر اور حکم کو متضمن ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے یہ دونوں باتیں متقین کی صفات اور تقویٰ کی شرائط قرار دی ہیں، سج طرح ایمان بالغیب کو تقویٰ کی شرط قرار دیا گیا ہے، ایمان بالغیب سے مراد اللہ اور بعث و نشور پر نیز ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے جن کا اعتقاد ہم پر بطریق استدلال لازم ہوگیا ہے۔ تقویٰ کی شرائط قرار پانا آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ کے ایجاب کا مقتضی بن گیا ہے۔- اقامت صلوۃ کے کئی معانی بیان ہوئے ہیں۔ ایک معنی اتمام صلوۃ ہے اور یہ معنی ” تفویم الشئی و تعقیقہ ایک چیز کو درست کرنا اور اسے حقیقت کا رنگ دینا۔ “ سے ماخوذ ہے۔ اور اسی معنی میں یہ قول باری ہے : واقیموا الوزن بالقسط اور زوزن کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ ایک معنی نماز کو اس کے تمام ارکان مثلاً قیام و رکوع و غیر ہما کے ساتھ اذکرنا ہیں۔ قیام کے لفظ سے ان تمام ارکان کی تعبیر کی گئی ہے، کیونکہ قیام نماز کے فرائض میں شامل ہے ، اگرچہ نماز اس کے سوا دیگر فرائض و ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : فاقروا ما تیسر من القرآن (قرآ ن میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھا جاسکے اس کی قرأت کرو) یہاں نماز مراد ہے جس کے اندر قرأت کی جاتی ہے۔ اسی طرح قول باری ہے : وقرآن الفجر ( اور قرآن فجر) اس سے مراد فجر کی نماز میں قرأت ہے۔ اسی طرح قول باری : واذا قیل لھم ارکعوا الایرکعون (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو رکوع نہیں کرتے) نیز وارکعوا و اسجدوا (رکوع اور سجدہ کرو) نیز : وارکعوا مع الراکعین (رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے ارکان یعنی اس کے فرائض میں سے ایک رکن اور فرض کا ذکر کر کے اس امرپر دلالت قائم کردی کہ مذکورہ رکن نماز کے اندر فرض ہے۔ اس کے ساتھ اس عمل کے ایجاب پر بھی دلالت قائم کردی جس کا شمار نماز کے فرائض ہوتا ہے اس طرح قول باری : ویقتیمون الصلوۃ نماز میں قیام کا موجب اور نماز کے ایک فرض کی خبر دینے والا بن گیا۔- قول باری : یقیمون الصلوۃ میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ متقین نماز کے فرائض پر نماز کے اوقات میں دوام کرتے ہیں، یعنی وہ ہمیشہ اوقات صلوۃ میں نماز کو اس کے فرائض و ارکان کے ساتھ ادا کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً (بےشک) اہل ایمان پ نماز اس کے معلوم و متعین اوقات میں فرض ہے) یعنی نماز اپنے معلوم اوقات میں فرض ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے : قائماً بالقسط یعنی وہ انصاف کی ترازو کو قائم رکھتا ہے اور انصاف سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔- عرب کے لوگ ایسی چیز کو قائم کا نام دیتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہو اور اس کے فاعل کو مقیم کہتے ہیں۔ محاورہ ہے : فلان یقیم ارزاق الجند (فلاں شخص فوج کی خوراک و تنخواہ کا مقیم یعنی منتظم ہے) ایک قول کے مطابق زیر بحث آیت کا مفہوم اس محاورہ سے ماخوذ ہے : قامت السوق (بازار کھل گیا) یہ فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب بازار کے لوگ بازار پہنچ جائیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ دوسرے تمام کام کاج چھوڑ کر نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اسی مفہوم میں : قد قامت الصلوۃ (نماز کھڑی ہوگئی) کا فقرہ بھی ہے۔- سطور بالا میں اقامت صلوۃ کے جو مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا جائز ہے کہ وہ سب کے سب آیت کی مراد بن سکتے ہیں۔ قول باری : ومما رزقنھم ینفقون خطاب کے اندر اور اس کے سیاق و سباق ہیں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ انفاق سے مراد فرض شدہ انفاق ہے۔ یہ وہ مالی حقوق ہیں جو اللہ کے لئے واجب ہیں، یعنی زکوۃ وغیرہ کیونکہ قول باری ہے : وانفقوا مما رزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے) نیز : والذین یکنرون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ (اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے)- اس بات کی دلیل کہ انفاق سے مراد فرض شدہ انفاق ہے ، یہ ہے کہ اللہ سبحانہ، نے اس کا ذکر فرض نماز اور اللہ اور اس کی کتاب پر ایمان کے ذکر کے ساتھ مقرون کردیا ہے اور اس انفاق کو تقویٰ کی شرائط اور اس کے اوصاف میں شمار کیا ہے۔ زیر بحث آیت میں مذکورہ صلوۃ اور انفاق سے فرض نماز اور زکوۃ مراد ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لفظ صلوۃ جب کسی وصف یا شرط کے ساتھ مقید ہوئے بغیر علی الاطلاق مذکور ہو تو یہ فرض نمازوں کا مقتضی ہوتا ہے۔ مثلاً قول باری ہے : اقم الصلوۃ لدنوک الشمس (سورج ڈھلنے پر نماز قائم کرو) نیز حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی (نمازوں کی نیز درمیانی نماز کی محافظت کرو) اور اسی طرح کی دیگر آیات۔- جب لفظ صلوۃ کے اطلاق سے فرض نماز مراد ہوگئی تو اس سے یہ دلالت بھی حاصل ہوگئی کہ انفاق سے مراد وہ انفاق ہے جو متعین پر فرض کردیا گیا ہے ۔ جب متقین کی اس بنا پر تعریف کی گئی کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں تو اس سے یہ دلالت بھی حاصل ہوگئی کہ رزق کے اسم کا اطلاق صرف مباح، یعنی حلال رزق کو شامل ہے۔ محظور یعنی حرام مال کو شامل نہیں ہے۔ یعنی اگر ایک شخص کسی کا مال غصب کرلے یا ازراہ ظلم اس کا مال ہتھیا لے تو اس صورت میں یہ نہیں کہ اجائے گا کہ یہ رزق اللہ نے اسے دیا ہے ۔ کیونکہ اگر مذکورہ مال اس شخص کے لئے رزق من اللہ ہوتا تو اس کے لئے یہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اس کا صدقہ کرنا اور اس کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرنا جائز ہوتا، جبکہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ غاصب کے لئے غصب شدہ مال صدقہ کرنے کی ممانعت ہے۔ اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔” غلول یعنی مال غنیمت سے چرائے ہوئے مال کا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ “- لغت میں رزق حصے کو کہتے ہیں : چناچہ ارشاد باری ہے : وتجعلون رزقکم انکم تکذبون (اور تم نے اپنا حصہ یہ بنا لیا ہے کہ تم تکذیب کرتے ہو) یعنی دعوت اسلام کے اندر تمہارا حصہ یہ ہے کہ تم اسے جھٹلاتے رہتے ہو۔- ایک شخص کا حصہ وہ چیز ہے جو خالص اس کی ہو اور اس میں اس کا کوئی شریک نہ ہو۔ اسے نصیب بھی کہتے ہیں، تاہم اس مقام پر اس سے مراد وہ پاکیزہ اور مباح چیزیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو عنایت کی ہیں۔- رزق کا ایک مفہوم اور بھی ہے اور وہ جانداروں کے لئے اللہ کی پیدا کی ہوئی غذائیں ہیں ان غذائوں کی طرف بھی رزق کی اضافت درست ہے۔ کیونکہ اللہ نے انہیں جانداروں کی خوراک بنایا ہے۔

