Pakistan Forests Association

Pakistan Forests Association P.F.A has been established for Environmental conservation & to protect Biodiversity of Pakistan.

05/09/2026

فارسٹ ایکٹ 1927 amended 2025 کی دفعہ 79-A(1)(a) کے تحت پرچہ پولیس کے اندراج کی قانونی حیثیت اور اس کے فوائد اور نقصانات???

01/08/2026

فاریسٹ ایکٹ 1927 میں 2025 کی ترمیم کے تحت اب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب جنگل کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اپنی ایف آئی آر خود رجسٹر کر کے قانونی کارروائی کرے گا۔

لیکن فیلڈ میں فاریسٹ افسران اب بھی پرانی ڈیمج رپورٹس ہی چاک کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نئی فاریسٹ ترمیم 2025 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس وجہ سے
فیلڈ اسٹاف کے خلاف قواعد کو بائی پاس کرنے پر محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے
ڈیمج رپورٹ کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ عدالت میں اس کی کیا حیثیت رہ جائے گی
یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب تک پرانی روش کیوں برقرار رکھی جا رہی ہے
فاریسٹ فورس کے قیام کے بعد بھی فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اپنی ایف آئی آرز کیوں درج نہیں کر رہا
اور سب سے اہم بات اس غفلت اور خلاف ورزی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے

08/07/2026

جنگلات بچانے ہیں تو اسلحہ کی طرح چین سا رکھنے کا بھی لائسنس جاری کیا جائے

08/07/2026

مری کے جنگلات پہ ایک خاموش واردات!
پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا فارسٹ (ترمیمی) ایکٹ 2026 محض چند قانونی الفاظ کا اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسی ترمیم ہے جس کے دور رس اثرات پورے پوٹھوہار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ "قومی اہمیت کے منصوبے" کے نام پر محفوظ (Reserved Forest) اور نیم محفوظ (Protected Forest) جنگلات کی قانونی حیثیت تبدیل کی جا سکے۔ سوال یہ نہیں کہ آج اس اختیار کو کس نیت سے استعمال کیا جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ بیوروکریسی کو کل اس اختیار کو غلط استعمال کرنے سے کون روکے گا؟
مری صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام نہیں بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کا سب سے اہم واٹر شیڈ ہے۔ انہی جنگلات کی بدولت بارش کا پانی محفوظ ہوتا، زیرِ زمین آبی ذخائر ری چارج ہوتے اور کروڑوں لوگوں کو پانی میسر آتا ہے۔ اگر انہی جنگلات میں قومی منصوبوں، ریسٹ ہاؤسز یا دیگر تعمیرات کے لیے قانونی راستہ کھول دیا گیا تو اس کا نقصان صرف مری نہیں بلکہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت مری کی ری ماڈلنگ، تجاوزات کے خاتمے اور جنگلات کی بحالی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی حکومت نے خاموشی سے ایک ایسی قانونی ترمیم بھی کر دی ہے جو مستقبل میں انہی جنگلات میں نئی تعمیرات اور مختلف منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اگر مقصد واقعی جنگلات کا تحفظ ہے تو پھر یہ واضح تضاد کس منطق پر مبنی ہے؟
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو پنجاب اسمبلی کا کردار ہے۔ کیا ایوان میں کسی رکن نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی، پانی اور ماحول کی ضمانت ہیں؟ کیا حکومتی اور اپوزیشن ارکان سب اس ترمیم کے ممکنہ نتائج سے بے خبر تھے یا خاموشی ہی کو سیاست سمجھ لیا گیا؟
مزید حیرت اس بات پر ہے کہ وزیرِ جنگلات و ماحولیات مریم اورنگزیب عالمی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔ ان سے بجا طور پر توقع تھی کہ وہ ایسی ترمیم میں کم از کم اتنے مضبوط حفاظتی تقاضے ضرور شامل کراتیں کہ کسی بھی حکومت یا ادارے کو جنگلات کے بے دریغ استعمال کا راستہ نہ ملتا۔ اگر ماحولیات واقعی حکومتی ترجیح ہے تو پھر اس ترمیم کی موجودہ شکل کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
بادی النظر میں یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی عدالتی تشریحات سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہیں کہ صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول کا حق، حقِ زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس لیے اس ترمیم کی آئینی حیثیت اور ماحولیاتی اثرات کا عدالتی جائزہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
مری کے نمائندے تو اس ترمیم پہ خاموش رہے۔اب اس معاملے کا اگلا فورم عدالت ہے۔ مری کی وکلا برادری، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ ( پنڈی بینچ) میں آئینی درخواست دائر کریں تاکہ اس قانون کی آئینی اور ماحولیاتی حیثیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ جب منتخب نمائندے عوام کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز بلند نہ کر سکیں تو یہ ذمہ داری باشعور شہریوں اور وکلا پر عائد ہو جاتی ہے۔
مری کے جنگلات کسی حکومت، اشرافیہ یا وقتی منصوبے کی ملکیت نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر آج ان کی قانونی حفاظت کمزور کر دی گئی تو کل شاید نہ جنگلات باقی رہیں گے، نہ پانی، اور نہ ہی وہ مری جسے ہم سب اپنی قدرتی شناخت سمجھتے ہیں۔
ادریس عباسی
7 جولائی،2026
Maryam Nawaz Sharif
Marriyum Aurangzeb

02/07/2026

پنجاب میں فاریسٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی چور بے خوف ہیں۔ فاریسٹ فیلڈ سٹاف کے خلاف تشدد، مار کٹائی، زخمی کرنے اور جان سے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ فاریسٹ فورس کا قیام ابھی تک ایک خواب ہی ہے

06/06/2026

اہم اطلاع ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

کہوٹہ: نجی جنگل میں آگ لگنے کا واقعہ، جان کی پرواہ کئے بغیر پیشہ وارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے محکمہ جنگلات کا جو فائر فائٹر شدید زخمی ہو گیا تھا وہ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
اللہ کریم مرحوم کی قبر اور حشر کی
منازل کو آسان فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے،آمین

02/06/2026

انٹرویو بمقام نیشنل ہاکی اسٹیڈیم فیروز پور روڈ لاہور 9-10 جون 2026 براے انسپکٹر فارسٹ و فارسٹ رینجر آل پنجاب فارسٹ ڈویژن

18/05/2026

بھارتی پنجاب میں فارسٹ گارڈ کی تنخواہ 92 ہزار پاکستانی روپے سے شروع ہوتی ہے اور ہماری؟

20/04/2026

فارسٹ رینجر بائیکس پیٹرولنگ کے لئے پیٹرول محکمہ کی طرف سے ملے گا یا پھر؟؟

Address

Ravi Road
Lahore

Telephone

03330437433

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Forests Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Forests Association:

Shortcuts

Share