Naim Un Naseer Welfare Trust Lahore

Naim Un Naseer Welfare Trust Lahore NNWT

15/02/2026
06/12/2025

ؒ
کہا جاتا ہے غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کا جنازہ لوگوں کی انگلیوں پر تھا کیونکہ لوگ اتنے بے تاب تھے اس جنازہ کو کندھا دینے کے لئے اور قافلے در قافلے اس جنازہ میں شرکت کے لئے آرہے تھے حالانکہ ان کا اس میت سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا

آخر یہ مسلمان کون تھا
کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے
غازی عامر عبدالرحمن چیمہ رحمۃ اللہ علیہ کون تھے ؟
عامر چیمہ 04 دسمبر 1977ء کی صبح اپنے ننھیال حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔
آپ کی والدہ نے آپ کا نام عامر جبکہ والد نے عبد الرحمٰن تجویز کیا۔
چنانچہ دونوں ناموں کو ملا کر عامر عبدالرحمٰن رکھ دیا گیا۔
لیکن مختصر نام عامر مشہور ہوا۔

عامر چیمہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔
ان کی تین بہنیں ہیں۔
آپ نے 1993ء میں جامع ہائی اسکول ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی سے میٹرک کیا۔
1996ء میں ایف جی سر سید کالج مال روڈ راوالپنڈی سے ایف ایس سی کی۔

نیشنل کالج آف انجینرٔنگ فیصل آباد سے بی ایس سی ٹیکسٹائل انجینرٔنگ کی ڈگری حاصل کی۔
کچھ عرصہ یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں لیکچرار رہے۔
رائے ونڈ کی ایک ٹیکسٹائل مل اور الکریم ٹیکسٹائل ملز کراچی میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔

نومبر 2004ء میں جرمین روانہ ہوئے اور جرمنی کے شہر مونس گلاڈباخ میں واقع اوخشو لے فیڈر یائن یونیورسٹی میں ماسٹر آف ٹیکسٹائل اینڈ کلوزنگ منیجمنٹ میں داخلہ لے لیا۔
آپ نے کامیابی کے ساتھ تین سمسٹرز مکمل کر لیے تھے۔
اب ان کا آخری سمسٹر چل رہا تھا اور جولائی 2006ء میں تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹنا تھا۔
مذہبی اور تاریخی کتب مطالعہ ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
جب وہ یورپ کے توبہ شکن اور کافر ادا ماحول میں گئے تو تب بھی اپنے دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگنے دیا اور نہ ہی اپنی کردار پے کوئی حرف آنے دیا۔

30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلنز پوسٹن نے حضور نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّم کے بارے میں 12 نہایت توہین آمیز اور نازیبا کارٹون شائع کیے۔
پھر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا۔

رسول ﷲ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّم کی توہین ہو اور مسلمان خاموش رہیں، ہو ہی نہیں سکتا، یہ دراصل محبت، عشق ادب اور احترام کی نرالی ہی دنیا ہے، کوئی انوکھا ہی رنگ ہے۔
جسے غیر مسلم، مغرب والے، یہودی، عیسائی اور ہندو سمجھ ہی نہیں سکتے۔

عامر عبد الرحمن چیمہ شہید رحمۃ اللہ علیہ محبت رسول ﷲ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّم کے اسی نوکھے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
ان کارٹونوں کی اشاعت سے مشتعل ہو کر جرمنی میں مقیم اس پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ نے متعلقہ اخبار کے چیف ایڈیٹر ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کیا
اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹوں کے مطابق اپنے پیارے نبی ﷺ کی توہین نے انہیں سخت بے قرار اور بے چین کر دیا تھا۔
ان کی یہ بے قراری اور بے چینی عامر چیمہ کو اس رسوائے زمانہ اخبار کے مرکزی دفتر میں لے گئی۔
وہ تیز قدموں سے اخبار کے گستاخ رسول ایڈیٹر کے کمرے کی طرف بڑھے، عامر چیمہ دوڑتے ہوئے ایڈیٹر کے کمرے میں گھس گئے اور اپنے کپڑوں میں چھپایا ہوا خاص قسم کا شکاری خنجر نکال کر اس پر پے در پے وار کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔
اتنے میں دفتر کا عملہ اور سیکورٹی گارڈز جمع ہو گئے اور انہوں نے عامر چیمہ کو پکڑ لیا۔
عامر چیمہ نے مزید وار کر نے کے لئے اپنے آپ کو ان لوگوں کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بہت سے لوگ تھے اس لئے عامر چیمہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔
جرمن پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کے چیف ایڈیٹر ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کے نتیجہ میں وہ نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہو گیا۔
غازی عامر عبدالرحمن چیمہ گرفتار ہوئے۔
جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیوں نے برلن جیل میں 44 دن تک عامر چیمہ کو ذہنی و جسمانی اذیتیں دے کر تشدد کیا۔

ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی مریض ہے، دماغی طور پر تندرست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آکر اٹھایا ہے۔
مزید براں یہ کہ اس فعل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے کیے پر بے حد شرمندہ اور نادم ہوں۔
شہید غازی عامر چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر اچانک شیر کی طرح دھاڑا اور اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا
’’میں نے جو کچھ کیا ہے، وہ نہایت سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔
مجھے اپنے فعل پر بے حد فخر ہے۔
یہ میری ساری زندگی کی کمائی ہے۔
حضور نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک تو کیا، ہزاروں جانیں بھی قربان۔
میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اگر کسی بدبخت نے میرے آقا رسولِ کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہِ وَسَلَّم کی شان اقدس میں کوئی توہین کی تو میں اسے بھی کیفر کردار تک پہنچائوں گا۔
بحیثیت مسلمان یہ میرا فرض ہے اور میں اس فریضہ کی ادائیگی کرتا رہوں گا۔‘‘
غازی عامر چیمہ کی اس بے باک اور بے خوف جسارت کے بعد جیل حکام آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے عامر چیمہ پر بہیمانہ تشدد کی انتہا کر دی، اس کے پیچھے سے ہاتھ باندھے گئے۔
پلاس کے ساتھ اس کے ناخن کھینچے گئے۔
پائوں کے تلوئوں پر بید مارے گئے، گرم استری سے اس کا جسم داغا گیا، جسم کے نازک حصوں پر بے تحاشا ٹھڈے مارے گئے، ڈرل مشین کے ذریعے اس کے گھٹنوں میں سوراخ کیے گئے۔
غازی عامر چیمہ نہایت اذیت کی حالت میں ﷲ اکبر کے نعرے لگاتا رہا۔
اسی دوران میں اس کی سانسیں اکھڑ گئیں اور وہ بے ہوش ہو گیا۔
پھر ان بدبختوں نے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔
"مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلہ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ"

غازی عامر چیمہ کی شہادت 3 مئی 2006ء کو ہوئی۔
شہید کا جسد خاکی 10 دن کی تاخیر کے بعد 13 مئی 2006ء کو صبح 9 بجے پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے لاہور لایا گیا۔
بعدازاں شہید کے آبائی گائوں ساروکی (وزیرآباد) میں تدفین ہوئی۔
ایک اندازے کے مطابق جنازے میں 5 لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔
آفرین صد آفرین، عامر بھائی! آپ بازی لے گئے، ﷲ تعالیٰ آپ کی قربانی کو قبول فرمائے، آپ پر رحمتیں نازل کرے اور آپ کی قبر کو ہمیشہ نور سے آباد رکھے۔

Sufi Media Services

05/09/2025
01/09/2025

افغانی تو عاجز لوگ تھے
ہماری جوتی ہمارے پاؤں سے اتار کر اپنے ہاتھوں میں لیکر اسے اچھے سے پالش کر کے دوبارہ ہمارے پاؤں کے سامنے ترتیب سے رکھنے والے

‏ہمارے گلی محلے میں سے کچرہ اٹھا کر ٹھکانے لگانے والے

‏ہمارے بچوں کو چھلیاں ابال کر نمک مصالحہ ڈال کر کھلانے والے

‏ہمارے بازاروں میں پھلوں کے ٹھیلے لگا کر روزی کمانے والے

‏سادی کپڑے جوتی کی دکان بنا کر کم خرچ کر ہزار کی جوتی ہزار کا جوڑا پانچ سو سات سو میں آوازیں لگا کر بلا کر ہماری من مرضی کے ریٹ پر ہمیں دینے والے

‏ہماری مسجدوں کے پہلی صف کے نمازی۔❤

‏ہمارے ماحول معاشرے میں ٹوپی اور برقعے کا کلچر عام رکھنے والے

‏ہمارے بازاروں میں ہاتھوں میں شاپر مسواک دانداسہ لیے کھڑے

‏ہمارے مکانوں کی بنیادیں کھودنے والے

‏ہمارے کھیتوں سے گُررررررر گُررررررر کٹر چلا کر لکڑیاں کاٹ کر دینے والے

‏گینتی بیلچہ اٹھاۓ چوک چوراہوں پر مزدوری کے انتظار میں بیٹھے

‏پلاسٹک کے برتن موٹر سائیکل پر لاد کر پھیری کر کے ہمارے دیہاتوں میں بیچنے والے

‏سوکھی روٹی لوہا لین کے صدائیں لگا کر اپنے بچوں کی روزی کمانے والے

‏ہمیں لچھے دار پراٹھے اور نشیلی چاۓ بنا کر کھلانے پلانے والے

‏مچھلی سٹائل تکون سٹائل شہد مکھن چاکلیٹ پیزا آلو قیمہ والے پراٹھے متعارف کروانے والے ہمیں کھلانے والے

‏منڈیوں میں ہاتھ ریڑھی چلا کر سبزی فروٹ پک اینڈ ڈراپ کرنے والے

‏واللہ آپ نے ہماری جتنی خدمت کی اتنی کوئی قوم آج تک نہ کر سکی ہے نہ آئندہ تاریخ میں ہماری خدمت کرے گی

‏تم ہمارے دلوں کے شہزادے تھے ہو اور تاقیامت رہو گے تم سے ہمارے گلی محلوں کی ہماری بستیوں کی رونق تھی تم ہمارے بھائی تھے ہو اور رہو گے ۔

لیکن یار ہمیں معاف کردینا ،

پھر نئی ہجرت کوئی درپیش ہے
خواب میں گھر دیکھنا اچھا نہیں
کچھ شرپسند عناصر کی وجہ سے ہم پوری کمیونٹی کو غلط نہیں کہہ سکتے

Address

AR Complex Service Road Ring Road Gohawa
Lahore
54810

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

04235700866

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naim Un Naseer Welfare Trust Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Naim Un Naseer Welfare Trust Lahore:

Share