22/03/2025

جنرل ایوب: قائد اعظم کا پہلا باغی جنرل
اس کے بعد جنرلوں کو پاکستان پرقبضہ کرنے کی چاٹ لگ گئی:

پاکستان کی بربادی اور تباہی کی پاکستان کی تاریخ کے وہ اوراق جو ہمیں کتابوں میں نہیں پڑھاۓ جاتے۔

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے

اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔

اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔

بحوالہ:
کتاب: The Crossed Sword
مصنف: شجاع نواز

قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔

اور بعد زاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا

اور بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہمیری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

بحوالہ:
کتاب: جنرل اور سیاست
مصنف: اصغر خان
جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کو پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔۔اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کیئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔
بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین"سیکریٹری جنرل گریسی"

برطانوی فوج کی نوکری کے دوران ایوب خان کا کیا کردار رہا آئیے اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں:

تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا ۔ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان تھا۔

کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔

اور پھر ایک ایسا فوجی افسرجسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا۔

یہ کیسے ممکن ہوا؟

جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے ۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور تمام مسافر لقمہ اجل بن گئے۔
پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے۔

حاصلِ کلام:
جس دن ہم نے اپنی نئ نسل کو پاکستان کی اصل تاریخ پڑھانا شروع کردیا اسی دن سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا۔

20/03/2025

سنڌي سماج

سنڌي سماج انساني رشتن تي ٻڌل آهي. اهي ئي رشتا آهن جيڪي اسان جي سماجي زندگيءَ جي روح کي قائم رکندا آهن. اسان جي سماج جي ارتقا سان گڏ اسان جي گڏيل لاڳاپن جا بنياد به سڌريا ۽ اڀريا آهن. اهڙي سماجي ارتقا جا نتيجا به انضمام سان گڏ انساني رشتن جي سڌاري کي به شامل ڪن ٿا. اهي رشتا جيڪي فطرت طرفان طئي ڪيا وڃن، تن کي رت جو رشتو چئبو آهي. جڏهن ته ٻيا لاڳاپا اسان جي سماج طرفان طئي ڪيا ويندا آهن، پنهنجي ترجيحن مطابق.

ثقافت ڪنهن به گروھ، انجمن، ڪميونٽي يا قوم جي بهترين سماجي، اخلاقي، ذهني، فني ۽ صنعتي عناصر جو هڪ مجموعو آهي. اهو ماڻهن جي مڪمل زندگي کي ظاهر ڪري ٿو. ثقافت ۾ ماڻهن جي ريتن رسمن، روزمرھ جي رهڻي ڪهڻي، رجحانن، روايتن، عقيدن، ۽ خواهشن جو بيان هوندو آهي. سنڌ ۽ ان جي ثقافتي تاريخ تمام پراڻي آهي. اسلام جي اچڻ کان اڳ هتي ايرانين، يونانين، سٿين ۽ ٻين جي حڪومت هئي، جنهن جا سنڌي ثقافت تي گهرا اثر پيا. سنڌ تهذيب جي شروعات کان وٺي هميشه ثقافتن جو اهڃاڻ رهي آهي، جتي مختلف سماجي، ثقافتي پس منظر جا ماڻهو لڏي اچي آباد ٿيا ۽ ان کي پنهنجو رهاڪو تسليم ڪرڻ سان سنڌين جي ثقافت، تهذيب ۽ ٻولي کي به مالا مال ڪيو ويو.

