17/07/2026
چین کا J-35 اسٹیلتھ فائٹر پروگرام تیزی سے آگے بڑھ گیا — پاکستان ممکنہ طور پر پہلا غیر ملکی صارف بننے کے قریب
چین کی شینیانگ ایئرکرافٹ کارپوریشن نے اپنے جدید ترین J-35 اسٹیلتھ فائٹر کی پیداوار میں تیزی پیدا کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اب پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کی تیاری کو صرف تجرباتی مرحلے سے نکال کر بڑے پیمانے پر پیداوار کے دور میں داخل کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین ایک طرف اپنی بحری اور فضائی افواج کے لیے J-35 کے مختلف ورژنز تیار کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے لیے ممکنہ برآمدی ورژن J-35AE کی فراہمی کی تیاری بھی آگے بڑھ رہی ہے۔
J-35 چین کا دوسرا پانچویں نسل کا جنگی طیارہ
چین پہلے ہی J-20 اسٹیلتھ فائٹر کو اپنی فضائیہ میں شامل کر چکا ہے، جبکہ J-35 کو نسبتاً ہلکے، کم قیمت اور زیادہ تعداد میں استعمال کیے جانے والے پانچویں نسل کے جنگی طیارے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
J-35 کا بحری ورژن چین کے نئے طیارہ بردار بحری جہاز فوجیان (Fujian) سے آپریشنز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کا پہلا غیر امریکی پانچویں نسل کا اسٹیلتھ فائٹر بن گیا ہے جو برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ نظام کے ذریعے ٹیک آف اور جدید گرفتاری نظام کے ذریعے لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت عالمی بحری جنگی طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اب امریکہ کے علاوہ چین بھی جدید اسٹیلتھ کیریئر ایوی ایشن کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ تاریخی دفاعی معاہدہ
پاکستان کی جانب سے J-35AE اسٹیلتھ فائٹر کے حصول کی اطلاعات نے خطے میں خاص توجہ حاصل کی ہے۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو پاکستان دنیا کا پہلا غیر ملکی ملک بن سکتا ہے جو چینی پانچویں نسل کے جنگی طیارے کو اپنی فضائیہ میں شامل کرے گا۔
ممکنہ معاہدے میں J-35AE کے ساتھ دیگر جدید نظام بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (AEW&C) طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ صلاحیتیں پاکستان کو صرف ایک جدید جنگی طیارہ نہیں بلکہ ایک مکمل نیٹ ورک سینٹرک فضائی جنگی نظام فراہم کر سکتی ہیں، جس میں طیارے، ریڈار، میزائل اور زمینی کمانڈ مراکز ایک دوسرے سے منسلک ہو کر کام کریں گے۔
چین کی عالمی دفاعی صنعت کے لیے بڑا قدم
J-35 پروگرام چین کے لیے صرف ایک جنگی طیارے کی تیاری نہیں بلکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
پانچویں نسل کے جنگی طیارے اب تک زیادہ تر امریکہ کے زیرِ اثر رہے ہیں، لیکن چین کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت اسے مستقبل میں جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا ایک بڑا برآمد کنندہ بنا سکتی ہے۔
پاکستان جیسے اہم دفاعی شراکت دار کو J-35 کی ممکنہ فراہمی چین کے لیے ایک بڑی سفارتی اور دفاعی کامیابی بھی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