07/12/2025
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انسان جب ایک معاشرے میں جیتا ہے تو اُس کی ضروریات دو طرح کی ہوتی ہیں... انفرادی ضروریات اور دوسری معاشرے کی اجتماعی ضروریات... صدیوں سے تعلیم انسانی معاشروں کی بنیادی اجتماعی ضرورت رہی ہے. وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور ساتھ ہی تعلیم اور تربیت کے تقاضے بھی بدلتے جاتے ہیں... اور ہر دور نے اسے اپنے حالات کے مطابق ترتیب دیا ہے.
لیکن آج... دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور اسی رفتار سے انسانی شعور، اقدار اور تربیت کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں.
افسوس یہ ہے کہ ہمارے پاس تعلیمی ادارے تو ہیں لیکن ان کے پاس درست سمت نہیں ہے... ہمارے نوجوانوں کے پاس ڈگریاں تو ہیں لیکن بصیرت نہیں ہے... ہماری نسل کو بولنا تو آتا ہے، لیکن کردار میں وزن اور سوچ میں گہرائی نہیں ہے.
تعلیم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ انسان کو یہ سکھانا ہے کہ:
حق اور باطل میں فرق کیسے کیا جاتا ہے
صحیح اور غلط کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے
اپنی صلاحیتیں کیسے پہچانی جاتی ہیں
کمزوریوں پر کیسے قابو پایا جاتا ہے
زندگی کے بدلتے حالات میں اپنے لیے درست راستہ کیسے چنا جاتا ہے.
اور کیسے بطریق احسن اپنی معاشی اور بشری ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے.
یہی کسی بھی نظامِ تعلیم کی سب سے بنیادی ذمہ داری ہے.
لیکن آج کا عالمی کارپوریٹ تعلیمی ماڈل انسان کو سوچنے والا نہیں بلکہ چلنے والا پرزہ بنا رہا ہے، جہاں ہر چیز کو راحت، لذت اور خواہش کے تابع کر دیا گیا ہے اور پوری انسانیت ایک خاموش غلامی میں جکڑ دی گئی ہے۔
ایسے وقت میں انسانیت کو ایک ایسے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو:
عین فطرت کے مطابق ہو
انسانی فکر کو آزاد کرے
انسانوں کو تحقیق کا مزاج دے
اور انسان کو انسان سے جوڑے
القیام معاشرے کی انہی ضروریات کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے.
القیام ایک ادارہ نہیں ایک سوچ ہے، یہ ایک سفر ہے یا یوں کہیں کہ ایک کوشش ہے کہ:
حقیقی علم سے انسانی معاشرے میں روشنی پیدا ہو.
تحقیق کے مزاج سے معاشرے میں عدل قائم ہو.
اور خدمت کے مزاج سے انسان معاشرت کا حسن دوبارہ زندہ کیا جا سکے.
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ اب انسانیت کو سرمایہ دارانہ بیڑیوں سے نکل کر حق، عدل اور خدمت کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے،
تو خوش آمدید...
القیام اسی سفر کا آغاز ہے، آئیں ہمارا ساتھ دیں اور ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں، یہ سفر ہمیں مل کر طے کرنا ہے.