آريا سنڌو ماٿريءَ ۾ 1500 ق.م ڌاري داخل ٿيا، اٽڪل 500 ق.م ڌاري، سنڌ کي ڊاريوس هسٽاسپس پارسي سلطنت سان ملائي ڇڏيو. سڪندر اعظم 325 ق.م ۾ هن ملڪ مان گذريو، سندس وفات کان پوءِ سنڌ موريا جي قبضي ۾ آئي. ٻي صدي قبل مسيح ۾ پارٿين ان کي هڪ ڀيرو ٻيهر ايران سان ملائي ڇڏيو. انهن جي پٺيان سٿين، ۽ پوءِ وچ ايشيا جي ٻين حملي آورن جي پٺيان لڳا. خاندانن جي هن تسلسل ۾ آخري گروهه راءِ گهراڻي جو هو، جنهن کي ستين صديءَ جي وچ ڌاري غير سنڌي برھمڻ چچ تختو اونڌو ڪيو. چچ جي پٽ ڏاهر جي دور ۾ محمد بن قاسم، سنڌ کي فتح ڪيو، ۽ ٻڌ ڌرم جي باقيات سندس استقبال ڪيو ويو، .

10 صدي عيسويءَ کان 16 صدي جي شروعات تائين سنڌ مسلسل سومرن ۽ سمن جي راڄ هيٺ رهي. 11 مئي 1520ع ۾ ارغون فوجون ٺٽي ۾ داخل ٿيون ۽ ساڳئي مهيني جي 20 تاريخ تائين اتي جي رهاڪن کي ڦريو ۽ قتل ڪيو ۽ دهشت ڦھلائيندو رهيو. اهڙيءَ طرح ارغونن ۽ سندن ڀائٽين ترخانن سنڌ تي پنهنجن هم مذهب عوام جو ڦرلٽ جو عمل جاري رکيو، تان جو اهو 1591ع ۾ دهليءَ جي مغلن جي سڌي راڄ هيٺ اچي ويو.

ان کان پوءِ مغلن جي حڪومت 1679ع تائين رهي، پوءِ سنڌ تي ڪلهوڙن جي حڪومت آئي. انهن به سنڌ کي ٽڪرا ٽڪرا ڪري ان تي بي رحم حڪومت ڪئي. 1783ع ۾ ٽالپرن سنڌ تي قبضو ڪيو. جيتوڻيڪ سٺي طبيعت وارا هئا، پر .

مختلف دورن ۾ مذهب جي غلط تشريح جي نالي تي بيگناهه سنڌي آبادي تي مختلف ناانصافيون ۽ ظلم ڪيا. سنڌي هندن سان ٿيل زيادتي هجي يا ڪلهوڙن جي دور ۾ ٺڳيءَ ذريعي شاهه عنايت شهيد جو قتل. سنڌي سماج جي تاريخ تي هميشه مذهب جو غلبو رهيو آهي. هر مذهب سنڌي سماج کي فاتح جي چشمي ذريعي علاج ڪيو آهي. انهن سڀني، چاهي آريا هجن يا ايراني، يوناني هجن يا عرب، جن ۾ گپتا به شامل هئا، غير تشدد واري ٻڌمت جا مڃيندڙ، پنهنجي مذهب کي فتح واري نقطه نظر سان متعارف ڪرايو. اهو انگريزن جي حڪمرانيءَ جي لڳ ڀڳ هڪ صدي هئي، جنهن مذهب کي سياسي ۽ تهذيبي برتري قائم رکڻ لاءِ مسلط نه ڪيو. بلڪه انگريزن سنڌين کي مذهبي آزادي ڏني، جنهن کي بعد ۾ ’سيڪيولرزم‘ چيو ويو.

بنيادي طور تي هڪ عام سنڌي ماڻهو هميشه محبت جو پرچم بردار رهيو آهي. ڊاڪٽر ايڇ ٽي سورلي به پنهنجي ڪتاب ’شاه عبداللطيف ڀٽائي‘ ۾ لکيو آهي ته سنڌين ڪنهن به فوجي مهارت جو مظاهرو نه ڪيو. هن علائقي ۾ تاريخ ۾ ڪو به اهڙو فاتح پيدا نه ٿيو آهي، جنهن جو ذڪر لائق هجي. سنڌي محنتي ۽ امن پسند هئا، پر پنهنجي مقامي مسئلن ۾ ڦاٿل رهيا ۽ انهن جي زندگي پنهنجي زرعي زمينن کي هارائڻ ۽ روزي روٽي ڪرڻ جي چوڌاري گهمي رهي هئي.

سورلي جي اهڙي راءِ سنڌي ماڻهوءَ جي بنيادي نوعيت ۽ انهن جي انسانيت کي واضح ڪري ڇڏيو آهي. اهي ڪڏهن به ٻين جا حق غصب نه ڪندا آهن ۽ جيڪي ڪجهه انهن وٽ آهي ان تي راضي رهندا آهن. تصوف هميشه سندن زندگيءَ جو بنيادي اصول رهيو آهي. سنڌي ادب جو هر صنف تصوف جي چوڌاري گهمي ٿو. شاه عبدالڪريم بلڙي وارو، قاضي قادن، خواجه محدث. لنواري شريف جو زمانو، شاهه عنايت صوفي، شاهه عبداللطيف، سچل سائين، سمي، روحل، دلپت ۽ ٻين ڪيترن شاعرن تصوف جا مختلف پهلو پيش ڪيا آهن.

سنڌ ۾ ٻه مذھب، يعني اسلام ۽ هندومت غير معمولي نموني سان مليا آهن. هندو اڪثر ڪري مسلمان پير جو مريد ٿيندو يا ان جي برعڪس. اهڙيءَ طرح ملڪ جي مختلف حصن ۾ دفن ٿيل اهي ئي پير نه فقط ٻنهي مذهبن جا ماڻهو عزت ڪندا آهن، پر هندو هر هڪ جو نالو هوندو ۽ مسلمانن جو ٻيو. اهڙيءَ طرح سنڌوءَ جي ديويءَ کي اڳي ”زنده پير“ سڏيندا هئا ۽ پوءِ کيس ”خواجه خضر“ سڏيندا هئا، لالو جسراج کي ”منگھو پير“ ۽ لعل شهباز قلندر کي هندو راجا ڀرت جي نالي سان پوڄا ڪندا آهن. سنڌي، چاهي هندو هجن يا مسلمان، وڏي پيماني تي تصوف جي نظريي جا پيروڪار آهن. ڪو به پنهنجي مذهب جي سخت نسخي تي عمل نٿو ڪري. ٻئي هندستاني ننڍي کنڊ جي ٻين برادرين جي مقابلي ۾ سڀ کان وڌيڪ روادار آهن. ديوبنديءَ جي نظريي جي لحاظ کان مسلمانن يا وهابين جي نظر ۾، سنڌي مسلمان سخت مسلمان جي تعريف ۾ پورا نه ٿا اچن. ساڳيءَ طرح سنڌي هندو به سخت هندوءَ جي راهه تي نه پوندا، ڇاڪاڻ ته هو بت پوڄا ۽ سک مت جي حڪمن تي عمل ڪرڻ ۾ گهٽ ۾ گهٽ مائل آهن، ”گرنٿ صاحب“ جي اڳيان دعا ڪن ٿا ۽ ان کي پنهنجو يارنهن ۽ زنده گرو سمجهن ٿا. ’گرو گرنٿ صاحب‘ مسلمان صوفين جي ٻولن سان ڀريل آهي، جهڙوڪ؛ خواجه غلام فريد، بابا ٻلي شاهه ۽ ڪبير وغيره، سک مذهب جو باني بابا گرو نانڪ ديو هميشه ٻن ماڻهن سان گڏ هوندو هو. بلو نالي هڪ هندو؛ ۽ مردانو نالي هڪ مسلمان. دلچسپ ڳالهه اها آهي ته اسان جي پنهنجي شاعر حضرت شاهه عبداللطيف ڀٽائيءَ سان به ائين ٿيو، جنهن سان گڏ مدن نالي هڪ هندو به ايندو هو.

ننڍي کنڊ جي اٿل پٿل ۽ ان جي ورهاڱي سان گڏ، ان جو لڳ ڀڳ هر حصو باھ ۾ سڙي رهيو هو. مسلمانن ۽ هندن جي رت جا پياسا ٽولا هڪ ٻئي جي خون لاءِ بيزار ٿي ويا. پاڪستان ٺهڻ کان پوءِ سڀ کان بدترين فرقيوار فساد پنجاب ڏٺو، پر سنڌ صوبو امن جو واحد نخلستان هو، ٻي صورت ۾ اڻ ورهايل هندستان جي بنجر زمين ۾. صوبو اسلامي جمهوريه پاڪستان ۾ شامل ٿيڻ سبب سنڌي هندن هندستان ڏانهن لڏپلاڻ نه ڪئي، پر مهاجر مسلمانن جي انجينئرڊ فرقيوار فسادن سنڌي هندن کي هندستان جي ڌارين ملڪن ۾ پناهه وٺڻ تي مجبور ڪيو. پوءِ به کين اميد هئي ته جنهن وقت مذهبي جنون گهٽجي ويندو، اهي واپس اچي سگهندا. انهيءَ عقيدي جي ڪري ڪيترن ئي سنڌي هندن کي پنهنجون غير منقوله جائدادون سنڌي مسلمانن جي حوالي ڪيون ويون، ته جيئن هو واپس اچڻ کان پوءِ انهن تي ٻيهر دعويٰ ڪري سگهن. پر پاڪستان جون طاقتون ڪنهن به اهڙي بلند نظري جي اجازت نه ڏنيون هيون. اهي غير منقوله جائدادون سنڌي مسلمانن جي قبضي مان کسي ورتيون ويون ۽ هڪ سادي حلف نامي جي صورت ۾ هندستاني مهاجر مسلمانن کي مفت ۾ ڏنيون ويون.
هينئر به اهو نسل، جيڪو سنڌ ۾ ٿورڙي عرصي لاءِ رهي ٿو ۽ هن وقت هندستان جي مختلف حصن ۾ رهي ٿو، پنهنجي مادر وطن جي درشن ڪرڻ جي تمنا رکي ٿو. گهٽ ۾ گهٽ هڪ ڀيرو، انهن جي زندگيء ۾.

م ع م ۲۰/۳/۲۰۲۵

26/02/2025

سنڌي ڪڪڙ مٺڙي محمد ﷺ جي زماني ۾:

دجاج سنڌي يعني سنڌي ڪڪڙ (مادي) ديڪ سنڌي يعني سنڌي ڪڪڙ(نر)، ٻنهي جو واهپو عهد رسالت ﷺ ۾ عام هو، عربن کي ان جي ڄاڻ هئي. سنڌي ڪڪڙ جو ذڪر ابن خردازبه. المسالڪ والممالڪ ۾، ابن فقيه همداني مسالڪ الممالڪ، ۽جاحظ ڪتاب الحيوان ۾ ڪيو آهي بلڪ جاحظ دجاج سنڌي کي انهن ساهوارن ۾ شمار ڪيو آهي جن کي الله تعالٰی سنڌ جي خصوصيتن سان ٺاهيو آهي، ان کان سواءِ هن لکيو آهي ته دجاج فلاسي ان ڪڪڙ کي چئبو آهي جيڪو نبطي ۽ سنڌي ڪڪڙين جو مخلوط نسل مان آهي اگر ڪڪڙ اڇي رنگ جي هجي ته ان کي بيسري چئبو هو..
مجمع البحرین جو مصنف لکي ٿو ته :
وفی الحدیث دجاج سندی. حدیث ۾ سنڌي ڪڪڙ جو ذڪر آهي.
ان مان معلوم ٿئي ٿو ته حضور اڪرم ﷺ جي زماني ۾ ئي سنڌي ڪڪڙ واپرائي ويندي هئي.

حوالہ عرب و ہند عہد رسالت ﷺ ميں
تالیف قاضی اطہر مبارکپوری

ڊاڪٽر محمد علي محمدي
پنوعاقل 27 فيبروري 2025ع

22/02/2025

▪اس شخص نے کروڑوں روپے خرچ کر کے ساری بادشاھی مسجد مرمت کرائی اور میناروں پر سنگ مر مر کے سفید گنبد بنواۓ مسجد کا مین دروازہ اور شاندار سیڑھیاں بنوا کر مسجد کو دیدہ زیب بنا دیا۔۔۔

▪چوبرجی لاہور کے تین مینار تھے اور کھنڈر پڑی تھی.
اس شخص نے چوتھا مینار اور ساری عمارت کو مرمت کرا کر اس کی عظمت بحال کی۔

▪لاہور کا شالامار باغ ویران پڑا تھا
عمارت برباد تھی اور راہ داریاں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور فوارے کام نہیں کرتے تھے بلکہ سارا باغ ہی ویران پڑا تھا
اسی شخص نے شالا مار باغ کو از سر نو مرمت کروایا
اس وقت سے لوگ اسے بطور سیر گاہ استعمال کر رہے ہیں۔

▪اسی شخص نےقرار داد پاکستان کی جگہ عالیشان مینار پاکستان تعمیر کروایا تھا۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کا دارلحکومت کراچی سے لا کر پہاڑوں کے بیچ اسلام آباد جیسی محفوظ جگہ پر بنوایا اورخوبصورت سرکاری عمارتیں تعمیر کرائیں
(پاکستان PI 480 کے تحت امریکہ سے گندم خیرات میں لیا کرتا تھا)۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کو خوراک میں خود کفیل بنانے کے لیے سارے پاکستان میں اشتمال اراضیات کرایا اور لوگوں کی بکھری زمینیں یکجا کرا دیں۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نےفیصل آباد میں زرعی تجربات کے لیے 100 ایکڑ رقبے پر زرعی یونیورسٹی قائم کی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پہلے وارسک ڈیم بنوایا،
پھر منگلا اور تربیلا ڈیم بنواۓ
▪یہ وہ شخص تھا جس نے مستقبل میں پنجاب یونیورسٹی کی ضرورتوں کو محسوس کر کے اسے نیو کیمپس کے لیے نہر کے دونوں طرف 27 مربع زمین الاٹ کر کے وہاں پر عمارات بنوا دیں۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے دریاۓ راوی، چناب، جہلم اور اٹک پر نیۓ پل تعمیر کراۓ أور سکھر میں دریاۓ سندھ پر ریلوے پل کے ساتھ اتنے چوڑے دریا پر بغیر ستونوں کے شاندار معلق پل بنوایا۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے کراچی سے حیدر آباد تک 100 میل لمبی شارٹ کٹ سپر ہائی وے تعمیر کرائی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور پہاڑوں کے اندر ٹینک فیکٹری لگوائ جو خالد ٹینک تیار کرتی ہے۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے رسالپور میں ریلوے انجن بنانے کی فیکٹری لگوائی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے اسلام آباد میں ریلوے کی بوگیاں تیار کرنے کی فیکٹری لگوائی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس کی پالیسییوں سے لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان میں ٹیکسٹایل انڈسٹری لگی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے فیصل آباد میں کئ ایکڑ رقبے پر ٹیکسٹایل یونیورسٹی بنوا دی۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے مستقبل میں تیل کی منہگائی اور نایابی کو بھانپ کر لاہور سے خانیوال تک تجرباتی طور پر الیکٹرک ٹرین چلائی تھی
جس کی ہمارے لوگ تاریں تو کیا پول بھی بیچ کر کھا گۓ ہیں۔

▪1952 میں گوادر حکومت مسقط کا حصہ تھا
کرنسی انڈیا کی اور پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف پاکستان کا تھا
اسی شخص نے گوادر کا علاقہ مسقط سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔

پاکستان کی گوادر بندر گاہ اب پاک چین کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک کیلئے راہداری کا باعث بنی ہے

▪یہ وہ شخص تھا جس نے مشرقی پاکستان میں بھی چاۓ تیار کرنے کے کارخانے اور بانس سے کاغذ تیار کرنے کی بہت بڑی کرنا فلی پیپر مل لگوائی تھی
اس کے علاوہ پٹسن سے کپڑا اور بوریاں تیار کرنے کی بڑی بڑی جوٹ ملیں لگوایں اور لاکھوں مچھیروں کی کشتیوں میں انجن فٹ کروا دیۓ تاکہ انہیں سمندر میں دور تک جا کر مچھلیاں پکڑنے میں آسانی ہو۔

▪یہ وہ شخص تھا جس نے صرف دس سال میں یہ سب کچھ کر دکھایا لیکن ہمارے لالچی لوگوں نے ان جُھوٹے سیاستدانوں کے جھوٹے الزامات پر اسے ذلیل کر کے نکالا تھا۔
اس کے علاوہ اس سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہونگی کیونکہ وہ بہرحال ایک انسان تھا ،لیکن
جس شخص نے پاکستان کیلئے یہ سارا کچھ کیا
یہ احسان فراموش سیاستدان اس کا نام لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

اس شخص کا نام تھا
جنرل محمد ایوب خان اور یہ ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھتا تھا
Copied.

09/02/2025

ایک جج دونوں پارٹیوں سے پیسے لیتا تھا لیکن فیصلہ انصاف پر کرتا تھا۔ ہارنے والے کے پیسے واپس کردیتا تھا۔

ایک سابق ڈائریکٹر انٹیلیجنس کے انکشافات، دعوے یا الزامات ؟

طاہرہ سید کو کھر نے فون کیا، آپ لندن جارہی ہیں، میں بھی لندن جارہا ہوں۔ اس نے جواب دیا: آپ جتنی مرضی کوشش کرلیں میں آپ کے قابو نہیں آسکتی۔

اس کی بیوی اپنا پرس کراچی بھول گئی۔ پرس لانے کے لیے جہاز خاص طور پر کراچی بھیجا گیا۔

مشرف کے ساتھ نواز شریف کی ڈیل میں مجید نظامی اور میں شامل تھے

پاکستان سٹیل ملز کا چیئرمین عثمان فاروقی ہر مہینے زرداری کو ایک کروڑ پہنچاتا تھا.
قومی اتحاد کی ایجی ٹیشن اور بھٹو کی پھانسی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا
ایجی ٹیشن کے دوران مولانا مودودی کے نام 30لاکھ کا غیر ملکی چیک میں نے پکڑا
جماعت اسلامی کے دو اہم آدمی ہمارے لیے انٹیلی جنس کرتے اور پیپلز پارٹی کے تین جیالے بھی
کوثر نیازی تنخواہ پر کام نہیں کرتے تھے۔ کوئی کام کروالیتے تھے۔
مولانا غلام غوث ہزاروی ہم سے پانچ سو روپیہ مہینہ لیتے تھے۔ جب میں نہیں پہنچاتا تھا خود لینے کے لیے آجاتے۔ کام کا بندہ وہی ہوتا ہے جو تھوڑی بہت مخالفت کرے اور اندر خانے حکومت کے لیے کام کرے۔
جب بھٹو صاحب پر مقدمہ چل رہا تھا تو پیپلز پارٹی کے تین جیالے امان اللہ خاں، غیاث الدین جانبازاور امیر حبیب اللہ سعدی ہمارے لیے مخبری کرتے۔ انہیں ہم نے سمن آباد کوٹھی لے دی تھی اور سہولتیں بھی فراہم کردی تھیں۔
شیخ محمد رشید شیخوپورہ میں عورت بن کے دودھ بلو رہے تھے۔ انہی کی مخبری پر پکڑے گئے۔
مولوی مشتاق کی عدالت میں بم چلانے کی منصوبہ بندی بھی انہی جیالوں نے ہمیں بتائی۔
نواب کالا باغ کو شراب اور عورت سے نفرت تھی۔ چودہری ظہورالٰہی کو انہوں نے حوالداری پر بحال کرکے ڈیوٹی پر طلب کر لیا تھا۔
مرتضیٰ بھٹو نے آصف علی زرداری کی ایک مونچھ کٹوادی۔ دوسری انہوں نے خود منڈوادی۔ بے نظیر نے زرداری سے مرتضیٰ بھٹو کو صرف پھینٹی لگانے کا کہا تھا ۔
فاروق لغاری بے نظیر کی حکومت ختم نہ کرتے تو ایک اہم آدمی قتل ہوجانا تھا۔
جو ارب پتی بھاگ گیا اس کی سفارش چودھری شجاعت نے کی۔
میں قاسم بھٹی کے گھر مقیم رہا۔ وہاں آٹھ من سونا زمین میں دفن تھا۔
عبداللہ ملک اور پروفیسر ایرک سپرین اوپر کے لیول کے تھے، ڈائریکٹر انٹلی جنس بیورو کو ملنے والے۔ ایرک سپرین کمیونزم کے متعلق میرا سورس تھے۔ دو دفعہ میں نے انہیں ماسکو کے لیے ٹکٹ لے کے دیا۔

نواب صادق حسین قریشی کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے نواز شریف نے اس کے نام 35کنال کی سفارش کردی۔ اقبال ٹکا نے راتوں رات 35کنال پر قبضہ کرلیا۔
نواز شریف نے ایم این ایز کے لیے سارے مالشیے ہالی ڈے اِن میں جمع کرلیے تھے.
بھٹو صاحب نے قرآن شریف پر لکھ دیا تھا کہ حُسنہ شیخ میری بیوی ہے۔ اس کے گھر سے صرف وہی قرآن شریف چوری ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کی پہلی بیگم کے گھر نوڈیرو سے جب زیورات چوری ہوئے تو ایس پی لاڑکانہ پنجل خاں نے ممتاز بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھٹو صاحب سے کہا: سائیں! چور تو آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔
جنرل ضیا الحق نے فوج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن بانٹی۔ پھر بھٹو صاحب سے معافی مانگ لی۔
بھٹو صاحب ہر ایک کی بے عزتی کردیتے تھے۔ اسی لیے جب انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو ڈاکٹر مبشر حسن، حفیظ پیرزادہ، ملک معراج خالد اور کوثر نیازی وغیرہ جنرل ضیا سے ملتے، تحفظ مانگتے اور اپنی وفاداری کا یقین دلاتے رہے۔
جام صادق کو نصرت بھٹو نے باسٹرڈ کہا تو اس نےجواب دیا: اماں آپ نے بجا فرمایا۔
پپو کے قاتلوں کو سرِعام پھانسی اس لیے دی گئی تاکہ بھٹو کی پھانسی کے لیے لوگ ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔
جرنیل بھٹو کو مئی جون 1978ء ہی میں پھانسی لگادینا چاہتے تھے۔ اِن کی پھانسی پر جنرل ضیا اور جسٹس انوارالحق متفق تھے۔
جنرل ضیا کی ہدایت پر میں نے لیاقت باغ فائرنگ کیس تیار کررکھا تھا۔ کہ اگر سپریم کورٹ بھٹو کو چھوڑ دے تو پھر اس کیس میں انہیں پھانسی دیدی جائے۔
بدنیتی کا یہ عالم تھا کہ قصاص اور دیت آرڈی ننس پاس ہونے کے باوجود اسے بھٹو کی پھانسی کے بعد نافذ کیا گیا۔
مسعود محمود کو وعدہ معاف گواہ بنانے میں رابطہ کار سیٹھ عابد تھے۔
ضیاء الحق نے خود کو امیرالمومنین بنانے کے لیے ریفرنڈم کا فیصلہ کرلیا تھا۔
کھر نے جنرل ضیا کو پریڈ میں اڑانے کا پروگرام بنایا، سیٹھ عابد نے جاکے جنرل ضیا کو بتادیا اور اپنا سونا واپس لے لیا۔

نواز شریف سے پہلے ان کے روحانی باپ جنرل ضیاء الحق نے لفافوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ حاجی صاحب نے بعض ایڈیٹروں کے نام بھی بتائے جنہیں جنرل ضیا میرے بھائی جنرل مجیب کے ہاتھ لفافہ بھیجتے تھے۔

نورجہاں کے فون پر بھی ٹیپ لگائی لیکن جلد ہی ہٹادی، کیونکہ وہ گندی گالیاں نکالتی تھی یا اپنے مخاطب سے کہتی تھی: سوہنیا، من موہنیا۔
ضیاء الحق نے یہ جانتے ہوئے کہ انور شمیم کرپٹ ہے اسے ائرفورس کا چیف بنادیا۔ اس کی بیوی اپنا پرس کراچی بھول گئی۔ پرس لانے کے لیے جہاز خاص طور پر کراچی بھیجا گیا۔
گورنر پنجاب جنرل جیلانی کو شراب ہلاکو خاں سپلائی کرتا تھا۔
جنرل جہاں زیب ارباب نے ایسٹ پاکستان سے پچاس لاکھ روپے لوٹے تھے۔ جنرل ضیا نے اسے سندھ کا گورنر لگایا تو ایک برمی عورت کے پیچھے لگ گیا۔ اس کے خاوند کو روزانہ پولیس سے جوتے لگواتا۔
ایف کے بندیال جنرل ضیا کے قدموں میں بیٹھ گیا تو جنرل ضیا نے ان کے داماد کو کینیا میں سفیر لگادیا۔
انور سیف اللہ ہیروئن سمگلنگ میں پکڑاگیا تو غلام اسحق خاں اور کلثوم سیف اللہ دونوں اسے چھڑانے کے لیے امریکہ پہنچ گئے۔

سابق ڈائریکٹر انٹیلی جنس و سابق آئی جی پولیس سندھ و پنجاب حاجی حبیب الرحمنٰ نے یہ باتیں منیر احمد منیرکو انٹرویو میں 4226سوالات کے جواب میں کیں ۔ جو ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں مکتبہ آتش فشاں لاہور( فون نمبر 4332920 0333 ) نے شائع کیا ہے۔ ایک ہزار سے زائد صفحات کا یہ انٹرویو شاید اردو میں طویل ترین انٹرویو ہے۔

01/02/2025

برصغیر پاک وہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست بہاولپور کی بنیاد 1727ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اول نے رکھی اور تحصیل لیاقت پور کا قصبہ اللہ آباد ریاست کا پہلا دارالخلافہ قرار پایا۔
برصغیر کی تقریباً چھ سو ریاستوں میں سے ریاست بہاول پور کا نمبر بالحاظ مرتبہ بائیسواں تھا اس کے فرماروا سترہ توپوں کی سلامی پاتے تھے - اور خود مختار ہونے کی حیثیت سے اپنا ٹکسال وسکہ بھی رکھتے تھے -یہ ریاست دولت خداداد کہلاتی تھی حکومت برطانیہ ریاست بہاولپور کو کس قدر اہمیت دیتی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ ۱۹۳۷ء میں جارج ششم (۱۹۳۷ء - ۱۹۵۲ئ) کی تاجپوشی کی تقریب میں شرکت کےلیےہندوستان کے تقریباً چھ سو والیان ریاست میں سے صرف چھ حکمرانوں کو مدعوکیا گیا جن میں نواب آف بہاولپور بھی شامل تھے
1892ء میں ریاست میں ڈگری کلاسز کا اجراء کیا گیا۔
برصغیر کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کا تقرر ایس ای کالج میں کیا گیا، جن میں بابو پرسنا کمار بوس بطور پہلے پرنسپل، پروفیسر لالہ رام رتن،پروفیسر مرزا اشرف گورگانی، مولوی محمد دین، پروفیسر وحید الدین سلیمؔ پانی پتی نمایاں نام ہیں۔
1925ء میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے لیے جامعۃ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ قائم کیا گیا ۔ یہ پورے برصغیر میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ تھا، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و اساتذہ تعلیم دیتے تھے
فنی تعلیم کے لیے صادق کمرشل انسٹی ٹیوٹ قائم ہوا جواَب صادق کامرس کالج کے نام سے پوسٹ گریجوایٹ تک طلبہ کو زیورِ تعلیم سے اب تک آراستہ کر رہا ہےایچی سن کالج کی طرز پر1954؁ء میں صادق پبلک سکول جیسے اعلیٰ معیاری ادارا قائم کیا گیا جو 450 ایکڑ زمین پر محیط ہے ۔
1928 دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمانکی، ہیڈ اسلام اور ہیڈ پنجند تعمیر کیے گئے اور پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھا دیا گیا

3 دسمبر 1930ء کو سر راس مسعود (وائس چانسلر) کی دعوت پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سالانہ کانووکیشن میں ریاست کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور عطیہ دی گئی ۔ 28 دسمبر 1930ء کو انجمن حمایت اسلام لاہورکے سالانہ جلسہ کے لیے گرانقدر مالی امداد دی گئی جو تاریخ کے اوراق کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ
1908ء میں ندوۃالعلماء لکھنؤ کے لیے ریاست کی طرف سے دی جانے والی پچاس ہزار روپے کی مالی امداد کے جواب میں علامہ شبلی نعمانی نے شکریہ کا خط تحریر کیا جو محافظ خانہ (محکمہ دستاویزات) بہاو ل پور میں محفوظ ہے۔

پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کا سینٹ ہال (جہاں اس وقت یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم ہے) اسی ریاست بہاولپور کی طرف سے تعمیر کرایا گیا اس عمارت کی پیشانی پر آج بھی نواب صاحب کے نام کی تختی موجود ہے۔
کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کابہاول پور بلاک ہو یا ایچیسن کالج کا بورڈنگ ہاؤس (بہاول پور ہاؤس) نواب = صادق کی یادگار ہیں۔

صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) میں آل انڈیا مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی تین نشستیں منعقد ہوئیں اور برصغیر کے طول و عرض سے نامور شعراء کرام نے اس میں شرکت کی۔
قادر الکلام صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام ’’دیوانِ فرید‘‘ ترجمہ اور تشریح کے ساتھ 1942؁ء میں عزیز المطابع پریس سے شائع کیا گیا ۔

ریاست بہاولپور کی طرف سے حکومت پاکستان کو ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 7 کروڑروپے اور بعد ازاں 2 کروڑ روپے ، پھر 22 ہزار ٹن گندم اور مہاجرین کے لیے 5 لاکھ روپے دیے گئے۔

ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ریاست بہاولپور کی ملکیت ﺍﻟﺸﻤﺲ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﻣﺤﻞ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ دیئے گئے ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮬﮯ

1954 میں پاکستان اور بھارت کا پہلا میچ بھی ڈرنگ سٹیڈیم میں ہوا تھا
یہ ریاست بہاولپور ہی تھی ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ملک ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻄﯿﺮ ﺭﻗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ۔ ریاست ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﺣﻠﻒ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮔﺌﮯ۔

پاکستان کے سربراہ قائداعظم کو ان کے شایان شان مہنگی ترین رولز رائس گاڑی ان کو تحفے میں دی گئی۔
اِن ﺧﺪﻣﺎﺕ کو ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ نےﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ” ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ۔

Address

Kanga1455
Larkana Lines

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share